BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



جمہوریت :سوچتا اور کانپ جاتا ہوں


جوں جوں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے توں توں میرے دل کی دھڑکن بھی تیز تر ہو جاتی ہے۔جمہوریت جہاں عطیہ ربانی ہے وہاں وہ عقل انسانی کی معراج بھی ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں ہمارے عرب بھائی بدترین قسم کی آمریت کے شکنجے میں کسے ہوئے ہیں۔ بنیادی انسانی و شہری حقوق اور آزادی تحریر و تقریر کا وہاں الا ماشاء اللہ ‘کوئی تصور نہیں۔ وہ جب پاکستان کے بارے میں سنتے ‘ پڑھتے یا چینلز پر دیکھتے ہیں تو رشک اور حسرت بھری نگاہوں سے پاکستان کی طرف تکتے ہیں۔ ادھر پاکستان کے حکمران ہوں یا اپوزیشن
منگل 09 جولائی 2019ء

نئے پاکستان میں پرانے ہتھکنڈے

جمعرات 04 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
پاکستان اس لحاظ سے ایک دل چسپ ملک ہے کہ جہاں راتوں رات مقدر بدل جاتا ہے اور بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں۔ کل کے حکمران آج کے قیدی اور کل کے قیدی آج کے حکمران بن جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے کہ یہ ہیں وہ ایام جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ کل تک جناب عمران خان جن روشوں اور رویوں کو نشانہ تنقید بناتے رہے آج وہ انہی رویوں کے علم بردار بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ انسانوں کی ہارس ٹریڈنگ کو شرفِ آدمیت کی تذلیل قرار دیتے تھے ،آج
مزید پڑھیے


مولو مصلّی

منگل 02 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تحریر مولو مصلّی کے شب و روز سے عبارت ہے۔ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ایک بار کچھ پولیس افسران نے ایک گھر کی تلاشی لینا چاہی تو جواب ملا۔ ’’خبردار! یہ چودھریوں کا گھر ہے۔ کسی مولو مصلّی کا نہیں‘‘۔ اس پر پولیس افسران نے ہاتھ جوڑے، معافی مانگی اور یہ کہہ کر واپس لوٹ گئے کہ ’’ہمیں علم نہ تھا کہ یہ چودھریوں کا گھر ہے۔ مولو مصلّی کا گھر ہوتا تو کب کے داخل ہو گئے ہوتے‘‘ مولو مصلّی جس کا یہاں ذکر ہوا کون بدنصیب ہے؟ جناب ڈاکٹر امجد ثاقب اس سوال کا جواب اپنی
مزید پڑھیے


معیشت ‘ آل پارٹیز کانفرنس اور جماعت اسلامی

هفته 29 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مولانا فضل الرحمن اپنی دھن کے پکے اور اپنے ارادے کے سچے نکلے۔ انہوں نے کچھ کر کے دکھا دیا جس کا انہوں نے اعلان کیا تھا۔ مولانا کی کال پر اسلام آباد میں پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتوں کی مرکزی قیادت کانفرنس میں موجود تھیں۔ کچھ لوگوں نے اپوزیشن کے پہلے ہی اجلاس سے نہ جانے کیا کیا توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔ اس لئے وہ بقول غالب مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں: تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا سیاسی تحریکیں کوئی ’’تماشا‘‘ نہیں ہوتیں کہ آناً فاناً برپا
مزید پڑھیے


شہرِ اقتدار کی خبر:کنفیوژن

جمعرات 27 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں تقریباً آٹھ دس روز تو سیاست سے دور پہاڑی علاقوں میں حسن فطرت کے نظاروں میں مگن رہا۔ واپسی پر دو روز کے لئے شہر اقتدار اسلام آباد میں اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے رکا۔ اسی دوران چند ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں کچھ آن دی ریکارڈ اور کچھ آف دی ریکارڈ ہیں۔ اسلام آباد سے واپسی پر دوست احباب پوچھتے ہیں ہو کیا رہاہے؟وہ اس انداز سے پوچھتے ہیں جیسے میں سیدھا بنی گالہ کے مکین اعلیٰ سے ملاقات کر کے آ رہا ہوں جناب عمران خان سے کبھی دو چار بے تکلف ملاقاتیں ہوئی
مزید پڑھیے




حسن فِطرت :کیا یہ پاکستان ہے؟

منگل 25 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں اس وقت ایک ایسے جھونپڑے میں بیٹھا ہوں جس کی مرشد اقبال نے آرزو کی تھی۔ دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو اس جھونپڑے کے بیک یارڈ سے تا حدِ نگاہ جنگل ہی جنگل ہے۔ اس جنگل میں صنوبر ہی صنوبر ہیں۔ پابہ گل سر بہ فلک صنوبر۔ ان کی مخصوص خوشبو فضا میں رچی بسی ہوئی ہے۔ بندر درختوں کی شاخوں پر اٹھکیلیاں کر رہے ہیں۔ یہ سارا جنگل وادی میں ہے اس فضائے سبزگوں میں پتلی سی مٹیالی پگڈنڈی نیچے تک جاتی ہے۔ سنا ہے وہاں چیتے بھی رہتے ہیں مگر میں نے کبھی نہیں
مزید پڑھیے


پاکستان کے لئے کوئی فرد لازم و ملزوم نہیں

هفته 22 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چارلس ڈیگال فرانس کے متنازع نہیں محبوب صدر تھے۔ جب کچھ مطلب پرست سیاست دانوں نے نہیں ان کے بہت سے سچے مداحوں نے کہا کہ فرانس اور ڈیگال لازم و ملزوم ہیں تو ڈیگال نے اس پر خوش ہونے کی بجائے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک تاریخی جملہ کہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ناگزیر شخصیات سے قبرستان بھرے پڑے ہیں‘‘ ان کا یہ تاریخی جملہ اب ایک قول کی حیثیت سے مشہور ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ایک دو حوالوں سے نہایت احترام کا رشتہ قائم ہے۔ ان جیسی سینئر سیاست دان نے یہ بیان دے
مزید پڑھیے


سابق مصری صدر محمد مرسی کی شہادت

جمعرات 20 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سابق مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی مرحوم کی بیوہ نجلاء علی محمود نے یہ کہہ کر ساری اسلامی دنیا کی آنکھوں کو نمناک کر دیا کہ وہ ظالم و غاصب مصری حاکم السیسی سے اپنے شوہر کا جسد خاکی مانگ کر محمد مرسی کو خلد میں شرمسار نہیں کرنا چاہتی۔ محمد مرسی کی یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ شریک حیات 2012ء میں جب مصر کی خاتون اول قرار پائیں تو انہوں نے یہ اعزاز قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ وہی السیسی ہیں جنہیں صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے اس وقت کے چیف آف آرمڈ فورسسز محمد حسین طنطاری
مزید پڑھیے


سیاست دان کا تھپڑ

بدھ 19 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران ہم نے ایک دلچسپ بات نوٹ کی کہ دوران حج جس عمارت میں انڈونیشیا اور ملائیشیا کے حجاج کرام رہائش پذیر ہوتے وہاں یوں محسوس ہوتا کہ جیسے یہاں کوئی ذی روح موجود نہیں اور جن عمارتوں میں ہمارے پاکستانی اور مصری بھائی سکونت پذیر ہوتے تو وہاں ہر طرف سے بحث و تکرار کی آوازیں آ رہی ہوتیں اور شور کی شدت سے درو دیوار کانپ رہے ہوتے۔ پاکستانی معاشرہ عدم برداشت کی آخری سٹیج پر ہے۔ یہاں چھوٹی چھوٹی بات پر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور حاکم شہر
مزید پڑھیے


غضبناک وزیر اعظم کا مڈ نائٹ خطاب

هفته 15 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
منگل اور بدھ کی درمیان شب بارہ بجے وزیر اعظم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان نے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر ایک غضبناک شخص کے روپ میں نمودارہوئے۔ ان کی لینگوئج اور باڈی لینگوئج دونوں سے عیاں تھا کہ وہ شدید الجھن اور پریشانی کا شکار ہیں۔ خطاب کی بے ترتیبی بتا رہی تھی کہ جناب وزیر اعظم نے اپنے دماغ میں آنے والی لہر کو سکینڈ تھاٹ دینا مناسب نہیں سمجھا اور فی الفورغصے کے اظہار کو ضروری سمجھا۔ میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوںکہ آخر آدھی رات کو ایسی کیا آفت آئی تھی کہ وہی پرانا اپوزیشن
مزید پڑھیے