BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



تحریک پاکستان اور آزادی کشمیر


گزشتہ ستر بہتر برس سے ہر گزرتا پل تحریک پاکستان کے قائدین کی دور اندیشی کی تائید کرتا دکھائی دیتا ہے اس دوران متعصب ہندو قیادت نے بھارت اور کشمیر میں مسلم کشی کا جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دو قومی نظریہ بالکل درست تھا اور درست ہے۔ خاص طور پر بی جے پی کی صوبائی مرکزی حکومتوں نے ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو کچلنے کی کھلم کھلا پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا۔ ہندوئوں کی لبرل‘ اور متعصب دونوں طرح کی قیادتوں نے تحریک آزادی کے
جمعرات 15  اگست 2019ء

وقت نے دی ہے تمہیں چارہ گری کی مہلت

هفته 10  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ چار پانچ روز سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ کشمیری انتہائی ہولناک کرفیو کی زد میں ہیں۔ وہ گھروں میں محبوس ہونے پر مجبور ہیں جذبہ آزادی کو پابہ زنجیر کرنے کے لئے 9لاکھ بھارتی فوجی کشمیر میں تعینات ہیں۔ ہر گھر کے باہر دو تین فوجی بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ دنیا کی ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کس شان سے اپنے شہریوں کا سواگت کر رہی ہے۔ نہ تحریک ‘نہ تقریر ‘نہ تحریر کسی بات کی بھی آزادی نہیں۔ انٹر نیٹ اور ٹیلی فون بھی بے جان پڑے ہیں۔ ہمارا کشمیریوں سے اور کشمیریوں کا ہم سے کوئی رابطہ نہیں۔ اپنی
مزید پڑھیے


پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

جمعرات 08  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’تنقید بہت ہو چکی اب بتائیے کرنا کیا چاہیے؟‘‘ مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی ولولہ انگیز اور پرجوش تقریر سننے کے بعد جناب وزیر اعظم عمران خان نے ان سے یہ اہم ترین سوال پوچھ لیا۔ یہ نہایت اہم سوال ہے جس کے بارے میں پاکستان کا ہر ذی شعور اور صاحب احساس فرد بھی غور و فکر کر رہا ہے اور پاکستان کا ہر ادارہ بھی اس پر سوچ بچار کر رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم نے حسب موقع اچھا خطاب کیا۔ ان کا خطاب ولولہ انگیز
مزید پڑھیے


دفعہ 370کا خاتمہ:پاکستان کیا جواب دے گا؟

منگل 06  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں تقریباً نصف کالم لکھ چکا تھا کہ یہ روح فرسا خبر آگئی کہ بھارتی پارلیمنٹ نے اپنے آئین سے 70سالہ پرانی کشمیری دفعہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد سارا منظر نامہ ہی بدل گیا ہے لہٰذا پہلے سے لکھا گیا کالم مجھے قلم زد کرنا پڑا۔ دل و دماغ کی حیرانی ویرانی میں بدل گئی ہے۔ اس عالم میں سمجھ میں نہیں آتا کہ لکھوں تو کیا لکھوں۔ 90سالہ بوڑھے کشمیری مجاہد نے دو روز قبل مستقبل میں جھانکتے اور مکروہ بھارتی عزائم بھانپتے ہوئے اس امت مسلمہ کو پکارا تھا جس کے بارے میں حکیم الامت
مزید پڑھیے


روشن ضمیر سینیٹر

هفته 03  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چیئرمین سینٹ کے غیر متوقع انتخابی نتائج آنے پر حکومتی پارٹی جشن جبکہ اپوزیشن سوگ منا رہی ہے۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ووٹ دینے والے اپوزیشن کے سینیٹروں کی روشنِِ ضمیری پر انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور میاں شہباز پارٹی سے بے وفائی کر کے حکومت کے حق میں ووٹ ڈالنے والے سینیٹروں کو ضمیر فروشی کا طعنہ دے رہے ہیں۔ سوال بڑا دلچسپ ہے کہ 14سینیٹرز روشن ضمیر ہیں یا ضمیر فروش؟ اس اہم سوال کا جواب ہم ضرور آپ سے شیئر کریں گے مگر پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ اگست 2019ء میں چیئرمین سینٹ
مزید پڑھیے




نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو

جمعرات 01  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ غالباً 2006ء کی بات ہو گی کہ جب پارلیمنٹ لاجز میں میری عمران خان سے پہلی ون آن ون ملاقات ہوئی۔ عصر سے لے کر مغرب تک بے تکلف باتیں ہوئیں۔ خان صاحب کی لاج سے نکلا تو میں کپتان کی سادگی اور بے ساختگی سے بہت متاثر ہو چکا تھا۔ میرا اپنا بے ساختہ تاثر یہ تھا کہ یہ شخص اور کچھ کرے یا نہ کرے مگر یہ برسر اقتدار آ گیا تو خود ’’کشکول گدائی‘‘ تھام لے گا مگر کسی بچے کو ہاتھ پھیلانے دے گا نہ ہی کسی بچے کو ورکشاپوں ‘ ریستورانوں‘ دکانوں اور گھروں
مزید پڑھیے


عرفان صدیقی:کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

منگل 30 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سچی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق معاون خصوصی عرفان صدیقی کی جمعہ کے روز آدھی رات کو آناً فاناً گرفتاری سمجھ میں آئی اور نہ ہی اتوار کے روز بند عدالتیں کھلوا کر ان کی رہائی سمجھ میں آئی : کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے برادر عزیز عامر خاکوانی نے ایک کالم میں جناب عرفان صدیقی کے حوالے سے چند سادہ سے سوال پوچھے ہیں۔ برادر عزیز کو یقینا ادراک ہو گا کہ یہ ’’سادہ سوال‘‘ہی دراصل بہت مشکل سوال ہوتے ہیں جن کے جوابات ڈھونڈتے ہوئے اہل اقتدار کی جبینیں شکن آلود بھی
مزید پڑھیے


حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

هفته 27 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
عمران خان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک خواب عوام کی ہی نہیں بہت سے خواص کی پلکوں میں بھی آویزاں کر دیے۔ خان صاحب کو کچھ غیبی دست شفقت بھی حاصل تھا۔ یوں انہوں نے بہت بڑی کامیابی سمیٹی تاہم اقتدار کے پہلے سال میں خوابوں کی پریشانی سے عوام بہت ہی پریشان حال ہیں مگر ابھی تک مایوس نہیں ہوئے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ اپوزیشن کی دی گئی۔ یوم سیاہ کی کال کے جواب میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ چاروں صوبوں میں عوام
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کا دورۂ امریکہ: وائٹ ہائوس سے جلسہ عام تک

جمعرات 25 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
22جولائی کو وائٹ ہائوس میں دو ایسی شخصیات کی ملاقات ہونے والی تھی کہ جن کے بارے میں دھڑکتے دلوں کے ساتھ ان کے دوست سوچ رہے تھے کہ خدا خیر کرے۔ سبب اس کا یہ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان دونوں کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ وہ کچھ بھی غیر متوقع کہہ سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات بڑی خوشگوار رہی اور بڑی کامیاب رہی۔ ہماری طرف سے تو خیر ہی رہی مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم کے حوالے سے ایک ایسا
مزید پڑھیے


ساغر صدیقی: دوستو! لوٹ کے آئے ہیں تمہاری خاطر

منگل 23 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تقسیم ہند سے پہلے 1944ء کا ذکر ہے۔ امرتسر میں ایک بہت بڑا آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا۔ کسی صاحبِ ذوق نے مشاعرے کے منتظمین سے مل کر ایک پندرہ سولہ سال کے ’’لڑکے‘‘ کا نام بھی لکھوا دیا۔ لڑکے کو جب کلام سنانے کے لیے بلایا گیا تو اس نے اپنی پرسوز آواز میں ترنم کے ساتھ غضب کی غزل پڑھی اور مشاعرہ لوٹ لیا۔ یہ لڑکا آگے چل کر ساغر صدیقی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے اشعار مشاعروں، ایوانوں اور جلسوں میں گونجنے لگے۔ آج تک ساغر کے اشعار باذوق لوگوں کو ازبر
مزید پڑھیے