BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



’’تبدیلی آ گئی‘‘


آغاز معصوم خواہشات کے اظہار سے کرتے ہیں۔ دورہ سندھ کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے گھوٹکی کے جلسے میں عمران اسماعیل سے ’’تبدیلی آ گئی‘‘ کا گانا سننے کی فرمائش کی اور پھر خود ہی یہ کہہ کر انہوں نے اپنی معصوم خواہش کو کچل دیا کہ اب آپ گورنر سندھ ہیں اس لئے آپ کا گانا مناسب نہیں۔ دوسری معصوم خواہش کا اظہار دو روز پہلے وزیر خزانہ اسد عمر نے عوام کو طفل تسلی دیتے ہوئے کیا تھا کہ آپ گھبرائیں نہیں اور نہ ہی آنسو بہائیں تیل نکل آیا تو پھر ہر طرف بہاریں ہی
منگل 02 اپریل 2019ء

اے استاد محترم! ہم شرمندہ ہیں

هفته 30 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
معلم کون ہوتا ہے؟ معلم ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اندر کی ’’روشنی‘‘ بااثر لاتا ہے جو اپنے طلبہ و طالبات کو بلندیوں کی راہیں دکھاتا ہے، جو اقبال کے الفاظ میں دلوں کو سوز و سازِ آرزو اور ذوق و شوق کی حرارت سے بھر دیتا ہے۔ جو خودکسی مقصد کا دیوانہ ہوتا ہے اور دوسروں میں بھی ایسی ہی زندگی پیدا کردیتا ہے۔ ایک حقیقی معلم نہ صرف اپنے طلبہ کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے جذبوں کی خوشبو سے گردوپیش بھی معطر ہو جاتے ہیں۔ کبھی سرکاری سکول ہی ہماری سوسائٹی کے ماتھے کا جھومر ہوتے تھے
مزید پڑھیے


مستحسن فیصلہ

جمعرات 28 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
زندگی واپس لینے کا اختیار بھی زندگی دینے والے نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ تاہم زندگی بچانے کے لیے انسانوں کو سر توڑ کوشش کرنے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نہایت حکیمانہ فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پی ٹی آئی کی حومت نے میاں نوازشریف کی بیماری کو غیر سنجیدہ انداز میں لیا اور انہیں کبھی اس ہسپتال میں کبھی اس ہسپتال میں کبھی ایک بورڈ کے پاس کبھی دوسرے بورڈ کے پاس پیش کیا اور پھر جس تضحیک آمیز انداز میں ان کی بیماریوں اور
مزید پڑھیے


سنسان راستوں پہ اُگی گھاس اور اخوت یونیورسٹی

منگل 26 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تاریخی دن کے آغاز کے ساتھ ہی ایک دلچسپ حقیقت کا انکشاف ہوا کہ خالق دو جہاں کسی ایک مخلوق کی نہیں‘ ہر مخلوق کی بات سنتا ہے۔ میں تو سمجھتا تھا کہ وہ انسانوں کی بات سنتا ہے۔حیوانوں کی دعا سنتا ہے اور پرندوں کی فریاد بھی سنتا ہے۔ مگر اس سہانی صبح کو نہر کنارے معلوم ہوا کہ وہ نباتات کی بھی سنتا ہے اور اداس و سنسان راستوں پر اگی گھاس کی فریاد کی داد بھی دیتا ہے۔ استاد گرامی ڈاکٹر خورشید رضوی کا دل میں اتر جانے والا شعر ہے کہ: ترسے کسی کے بوسۂ پا کو بھی
مزید پڑھیے


23 مارچ کا پیغام

هفته 23 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزرتے ماہ وسال کے ساتھ جوں جوں بھارت کا مسلم کش چہرہ بے نقاب ہورہا ہے، توں توں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت اور علامہ اقبالؒ کی بصیرت پر ہمارا یقین و ایمان مزید پختہ ہوتا جارہا ہے۔گزشتہ ستر برس کے دوران بھارت نے بدترین فوجی جارحیت کے ذریعے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، اس پڑوسی نے سازشیں کرکے مشرقی بازو کو پاکستان سے جدا کردیا۔ بھارت نے مسلم آبادی کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ موجودہ بھارتی وزیراعظم جب گجرات کا وزیراعلیٰ تھا تو اس کی زیرنگرانی ہزاروں مسلمانوں کو نہایت درندگی سے ذبح کیا گیا
مزید پڑھیے




باہمت خاتون اور مسلمانوں کے حق میں عالمی لہر

جمعرات 21 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میرے کزن فاروق پراچہ بہت سوشل میڈیا فرینڈلی ہیں۔ انہوں نے آج نمازفجر کے بعد ایک ویڈیو وٹس ایپ پر بھیجی اور تاکید مزید کے طور پر کال بھی کی اور کہا کہ میں یہ ویڈیو ضرور دیکھوں۔ میں یہ ویڈیو دیکھتا اور سنتا گیا اور اس دوران آنسو ٹپ ٹپ میرے گالوں میں گرتے رہے۔ مجھے یقین نہیں آیا رہا تھا کہ کیا کوئی غم سے نڈھال بیوی اور ماں اتنی عظیم بھی ہو سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی خاتون اینکر نے کرائسٹ چرج کی مسجد میں شہید ہونے والے نعیم رشید کی بیوہ اور شہید طلحہ کی ماں سے
مزید پڑھیے


نیوزی لینڈ: مساجد میں گورا برتری کے نام پر دہشت گردی

منگل 19 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کی مساجد میں سفید فام دہشت گرد نے بوڑھوں کو دیکھا نہ بچوں کو ، گورے کو دیکھا نہ کالے کو ، دیسی کو دیکھا نہ پردیسی کو دیکھا۔ 28 سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ نے دیکھا تو صرف یہ دیکھا کہ آج جمعۃ المبارک ہے، مسلمانوں کے لیے ہفتے کا مقدس ترین دن اور ڈیڑھ دو بجے دوپہر کا وقت جب مسلمان مساجد میں اکٹھے ہوتے ہیں اور رب ذوالجلال کے حضور سربسجود ہوتے ہیں۔ بزدل حملہ آور نے مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کے لیے اس وقت کا انتخاب کیا تھا۔ اس نے
مزید پڑھیے


اسلام آباد سے عوام کے لیے پیغام:مزید چیخیں

هفته 16 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’اسلام آباد کی ایک سڑک‘‘ کے عنوان سے امجد اسلام امجد نے ایک دل میں اتر جانے والی نظم لکھی ہے۔ پہلے اسی نظم کی چند سطریں شیئر کر لیتے ہیں۔ بلند و بالا وسیع و عریض، پرہیبت /یہ سنگ و خشتِ تراشیدہ سے بنے ایواں!/یہ جگمگاتی کھڑکیوں کے رنگِ رواں!/وہ بت کدے ہیں جہاں جو کوئی غور سے دیکھے عجب تماشے ہیں!/کسی کے کام نہ آئیں یہ وہ دلاسے ہیں!/یہ لوگ پانی میں رکھے ہوئے تراشے ہیں!/یہیں پر بٹتی ہے امن و سکون کی دولت!/یہیں شجاعت و صدق و صفا کے مکتب ہیں/یہیں پر رہتا ہے اہلِ دعا کا مستقبل/ یہیں
مزید پڑھیے


قفس میں روداد چمن

جمعرات 14 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آزادی چھن جانے کا دوسرا نام قفس ہے۔ جیل جانے کے بعد ہی انسان کو احساس ہوتا ہے کہ طائرِ نو گرفتار پہلے پہل قفس میں پھڑ پھڑاتا کیوں ہے۔ اگرچہ ہمارے گھر میں میرے بچپن سے ہی جیل اور ریل معمول کی کارروائی سمجھی جاتی تھی۔ والد گرامی مولانا گلزار احمد مظاہری سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فلسفہ و فکر کی آشنائی سے پہلے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی خطابت سے بہت متاثر ہو چکے تھے اور اپنی تقاریر میں احراری لب و لہجہ اپنا چکے تھے۔ لہٰذا دو سیدوں کی عظیم رفاقت نے والد گرامی کی خطابت کو
مزید پڑھیے


بیان بازی نہیں سنجیدگی کی ضرورت

منگل 12 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
خاکم بدہن ہماری بربادیوں کے مشورے آسمانوں میں تھے۔ ان مشوروں میں بھارت‘ اسرائیل زیر سرپرستی امریکہ سرگرم تھے اور پاکستان پر اسرائیلی گولوں کے ذریعے عملدرآمد بھی شروع کر دیا گیا تھا۔ مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔ آسمانوں کے خالق نے ان مشورہ سازوں کی ساری چالوں کو ان پر الٹ دیا۔ خالق ارض و سماء کے ارشاد کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ وہ اپنی چالیں چلے اور اللہ نے اپنی چال چلی۔ بے شک اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ تائید ایزدی اور ہمارے دوست ممالک کی بروقت دوڑ دھوپ سے پاک بھارت کشیدگی قدرے
مزید پڑھیے