BN

ڈاکٹر طاہر مسعود



بے بسی وزیر اعظم کی


محاورہ ہے کہ خدا شکر خورے کو شکر ضرور دیتا ہے۔ ہمارے ملک کو جو بدعنوان حکمرانوں کی بدعنوانی میں عالمگیر شہرت رکھتا ہے، خداوند تعالیٰ نے ایک ایسا حکمران عطا کر دیا ہے جو سارے ضروری کاموں کو چھوڑ چھاڑ کر سابق بدعنوان حکمرانوں کی پکڑ دھکڑ میں اس طرح لگا ہوا ہے کہ امریکہ جائے یا چین یا کسی اور ملک ان بدعنوانوں کا تذکرہ کرنا نہیں بھولتا۔ اس کی گوٹ بدعنوانی پر آ کر اٹک گئی ہے اور وہ ایک ہی بات کی تکرار میں مصروف ہے کہ اے کاش! میں کرپٹ لوگوں کو کسی طرح جیل
جمعرات 10 اکتوبر 2019ء

جمہوریت کی نیلم پری

پیر 07 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
جمہوریت میں اس کے سوا کوئی خرابی نہیں کہ ایک عدد اپوزیشن بھی ہوتی ہے۔ اور اپوزیشن میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں ہوتی کہ وہ حکومت کو مانتی ہی نہیں۔ جو اپوزیشن حکومت کے حق حکمرانی کو تسلیم کر لے وہ مغربی جمہوریت کہلاتی ہے۔ ہم لوگ مشرقی ہیں اس لئے ہم مغربی جمہوریت کو نہیں مانتے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت آنی جانی چیز ہے۔ بجلی کی طرح جب چلی جائے اور اس کی جگہ فوجی حکومت آ جائے تو اسے جمہوری لوڈشیڈنگ کہتے ہیں۔ فوجی حکومت یا مارشل لاء کو یو پی ایس یا جنریٹر کہا جا
مزید پڑھیے


قصہ تھیوری اور پریکٹیکل کا

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کسی مغربی مصنف نے صحافت اور ادب کا فرق یہ بتایا تھا کہ ادب کو کوئی پڑھتا نہیں اور صحافت میں پڑھنے کے لئے کچھ ہوتا نہیں۔ ہمیں اس نقطۂ نظر سے چنداں اتفاق نہیں۔ ہاں اگر یہ کہا جاتا کہ اخبار میں چند مستثنیات کے سوا (مثلاً ہمارا کالم) پڑھنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تو ہم مان جاتے کہ بات دل کو لگتی ہے اوپر جو نقل کیا گیا قول ۔ یہ اس زمانے کا ہے جب ہمارے وزیر اعظم عمران خان اس عہدہ جلیلہ پر فائز نہ ہوئے تھے اور نہ اتنی دانش مندانہ تقریروں کا وقت
مزید پڑھیے


’’تقریر‘‘ تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی

پیر 30  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دنیا میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ قائم کیا گیا جہاں اس موضوع پر کہ دنیا میں امن قائم کیسے کیا جائے کہ موضوع پر صرف تقریریں ہوتی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد جب مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ چھڑی تو ہمارے پہلے وزیر خارجہ سرظفراللہ خان نے اقوام متحدہ میں طویل ترین تقریر کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ کئی روز تک مسلسل و متواتر جاری رہنے والی اس تقریر سے کہتے ہیں مسئلہ کشمیر سلجھنے کے بجائے اور الجھ گیا اور آج تک یہ مسئلہ الجھا ہی ہوا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو دوسرے وزیر
مزید پڑھیے


قانون: مکڑی کا جالا یا لوہے کا جال؟

جمعرات 26  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہم اپنے لئے قانون میں سہولت اور دوسروں پر قانون کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ہمیں پکڑا جائے تو ہر طرح کا اثر ورسوخ روا اور جائز دوسرے پہ گرفت ہو اور وہ چھوٹ جائے تو ایک المیہ‘ افسوسناک معاشرتی سانحہ۔ میرے بیٹے کو آوارہ گردی اور قمار بازی کے الزام میں اٹھا لے جائے تو ظلم و زیادتی‘ کسی اور کا بیٹا اٹھایا جائے اور ضمانت پر رہا ہو جائے تو پولیس مجرم‘ عادی رشوت خور وغیرہ ۔جب صورت حال کی نوعیت ایسی ہو تو سوچیے کہ معاشرہ کیسے اچھا ہو گا‘ قانون کی بالادستی کیسے قائم ہو گی۔ جو
مزید پڑھیے




سمجھانا نیک و بد حضور کا

پیر 23  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کسی ویران سڑک کے کنارے جس پر درختوں کے خشک اور زرد پتے پڑے ہوں۔ چلتے چلتے بیٹھ جانا میری عادت ہے۔ میں دیر تک یوں ہی بے مقصد بیٹھا رہتا ہوں۔ تب ذہن دھند میں ڈوبنے ابھرنے لگتا ہے۔ پرانی دھرائی باتیں یاد آنے لگتی ہے۔ دل میں کچوکے لگاتی ہیں تو اداسی اتر کر رگ و پے میں تیرنے لگتی ہے۔ آج دوپہر کا واقعہ میں اسی طرح چلتے چلتے ایک سنسان سی سڑک پر جس کے دونوں طرف سبز گھاس کے تختے بچھے تھے۔ ایک پستہ قامت درخت جس نے سایہ کر رکھا تھا میں اس کے سائے
مزید پڑھیے


حکمرانی نفس یا انا کی

پیر 16  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اخبار میں آیا ہے کہ اللہ کے کسی بندے کو شارع عام پر سگریٹ پینے پر پولیس نے دھر لیا اور جرمانہ عائد کر دیا۔ خبر پڑھتے ہی ہم نے اپنی سگریٹ کی ڈبیہ ٹٹولی اور اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیس ہمیں بھی دوسروں کے سامنے سگریٹ پینے اور انہیں سموکنگ کے ذریعے نقصان پہنچانے پر جرمانہ نہ عائد کر دے۔ ہمیں جرمانہ دینے پر کوئی اعتراض نہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی کا محاورہ ہم نے سن رکھا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آدمی جو بوتا ہے جلد یا بدیر وہی کاٹتا ہے۔
مزید پڑھیے


آخری منظر

پیر 09  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اداکاری کے فن میں جن اداکاروں نے مجھے متاثر کیا ان میں ایک اہم نام عابد علی بھی تھا۔ میںنے انہیں اتنے ڈراموں میں کام کرتے دیکھا ہے کہ اب یاد بھی نہیں۔ لیکن ان کے بارے میں جب بھی سوچتا ہوں، کسی نہ کسی ڈرامے میں ان کی اداکاری، ان کے چہرے کے تاثرات، ان کی بھاری اور گمبھیر آواز اور ادا و انداز ذہن کی سطح پر ابھر آتے ہیں۔ اب چونکہ ڈراموں کے فن پر زوال آ گیا ہے اور ویسے ڈرامے ٹیلی ویژن چینلوں پر نہیں آتے جس کی روایت پی ٹی وی نے قائم
مزید پڑھیے


مودی سرکار کی مجبوری

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
حالات زیرو زبر ہو رہے ہیں۔ کشمیری مسلمان ایک کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ آزمائش کی یہ گھڑیاں ان پر کب تک مسلط رہیں گی‘ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن تاریخ اور اقوام عالم کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ جو قوم اپنی آزادی کے لئے سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جائے اسے بڑی سے بڑی طاقت بھی غلام بنا کر نہیں رکھ سکتی۔ خود ہندوستان بھی اسی طرح آزاد ہوا اور پاکستان بھی قادر مطلق کے اسی قانون کے تحت وجود میں آیا۔ کشمیری آج غلام ہیں‘ ظلم و جور کا شکار ہیں لیکن یہ
مزید پڑھیے


تبدیلی کوئی نعرہ تو نہیں

پیر 02  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کوئی معاشرہ اگر زوال و انحطاط کا شکار ہوتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ اور اسے حالت زوال سے نکال کر ترقی کے بام عروج پر کس طرح پہنچایا جا سکتا ہے؟ پچھلے کالم میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا۔ ساتھ ہی یہ بات طے پائی تھی کہ تبدیلی پہلے خیال کی سطح پر آتی ہے اور پھر وجود میں یا اعمال میں منتقل ہوتی ہے۔ جب خیالات منجمد ہو جائیں ذہن نئے خیالات کو سوچنے اور قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے، دوسرے لفظوںمیں خیالات اورافکار و تصورات ٹھٹھر کر رہ جائیں‘ تقلید
مزید پڑھیے