BN

ڈاکٹر طاہر مسعود



چڑیاں رین بسیرا


کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ کل کے دوست آج کے دشمن‘ ماضی کے حریف حال کے حلیف بن جاتے ہیں اس طور پہ دیکھوں تو نواز شریف کے سیاسی نشیب و فراز پہ افسوس سا ہوتا ہے وہ واحد خوش نصیب حکمران ہیں جنہیں تین بار وزیر اعظم کے منصب جلیلہ پر رونق افروز ہونا نصیب ہوا اور اس اعتبار سے کوتاہ قسمت کہ ایک مرتبہ بھی وہ اپنی حکمرانی کی مدت پوری نہ کر سکے۔ شخصی اعتبار سے ان میں بڑی اخلاقی خوبیاں ہیں۔ وہ منکسر مزاج‘ مہذب اطوار اور بامروت ہیں۔ رہی بات نقائص
جمعرات 23 مئی 2019ء

کوئی صورت نظر نہیں آتی

پیر 20 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
سیاست ہمارے ملک کی ایسی ہے کہ اسے نہ کسی پل چین ہے اور نہ قرار۔ ہر لمحہ ہر آن بدلتی ہوئی تغیر پذیر۔ مگر نتائج وہی ڈھاک کے تین پات۔ بقول منیر نیازی کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ملک عزیز پر آسیب کا سایہ ہے۔ اگر کوئی سایہ ہے تو خداوند تعالیٰ کی رحمت ہی کا سایہ ہے کہ تمام بدعنوانیوں‘ بدکرداریوں‘ خود غرضیوں اور نفس پرستیوں کے باوجود یہ ملک قائم و دائم ہے اور بہتری کے آثار بھی کچھ نہ کچھ نظر آتے رہتے ہیں۔ عرض
مزید پڑھیے


کچھ احوال سرکاری یونیورسٹیوں کا

جمعه 17 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
زمانۂ طالب علمی سے زمانۂ تدریس تک اور اب جبکہ کراچی یونیورسٹی سے یادِ گزشتہ کا تعلق باقی رہ گیاہے۔ تین وائس چانسلروں کو اپنے منصب پر رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوتے دیکھنے کی الم نصیبی حصے میں آئی۔ تینوں کی بابت واقفان حال نے یہی بتایا کہ یونیورسٹی کے ناگفتہ بہ حالات ان حضرات کے ذہنی تناؤ اور قلبی و اعصابی دباؤ کا سبب بنے جس سے یہ عارضہ قلب میں مبتلا ہو کر دفعتاً موت سے ہمکنار ہوئے۔ پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر محمود حسین تھے جنہوں نے اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر ذاکر حسین کے نقش قدم پر
مزید پڑھیے


تنازع چاند کا

پیر 13 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
رمضان المبارک کا چاند ہمارے مفتی منیب الرحمن نے دیکھ لیا۔ دیکھا لمبی دوربین سے اور اعلان کیا ٹی وی چینلوں کے کیمروں کے سامنے۔ گلیلیو نے بھی دوربین ہی سے زمین کی حقیقت دریافت کی تھی اور پادری وکلیسا کی ناراضی پر اس نے توبہ کر کے اپنی جان بچائی تھی۔ اب ہمارے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فرماتے ہیں کہ دوربین ہی سے چاند دیکھنا ٹھہرا تو مفتی صاحب ہی کیوں دیکھیں‘ ہم خود کیوں نہ دیکھ لیں۔ ہم پہ اعتراض ہے تو محکمہ موسمیات والے دیکھ لیں گے۔ اس پر مفتیان کرام اور علماء بہت خفا ہوئے۔ فرمایا
مزید پڑھیے


ایک لیبارٹری ٹیسٹ کا سوال!

جمعرات 09 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہمارا کالم’’گیلیلو سے ڈاکٹر عطاء الرحمن تک’’پڑھ کر ہمارے ایک سائنس داں قاری نے بہ ذریعہ ای میل ہمیں اپنی ایک ایجاد سے مطلع کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس ایجاد و اختراع کے لئے انہیں ایک لیبارٹری درکار ہے تاکہ ان کے تجربے کی تصدیق ہو سکے ان کے مطابق انہوں نے اپنے اس سائنسی کارنامے سے مغرب کے سائنس دانوں سے بذریعہ ای میل خط و کتابت کی ہے اور جواب میں ان شخصیتوں نے اعتراف کیا ہے کہ مغرب کی سائنس کے لئے بھی یہ نئی اختراع ہے۔ ہمارے یہ قاری جناب عمر فاروق ہیں۔ پہلے
مزید پڑھیے




اشکبار آنکھیں

پیر 06 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
یہ واقعہ بہت پرانا ہے۔ دھندلی دھندلی سی یادیں ہیں۔ کچھ حافظے میں محفوظ اور بہت کچھ نسیان کی نذر کہ یاد کروں بھی تو چند مناظر شعور کی سطح پر ابھر آتے ہیں، باقی دیگر تفصیلات کہاں گم ہو گئیں، عقل ان کے تجزیے سے عاجز و لاچار ہے۔ نصرت نصراللہ، بھاری جسم، بوٹا ساقد، گھنے بال سر پہ، گھنی بھنویں، یہ بڑی بڑی آنکھیں جو عینک کے عقب سے جھانکتی بے پروا لگتے تھے لیکن ایسا تھا نہیں۔زندگی نظم و ضبط اور پابندی اوقات سے عبارت تھی۔ لاپروائی کا تاثر اس لیے ملتا تھا کہ غیر روایتی اور غیر
مزید پڑھیے


ہم اور ہمارا غصہ

جمعه 03 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
برسوں پہلے ہندوستان میں ایک فلم بنی تھی’’البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟‘‘ فلم کا عنوان ایسا چونکا دینے والا تھا کہ اسے دیکھنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ اسی پر غور کرتے رہ گئے کہ ہمیں غصہ کیوں آتا ہے؟ چونکہ ہم میں سے کون ہے جسے غصہ نہیں آتا اور آتا ہو تو وہ اسے پی جاتا ہو اور جس پر غصہ آتا ہو اسے معاف کر دیتا ہو۔ ہم سب ہی البرٹ پنٹو ہیں کہ ہم سب غصے کے شکار ہیں۔ غصے کا مطلب ہے اپنے اندر بھڑک اٹھنے والے آتش خفت سے مغلوب ہو جانا
مزید پڑھیے


’’ہم‘‘ سے ’’میں‘‘ کا سفر

پیر 29 اپریل 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہمارے ایک معاصر کالم نگار نے ’’میں‘‘ کے بجائے ’’ہم‘‘ کے صیغہ میں لکھنے پر بہت سے اعتراضات کئے ہیں۔ چونکہ مثلاً ہم اکثر سوچتے ہیں‘ ہم نے کیا دیکھا وغیرہ تو اس لئے یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی وضاحت کر دی جائے کہ ہمارے پرانے لکھنے والے مثلا ابن انشا، نصراللہ خاں یا مشفق خواجہ وغیرہ اگر ’’میں‘‘ کی جگہ ہم کا صیغہ استعمال کرتے تھے تو کیوں؟ اس لئے بھی ضروری ہے کہ جن معاصر کالم نگار نے ہم کے صیغے کا مذاق اڑایا اور چوٹیں کی ہیں ان کی اپنی زبان اردو نہیں
مزید پڑھیے


اعتبار کی بے اعتباری

جمعرات 25 اپریل 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اخبارات اور چینلوں کے حوالے سے یہ شکایت عام ہے کہ میڈیا جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کو پھیلانے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے میڈیا کا اعتبار اور وقار پہلے جیسا نہیں رہا۔ ایک زمانہ تھا کہ اخبار میں کسی خبر کا چھپ جانا ہی کافی تھا۔ اس کی صداقت پر شک و شبہ کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ اب معاملہ برعکس ہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ جو میڈیا کے اندرونی نظام اور معاملات سے ذرا بھی واقف ہے، اچھی طرح جانتا اور یہ یقین رکھتا ہے کہ اب معروضیت، غیرجانبداری اور سچائی وغیرہ محض
مزید پڑھیے


فتوے اور ہماری پریشانی

بدھ 24 اپریل 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
مصرکے ایک مفتی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ ناراض بیوی کا شوہر جنت میں نہ جا سکے گا۔یہ پڑھ کر ہمارے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اخبار لیے دوڑے دوڑے اہلیہ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تھرتھراتے کانپتے عرض کیا: ’’ملکہ عالیہ! نصیب دشمناں آپ مجھ سے خفا تو نہیں۔ کوئی بات ہماری آپ کی طبیعت پر گراں گزری ہو تو ہم دست بستہ آپ سے معافی کے طلب گار ہیں‘‘۔ ہم نے اخبار ایک طرف رکھ کر سچ مچ ان کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیے۔ اہلیہ نے جو بچوں کیلئے ناشتہ تیار کر رہی تھی، پلٹ
مزید پڑھیے