BN

ڈاکٹر طاہر مسعود



ارزاں ہے مسلماں کا لہو توکیوں؟


شاعر مشرق نے خداوند تعالیٰ سے شکوہ کیا تھا کہ رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کا شانوں پر۔ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔ مسلمانان عالم پچھلے زمانے میں بھی بے چارے تھے آج بھی بے چارے ہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے نزدیک ان کی حیثیت چارے سے زیادہ نہیں۔ مسلمان کریں بھی تو کیا۔ انہیں اپنے گھر کے اندرونی جھگڑوں سے فرصت نہیں۔ وہ آپسی تنازع سلجھالیں تو بڑی بات ہے، اپنی حالت کو سنوارلیں اور درپیش چیلنجوں سے نمٹ لیں تو شاید اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں۔ حالت ان کی روز بروز قابل رحم ہوتی
منگل 19 مارچ 2019ء

علمی ادارے اورمہم بچت کی!

اتوار 17 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اطلاع ملی مسعود اشعر صاحب کے کالم سے کہ سرکاری عمال نے اردو کے تین علمی و اشاعتی اداروں کو ایک ہی ادارے میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ اخراجات میں کمی کی جا سکے۔ اس فیصلے کی ذمہ داری ڈاکٹر عشرت حسین کے سر ڈال دی گئی جو ان دنوں نئی حکومت کو بچت کرنے کے نئے نئے گر بتانے پہ مامور کئے گئے ہیں۔ مسعود اشعر صاحب کی اطلاع کا ذریعہ اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر اور ممتاز نقاد ناصر عباس نیئر کا وہ ٹوئیٹ تھا جس میں درج تھا کہ ان کی اور افتخار
مزید پڑھیے


اعلیٰ تعلیم، پست اذہان

جمعرات 14 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہماری یونیورسٹیوں کی حالت تعلیمی، تحقیقی اور اخلاقی اعتبار سے روزبروز ناگفتہ بہ اور درماندہ ہوتی جاتی ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کا سب سے بڑا مسئلہ تو گرانٹ کا ہے کہ جو گرانٹ سرکار کی طرف سے انہیں ملتی ہے، وہ ان کی ضروریات کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔ رہی پرائیویٹ یونیورسٹیاں گو چند ایک کو چھوڑ کر ان کا تعلیمی معیار ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی کڑی نگرانی کے باوجود بحث طلب ہے۔ مثلاً یونیورسٹیوں کے بنیادی فرائض تدریس اور تحقیق ہیں۔پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔ غالباً و جہ یہ ہے کہ ایچ ای سی کے
مزید پڑھیے


کراچی درندگی سے زندگی تک

پیر 11 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کل ہم گھر سے دفتر کے لئے چلے تو معلوم ہوا کہ اسٹیڈیم کی طرف جانے والی سڑک بند ہے۔ ہم کراچی والوں کو اس کی عادت سی ہو گئی ہے۔ کوئی سیاسی جلسہ ہوتا ہے تو سڑک بند ہوتی ہے۔ کوئی جلوس نکلتا ہے تو سڑک ٹریفک کے لئے روک دی جاتی ہے کوئی سیاسی احتجاج ماضی میں ہوتا تھا تو سڑک پر ٹائر جلا کر گاڑیوں کا آنا جانا معطل کر دیا جاتا تھا۔ کراچی کے شہری ان باتوں کے عادی ہیں۔ اذیتیں بھگتنا‘ تکلیف اٹھانا ان کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ وہ برا نہیں مانتے۔
مزید پڑھیے


ایک دن عورتوں کا

هفته 09 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اقوام متحدہ نے کچھ اور کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن عالمی دن منانے کی روایت خوب قائم کر دی ہے۔ ماں کا دن، باپ کا دن، استاد کا دن اور اب عورتوں کا دن۔ یعنی جن اقدار کو ہماری عادت کا حصہ ہونا چاہیے، انہیں ایک دن کے چوبیس گھنٹوں میں محدود کر دینا۔ سادہ سا مطلب یہ ہوا کہ جو اقدار و روایات دم توڑ چکی ہیں یا آخری دموں پر ہیں، ان کی یاد تازہ کر دی جائے۔ آج عورتوں کا عالمی دن ہے۔اس کا سراغ ہمیں ریڈیو سے ملا۔ انائونسر صاحبہ عورتوں کی عفت و
مزید پڑھیے




امن سب کے لئے

بدھ 06 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ملک کے نادان دوست ہی ملک کے دشمن ہیں۔ چاہے نادانستگی اور کم شعوری ہی کی بنا پر کیوں نہ ہوں۔ یہ وہ نادان دوست ہیں جنہوں نے اپنی ریاست کے ماتھے پر دہشت گردی کا جھومر سجانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جہاد کے اس غلط تصور کی بنیاد پر کہ ہر ظلم کو اور ظالم کو طاقت سے مٹانا ہی جہاد ہے۔ فطرت کے اس اصول کو فراموش کر کے طاقت پر انحصار خود طاقتور کو آخر تباہ کر ڈالتا ہے۔ اس میں بہت کچھ قصور ان کا بھی ہے جنہوں نے ایسی تنظیموں کو بڑھاوا دیا یا
مزید پڑھیے


فاختہ امن کی

پیر 04 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
جنگ مسائل کا حل نہیں، جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے۔ مکالمے اور بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ یہ تب بند ہوتے ہیں جب جنگ کی ٹھان لی جائے اور جب یہ احساس ہو جائے کہ جنگ کا فیصلہ قطعی طور پر احمقانہ تھا تو تباہی و بربادی کے ملبے پر بیٹھ کر بات چیت اور مکالمے کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پھر یہ حساب کتاب کا تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ کس کے حصے میں کیا آیا؟ رسوائی اور پسپائی کے اس تخمینے میں کسی کے حصے میں کچھ نہیں آتا سوائے شرمندگی کے۔
مزید پڑھیے


ایک دن کی بات

پیر 18 فروری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ذہن خالی ہو جائے‘ لفظ گم ہو جائیں۔ لکھنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو‘ سوچنے کو کوئی موضوع نہ ملے‘ آپ قلم کاغذ سامنے رکھ کر دیواروں کو بے معنی نظروں سے گھورتے رہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب قومی سیاست کا شورو غوغا آپ کو بیزار کر دے۔ نیب کے حضور پیشیاں عدالتی احکامات اور سیاست دانوں کے بیانات سے بھی جب اوب جائے اور پھر بے معنویت کا گہرا احساس جسم و جاں کو اپنی لپیٹ میں لے کر آپ کو کسی کام خصوصاً لکھنے پڑھنے کے کام سے الگ
مزید پڑھیے


دو روّیے

پیر 11 فروری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
زندگی کو برتنے کے دورویے ہیں۔ ایک شکر کا اور دوسرا شکوے کا رویہ۔ پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو حاصل شدہ نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے لیکن گلے میں ہر آن شکوے کی تختی لٹکائے گھومتے رہتے ہیں اور مایوسی کا زہر ذہنوں میں گھولتے رہتے ہیں۔ اس پر مجھے ایک صوفی کا واقعہ یاد آتا ہے۔ اس کے پاس ایک شخص آیا جس نے ماتھے پہ پٹی باندھ رکھی تھی۔ صوفی کے استفسار پر اس شخص نے کہا کہ میرے سر درد ہے جس کے سبب سے پٹی باندھ رکھی ہے۔ صوفی نے
مزید پڑھیے


ڈگری بہ ذریعہ گداگری

اتوار 10 فروری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کمرہ امتحان کی نگرانی کرتے ہوئے میں ایک امیدوار کی کرسی کے پاس پہنچ کر ٹھٹھک گیا۔ امیدوار اجازت لے کر واش روم گیا ہوا تھا اور اس کی امتحانی کاپی پر جو کچھ درج تھا اس نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا تھا۔ کاپی اٹھا کر میں پڑھنے لگا۔ امیدوار نے ممتحن کے نام نہایت عاجزی سے ایک مختصر سا خط لکھا تھا: ’’سر! پلیز مجھے پاس کردیجئے گا۔ میں بہت غریب ہوں۔ اگر میں فیل ہوگیا تو میرا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ مجھے کہیں نوکری نہیں ملے گی۔ پلیز سر پلیز پاس کردیجئے گا۔‘‘ کاپی کے ہر صفحے پر
مزید پڑھیے