BN

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش



آگے کیا۔۔۔۔ ؟


اب آگے کیا۔۔۔۔ ؟ یہ آج کا ملین ڈالر ، بلکہ کئی بلین ڈالر مالیت کا سوال ہے۔ اس وقت اگر جنگ کسی صورت بھی سامنے آتی ہے، جس میں بری اور بحری افواج بھی شامل ہو جائیں تو کم سے کم دورانیہ کی لڑائی بھی دونوں اطراف اربوں ڈالر کا نقصان کر ڈالے گی۔ اسی لیے عام آدمی سے لے کر حکومتی سطح ، یہاں تک کہ دنیا بھر کے اہم دارالحکومت بھی اسی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔ دراصل اس وقت اس سوال کے ہر جواب کا بہت حد تک انحصار اس بات پر ہے کہ بھارت
هفته 02 مارچ 2019ء

انتشاری قوتیں:مسئلہ کوئی اور ہے

جمعرات 07 فروری 2019ء
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش
سوال یہ ہے کہ جن مسائل کی بات وہ کر رہا ہے ان کا زمینی حقائق سے تعلق ہے کہ نہیں۔ اگر ہے تو پھر منظور سے پہلے ریاست نے ان کی طرف توجہ کیوں نہ دی۔۔۔ ؟ یہ بھی درست ہو گا کہ بہت سی قوتیں انتشار پھیلانے کے لیے عوامی ہمدردی کے ایشوز کو سہارا بناتی ہیں۔۔۔۔ لیکن یہ بھی تو اتنا ہی صحیح ہے کہ ایشوز ہوتے ہیں تو ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔ وہ بھی ایسے ایشوز جن کے حوالے سے داد رسی کی امید عوام میں دم توڑ رہی ہوتی ہے۔ پھر ایسے میں جو
مزید پڑھیے


’’اسلام آباد میں پنپنے کی باتیں !‘‘

اتوار 20 جنوری 2019ء
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش
مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی جناب افتخار گیلانی لکھتے ہیں کہ بھارت کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ بنیادی طور پر سیاستدان نہیں بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ تھے اور فطرتاً نہایت شرمیلے اور نستعلیق۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوے کی دہائی میں وہ آنجہانی پی وی نرسمہاراؤ کی حکومت میں وزیر خزانہ مقرر ہوئے۔ ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں تھی اور معیشت کو پٹڑی پر لانے کے لیے تلخ فیصلے کرنا لازم تھا۔ تاہم اپوزیشن کا یہ حال تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں حکومت کی ایک نہ چلنے دیتی اور مالی معاملات کے حوالہ سے ہر
مزید پڑھیے