Common frontend top

ڈاکٹر محمد فیصل علی


بیج کی صنعت کے مسائل اور ان کاحل


کسی بھی ملک میں زرعی تحقیق یا زرعی تحقیقاتی اداروں کے قیام کا بنیادی مقصد فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوتاہے تاکہ ناصرف بڑھتی ہو ئی آبادی کے لئے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ کسانوں کے لئے فصلوں کی پیدائش اور فروخت سے زیادہ منافع کوبھی ۔ چنانچہ زرعی شعبے میں اعلیٰ پیداوار کے حصول کے لیے جینیاتی طور پر خالص اور اعلیٰ معیار کے بیج ناگزیر ہوتے ہیں۔مگر پاکستان میںزرعی تحقیقاتی ادارں کی جانب سے فصلوں کی متعدد اقسام کے متعارف کروائے جانے کے باوجود، ہم زرعی شعبہ کی پوری صلاحیت سے فائدہ اُٹھانے
بدھ 15 مئی 2024ء مزید پڑھیے

گندم کے بحران کا تفصیلی جائزہ ۔۔۔۔(3)

هفته 11 مئی 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
درآمد کے فیصلے کے تجزیے کے بعد ضروری ہے کہ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پروکیورمنٹ کے ہدف میں کمی کس حد تک درست ہے ، یہ فیصلہ کیوں لیا گیا اور کیا حکومت واقعتاگندم خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے ؟ جہاں تک اس فیصلے کے لیے جانے کا تعلق ہے تو اس میںپہلی دلیل یہ پیش کی جارہی ہے کہ حکومت کی درآمد سے زخیروں میں پہلے سے ہی بہت زیادہ گندم موجود ہے۔ چنانچہ گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے حکومت گندم نہیں خریدی جارہی ۔ یہ دلیل اس لیے
مزید پڑھیے


گندم کے بحران کا تفصیلی جائزہ ۔۔۔۔(2)

جمعه 10 مئی 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
گندم امپورٹ کے مسئلے کو گہرائی سے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام پہلووں کا احاطہ کیا جائے جن کی بنیاد پر یہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے یہ اہم ہے کہ ہماری گندم کی ضرورت ہے کیا اور اس ضرورت کا تعین کیسے کیا جاتا ہے ۔ ملک بھر میں گندم کی سالانہ ضرورت کا تعین گندم کے فی فرد سالانہ استعمال سے کیا جاتا ہے ۔گذشتہ برس ہونیوالی مردم شماری کے مطابق ہم قریب قریب 24.5کروڑافرادکا ملک بن چکے تھے جبکہ امسال یہ آبادی 24.77کروڑ کے لگ بھگ ہو
مزید پڑھیے


گندم کے بحران کا تفصیلی جائزہ ۔۔۔۔(۱)

جمعرات 09 مئی 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
پاکستان میں گندم ایک ایسی فصل ہے جس سے جڑا ہو ا کو ئی نہ کوئی بحران ہمیشہ سے ہی زیرِبحث رہتاہے ۔وہ بحران مارکیٹ میںگندم کی خریداری کے حوالے سے قیمتوں کے عدم توازن سے جڑا ہوا ہو یا صارفین کے لیے آٹے کی قیمتوں میں بے قابو اضافے سے ، وہ بحران گندم کی اسمگلنگ سے جڑا ہو یا ذخیروں سے چوری ہو جانیوالی گندم ، یا وہ گندم جسے چوہے کھا جائیں ،وہ بحران اپنی ہی آبادی کی ضرور ت سے کم پیداور سے جڑا ہواہو جو درآمد ات سے ایک کمزور معیشت پر بوجھ بن جائے
مزید پڑھیے


روایتی انتخابی عمل کے ماحولیاتی مضمرات۔۔۔۔(2)

بدھ 01 مئی 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
روایتی طریقہ انتخابات کے ماحولیاتی اثرات صرف بیلٹ پیپرز تک ہی محدود نہیں ہیں ۔انتخابی مہمات کے لئے تیار کردہ مواد میں استعما ل ہونیوالا کاغذ اس کے علاوہ ہے جس کی مقدار یقینی طور پر بیلٹ پیپرز سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ موجودہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ہر امیدوار کے لیے منفرد انتخابی نشانات کی وجہ سے انتخابی مہم کے موادکا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا۔اگر فرض کر لیا جائے کہ تمام تر انتخابی مہمات کیلئے درکار کاغذ کے مجموعی اثرات بیلٹ پیپرز کے اثرات کے مساوی ہیں تو پورے انتخابی عمل کیلئے درکار درختوں کی
مزید پڑھیے



روایتی انتخابی عمل کے ماحولیاتی مضمرات

جمعرات 25 اپریل 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
ماحولیاتی تبدیلیاںنا صرف انتہائی تیزی اور شدت سے رونما ہو رہی ہیں بلکہ نظام زندگی کو بھی اُسی شدت سے متاثر کر رہی ہیں ۔یہ تبدیلیاں اس قدر شدید ہیں کہ گذشتہ برس کے درجہ حرارت سے جُڑے ہوئے اعدادو شمار اسے تاریخ کا گرم ترین سال ثابت کر چکے ہیں ۔ گلوبل وارمنگ اس وقت گلوبل بوائلنگ بنتی جا رہی ہے اوریہ رجحان ایک بڑے پیمانے پر ماحولیاتی خطرات و خدشات کی جانب اشارہ کر رہا ہے ۔ چنانچہ گذشتہ دو تین دہائیوں سے دنیا بھر میں ماحول دوست اقدامات پر مناظروں، مکالموں اورمباحثوں میں نا صرف تیزی آئی
مزید پڑھیے


نئی حکومت کے لئے زرعی ترجیحات کا خاکہ(۲)

پیر 08 اپریل 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
حکومت ِ پاکستان ہر سال ان پٹ سبسڈیز، جیسے کھاد، بیج وغیرہ کے لیے اہم فنڈز مختص کرتی ہے ۔جو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے ایک غیر موثر پالیسی ثابت ہو رہے ہیں۔ ان فنڈز کا مقصد کم قیمتوں کو برقرار رکھنا ہے۔ تاہم، قیمتوں میں کمی پر سبسڈی کا اصل اثرات نا ہونے کے برابر ہیں ۔ بنیادی طور پریہ اس لیے غیر موثر رہتے ہیں کیونکہ یہ سبسڈیز ادائیگی کے طریقہ پر پر مبنی ہوتی ہیں، جو پہلے سے ہی نقدی کی کمی کے شکار چھوٹے کسانوں کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔ اس ضمن
مزید پڑھیے


نئی حکومت کے لئے زرعی ترجیحات کا خاکہ……(1)

اتوار 07 اپریل 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
پاکستان میں زرعی شعبہ ہمیشہ سے ہی اپنی اہمیت کی وجہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے مگر مختلف کوششوں، متنوع اقدامات، اور زرعی انقلابات کے نعروں کے باوجود، اس شعبے کے گہرے مسائل کو سمجھنے کے لیے مخلصانہ کوششوں کا فقدان رہا۔یہی وجہ ہے کہ زرعی شعبہ کی صلاحیت سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل قریب میں کئے جانے کی اُمید ہے ۔اس شعبہ سے بھرپور استفادکے لیے اس کو درپیش پیچیدگیوں کی چھان بین بہت ضروری ہے۔اسی لئے ہم یہاں کچھ ایسی ترجیحات کا خاکہ پیش کر رہے ہیں جن پر توجہ سے
مزید پڑھیے


مقصدِ تخلیقِ زندگی کچھ اور ہے

اتوار 31 مارچ 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
وہی ہے جس نے بھید وں بھری یہ کائنات تخلیق کی ۔یہ بھیدوں بھری کائنات جس میں اسرار در اسرار ہیں، غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ، راز ہیں۔وہ راز، جو کسی ریاضت کیش پر کھلتے ہیں اور خلوص والوں پر۔ وہ ،جو رائی کے دانے کے برابر بھی خلوص دیکھ لیتا ہے، وہ ،کسی خالص کو بے مراد نہیں رکھتا۔ سو کسی راز تک پہنچنا ہے تو پورے خلوص کے ساتھ ریاضت کا دامن تھام لیجئے۔ جان لیجئے، یہ کائنات اور خدائے واحد و یکتا کا کلام ایک مسلسل دعوت ِ فکر و عمل ہے۔ وہ کہتا ہے
مزید پڑھیے


زکوٰۃ کی ادائیگی ، دو غلط فہمیاں اور حل

بدھ 27 مارچ 2024ء
ڈاکڑ محمد فیصل علی
ایک روز اس نظام کی بساط لپیٹ دی جائے گی یہ ناتمام کائنات اپنی تکمیل کو پہنچے گی۔یہ مضبوطی سے ایستادہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑتے پھریں گے۔ اُس روز کامیابی اور فلاح کی ضمانت صرف اُسی کے لیے ہے جواس کائنات کو تخلیق کرنے والے کے نظام پہ کھڑارہا۔ وہ نظام جو اس زمین وآسمان کے تنہا خالق نے نبی ِآخرالزماںﷺ کے ذریعے مکمل کردیا ہے۔ اب تا حشر زمانے کی فلاح اسی دین اور اسی نظام میں ہے۔ اب جس کو روشنی درکار ہے اُسے اسی چراغ سے اپنا راستہ متعین کرنا ہو گا۔ ایک بنیادی فلاحی
مزید پڑھیے








اہم خبریں