BN

یوسف سراج



کشمیری کھڑے رہیں گے


آزادی کشمیریوں کا حق ہے ، دنیا کی کوئی طاقت یہ حق ان سے چھین نہیں سکتی۔آزادی کی مشعل پر نسلوں کا خون پروانہ وا ر انھوں نے نچوڑا ہے ، بالآخر آزادی انھیں مل کے رہے گی۔گو راہ کٹھن اور رات تاریک تر ہو چکی ، آزادی کا سویرا طلوع ہونا بھی مگر اتنا ہی یقینی۔ ہر چیز کی طرح آزادی کی بھی ایک قیمت ہے، بڑی بھاری قیمت۔ کشمیری یہ قیمت بخوبی اد اکرچکے ، ادا کربھی چکے ، پیہم ادا کر بھی رہے ہیں اورحریت کی خاطر بازارِ آزادی میں کھڑے وہ ہر قیمت چکانے کا حوصلہ
پیر 26  اگست 2019ء

قوم پر رحم کیجئے

پیر 19  اگست 2019ء
یوسف سراج
عرب کہتے ہیں جنگ ایک ڈول کی طرح ہے، کنویں پر پڑا ڈول جو آج ایک ہاتھ میں ہے تو کل کسی دوسرے کے ہاتھ میں ، زندگی بھی ایسے ہی ہے ۔کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں۔مستقل صرف تبدیلی ہے، ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں ! اکہتر میں پاکستان کو بدترین ہزیمت اٹھانا پڑی ۔ غلطیاں جس نے بھی کیں،آج ان سے سبق سیکھا جا سکتا ہے، نتیجہ مگر یہ تھا کہ قائد کا پاکستان ہم نے کھو دیا تھا اوراس کا ایک بازو کاٹ پھینکا تھا۔ نوے ہزار کلمہ گو فوجی بھارتی قید میں
مزید پڑھیے


خطبہ ٔ حج2019 ء :توقعات اور حقائق

اتوار 18  اگست 2019ء
یوسف سراج
حج کا یہ خطبہ ، ایک معمول کا عام سا خطبہ تھا، یوں نہیں کہ میں حج کے خطبے کو عام سا خطبہ کہنے کی جسارت کر رہاہوں ، اپنی اہمیت اور حیثیت کے تناظر میں یہ خطبہ ہرگز عام نہیں ہو سکتا،کبھی نہیں ہو سکتا۔ پندرہ صدیاں پہلے جس جگہ رسول ِ اقدسؐ بنفسِ نفیس کھڑے ہوئے ،جہاں رسولِ اطہرؐ کے ریشمی قدم پڑے اور جو ہر عہدِ آئندہ کے لیے رہنمائی کے لیے نقشِ قدم ہوئے ، جہاںآپؐ نے سانس لیے اور خوشبوؤں کو مہک بخشی ، جہاں آپؐ کی آواز گونجی اور انسانیت نے بولنا اور سننا
مزید پڑھیے


عورت پر ظلم

جمعه 29 مارچ 2019ء
یوسف سراج
اسلام پر لوگوں کو غصہ بہت ہے ۔ پرائیوں کو بھی کم نہیں، نام نہاد اپنوں کو مگرکہیں زیادہ۔دراصل اسلام انسانی خواہش و خون میں تیرتی شیطانی دست درازیوں کا ہاتھ پکڑتاہے،انسانی جبلت مگر وہ بچہ ہے، ہاتھ کٹنے کے انجام کو پسِ پشت ڈال کے، نفسانی خواہشات کے چاقو پر جوہاتھ ڈال دینا چاہتاہے۔روک کسے پسند ہے؟ اور اپنی خواہش کو برا کون کہے؟ چنانچہ اس کے لیے ’’غریب‘‘ اسلام حاضر ہے۔ ویسے بھی طریقہ یہ ہے کہ اقتدار اور اختیار عیب چھپا لیتاہے اور مخالفانہ زبان سے سکت بھی ۔ اسلام کا معاملہ یہ ہے کہ گو دلیل
مزید پڑھیے


نیوزی لینڈ آگ سے امن تک

پیر 18 مارچ 2019ء
یوسف سراج
بحران میں قیادت کس طور بروئے کار آتی ہے ، یہ ہمیں نیوزی لینڈ نے بتایا، طوفانوں سے قومیں کس طور نبرد آزما ہوکے اور نکھر کے ظہو رکرتی ہیں ، یہ بھی نیوزی لینڈرز نے آشکار کر دکھایا،دراصل نیوزی لینڈ آگ میں آگرا تھا، قیادت او رقوم نے مل کرمگر اس آگ کو گلزار میں بدل ڈالا۔ جناب عمران خان کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے مغرب کی مثالیں دیں اور ہمارے طرزِ حکومت کے خلاف تنقید کی ایک دیوار کھڑی کر دی۔ وقت میسر اور مہلت ان کے پاس موجود ہے ، انتخاب او رعمل کا فیصلہ
مزید پڑھیے




عورت ، داناؤں کی نظر میں

جمعه 15 مارچ 2019ء
یوسف سراج
دن رات کے شور نے بالآخر مجھ جیسے سخت جان کو بھی ہلا ڈالا۔بہت ہاتھ پاؤں مارے ،معاملے کو ٹالنے اورمحنت سے دور رہنے کی بہت کوشش کی ، کسی دانا سے سنا تھا، محنت جوانوں کی موت ہوتی ہے ،ادھر مگر یلغار ایسی تھی کہ تاب نہ لا سکا۔اگرچہ بیداری میں مشقت تھی مگر جاگنا ہی پڑا۔چنانچہ جی کڑا کرکے، اسلام نے عورت پرجو ’’ظلم‘‘ ڈھائے ،ان کا جائزہ لینے کی ٹھان ہی لی۔ویسے بھی آپ جانئے ،آخر کب تک کوئی محض عقیدت کے بھرے میں جی سکتا ہے۔ادھر نئی دنیا کی چکا چوند سے متاثر ہمارے دوست آئے
مزید پڑھیے


اقبال ڈے کی چھٹی

جمعه 09 نومبر 2018ء
یوسف سراج
برادرم آصف محمود نے اپنے نوکیلے اور کٹیلے لہجے میں اقبال کی چھٹی کے ساتھ ہوئی واردات پرسلگتا کالم لکھا۔ یہ بتایا کہ یہی حکومت جب اقتدار کے آسمان پر فائزنہیں ہوئی تھی تو اسے اس مردِ درویش اقبال کے بارے میںزمینی حقائق اورملی احساسات کابخوبی ادراک تھا۔ اب جبکہ اس کی نظر ِ بلند کو حکومتی رفعتیں نصیب ہو چکیں تو اسے نئے منظروں نے الجھا اور لبھا لیا ہے۔ہمارے موسموں میں یہ طلسم کاری بھی عجب ہے کہ یہاں ملی احساسات صرف اپوزیشن ہی میں رہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، جونہی کوئی گروہ یا شخصیت حکومتی ایوانوں
مزید پڑھیے


سعودی پاکستان کو کیا سمجھتے ہیں؟

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
یوسف سراج
سعودی عرب کی فقہ اور طرزِ حکومت سے دنیا کا نقطہ ٔ نظر مختلف ہو سکتاہے۔اس میں کوئی برائی یا حرج کی بات نہیں، حرج کی بات اور برائی مگراس چیز میں ہے کہ کسی کی ذاتی رائے اور رجحان اسے منصفانہ بات کہنے سے ہی روک دے ،برائی اس میں ہے کہ کسی کا تعصب ہی اگر اس کا تجزیہ بھی بن جائے یا اسے انصاف کا گھروندا ہی ڈھا دینے پرہی اکسا ڈالے۔حقیقت یہ ہے کہ وقت پڑنے پر بہت کم لوگ تعصب کا دریا پا ر کر سکنے اور بے انصافی کے طوفان میں ڈٹ کر انصاف
مزید پڑھیے


زینب کے مجرم

جمعرات 18 اکتوبر 2018ء
یوسف سراج
زینب کا قاتل پھانسی کے پھندے سے جھول گیا۔ ظاہر ہے ، اس طرح تو ہوتا ہے ، اس طرح کے کاموں میں۔ آدمی جو بوتا ہے ، جلد یا بدیر وہ اسے کاٹنا ہی پڑتاہے۔ زمانہ بہت دیر کسی کا قرض اٹھا نہیں رکھتا۔ ایک سفاک مجرم اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔خس کم جہاں پاک۔ زینب کیس ملکی تاریخ کا مہنگا ترین اور تیز ترین کیس ثابت ہوا۔ اس وقت جب سات سالہ زینب کی نوچی گئی نعش کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی تھی، پورا ملک جلتا ہوا تنور بن گیا تھا۔ حالات ایسے دردناک اور ہولا دینے
مزید پڑھیے


پاکستان اور پانی

اتوار 30  ستمبر 2018ء
یوسف سراج
کچھ باتیں آپ کو حیران کر دیتی ہیں اور اگرآپ میں سوچ و فکر کا مادہ ہو تو پریشان بھی۔ فرض کریں بہت ٹھونک بجا کے آپ اپنے لیے ایک با صلاحیت ، با اعتماد اور مہنگے ڈاکٹر کا انتخاب کرتے ہیں۔ اپنی صحت کی ساری ذمے داری آپ اسے سونپ دیتے ہیں ،صحت کے حوالے سے آپ اپنا سب کچھ اس کے اختیار میں دے دیتے ہیں ،یہاں تک کہ اپنی مالیات بھی۔ تقاضا آپ کا بس یہ ہے کہ وہ جو چاہے کرے مگر آپ کی صحت کا بخوبی خیال رکھے۔ بات طے ہو جاتی ہے ۔ وہ
مزید پڑھیے