ہارون الرشید


سزا


یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ ہماری خوئے غلامی، ہماری شخصیت پرستی کی، ہمارے جذباتی عدمِ توازن کی۔ سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھارت نے کرایا، وزیرِ اعظم کو یقین ہے۔ ظاہرہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی توثیق کے بغیر اس درجہ مکمل اطمینان ممکن نہیں۔ بیچارے گنتی کے بلوچ دہشت گرد کیا بیچتے ہیں۔ صدیوں سے سرداروں کی غلامی میں جینے والے، اکثر چٹے ان پڑھ۔ ان میں سے بعض کو تو یہ بتایا گیا ہے کہ خاکی وردی والے اللہ،رسولؐ اور یومِ آخرت پہ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ظاہر ہے کہ یہ افغانستان کی خدمتِ اطلاعاتِ دولتی ہے، جسے این ڈی
جمعه 03 جولائی 2020ء

ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا

منگل 30 جون 2020ء
ہارون الرشید
طارق تم نے سچ کہا تھا۔ بڑے آدمی اگر کبھی دیکھے تو چک 42جنوبی سرگودھا میں۔ بخدا باقی تو سب بھوسہ ہی نکلا۔ کرنل ریاض کی وفات سے وہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا۔ ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا۔ ہر عزیز کی موت تکلیف دیتی ہے مگر ایسی ناگہانی موت۔ جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن قلب و دماغ سے رخصت نہیں ہوتے۔ رفتید ولے از نہ دلِ ما۔دنیا سے رخصت ہوا مگر میرے دل میں وہیں کا وہیں ہے۔ بیس برس ہوتے ہیں، ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور کسی نے کہا ’’میں ریاض ہوں‘‘
مزید پڑھیے


راز کی بات

پیر 29 جون 2020ء
ہارون الرشید
پی آئی اے سمیت ملک بھر کے تمام ادارے کس طرح تباہ ہوئے، یہ کوئی راز نہیں۔ راز کی بات یہ ہے کہ اپنی حماقتوں پہ غور کرنے اور خود کو بدلنے کاارادہ ہم ہرگز نہیں رکھتے۔ افسر شاہی کا یہ فرسودہ نظام ڈیڑھ سو سال پہلے تشکیل پایا تھا۔ 1857ء کے بعد بنگال سے پشاور تک سرکاری ہیبت جب قائم ہوچکی تھی۔ سول سروس کے امتحان میں بہترین انگریز افسر منتخب کیے جاتے۔ پھرتربیت کے انتہائی سخت مرحلوں سے گزرتے۔ باقاعدہ حکومت تو 1857ء میں بنی لیکن دو صدیوں سے انگریز بر صغیر کو خوب جانتے تھے۔ اس کی
مزید پڑھیے


قرآن کریم

جمعرات 25 جون 2020ء
ہارون الرشید
توحید، رسالت اور قرآنِ کریم ہی ہمارا کل اثاثہ ہے۔ اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے، اے اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے! خوابوں اور خیالوں میں آدمی جینے لگتاہے تو ایسی بات بھی کہہ دیتاہے، زندگی کی سچائیوں سے جس کا رتّی برابر بھی تعلق نہیں ہوتا۔ یونیورسٹیوں میں قرآنِ کریم کی تعلیم پر معترض محترم کو ہرگز اندازہ نہیں کہ پاکستانیوں کے زخموں پر وہ نمک چھڑکتے ہیں۔ ایک آدمی کا اعتقاداور طرزِ احساس اس کا اپنا مسئلہ ہے۔ لکم دینکم ولی دین۔ تمہارے لیے تمہارا راستہ اور ہمارے لیے ہمارا راستہ لیکن
مزید پڑھیے


پی ٹی آئی کے اندرونی جھگڑے

بدھ 24 جون 2020ء
ہارون الرشید
اندرونی اختلافات ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔ شخصیات کا تصادم بھی۔ عمران خان ان جھگڑوں کو نمٹا نہ سکے۔ بظاہر دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان معاملا ت میں وہ ایک بے نیاز آدمی ہیں۔ ثانیاً پارٹی ان کے لیے پارٹی نہیں بلکہ حصولِ اقتدار کا ایک ذریعہ تھا۔اس کی تنظیم کے لیے پوری طرح کبھی وہ سنجیدہ نہ ہوئے۔ فواد چودھری کا کہنا یہ ہے کہ حکومت کی بے عملی کا سبب پارٹی کے اندرونی جھگڑے رہے۔ خاص طور پر جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات۔ اسد عمر نے ایک دن فون سننے میں
مزید پڑھیے



سیّدہ زینبؓ کی بیٹیاں

منگل 23 جون 2020ء
ہارون الرشید
اللہ کی ان پہ لاکھوں رحمتیں ہوں، تو یہ سیّدہ زینبؓ کی بیٹیاں ہیں؟ جو شہید ہوئے، وہ شہید ہوئے۔ اب یہ ان کی مشعل بردارہیں۔ جنرل اختر عبد الرحمٰن کے صاحبزادوں، ایک کے بعد دوسرے نے جب اپنی دادی امّاں کی کہانی سنائی تو مجھے ماں جی یاد آتی رہیں، نانی امّاں۔ سارا دن تخت پر بیٹھی جو تسبیح اور نوافل پڑھا کرتیں اور ایک حکمران کی طرح فیصلے صادر کرتیں۔ جنرل عبد المجید ملک نے اپنی والدہ محترمہ کا ذکر چھیڑا تو سامع نے حیرت سے کہا: دو ایسی محترم خواتین اور بھی تھیں۔ جہاندیدہ آدمی نے سر
مزید پڑھیے


جنرل محمد ضیاء الحق

پیر 22 جون 2020ء
ہارون الرشید
ضیاء الحق اتنے اچھے تھے، جیسا کہ ان کے مداحین کہتے ہیں اور نہ اتنے برے، جیسا کہ ان کے مخالفین دعویٰ کرتے ہیں لیکن ایک انتہائی دیانت دار، مکمل محب وطن اور انسان دوست۔ تبریٰ کرنے والوں پر حیرت ہے۔ مخالفین کے نزدیک جنرل پاکستانی معاشرے میں زوال کا تنہا ذمہ دار ہے۔ بہت سے لکھنے والے یہ تاثر دیتے ہیں اور اصرار کے ساتھ۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہاہے۔ اس لیے کہ ضیاء الحق کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں۔ جنرل کی وفات کے بعد برسوں نواز شریف ضیاء الحق کے مزار پہ جاتے
مزید پڑھیے


کبھی بحیلۂ مذہب، کبھی بنامِ وطن

جمعرات 18 جون 2020ء
ہارون الرشید
تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، معاشروں کو تعلیم و تربیت کی، ورنہ وہی ریوڑ کے ریوڑ۔ صدیوں پہلے جو کبھی بادشاہوں اور پادریوں کا مارایورپ تھا، جو آج ہم ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے، کورونا کے باب میں اہلِ لاہور کی لاپرواہی کی شکایت کی تو کچھ لوگ ناراض ہوگئے۔ یہی گلہ وزیرِ اعظم سے ہوااور بلاول بھٹو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عوام کو جاہل کہنے والوں کو الیکشن میں مزہ چکھایا جائے گا۔ مطلب یہ کہ ہم انہیں بھڑکانے کی کوشش کریں گے۔عوام کے جذبات سے کھیلیں گے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد
مزید پڑھیے


نظامِ نو

بدھ 17 جون 2020ء
ہارون الرشید
اس فرسودہ نظام او راس نا اہل قیادت کے ساتھ ہم دلدل میں ہی پڑے رہیں گے۔ صحرا ہی میں بھٹکتے رہیں گے۔ ایک کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے دوست سے عرض کیا: عمران خان کے تجزیے پر وقت ضائع کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں اور نہ مشورہ دینے کی۔غور و فکر مستقبل کے بارے میں ہونا چاہئیے۔اجتماعی نظام میں خرابی کہاں ہے اور کس طرح اس کی جڑکاٹی جا سکتی ہے۔ خان نے اس دن ہار مان لی تھی، جب روایتی سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آنے کی ٹھان لی تھی۔ تیس اکتوبر2011ء کے تاریخی
مزید پڑھیے


خدا کے لیے!

منگل 16 جون 2020ء
ہارون الرشید
سنبھل جاؤ، اللہ کے بندو، اب بھی سنبھل جاؤ۔ کورونا کوئی مرض ہی نہیں ہے، مکمل احتیاط اگر روا رکھی جائے مگر یہ آتش فشاں ہے، اگر خود کو حالات کے حوالے کر دیا جائے۔ کیا وائرس کے خلاف اپنی جنگ ہم ہار رہے ہیں؟ اسد عمر کے مطابق چند ہفتوں میں مریضوں کی تعداد 12لاکھ ہو سکتی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کراچی کے سیمینار میں ماہرین نے کہا کہ اموات کی تعداد دو لاکھ ہو سکتی ہے۔ ہفتے کے روز امپیریل کالج لندن کے سروے میں بتایا گیا کہ خدانخواستہ پاکستان میں 22لاکھ انسان شکار ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے