BN

ہارون الرشید



عرصۂ امتحان


فرمایا: اور ہم تمہیں آزمائیں گے ، کچھ خوف اور بھوک سے اور اموال اور جانوں کے نقصان سے اور باغوں کی بربادی سے ۔خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کے لیے ۔ مصیبت جب انہیں پہنچتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں : ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اللہ کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ ’’کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ قرآنِ کریم میں کیا لکھا ہے ۔ فرمایا: اے زمین و آسمان ‘میں نے تم میں احکام رکھ دیے ہیں، کچھ حکم رکھ دیے ہیں ۔ مرضی سے آئو یا مجبوری سے ،تمہیں آنا ہی پڑے گا ۔
هفته 07 دسمبر 2019ء

بنیادی انحراف ……(1)

جمعه 06 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
اس نے کہا : ایسی مخلوق اب میں بنائوں گا کہ میری عبادت کرے اور اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ ۔ چاہے تو انکار کر دے ، چاہے تو شکر کرے ۔ مدتوں سے مذہب کے باب میں ، اس کے مقاصد کے بارے میں ہم حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔ ان تعلیمات پہ مطمئن بیشتر لوگ ساری زندگی گزار دیتے ہیں ، جو انہیں ورثے میں ملی ہوں ۔ مذہب کا مگر ایک طے شدہ مقصد تھا ، بنیادی مقصد ۔ غور کرنے والوں نے کبھی اس پر بھی غور کیا ؟ بہت پہلے سائنسدانوں نے تحقیق و
مزید پڑھیے


سخت کوشی سے ہے جامِ زندگانی انگبیں

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
گل رنگ الفاظ نہیں زندگی ریاضت چاہتی ہے اور پیہم ریاضت۔ عصرِ رواں کا ادراک اور عرق ریزی کی تاب۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی/ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔ ملک ریاض سے تین سو ملین ڈالر ملنے کی امید کیا پیدا ہوئی، چہار سمت خوابوں کی فصل لہلہانے لگی۔ ہر سراب پھر سے دریا نظر آنے لگا۔ چھوٹی بڑی رنگین سکرینوں پہ، پی ٹی آئی والوں کے پیغامات میں مرکزی نکتہ یہ ہے:یہ پہلی قسط ہے، ہمارے دیوتا کے طفیل سیم و زر کی اب بارش ہوتی
مزید پڑھیے


رائیگاں

پیر 02 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
سچے متلاشی پا لیتے ہیں۔ گوہر انہی کو نصیب ہوتا ہے، جستجو جن کی کھری ہو وگرنہ رائیگاں ، ساری زندگی رائیگاں۔ اس عظیم شاعر، اس یاد رہ جانے والے آدمی فیض احمد فیض سے ایک بار اس ناچیز کو بھی واسطہ پڑا۔ اس کا ذکر بعد میں۔ فی الحال تو اس غلغلے کا ذکر، جو ان کے نام پہ برپا ہے۔ فیض بہت شائستہ اور صابر تھے۔ حیات ہوتے تو ان بچوں کو سمجھاتے کہ ہماری عمر تو رائیگاں رہی، تم کیوں رائیگاں کرتے ہو۔  درد تُو جو کرے ہے جی کا زیاں فائدہ اِس زیان میں کچھ ہے؟ فیض دنیا
مزید پڑھیے


ہم جانتے ہی نہیں 

هفته 30 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
ڈاکٹر صاحب نے کہا: بلا سو د معیشت اور قرضے ممکن ہیں۔ پاکستان میں اللہ کی راہ میں دینے والوں کی کمی نہیں اور غریب آدمی بھیک نہیں ، محنت پر یقین رکھتا ہے مگر ہم جانتے نہیں ، ہم جانتے ہی نہیں۔ تیس پینتیس برس کا وہ آدمی موٹر سائیکل پہ سوار تھا۔ پچھلی سیٹ پر ایک بزرگ خاتون تشریف فرما۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کو اس نے سلام کیا اور بتایا کہ ڈھونڈتے ڈھانڈتے وہ ان کے دفتر تک پہنچا ہے۔ خاتون کے ہاتھ میں چھوٹا سا ایک بیگ تھا۔ یہ بیگ اس نے ڈاکٹر صاحب کے حوالے کیا اور
مزید پڑھیے




بھنور ہے تقدیر کا بہانہ

جمعه 29 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
سب دامن پْر ہوسکتے ہیں۔ سارے ساغر بھر سکتے ہیں لیکن جب آدمی خود ہی اپنے راستے میں کھڑا ہو جائے۔جب اپنی ذاتِ گرامی سے فرصت ہی نہ ہو۔اچھے بھلے لوگ بھی جب گرداب سے بچنے کی کوشش نہ کریں گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر ، بھنور ہے تقدیر کا بہانہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے راستہ کھول دیاہے۔نسیم بیگ مرحوم کی اللہ مغفرت کرے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف میں پاکستان کے نمائندہ تھے۔عمر بھر رہے۔تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ عبدالستار خان نیازی کے رفیق ، ہمدم اور ہم نفس ،حمید نظامی کے ساتھی ، ان
مزید پڑھیے


زندگی بڑی ہے ، بہت بڑی

اتوار 24 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
دلدلوں میں دھنسے ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھالتے سیاستدانوں پہ کیا بات کی جائے ۔زندگی بڑی ہے ، بہت بڑی ۔ ساری بات طرزِ فکر ہی کی ہوتی ہے ۔ ایک بڑی اور جامع تصویر آدمی دیکھتا ہے یا محدود سے تناظر میں ۔جذبات کے وفور میں فوری نتیجے کا آرزومند ہے یا آئندہ مہ و سال اور آنے والے زمانوں کو ملحوظ رکھے گا۔ کارِ سیاست ہو ، کاروبار، ادنیٰ گھریلو یا دفتری معاملات ، اکثریت لمحہ ء موجود میں جیتی ہے ۔غالبؔ نے کہا تھا: قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل لڑکوں کا
مزید پڑھیے


احتیاط چاہیے‘ ضبط چاہیے

هفته 23 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
فتح مکہ سے پہلے کے مہ و سال میں سرکارﷺ کے حلیف قریشِ مکہ سے زیادہ تھے۔ ضبط ایسا ، رازداری ایسی کہ دس ہزار قدوسیوں کا لشکر مکّہ کی پہاڑیوں پہ جا پہنچا اور کانوں کان کسی کو خبر نہ ہوئی ۔ ضبط چاہئیے ، احتیاط چاہئیے، سلیقہ چاہئیے ۔ضبطِ نفس ہی وہ سب سے بڑا کارنامہ ہے ، جو آدم زاد انجام دے سکتاہے ، اپنی عادات اور جبلتوں کی تسخیر۔ دوسرے کے نہیں، اسے اپنے خلاف لڑنا ہوتا ہے۔ وزیرِ اعظم اگر چپ رہتے ؟ مگر کیسے رہتے ؟ آدمی اپنی عادات کا غلام ہے ۔ فرمایا: ہر
مزید پڑھیے


الیس منکم رجل رشید؟

جمعرات 21 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
لگ بھگ چار ہزار برس ہوتے ہیں ، اپنی بگڑی ہوئی امّت سے پیغمبرؐنے پوچھا تھا ’’ الیس منکم رجل رشید‘‘ کیا تم میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا آدمی نہیں ؟ کیا اس قوم میں کوئی ایک بھی ہوشمند لیڈر نہیں ؟ چیف جسٹس جناب سعید کھوسہ کا یہ مزاج نہیں مگر وزیرِ اعظم کو انہیں جتلانا پڑا ۔ یہ کہ عدلیہ نہیں حکومت قصور وار ہے۔ ایک کے بعد دوسری حکومت۔ انہیں جتلانا پڑا کہ طعنہ زنی وزیر اعظم کے شایان شان نہیں۔ یاد دلانا پڑا کہ نئی مثالی عدالتوں کے ذریعے قتل کے مقدمات تین ماہ میں
مزید پڑھیے


ریاستِ مدینہ ؟

بدھ 20 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
شاعر منیر نیازی نے کہا تھا : وہ قبیلہ برباد ، سب کا سب جو بہادر وں پہ مشتمل ہو ۔ سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہُ کاارشاد یہ ہے : چوٹ کھانے والی جگہ پر وہ چوٹ کھا کر رہے گا ۔ وزیرِ اعظم کے جارحانہ خطاب سے ان کے فدائین ضرور شاد ہوں گے ۔ اپنے حامیوں کی مکمل اور خوش دلانہ تائید ایک بار پھر انہوں نے حاصل کر لی ہے ۔ ان کے پیچھے اب وہ صف بستہ کھڑے ہیں ۔ آدمی کی افتادِ طبع ہی ا س کی تقدیر ہے ۔ آدمی اورگروہوں
مزید پڑھیے