BN

ہارون الرشید



متوازی وزیراعظم


آرزوئیں تو بادشاہوں کی بھی پروان نہیں چڑھتیں، ضرورتیں فقیروں کی بھی پوری ہو جاتی ہیں۔ خدا کی بستی دکاں نہیں ہے۔ جہانگیر ترین کا جرم وہ نہیں،جو اچھالا جا رہا ہے۔ فرانزک رپورٹ سے کھل جائے گا کہ زرِ اعانت میں اس کے رسوخ کا دخل ہے یا نہیں۔ یہ تو سبھی کو ملا۔ مدتوں سے یہ کارِ خیرجاری ہے۔ اپوزیشن چیخ رہی ہے، گویا یہ پہلی بار ہوا ہو۔پندرہ ارب شریف خاندان نے بانٹا۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ زائد چینی پیدا ہی کیوں ہوتی ہے؟ گنّا بے دریغ پانی چوستا ہے۔کب سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ متبادل
بدھ 08 اپریل 2020ء

گھنٹی کون باندھے گا؟

منگل 07 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
وزیرِ اعظم کے ہاتھ پاؤں ہی دھوکہ دہی پر تلے ہیں توبلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ وزیرِ اعظم نے ٹھیک کہا:ابھی کچھ دن ملک کو تنے ہوئے رسّے پر چلنا ہے۔ اس امتحان میں سب سے زیادہ اہمیت توازن کی ہوتی ہے۔کارخانے کھولنے ہیں،کام کاج کرنا ہے اور ہر طرح کی احتیاط بھی ملحوظ رکھنی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کو چینی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ 28دن تک لاک ڈاؤن جاری رہنا چاہئیے۔ یہ واضح نہیں، اس سے مراد موجودہ پابندی میں توسیع ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ 14اپریل کو 28دن پورے ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیے


ترقی

پیر 06 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
ساری کی ساری سائنسی ترقی دھری کی دھری رہ گئی اور پرندوں کی طرح آدمی گھروں کے پنجروں میں قید ہیں۔ کیا انسان کی آنکھ کھلے گی یا بگٹٹ وہ تباہی کی طرف بھاگتا چلا جائے گا؟ روز افزوں ترقی بجا مگر آدمیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ سرکشی بڑھتی چلی جاتی ہے تو فطرت آدمی کو صدمہ پہنچاتی ہے۔ سب تضادات آشکار کر دیتی ہے۔زمین ظلم اور گندگی سے بھر گئی۔ آدمی کا طرزِ حیات ایسا ہو گیا تھا کہ عالمی قوتوں اور سماج کے طاقتوروں کو بہیمیت پر عملاً کوئی اعتراض نہ رہا۔ کتنی ہی قومیں یلغار
مزید پڑھیے


طرزِ فکر

جمعرات 02 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
قدرت حادثات برپا کرتی ہے کہ اپنی غلطیوں کا آدمی ادراک کرے۔ پھر بھی کوئی سیکھنے اور سمجھنے سے انکار کر دے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ طرزِ احساس میں لچک کا فقدان خطرناک ہوتاہے، بہت خطرناک۔ لیڈر ہمارے بگڑ گئے اور اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم ان کے اندھے پیروکار۔ جس معاشرے کے رہنما احتساب کے خوف سے بے نیاز ہوں بلکہ دیوتا ؤں کی طرح پجتے ہوں، اپنی اصلاح کیوں کریں گے۔ معاشرے کا مزاج صدیوں میں ڈھلتا ہے اور آسانی سے بدلتا نہیں۔ تہہ در تہہ یہ سرپرستی کا معاشرہ ہے۔ ہر لمحہ سفارش اور سائبان کا
مزید پڑھیے


’’شہرِ علم کے دروازے پر‘‘

بدھ 01 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
اس کی لکھی ہوئی نعت پڑھی۔ویرانہ آباد ہونے لگا۔ ٹنڈ منڈ درختوں پہ کونپلیں پھوٹنے لگیں۔ ایک چمن جاگ اٹھا اور چہار سمت لہرانے لگا۔ قلب و جاں میں اور خیال و فکر کی وسعتوں میں بادِ بہاری۔ یہ دل اس دن کے لیے شاعر کا ہمیشہ شکر گزار رہے گا۔ فیض احمد فیض، انتظار حسین اور دیباچہ نگار اشفاق حسین سمیت سبھی متفق ہیں کہ رثائی ادب میں افتخار عارف کے تیور دوسروں سے مختلف ہیں۔ اس کے ہاں کربلا کا لہکتا ہو ااستعارہ درد و احساس اور خیال و فکر کی نئی جہات تخلیق کرتاہے۔یہ چند برس پہلے
مزید پڑھیے




زنجیریں پگھل سکتی ہیں

منگل 31 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
سمت نصیب ہو تو ابتلا سے قومیں اور بھی طاقتور بن کے ابھرتی ہیں۔ زخم ہی نہیں دھلتے بلکہ نئے جہان نمودار ہوتے ہیں۔صدیوں سے چلی آتی زنجیریں پگھل جاتی ہیں۔ آدمی اپنے رجحانات کا اسیر ہوتاہے۔ کوئی بڑا خوف،خطرہ اور دھچکا ہی ذہن کے منجمد سانچے پگھلاتا ہے۔ کبھی کسی نے کہا تھا:I have grown a jungle in my mind'I dare not to enter in۔ اپنے سر میں ایک جنگل میں نے اگا لیا ہے، جس میں داخل ہونے کی ہمت نہیں پاتا۔ نفی ء ذات کی ضرورت یہیں ہوتی ہے۔عارف نے کہا تھا:زیاں بہت ہے، انسانی زندگی میں زیاں
مزید پڑھیے


ستاروں کی چھاؤں میں

پیر 30 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
آدمی کیسا کٹھور ہے۔ کس چیز کے لیے کیسی نادر زندگی وہ قربان کر دیتا ہے۔ تہذیب کی چوکھٹ پر کتنے سچے لوگ، کتنا اجالا اور کتنی روشنی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے۔ بھولے بسرے زمانے جب جاگ اٹھتے اور ٹلنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ماضی نہ مستقبل، وہ ایک ساعت ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے۔ دل اس کی گرفت میں کیسا تڑپ اٹھتا ہے۔ احمد جاوید سے میں نے کہا تھا: اب کی بار صحرا کا قصد ہو تو مجھے ساتھ لے جائیے گا۔ میری کتنی ہی یادیں روہی کے ریگزار سے وابستہ ہیں... وہی احمد جاوید جنہوں نے
مزید پڑھیے


ایک نادر کتاب

جمعرات 26 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
اس کتاب کا ایک اور سبق یہ ہے کہ کسی حال میں صاحبِ ایمان کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئیے۔ زندگی صبر، امید اور جدوجہدمیں ہے۔ بریگیڈئیر سلطان کی کتاب The ''Stolen" Victoryپڑ ھ چکا تو والٹیر کا وہی جملہ یاد آیا: Every word of a writer is action of generosity لکھنے والے کا ہر جملہ، ہر لفظ سخاوت کا عمل ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کتاب پر یہ قول صادق نہیں۔ لیکن بریگیڈئیر سلطان کی کتاب پہ یقینا۔ افسوس کہ یہ کتاب میں نے بہت تاخیر سے پڑھی۔ مرحوم کی خواہش تھی کہ یہ ناچیز اسے اردو میں
مزید پڑھیے


سبق

بدھ 25 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
فرمایا: بحر و بر ظلم سے بھر گئے اور یہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ مالک کی منشا اس کے سوا کیا ہے کہ آدمیت اپنی اصلاح کرے۔ روئیدگی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ کہیں کوئی پھول نہ کھلا، کوئی افق منور ہوا، نہ کوئی ستارہ چمکا۔ بہت دن یہ خیال قلب و دماغ میں جاگزیں رہا کہ مالک اس افتاد سے ابنِ آدم کو کیا حاصل ہوگا۔ علمائ￿ ِ کرام تو کچھ خاص مدد نہ کر سکے، درویش ہی نے راہ دکھائی۔ بنیادی طور پر تین دعائیں ہیں۔ ایک تو وہی ’’بسمِ اللَّہِ الَّذِی لَا
مزید پڑھیے


فیصلہ تو کرنا ہے

منگل 24 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
جو اقوام اپنے فیصلے خود صادر نہیں کرتیں، وہ خود کو حالات اور دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔ کرونا پہلی افتاد ہے اور نہ آخری۔اگرچہ بعض اعتبار سے ایسی سنگین کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں۔طاعون، انفلوئنزااور یورپی ہیضے کے برعکس ہلاکتوں کا تناسب کم ہے مگر غیر معمولی سرعت سے پھیلنے والی۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ دنیا کے امیر ترین ممالک کے پاس بھی کافی سازو سامان اور موزوں ادویات مہیا نہیں۔ برطانیہ کے سیکرٹری ہیلتھ نے کل بہت بے بسی اور بے چارگی کا اظہار کیا۔ باقی دنیا کا عالم
مزید پڑھیے