BN

ہارون الرشید


اسّی ہزار


لوٹ مار کے خوگر آصف علی زرداری کا فرزند بلاول بھٹو نہیں‘ انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے نواز شریف اور عمران خان نہیں۔ فارسی کا محاورہ یہ ہے ’’خود کردہ را علاجے نیست‘‘اپنا لگایا ہوا زخم آسانی سے مندمل نہیں ہوتا۔ہو سکتاہے، آج بھی قوم اگر اپنے گریبان میں منہ ڈالے۔ آج بھی مہاتیر محمد ایسی کوئی شخصیت تلاش کی جائے۔ عمران خاں نہیں، بھٹو کا نواسا بلاول زرداری نہیں۔ 1947ء کے قومی خزانے میں صرف اسّی ہزار روپے پڑے تھے، صرف اسّی ہزار۔ مہاجرت کا خوفناک سلسلہ۔ متحدہ ہندوستان کے اثاثو ں میں سے اسّی کروڑ روپے پاکستان کا حصہ
جمعرات 09 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

تاریخ کا سبق

بدھ 08 دسمبر 2021ء
ہارون الرشید
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کسی بھی شخص، قوم اور قبیلے کی کامیابی اس کی اپنی دانش اور کدوکاوش کا نتیجہ ہوتی ہے۔نامرادی اور ناکامی اس کی اپنی حماقتوں کا ثمر۔ رواں مالی سال کے لیے بنگلہ دیش کے سالانہ بجٹ کا حجم پاکستان سے تیس فیصد زیادہ ہے۔ آبادی پاکستان سے تقریباً پندرہ بیس فیصد کم۔ گویا ہمارے مقابلے میں ان کی معیشت کم از کم پچاس فیصد زیادہ ہے۔کس طرح یہ واقعہ رونما ہوا۔ اس سے پہلے مگر ایک چھوٹی سی کہانی۔ یہ 1946ء کے الیکشن سے چند ماہ پہلے کی بات ہے، جب قائدِ اعظم نے
مزید پڑھیے


سب کے سب

منگل 07 دسمبر 2021ء
ہارون الرشید
کثرت کی آرزو نے تمہیں ہلاک کر ڈالا حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں انتخابات میں کوئی ایک ظفر یاب ہوتا اور کوئی ہارتے ہیں۔ لاہو ر کے الیکشن میں سبھی ہار گئے۔ پی ٹی آئی کا امیدوار کاغذات ہی مرتب نہ کر سکا۔ پچیس برس پارٹی کی عمر ہو گئی۔ یہ بھی سیکھ نہ سکے۔کاروبارِ حکومت کیا خاک چلائیں گے۔ عثمان بزدار وزیرِ اعلیٰ بنے تو تبھی جان لینا چاہئیے تھا کہ اب عمران خان کا ہدف اقتدار کا انبساط ہے، خدمتِ خلق نہیں۔سمجھانے بجھانے والوں کو جو واحد دلیل اس نے پیش کی، وہ یہ تھی: بارہ
مزید پڑھیے


انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا

جمعرات 02 دسمبر 2021ء
ہارون الرشید
کب تک کہیے، کب تک پکارتے رہیے۔ غالب ؔنے کہا تھا: حالِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلاؤں انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا جمہوریت نہیں یہ نوٹنکی ہے۔ ایک سستا اور گھٹیا سا تماشہ، کبھی جس سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ سیالکوٹ کے الیکشن میں یہ واضح ہوا اور اب لاہور کے حلقہ این اے 33میں آشکار ہے۔ سیالکوٹ میں پریزائیڈنگ افسر غائب ہو گئے۔ الیکشن کمیشن نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ حکمران جماعت نے ڈٹ کر دھاندلی کی۔درجنوں سیاسی شخصیات ملوث تھیں۔ پھر ایک دوسرے حلقے میں قاف لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک
مزید پڑھیے


اگر بدل نہ دیا آدمی نے دنیا کو

بدھ 01 دسمبر 2021ء
ہارون الرشید
احساس اور ادراک شاید کچھ ہو چکا۔ بات وہی ہے: وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں۔ الفاظ کی نہیں، یہ عمل کی دنیا ہے اور پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے : اگر بدل نہ دیا آدمی نے دنیا کو تو جان لو کہ یہاں آدمی کی خیر نہیں دانشور اس بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ ہم مسلمان پہلے ہیں یا پاکستانی۔ سوال مختلف ہونا چاہئیے۔ غالبؔ نے کہا تھا : بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا غالبؔ عظیم شاعروں میں سے بھی عظیم ترین تھے۔ با ایں ہمہ علمی اور اخلاقی
مزید پڑھیے



کب تک

منگل 30 نومبر 2021ء
ہارون الرشید

کب تک سیاسی پارٹیاں اس بے ثمر پارلیمانی نظام کے ساتھ گھسٹی چلی جائیں گی،ادبار کا جو خاتمہ نہیں کر سکتا۔ نہایت تیزی کے ساتھ سول ادارے جس کے طفیل دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھل رہے ہیں۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، اس سوال کا جواب مل جائے گا۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں سید منور حسن مرحوم 2009ء میں جماعتِ اسلامی کے امیر منتخب ہوئے تو فاروق گیلانی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سرکاری افسر تھے۔ براہِ راست کوئی تعلق سیاست سے نہیں تھا لیکن بلا کے تجزیہ کار۔ یہی اخبارات
مزید پڑھیے


دعا

بدھ 24 نومبر 2021ء
ہارون الرشید
درویش سے پوچھا: اس میں کیا بھید ہے۔ مرض کی دعا تو یہ ہے نہیں،پھر کارگر کیسے ہوئی۔ بولے: دعا گاہے القا ہوتی ہے۔ عمر بھر اب یہ پڑھتے رہو۔ پانچ دن کے بعد پٹی کھلی تو حیران رہ گیا۔ غیر حاضر دماغی تھی یا کچھ اور، اندازہ ہی نہیں تھا کہ انگوٹھا اس بری طرح ٹوٹا اور کچلا گیا ہے۔ دور تک ٹانکے لگے ہوئے۔ اتنے میں بتایا گیا کہ زخم کا معائنہ کرنے کے لیے سی ایم ایچ کے کمانڈنٹ جنرل شاہد حمید خود تشریف لائیں گے۔ حیرت ہوئی کہ دوادارو کا تعین تو ہو چکا۔ اب یہ
مزید پڑھیے


حادثہ

منگل 23 نومبر 2021ء
ہارون الرشید
یہ ایک روشن دن تھا۔ ایک بہت ضروری ملاقات کے سوا سب چیزیں ڈھنگ سے انجام پائیں۔دفتر گیا، کالم لکھا اور بروقت ریلوے سٹیشن جاپہنچا۔ ایک حادثہ مگر منتظر تھا۔ لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ریل گاڑی کا سفر ہی آرام دہ محسوس ہوتاہے۔شام کو چلنے والی ریل کار کی نشستیں آرام دہ واقع ہوئی ہیں؛حالانکہ ان کا ڈیزائن ڈیڑھ سو برس پہلے بنایا گیا تھا۔ برصغیر کے لوگ آرام دہ فرنیچر کے تصور سے کم ہی آشنا تھے؛حتیٰ کہ بادشاہوں کے تحت بھی کبھی آرام دہ نہ تھے۔ دوسرے اداروں کی طرح ریلوے بھی تباہ حال ہے۔ غلام احمد
مزید پڑھیے


متبادل

جمعرات 18 نومبر 2021ء
ہارون الرشید
عمران خان ناکارہ ہیں، بالکل ناکارہ۔ نجات چاہئیے، ضرور اس سے نجات چاہئیے مگر آئینی اور جمہوری طریق سے اور ایک بہتر متبادل کے لیے۔ ان کے لیے نہیں، جو ملک کو چراگاہ بنا دیں۔ ایک ہفتہ پہلے ہی نون لیگی دانشوروں نے کپتان کو گھر بھیج دیا تھا۔ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ بھی سونپ دی تھی۔مفاد پرستوں اور اندھے پیروکاروں کے سوا عمران خان سے کس کو ہمدردی ہے۔ حکومت کے اچانک انہدام سے ملک کو مگر کیا ملتا۔ ہولناک عدمِ استحکام۔ عمران خان پر اعتراضات بیشتر بجا ہیں مگر شہدا کی زمینیں ہڑپ کرنے والے مولوی صاحب؟
مزید پڑھیے


نوٹنکی

بدھ 17 نومبر 2021ء
ہارون الرشید
وہ اور لوگ تھے۔ وہ احساس،درد اور شعور رکھتے تھے۔ ہم غلام‘ ذہنی غلام۔ آزادی مل گئی باطن میں وہی اسیری۔ یہ ہیں نئے لوگوں کے گھر سچ ہے اب ان کو کیا خبر دل بھی کسی کا نام تھا،غم بھی کسی کی ذات تھی عدلیہ کا حال پہلے ہی پتلا تھا۔ دنیا بھر میں 120ویں نمبر پر۔ اب کیا اسے دفن کرنا مقصود ہے؟ ایک آدھ نہیں، تقریباً سبھی اس کے درپے ہیں۔ طرفہ تماشا ہے کہ شریف خاندان بھی عدل کا علمبردار ہوگیا ہے۔ مجسٹریٹ کی سطح سے عدالت عظمیٰ تک ایک ہزار قاضیوں کی کمی ہے۔ 2007ء میں جسٹس افتخار چوہدری
مزید پڑھیے








اہم خبریں