BN

ہارون الرشید



خیر اور شر


اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے : تم ایک چیز کو برا سمجھتے ہو؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے خیر پوشیدہ ہوتی ہے ۔ تم ایک چیز سے محبت کرتے ہو ؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے شر ہوتاہے ۔آنے والا کل کیا لائے گا ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتامگر یہ کہ ظلم کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہونے والے ، جہاد کرنے والے ہی سرخرو ہوتے ہیں ۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے پہلے جتنے با خبر لوگوں سے بات ہوئی ، وہ اندیشوں کا شکار تھے ۔ ماسکو سے کوئی امید وابستہ نہیں تھی ۔
اتوار 18  اگست 2019ء

جنرل محمد ضیاء الحق

هفته 17  اگست 2019ء
ہارون الرشید
جنرل ضیاء الحق کے عہدِ اقتدار کا اگر کوئی سبق ہے تو شاید یہ کہ فوجی حکمران کتنا ہی دانا اور دیانت دار ہو ،قومی فروغ کی ضمانت مہیا نہیں کر سکتا۔ جتنا جھوٹ جنرل محمد ضیاء الحق کے بارے میں لکھا اور بولا گیا ، شاید ہی اس کی کوئی دوسری نظیر ہو ۔ جنرل کے طرزِ حکومت کی تحسین کی جا سکتی ہے اور نا مارشل لا کی ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہمیشہ سول ادارے ملکوں اور قوموں کو قوت اور بالیدگی عطا کرتے ہیں ۔ اچھی پولیس ، اچھی عدالت ، خدمت گزار
مزید پڑھیے


سواری

جمعرات 15  اگست 2019ء
ہارون الرشید
سرکارؐ کے فرامین میں سے ایک یہ ہے : زندگی ایک ایسی سواری ہے کہ آدمی اس پر سوار نہ ہو تو وہ آدمی پر سوار ہو جاتی ہے ۔ کیا سول اور عسکری قیادت نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے؟حیرت انگیز طور پر ایک ایسے دانشور نے بھی یہ سوال پوچھا ، جو عمران خان سے حسنِ ظن رکھتے ہیں ۔ مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی ۔ اپنے ساتھ اندیشوں اور بدگمانیوں کا طوفان لیے آتی ہے ۔ شوشا یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وزیرِ اعظم عمران خاں واشنگٹن میں ملے تو سی پیک کو محدود کرنے
مزید پڑھیے


عبد دیگر ، عبدہ ُ چیزے دگر

اتوار 11  اگست 2019ء
ہارون الرشید
ایسے ہوتے ہیں ، اللہ کے بندے ، شکر گزار ، شادماں اور قناعت پسند۔ اقبالؔ نے کہا تھا : عبد دیگر ، عبدہ ُ چیزے دگر ۔ بندہ اور ہے ، اللہ کا بندہ کچھ اور ! شاکر خان کا اللہ بھلا کرے ۔ آج کا دن اس نے جگمگا دیا۔ خیال کی ویران پڑی دنیامیں ایک گلستان آباد کر دیا۔ میر ؔصاحب یاد آئے چلتے ہو تو چمن کو چلیے ، سنتے ہیں بہاراں ہیں پھول کھلے ہیں ، پات ہرے ہیں ، کم کم بادو باراں ہے اور یہ کہ گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میرؔ بلبل
مزید پڑھیے


ایک سپاہی کی یاد

هفته 10  اگست 2019ء
ہارون الرشید
کیا ہمارے لکھنے والوں نے پاک فوج کے باطن میں جھانکنے کی کبھی زحمت کی ہے؟ کیسا کیسا گوہرِ تابدار ہیروں کی اس کان میں تھا اور اب بھی ہے۔ فاروق گیلانی کے لہجے میں وہ سرشاری تھی، جو ایک دریافت سے جنم لیتی ہے... حیرت اور اشتیاق۔ انہوں نے ایک سبکدوش فوجی افسر کے بارے میں بتایا ''ہم وزارتِ زراعت والے جنگل اگاتے ہیں‘‘ انہوں نے کہا ''ادائیگی مشروط ہے کہ خاردار تارچاروں طرف ہو اور اسّی فیصد پودے سلامت ‘‘۔ بریگیڈیئر صاحب سے انہوں نے پوچھا: کتنے فیصد؟ جواب ملا: سوفیصد۔ حیرت سے انہوں نے سوال کیا کہ
مزید پڑھیے




سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

جمعرات 08  اگست 2019ء
ہارون الرشید
آدمی اتناہی پست یا بلند ہوتاہے، جتنا کہ اس کی فکر اور اس کا علم و ادراک۔ اتنا ہی کامیاب یا ناکام، جتنی اس کے خیال کی قوّتِ پرواز۔جس قدر امید، جتنی کہ مایوسی۔ جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا ہر آدمی کسی نہ کسی طرح کے ذہنی غسل سے گزرتاہے۔ ماں باپ، تعلیمی ادارے اور ماحول۔ معاشرے میں مروّج رجحانات۔ زندگی کے اولین برسوں میں رائج روّیوں اور تصورات کا اثر گہرا ہوتاہے۔ زمانہ قدیم کے چینی اپنی خواتین کو لوہے کی جوتیاں پہنایا کرتے کہ ان کے پائوں
مزید پڑھیے


گومگو

اتوار 04  اگست 2019ء
ہارون الرشید
اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے کہ ہجرت اور جہاد کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ ذہنی طور پر کوئی قوم آزاد ہو جائے تو تادیر اسے غلام نہیں رکھا جا سکتا ۔زنجیریں توڑ ڈالنے کا اہلِ کشمیر نے توتہیہ کرلیا ۔پاکستانی قیادت گومگو کا شکار ہے ۔تاریخ کے چوراہے پر ابھی ششدر کھڑی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طوفانی یلغار ایسی غیر متوقع تھی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکتہ ساطاری رہا ۔ ابھی ابھی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین فخرِ امام سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ بالاخر حکومتِ کا ردّعمل سامنے آیا ہے
مزید پڑھیے


اب اخلاق اور اصولوں کا ماتم کیوں؟

هفته 03  اگست 2019ء
ہارون الرشید
کس دھڑلے سے کل زرداری صاحب نے فرمایا تھا :کسی کے نام پہ جعلی کھاتہ اگر میں نے کھولا ہے تو وہی بے خبر ذمہ دار ہے ‘میں نہیں ۔ اب اخلاق اور اصولوں کا رونا کیا ۔ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک ناکام ہوئی مگر کس طرح ؟ کوئی دن میں بات کھلے گی ۔ کسی پارٹی نے سودے بازی کی یا معاملات انفرادی طور پر طے پائے ۔ بدھ کی صبح تک حکومت پوری طرح پر امید نہیں تھی ۔ سنجرانی صاحب مایوس تھے اور مستعفی ہونے پر آمادہ ۔ ان سے کہا گیا کہ انتظار
مزید پڑھیے


کشمیر کا مقدمہ کون لڑے گا؟

جمعرات 01  اگست 2019ء
ہارون الرشید
سات لاکھ بھارتی فوج کے حصار میں گھرے کشمیریوں نے قربانیوں کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے ۔بے شک ان کا مقدمہ بہت مضبوط ہے مگر یہ کون لڑے گا؟ اس قوم پہ اللہ رحم کرے ، جو خود کو لیڈروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دے ‘ جو تاریخ کے چوراہے پر پڑی سوتی رہے ۔ دس ہزار تازہ دم فوج نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں لا ڈالی ہے ۔ وادی میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہے ۔ گورنر راج تلے سسکتے علاقے میں ریلوے نے سرکلر جاری کیا ہے کہ چار
مزید پڑھیے


وقت کسی سے رعایت نہیں کرتا

جمعه 26 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
رعایت نہیں کرتا،وقت کسی سے رعایت نہیں کرتا۔قدرت کے قوانین اٹل ہیں،اٹل ،دائمی اور ابدی۔فرمایا:اللہ کے طریق کو تم کبھی بدلتا نہ دیکھو گے۔ گو شد و مد سے بھارتیوں نے تردید کر دی ہے ،امریکی صدر کو اصرار ہے کہ مودی نے ان سے کشمیر میں مصالحت کاری اور ثالثی کی درخواست کی تھی ۔بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف اکنامک ایڈوائزر نے بھارتی پرپیگنڈے کی قلع کھول دی ہے۔انہوں نے کہا ،صدر نے اپنی طرف سے بات نہیں گھڑی۔یہ سوال پوچھنا کہ کیا ایساہوا تھا یا نہیں ،بجائے خود ایک طرح کا گنوار پن ہے۔زیادہ اصرار کیا
مزید پڑھیے