BN

ہارون الرشید



اعتراف


خطا سرزد ہو تو اعتراف کرنا چاہیے مگر یہ نہیں کہ ردعمل میں چوروںاور ٹھگوں کا دامن تھام لیا جائے۔ اس دن سے پہلے اللہ اس دنیا سے اٹھا لے کہ میں اس قماش کے لوگوں کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کروں۔ تین عشرے ہوتے ہیں،جناب احمد ندیم قاسمی کا جملہ پڑھا تو حیرت زدہ رہ گیا’’اخوان المسلمون نے اس دور میں سنّت منصورتازہ کر دی‘‘ وہ ایک مانے ہوئے ترقی پسند تھے اور کوئی ان سے یہ گمان نہ لگتا۔ ابوالکلام آزاد اور سید ابواعلیٰ مودودی کے دیرینہ رفیق نصراللہ خان سے منسوب ایک بات کبھی سنی تھی‘ وہ
جمعه 18 اکتوبر 2019ء

حکومت اگر جاتی رہی

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
ہنگامہ اگر نتیجہ خیز ہوا ، حکومت اگرجاتی رہی تو فتنہ و فساد کے نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ بنے گا کچھ نہیں ، بگڑے گا بہت کچھ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس نام نہاد جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی جائے ۔ مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں مولانا فضل الرحمٰن سے ہمدردی رکھنے والوں کے اندازے اگر ٹھیک ہیں تو ایک طوفان آئے گا۔اسلام آباد نہ پہنچ سکے تو پنجاب ، بلوچستان اور پختون خوا میں جھڑپیں ہوں گی ۔ان کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے
مزید پڑھیے


مکافاتِ عمل

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
الطاف حسین اور بھٹو کی طرح کپتان کے فدائین بھی بے شمار مگر کیا وہ اس کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے ‘ یا وہ حی القیوم، جسے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ ۔ رحمتہ اللعالمینؐ کا فرمان یہ ہے کہ خدا کی مخلوق خدا کا کنبہ ہے ۔ بھٹو کا اقتدار بعد میں چھنا مگر شاید آسمانوں میں ان کی معزولی کا فیصلہ 23مارچ 1973ء کو ہو گیا تھا ۔لیاقت باغ میں اپوزیشن کے جلسہ عام پر گولیوں کی بارش ہوئی اور دس لاشیں اٹھاکے ولی خان جب دریائے کابل کے پار پہنچے۔ الیکشن 1970ء میں سندھ اور
مزید پڑھیے


یہ فصل امیدوں کی ہمدم

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ذہن میں موضوع یہ تھا کہ تحریکِ انصاف میں بدنظمی ہمیشہ کیوں مسلط رہی ۔ حصولِ اقتدار کے بعد امیدوں کی فصل کیوں برباد ہوئی ۔ کل انشاء اللہ اس پہ بات کریں گے ، آج تو تصور تمہید میں تمام ہوا۔ یہ 1996ء کا موسمِ گرما تھا ۔ سیاست کے خارزار میں عمران خان اتر چکے تھے ۔ راولپنڈی پریس کلب نے انہیں مدعو کیاتو خان نے خواہش ظاہر کی کہ میں ان کے ساتھ جائوں ۔ چھوٹتے ہی اس نے نواب زادہ نصر اللہ خاں مرحوم کو لوٹا قرار دیا اور کہا
مزید پڑھیے


دنیا ہے نہ دین

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
سطحیت ، کم علمی اور آخری درجے کی بد ذوقی ۔ خدا کے لیے ،خدا کے لیے ! بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بے دلی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں 1990ء میںسندھ اور پنجاب کے میدانوں پہ خزاں کا راج تھا ۔بھٹو مخالف اسلامی جمہوری اتحاد کے دفاتر میں مگر یہ بہار کا موسم تھا۔ آتشِ گل سے دہک رہا تھا چمن تمام ۔صدر کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا انتخاب نواب زادہ نصر اللہ خاں تھے لیکن صدر کو غیر معمولی اختیارات بخشنے والی آٹھویں ترمیم پر سمجھوتہ کرنے سے بزرگ سیاستدان نے انکار کر
مزید پڑھیے




مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
شاعر نے کہا تھا ،کپتان اور ان کے محتسب پہ صادق آتا ہے۔ سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا اول تو آہ و بکا سنائی دی،اب وضاحتوں کا سلسلہ۔ یہ کہ کاروباریوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے حکومت کی شکایت نہیں کی ، فریاد نہیں کی۔گلہ مند ہوئے نہ شور مچایا۔ایسا اگر نہیں تھا تو فوراً ہی تردید کیوں نہ داغ دی۔سچائی شاید کہیں بیچ میں پڑی سسک رہی ہے۔تجاویز پیش کیں ، بعض باتوں مثلاً شناختی کارڈ کی شرط پہ روہانسے بھی ہوئے۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ احتجاج کی لے بہت
مزید پڑھیے


شام روتے ہوئے جنگل سے ہوا آئی ہے

هفته 05 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
کہیں مودی آگئے کہیں ڈونلڈ ٹرمپ ، حادثے پہ حادثہ ہے۔ بگٹٹ ،آدم کی ساری اولاد بستیوں کو جنگل بنانے پہ تلی ہے۔حادثے پہ حادثہ۔فرمایا :سب خشکی اور تمام تری فساد سے بھر گئی اور یہ آدم زاد کی اپنی کمائی ہے۔ میانوالی کے اس دور دراز گائوں میں ، گائوں کے باہر ،بکائن کے درختوں کی چھائوں میں ہم لیٹ رہے۔اسد الرحمان نے کہا:اتنا گھنا سایہ ہے کہ ہلکی بارش ہو تو ایک بوند بھی نہیں گرتی۔’’ہوا کیسی ہے ؟ ‘‘۔اسد نے پوچھا’’شاندار‘‘۔شاندار نہیں خمار انگیز، حیرت ناک۔ ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی چک نمبر بیالیس جنوبی
مزید پڑھیے


بلی کا رنگ

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
ڈنگ سیائو پنگ کو عمران خان سے زیادہ مزاحمت کا سامنا تھا ۔رفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے اس نے انہیں سمجھایا : سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس کا رنگ سیاہ ہے یا سفید ، دیکھنا یہ ہوتاہے کہ بلی چوہے پکڑتی ہے یا نہیں ۔ رفتہ رفتہ بتدریج اپنے لوگوں کو اس نے قائل کر لیا اور اس لیے بھی وہ قائل ہو گئے کہ ہن برس رہا تھا ، ویرانے آباد ہو رہے تھے ۔ اپنے نائبین کو عمران خان کیا قائل کر سکتے ہیں ؟ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات میں کاروباری
مزید پڑھیے


افتاد

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
فرمایا: لوگ سوئے پڑے ہیں ، موت آئے گی تب جاگیں گے ۔ سدا آباد ، سدا سرسبز ،امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے ،ایک چھوٹے سے فلیٹ میںایک آدمی اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتا ہے ۔ پرانا سا کوٹ پہنے ، ہر روز وہ اپنے گھر کی سیڑھیاں اترتا اور بس سٹاپ پہ جا کھڑا ہوتاہے ۔ اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا بیگ ہوتاہے ۔ ایک عام سی گھڑی کلائی پر، چہرے پرسستی سی عینک۔سرتاپا عام سا ایک آدمی ۔ چک فینی اس آدمی کا نام ہے ۔ برسوں نہیں ، عشروں تک
مزید پڑھیے


تقریر

اتوار 29  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
بیماری اور درد کے مارے مریض کو اگر یہ خبرملے کہ اس کے بیٹے نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی ہے۔فوراً ہی اسے ایک بہترین ملازمت کی پیشکش بھی ملی ہے تو کیا وہ شاد نہ ہوگا لیکن کیا اس سے درد اور بیماری جاتی رہے گی ؟ قطعاً اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان کی تقریر ایک شاہکار تھی۔صرف پاکستان ہی نہیں تمام عالم اسلام کی امنگوں اور جذبات کی ترجمان۔کہا جاتا ہے کہ کسی عام سے بے گناہ آدمی کو دو تھپڑ رسید کر دئیے جائیں تو اس کے اندر کا خطیب جاگ اٹھتا ہے۔
مزید پڑھیے