ہارون الرشید


جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں


یہ سخیوں کے سخی کو یاد کرنے کے دن ہیں اور ان کے مربی ومشعل کو مرنے والوں کی جبیں روشن ہے ان ظلمات میں جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں وہ ایک اورطرح کے لوگ تھے۔ یوں تو پروردگار کی صفتِ رحمت دائم صفتِ عدل پہ غالب ہے، مگر وہ ایک اور طرح کے لوگ تھے۔ ابرِ رحمت جس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر ان پہ برستارہا، آدمیت کی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب یہ کہتی ہے: رضی اللہ عنہم و رضو عنہ۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے
جمعرات 13  اگست 2020ء

تذبذب‘ پیہم تذبذب

بدھ 12  اگست 2020ء
ہارون الرشید
عمران خان ڈھنگ سے حکومت کریں۔ اگر نہیں کر سکتے تو تشریف لے جائیں۔ مخمصے کا مارا کوئی آدمی تو ایک گھر نہیں چلا سکتا۔ چھوٹا سا ایک کاروبار نہیں چلا سکتا۔ ملک کیا چلائے گا؟ ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور ہر کام کا ایک سلیقہ۔ بنیاد اگر مضبوط نہ ہو تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ سلیقہ مندی اگر نہ ہو تو کاوش بے ثمر رہے گی۔ کل کے ہنگامے کا ذمہ دار کون ہے؟ نون لیگ کے حامی کچھ ہی کہیں، میڈیا نے معاملہ الم نشرح کر دیا۔ محترمہ کی گاڑی کا نمبر تک معلوم
مزید پڑھیے


عداوت

منگل 11  اگست 2020ء
ہارون الرشید
عدمِ استحکام پیدا کرنے اور بے سمتی سے قومی توانائی برباد کرنے والا یہ باہمی عداوت کا ثمر ہے اور تنہا اپوزیشن ہی قصوروار نہیں۔ اللہ جانے حقیقت پسندی،اعتدال اور صداقت کا راستہ ہم کب اختیار کریں گے۔ جانے کب! بل گیٹس کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ ماحول کی تباہی سے ہے۔ موضوع ایسا ہے کہ ہمارے ہاں اس پر زیادہ بحث نہیں ہوتی۔ صورتِ حال وگرنہ سنگین بہت ہے۔ پاکستان ان دس ملکوں میں شامل ہے جن کے بارے میں اندیشہ سب سے زیادہ ہے۔ معلوم نہیں، اب صورتِ حال کیا ہے کہ ملک میں ادارے نہایت تیزی
مزید پڑھیے


لئے پھرتا ہے دریا ہم کو!

پیر 10  اگست 2020ء
ہارون الرشید
ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ مدتوں سے سوئے پڑے ہیں۔ جاگتے ہیں تو باہم الجھتے ہیں اور الجھتے ہی رہتے ہیں۔ قائدِ اعظم اور اقبال ؔ جیسے عدیم النظیر لیڈروں کو سموچا نگل گئے۔ اقبالؔ جس نے کہا تھا آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے راہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو، منزل بھی تو دوطرح کے طرزِ عمل ہیں۔ آدمی زندگی بسر کرتاہے اسے زندگی بسر کر دیتی ہے۔ جوشؔ نے کہاتھا: جینا نہیں، وہ جینے کی نقل ہے۔ آسٹریلیا کی نرس Bronnie wareکی کتاب Five top regrets of dyingمیں مرنے والوں کے محسوسات بیان کیے گئے
مزید پڑھیے


ژولیدہ فکری ہے‘ژولیدہ فکری !

جمعرات 06  اگست 2020ء
ہارون الرشید
یکسوئی ہمیں حاصل نہیں‘ ہرگز نہیں‘ ورنہ یہ جلاوطن کشمیری حکومت کی احمقانہ تجویز کبھی پیش نہ کی جاتی۔ مظفر آباد کی منتخب حکومت کیا ایک مکمل نمائندہ حکومت نہیں‘؟کشمیری مہاجرین کے لئے جس میں ایک تہائی نشستیں مختص ہیں۔ ژولیدہ فکری ہے‘ژولیدہ فکری ! کشمیر پہ حکومتی اقدامات ناقص تونہیں مگر ناکافی ضرورہیں۔ اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایک بھر پور سفارتی مہم چلانے سے ہم نے گریز کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا فرمان ہے کہ پاکستان کے پاس اس کے لئے کافی وسائل نہیں۔ سبحان اللہ‘ وسائل کا کیاسوال؟ کیا اس مقصد کے لئے
مزید پڑھیے



تحفظ

بدھ 05  اگست 2020ء
ہارون الرشید
غور و فکر کی فرصت ہی نہیں ۔انہماک ‘ جس کے بغیر راہ متعین ہو سکتی ہے‘ ذاتی زندگی سنور سکتی ہے نہ اجتماعی۔ ہیولا برق خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی تحفظ خوراک کی ایک وفاقی وزارت ہوتی ہے جو Ministry of food Securityکہلاتی ہے۔اس لئے کہ اردو بولتے اور لکھتے ہوئے‘ شرم محسوس ہوتی ہے۔ کہنے کو ہماری قومی زبان ہے مگر چند ہی ادارے ہوں گے جن کے نام اردو میں رکھے گئے۔ ان میں سے ایک زرعی ترقیاتی بنک ہے۔ کیا اردو کا پیراہن عطا کرنے سے‘اس ادارے کے
مزید پڑھیے


نہ شاخِ گل ہی اونچی ہے، نہ دیوارِ چمن بلبل

منگل 04  اگست 2020ء
ہارون الرشید
بھڑک اٹھنے اور بجھ جانے میں نہیں، کامیابی سلگنے میں ہوتی ہے۔عزم، سلیقہ شعاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ صداقت‘پیہم جدوجہدمیں۔ اسی سے ہم محروم ہیں۔ غور و فکر سے محروم۔ عالمگیر صداقتوں کے ادراک سے محروم وگرنہ کشمیر کی آزادی کیا، بھارت اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکتا کہ ایک مصنوعی ریاست ہے نہ شاخِ گل ہی اونچی ہے، نہ دیوارِ چمن بلبل تری ہمت کی کوتاہی تری قسمت کی پستی ہے کشمیر کا مقدمہ ساری دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتا‘اگر ہم بیدار ہوتے۔ یہ صرف استعمار کا زخم نہیں۔ شہباز شریف، جسے پاکستان کا دوست کہتے ہیں‘
مزید پڑھیے


ناز بھی کر تو با اندازہ ٔرعنائی کر

جمعه 31 جولائی 2020ء
ہارون الرشید
حرفِ آخر یہ کہ خدا کی بستی دوکاں نہیں ہے۔ اس گلستان میں نہیں حد سے گزرنا اچھا ناز بھی کر تو با اندازۂ رعنائی کر اخبار کی شہ سرخی یہ ہے ’’دو خاندانوں میں پھر چارٹر آف کرپشن‘‘ شاہ محمود قریشی۔ پھر اسی صفحے پر جناب فیاض الحسن چوہان کا بیان ’’اپوزیشن کبھی ایک اور نیک نہیں ہو سکتی‘‘ ہماری سیاست میں الزام تراشی کب نہ تھی۔ کیوں نہ ہوتی کہ خود معاشرے کا چلن یہی تھا۔ 1989ء میں ضیاء الاسلام انصاری مرحوم جناب الطاف حسن قریشی، حضرت مجیب الرحمٰن شامی، برادر رؤف طاہر اور میاں محمد نواز شریف کے سیکرٹری
مزید پڑھیے


ریاضت

جمعرات 30 جولائی 2020ء
ہارون الرشید
اچھے اور برے شاعر کا فرق کیا ہے؟ ریاض اور مسلسل ریاض۔ خشک ڈھیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتاہے تب نظر آتی ہے، اک مصرعہ ء تر کی صورت ریاضت ہماری سیاست میں نا م کو نہیں۔ ایک کے بعد دوسرے حکمران کو پچھاڑنے سے ہم نے کیا حاصل کیا کہ عمران خان کی برطرفی سے جیت لیں گے؟ 1988ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت دھاندلی سے قائم نہ ہوئی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے ساتھ تھی۔ پنجاب میں ان کی حکومت خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے برسرِ اقتدار آئی۔ 1990ء میں بے نظیر کو چلتا کیا اورجشن منایا گیا۔نواز شریف سے
مزید پڑھیے


حیرتِ گل سے آبِ جو ٹھٹکا

بدھ 29 جولائی 2020ء
ہارون الرشید
امام غزالیؒ نے کہا تھا: لوگ سوئے پڑے ہیں۔ صرف اہلِ علم بیدار ہیں۔ اہلِ علم خسارے میں رہیں گے اگر صاحبِ اخلا ص نہ ہوں۔ صاحبِ اخلاص خطرے میں ہوں گے اگر انکسار سے محروم ہوں۔ نکاسی ء آب کے ایک بڑے ماہر ڈاکٹر بشیر لاکھانی نے لکھا ہے:کراچی کی بارشوں سے پھیلنے والی تباہی نے ایک بار پھر ذمہ داروں کی نا اہلی، بددیانتی اور بدنیتی کو آشکار کر دیا۔ افسوسناک یہ کہ اصلاح کی بجائے نالوں کی صفائی کے نام پر کروڑوں روپے ہضم کرلیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہر سال صفائی کی ضرورت پیش
مزید پڑھیے