BN

ہارون الرشید


شہبازشریف کا نیشنل ڈائیلاگ


تو کیا تمام دروازے بند ہیں؟ جی نہیں سب دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ یہ ابدی قوانین کیخلاف ہے۔ تو پھر کون ہے جو در کھول سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ صرف اسٹیبلشمنٹ، ہاں! مگر کس طرح اور کون اسے آمادہ کریگا۔ اس پر پھر کبھی۔ آپ بھی سوچئے، میں بھی سوچتا ہوں۔ قومی سطح کے جامع مذاکرات سے مراد کیا ہے؟’’نیشنل ڈائیلاگ‘‘ کل رات گئے تک شہباز شریف کے حوالے سے جس کا ذکر رہا۔ نون لیگ کے صدر کیا اس باب میں کوئی بنیادی اور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں؟ بھتیجی کا طرزِ احساس ان
بدھ 02 دسمبر 2020ء

اعتماد

منگل 01 دسمبر 2020ء
ہارون الرشید
معاملہ ہے ریاست اور عوام کے تعلق کا۔ ناقص رشتے پر اعتماد کیسے استوار ہو؟ لیڈروں کو چھوڑیے، کیا دانشور غور فرمائیں گے؟ دردمندی سے کسی نے سوال کیا ہے کہ ہمارے لیڈر اور حکمران ٹیکس کیوں ادا نہیں کرتے۔ تاجر اور صنعت کار بھی۔ اوّل تو یہ تبلیغ کا کام نہیں۔ ہزاروں برس پہلے انسان نے ریاست تشکیل دی اور اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہوا تو یہ عین فطری تھا۔ سب سے بڑھ کر آدمی کو امن اور انصاف کی ضرورت ہے۔ حیاتِ اجتماعی میں یہ موزوں لیڈروں کے انتخاب ہی سے ممکن ہے۔ جنہیں اختیار دیاجائے، وہ
مزید پڑھیے


ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

پیر 30 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
شاعر کی باقی پیش گوئیاں پوری ہوئیں تو یہ بھی ہو کر رہے گی۔ کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد امام غزالیؒ کا مطالعہ کیے بغیر اسلام کی علمی روایت کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ شاید وہ واحد سکالر ہیں، جن کی زندگی میں انہیں امام کہا گیا۔ عظمت جب ٹوٹ ٹوٹ کر برستی ہے تو حیرت کو جنم دیتی اور مبالغہ کرتی ہے۔انقلاب کے بعد ایران کے پہلے منتخب صدر نے شاید اسی لیے آیت اللہ روح اللہ خمینی کو امام کا لقب دیا تھا۔ فرقہ واریت ابھر آئی تھی، اسمٰعیلی فتنہ برپا تھا۔
مزید پڑھیے


نقار خانے میں

جمعه 27 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
یکسوئی اور وحدتِ فکر کا نام و نشان تک نہیں۔ تضادات ہی تضادات ہیں اور تضادات کا بوجھ اٹھا کر ساحل سے کبھی کوئی ہمکنار نہیں ہوتا۔ آخر کار وزیرِ اعظم چوہدری برادران کے در پہ حاضر ہوئے۔ برف پگھلنے کا امکان موجود ہے۔ چوہدری صاحبان نے معقولیت کا مظاہرہ کیا کہ مونس الٰہی کے لیے وزارت کا ذکر ہی نہ کیا؛البتہ پالیسیوں کی تشکیل میں مشاورت کا مطالبہ۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ جہاں اب جگمگ ہے، تعمیراتی صنعت واحد میدان ہے، جہاں چراغ جل سکتے ہیں۔ آٹھ ماہ قبل وزیرِ اعظم نے نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس
مزید پڑھیے


اصرار

بدھ 25 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
جیسا کہ ہمیشہ عرض کرتا ہوں، خطا سے آدمی برباد نہیں ہوتا بلکہ غلطی پہ قائم رہنے سے۔اللہ نے ہر ایک کو عقل بخشی ہے لیکن کم ہی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ بحران ایسے شدید کہ خدا کی پناہ مگر مواقع بھی ایسے کہ کم نصیب ہوئے ہوں گے۔ مشکل یہ ہے کہ تمام بڑ ے کھلاڑی ذہنی الجھاؤ کا شکار ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن سب کے سب۔ ایسا کوئی گروہ موجود نہیں جو کوئی جامع حل تجویز کر سکے۔ جنابِ علی کرم اللہ وجہ کا ارشاد ہے کہ مصیبت میں گھبراہٹ ایک دوسری مصیبت ہے۔ سب سے زیادہ
مزید پڑھیے



مرحوم

منگل 24 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
اب یہ پتھر دلوں کی دنیا ہے۔ چیخنے چلانے اور دشنام طرازی کرنے والوں کی۔ اب اس میں کیا رکھا ہے؟ ٹی وی پروگرام کے لئے بعض اوقات بہت درد سری ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایک مشکل دن میں‘ جب موضوعات زیادہ ہوں۔ اپوزیشن کا جلسہ تھا۔ ٹی وی خراب ، میاں محمد نواز شریف کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ تدفین کے لئے میاں صاحب پاکستان آئیں گے یا نہیں؟اتنے میں خبر آئی کہ رخصت ہونے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو سبق سکھانے کے آرزو مند ہیں۔ اتنی بڑی خبر اور تصدیق کا کوئی طریق نہیں۔
مزید پڑھیے


جامہ ء صدچاک

جمعرات 19 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
سب کے سب اپنے محدود مفادات کے قیدی۔ پابہ زنجیر اور ناقابلِ اصلاح۔چیتھڑوں کا سا ملبوس بدلنے پر وہ آمادہ نہیں۔کیا وہ تاریخ کا رزق بنیں گے؟ایسا ہی لگتا ہے،ایسا ہی۔ حیرت اور رنج کے ساتھ شاعر یاد آتا ہے یہ جامہ ء صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیضؔ کبھی بخیہ گری نے وزیرِ اعظم کے بہنوئی عبد الاحد خاں کو پلاٹ کا قبضہ اب تک نہیں مل سکا۔وقائع نگار نے لکھا ہے کہ سبب عدالتی حکمِ امتناعی ہے۔ وزیرِ اعظم نے بتایا تھا کہ اسی لیے لاہور کے سی سی پی
مزید پڑھیے


تماشے

بدھ 18 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
کیسے کیسے عجیب تماشے ہر طرف برپا ہیں۔ کیا قدرت کی اس میں کچھ نشانیاں ہیں۔ایک قوم کی حیثیت سے ضرور کوئی بڑی خطا ہم سے سرزد ہوئی ہے۔ پروردگار کا فرمان وگرنہ یہ ہے کہ اس کی رحمت اس کی صفتِ عدل پہ غالب ہے۔ ایسے لوگ ہم پر مسلط ہوئے جو پل بھرکو چین لینے نہیں دیتے۔ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن، کسی طرف سے خیرکی کوئی خبر نہیں آتی۔ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئیے۔ فرمایاکہ کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ بے کراں عظمت اور بے کراں کرم والے رب کے دروازے چوپٹ کھلے
مزید پڑھیے


غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

منگل 17 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
جی نہیں، ان سب شعبدہ بازوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔73برس تک ٹھوکریں کھانے کے بعد قوم کو ایسی قیاد ت درکار ہے، جو خواب بیچنے کی بجائے، عمل کا سرمایہ رکھتی ہو۔ الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے جب اظہار ہی سب کچھ ہو۔ جب ادراک نہ ہو کہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے سے نہیں بلکہ حیات حسنِ عمل سے سنورتی ہے تو وعظ و نصیحت اور نعرے بازی کے سوا اور کیا؟ قرآنِ کریم سوال کرتاہے: تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں؟ اللہ کی
مزید پڑھیے


کارِ مسلسل

پیر 16 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
پوچھا کہ کیا عبادت سے اور تسبیحات سے آدمی بدل جاتا ہے۔ فرمایا: بلکہ غورو فکر سے، توجہات اور کوشش سے۔ فریب ہائے نفس کے ادراک سے اور یہ کار مسلسل ہے۔ عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ جس میں ہم ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے اشفاق احمد خان نے فیض احمد فیضؔ کو جب صوفی قرار دیا تو ان کی مراد کیا تھی؟ کچھ بھی نہیں۔ شاعر اور ادیب‘ الفاظ کے استعمال میں طبعاً سخی ہوتے ہیں۔ صوفی نہیں‘ فیضؔ ایک رند تھے۔ اردو شاعری کے آسمان پر جگمگاتا ماہتاب۔ خود اشفاق احمد بھی خوب
مزید پڑھیے