BN

ہارون الرشید


زنجیریں


کپتان کا اعلان یہ تھا کہ قیدیوں کی زنجیریں کاٹ ڈالیں گے لیکن وہ بھول گئے، سبھی کچھ بھول گئے ۔ اقتدار کی سرمستی میں بادشاہ سب کچھ بھول جایا کرتے ہیں ۔ہم خود بھی زندہ ہیں ۔اپنی زنجیریں خود بھی کاٹ سکتے ہیں ۔ ہفتے کی شام علیم خاں نے فون کیا: کیا پیر کی صبح تھوڑی سی فراغت میسر ہے ؟عرض کیا’’اسلام آباد واپس نہ جانا ہو تو پورا دن تعطیل کا ہوتا ہے ‘‘۔ بولے :کوٹ لکھپت میں چھوٹی سی تقریب ہے ۔ گورنر پنجاب چوہدری سرور سمیت کچھ دوستوں کو بھی زحمت دی ہے ۔ کوٹ لکھپت
جمعرات 30 جنوری 2020ء

مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے

بدھ 29 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
اندیشہ ہے کہ خلا باقی رہا اور اب کی بار دھماکہ ہوا توبہت زوردار ہوگا ۔ کون جانے پھر کیا ہو ۔ مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں سال رواں کے آخر میں بلدیاتی الیکشن بہر حال ہونا ہیں۔ سرکاری پارٹی مگر شش و پنج میں ہے اور دوسری جماعتیں بھی۔ شنید ہے کہ لاہور میں قومی اسمبلی کے ارکان سے وزیر اعظم کی ملاقات میں،اس موضوع کا ذکر ہوا تو گھبراہٹ سارے میں پھیل گئی۔ بیک آواز سب کے سب بول اٹھے کہ یہ خطرناک ہو گا۔ کامیابی کا
مزید پڑھیے


صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پابہ گل بھی ہے

پیر 27 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
ایٹمی پروگرام کے ضمن میں امین اور پختہ کار غلام اسحٰق خاں نے کہا تھا:جم کر کھڑے ہونا پڑتا ہے ۔ طوفان میں کشتی کی حفاظت کرناہوتی ہے ورنہ اچھے بھلے ملک پابہ زنجیر ہو جاتے ہیں ۔ سکّم اور بھوٹان بن جاتے ہیں ۔ صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پابہ گل بھی ہے انہی پابندیوں میں حاصل آزادی کو تُو کر لے قدرت مواقع ارزاں کرتی ہے ۔ اب یہ آدمی پر ہوتا ہے کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ لافانی ادیب شیکسپیئر نے کہا تھا : ہر شخص کی زندگی میں ایک لہر اٹھتی ہے
مزید پڑھیے


نظام نو؟

هفته 25 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
کہیں سے بھی انصاف کی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ کہیں کوئی کرن نہیں پھوٹتی ۔ کہیں کوئی امید نہیں جاگتی ۔ کہیں کوئی نوید نہیں ۔ اگر اب بھی ایک نظامِ نو کی تشکیل پر غور نہیں ہوگا تو کب ہوگا ؟ کسی معاشرے کی موت اس وقت واقع ہونے لگتی ہے جب اس میں تغیر کی آرزو ہی مٹ جائے ۔ جب وہ خواب دیکھنا ہی چھوڑ دے۔ کیا ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے یا ایک نئے آغاز کی ۔گاہے یہ سوال اٹھتا ہے لیکن پھرشور و شغف میں گم ہو
مزید پڑھیے


منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

جمعرات 23 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
پاکستانی قوم کے مزاج میں ہیجان ہے ، شخصیت پرستی ہے ، ضد پائی جاتی ہے ۔ بڑے اور چھوٹے ، ہم میں سے ہر ایک کو شاید اس نکتے پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔بس یہی ایک کام ہے ، جس پر ہم آمادہ نہیں ۔ آئینِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں پاکستانی سیاست سنور سکتی ہے اور معیشت بھی لیکن اس طرح نہیں ، جس طرح ہم تراشنے اور سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ علم اور ادراک سے ۔ خالص علمی تجزیے اور مسلسل ریاضت سے ۔
مزید پڑھیے



کس منہ سے ؟

بدھ 22 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
پی ٹی آئی کے ایک جواں سال لیڈر نے یہ کہا : ہم پلٹ کر دیکھیں یا سامنے ، خوابوں اورخیالوں کی ایک پامال فصل ہے۔ آزاد کشمیر کے آئندہ الیکشن میں کس منہ سے ہم ووٹ مانگنے جائیں گے ؟ کیا ہر گزرتے دن کے ساتھ وزیرِ اعظم کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں ؟کیا وجوہات وہی ہیں ، مردم نا شناسی اور ذہنی مشقت سے گریز ؟ آزاد کشمیر کے الیکشن سترہ ماہ کے فاصلے پر ہیں ۔ اسمبلی میںنون لیگ دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ براجمان ہے ۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور کا ثمر ، آزاد
مزید پڑھیے


کب تک؟ آخر کب تک؟

اتوار 19 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
کس چیزکا انتظار؟ آخر کس چیز کا؟ کب تک ‘ آخر کب تک؟ فراری ذہنیت کی کوئی آخری حد ہوتی ہے‘ بے حسی اور سنگ دلی کی کوئی انتہا! عمران حکومت کے باب میں کوئی چیز اس قدر حیرت زدہ نہیں کرتی‘ جتنا کہ مقبوضہ کشمیر پہ اس کا رویّہ۔ جبر اور سفاکی کی کوئی جہت نہیں جو بروئے کار نہ آئی ہو۔ ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور وحشت اپنی انتہا کو پہنچی۔ شاید ہی کوئی گھر بچا ہو۔ شاید ہی کوئی بچہ‘ بوڑھا‘ خاتون اور نوجوان ہو ‘جو انتقام کا نشانہ نہیں بنا۔ اس کے باوجود کوئی لائحہ عمل
مزید پڑھیے


سنگدلی

جمعه 17 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، یہ دل ہیں ، جو سینوں میں اندھے ہو جاتے ہیں ۔ تو اگر اپنی حقیقت سے خبر دار رہے نہ سیاہ روز رہے ، پھر نہ سیہ کار رہے ایسے اذیت دہ واقعات پر طبیعت بھڑک اٹھتی ہے ۔ بے قابو کر دینے والا اشتعال اور برہمی۔ ابتدا میں شاید ایسا ہی ہوا ۔ پھر ملال کی ایک گہری کیفیت نے آلیا۔سرما کے سیاہ بادل کی طرح جو ٹلتا ہی نہیں ۔ چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے لیڈر صاحب نے کیا کیا ؟ اور ٹی
مزید پڑھیے


ماجرا

جمعرات 16 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
خلق ہم سے کہتی ہے ساراماجرا لکھیں کس نے کس طرح پایا اپنا خوں بہا لکھیں چشمِ نم سے شرمندہ ہم قلم سے شرمندہ سوچتے ہیں کیا لکھیں؟ اخبار نویس کو مخمصے کے پار اترنا ہوتاہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب ایک بڑی خبر ہو اور اس کے سارے پہلوئوں پر وہ روشنی ڈال نہ سکے۔ ہر آدمی دسترس میں نہیں ہوتا ۔ کچھ پہلو خطرناک ہوتے ہیں ۔ خطرہ مول لیا جا سکتاہے مگر کتنا ؟ فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا : قاری کبھی اندازہ نہیں کر سکتا کہ لکھنے والے نے کتنے مترادفات مسترد کیے ہیں ۔ یہی نکتہ
مزید پڑھیے


کاٹھ کے کھلاڑی

منگل 14 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آنے والے کل میں کیا لکھا ہے ، کوئی نہیں جانتا ۔ کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وقت ایک نیا ورق الٹنے والا ہے ۔ کاٹھ کے یہ سارے کھلاڑی جل بجھیں گے ۔ جہاں تک تجزیے اور تخمینے کا تعلق ہے ، اب تقریباًحتمی طور پر یہ بات طے پا چکی کہ پی ٹی آئی کی حکومت پانچ برس پورے نہ کر سکے گی مگر یہ بھی نہیں کہ ہتھیلی پہ سرسوں جما دی جائے ۔ جو کچھ ہوگا ، بتدریج ہوگا ، بندوبست کر لینے کے بعد ۔ خان صاحب اور ان کے حلیف ایک دوسرے سے
مزید پڑھیے