BN

ہارون الرشید


زندگی بڑی ہے ، بہت بڑی


دلدلوں میں دھنسے ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھالتے سیاستدانوں پہ کیا بات کی جائے ۔زندگی بڑی ہے ، بہت بڑی ۔ ساری بات طرزِ فکر ہی کی ہوتی ہے ۔ ایک بڑی اور جامع تصویر آدمی دیکھتا ہے یا محدود سے تناظر میں ۔جذبات کے وفور میں فوری نتیجے کا آرزومند ہے یا آئندہ مہ و سال اور آنے والے زمانوں کو ملحوظ رکھے گا۔ کارِ سیاست ہو ، کاروبار، ادنیٰ گھریلو یا دفتری معاملات ، اکثریت لمحہ ء موجود میں جیتی ہے ۔غالبؔ نے کہا تھا: قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل لڑکوں کا
اتوار 24 نومبر 2019ء

احتیاط چاہیے‘ ضبط چاہیے

هفته 23 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
فتح مکہ سے پہلے کے مہ و سال میں سرکارﷺ کے حلیف قریشِ مکہ سے زیادہ تھے۔ ضبط ایسا ، رازداری ایسی کہ دس ہزار قدوسیوں کا لشکر مکّہ کی پہاڑیوں پہ جا پہنچا اور کانوں کان کسی کو خبر نہ ہوئی ۔ ضبط چاہئیے ، احتیاط چاہئیے، سلیقہ چاہئیے ۔ضبطِ نفس ہی وہ سب سے بڑا کارنامہ ہے ، جو آدم زاد انجام دے سکتاہے ، اپنی عادات اور جبلتوں کی تسخیر۔ دوسرے کے نہیں، اسے اپنے خلاف لڑنا ہوتا ہے۔ وزیرِ اعظم اگر چپ رہتے ؟ مگر کیسے رہتے ؟ آدمی اپنی عادات کا غلام ہے ۔ فرمایا: ہر
مزید پڑھیے


الیس منکم رجل رشید؟

جمعرات 21 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
لگ بھگ چار ہزار برس ہوتے ہیں ، اپنی بگڑی ہوئی امّت سے پیغمبرؐنے پوچھا تھا ’’ الیس منکم رجل رشید‘‘ کیا تم میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا آدمی نہیں ؟ کیا اس قوم میں کوئی ایک بھی ہوشمند لیڈر نہیں ؟ چیف جسٹس جناب سعید کھوسہ کا یہ مزاج نہیں مگر وزیرِ اعظم کو انہیں جتلانا پڑا ۔ یہ کہ عدلیہ نہیں حکومت قصور وار ہے۔ ایک کے بعد دوسری حکومت۔ انہیں جتلانا پڑا کہ طعنہ زنی وزیر اعظم کے شایان شان نہیں۔ یاد دلانا پڑا کہ نئی مثالی عدالتوں کے ذریعے قتل کے مقدمات تین ماہ میں
مزید پڑھیے


ریاستِ مدینہ ؟

بدھ 20 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
شاعر منیر نیازی نے کہا تھا : وہ قبیلہ برباد ، سب کا سب جو بہادر وں پہ مشتمل ہو ۔ سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہُ کاارشاد یہ ہے : چوٹ کھانے والی جگہ پر وہ چوٹ کھا کر رہے گا ۔ وزیرِ اعظم کے جارحانہ خطاب سے ان کے فدائین ضرور شاد ہوں گے ۔ اپنے حامیوں کی مکمل اور خوش دلانہ تائید ایک بار پھر انہوں نے حاصل کر لی ہے ۔ ان کے پیچھے اب وہ صف بستہ کھڑے ہیں ۔ آدمی کی افتادِ طبع ہی ا س کی تقدیر ہے ۔ آدمی اورگروہوں
مزید پڑھیے


پتھر کے کلیجے

منگل 19 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
فرمایا: آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ، بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں ۔ اندازے کے عین مطابق سوشل میڈیا پہ ایک مہم برپا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے ان معزز جج صاحبان کے خلاف ، میاں محمد نواز شریف کو جنہوں نے بیرونِ ملک علاج کی اجازت دی ۔ ان کے بارے میں وہی لب و لہجہ ہے ، وہی اندازِ گفتگو اور وہی الزامات ، جو پی ٹی آئی سے اختلاف پر لازم ہوتے ہیں ۔ سامنے کا سوال یہ ہے کہ کیا عدالت کے سامنے اس کے سوا بھی کوئی راستہ موجود تھا۔پانچ بیماریوں میں مبتلا ستّر
مزید پڑھیے



تُو شاخ سے کیوں ٹُوٹا‘ میں شاخ سے کیوں پُھوٹا

اتوار 17 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
ازل سے نمود کی آرزو میں مبتلا آدم زاد ۔تُوشاخ سے کیوں ٹُوٹا‘ میں شاخ سے کیوں پُھوٹا/اک قُوّت پیدائی‘ اک لذت یکتائی۔ ’’دھرنا نہیں یہ دھندہ ہے ‘‘۔ یہ الفاظ میجر صاحب نے کہے ۔ غیر معمولی قوتِ متخیلہ کردگار نے انہیں بخشی ہے ۔ مولوی صاحب کا لسّی والا قصہ بھی میجر صاحب ہی نے بیان کیا تھا ۔ ان کے بقول میدانِ عرفات میں 90ہزار روپے کی لسّی آنجناب ڈکار گئے ۔ ہر چند اس میں مبالغہ ہے اور شعر کا نہیں بلکہ لطیفے کا مبالغہ‘ مگر سچائی بھی ۔ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے بیرونِ
مزید پڑھیے


انارکی

جمعه 15 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
ریاست کی رٹ کمزور ہو جائے تو انتشار کا آغاز ہوتا ہے ۔انتشار طوائف الملوکی تک لے جاتا ہے، انارکی! پی ٹی آئی کی حکومت کا تاثر یقینا مجروح ہوا۔ عمران خان کمزور پڑتے دکھائی دیے۔ مولانا فضل الرحمن بہت ابھرے‘بہت نمایاں ہوئے‘ دمک اٹھے۔ کچھ ذاتی مقاصد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ۔ آخری تجزیے میں مگر ناکام‘ بالآخر نامراد۔کوئٹہ چمن شاہراہ ضرور بند کر دی۔ ایک آدھ اور بھی کر سکتے ہیں‘ شاید زیادہ بھی‘ مگر اس کے بعد؟ اسلام آباد سے حضرت مولانا رخصت ہوئے اور اس طرح کہ اسد اللہ خاں غالبؔ یاد
مزید پڑھیے


کب تماشا ختم ہو گا

هفته 09 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
اخبا رنویس کے مقابلے میں شاعر اور ادیب کا تناظر وسیع ہوتاہے ،بہت وسیع ۔ خبر بھلا دی جاتی اور شعر زندہ رہتاہے ۔شیکسپئر کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا حفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا رازدا ں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا ۔۔۔ اس کھیل میں تعینِ مراتب ہے ضروری شاطِر کی عنایت سے تُو فرزیں، میں پیادہ بیچارہ پیادہ تو ہے اک مُہرہ ئِ نا چیز فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطِر کا ارادہ علامہ اقبالؔ ۔۔۔ سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی تخت و کلاہ و قصر کے سب سلسلے گئے وہ دست و پا میں گڑتی سلاخوں کے روبرو صدہا
مزید پڑھیے


تجزیے

جمعرات 07 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
کتنے برس بیت گئے، شہرِ لاہور میں قائدِ اعظم کے سپاہیوں میں سے ایک، نسیم بیگ مٹی اوڑھے سو رہے ہیں ۔ دانشور بحث کا دھاگا الجھا دیتے تو وہ کہتے : اور تو سب عوامل کی وہ بات کرتے ہیں ، بس ایک اللہ کا نام نہیں لیتے۔ جس نے کائنات پیدا کی ۔ سارے لشکر، سب آدمی اس نے پیدا کیے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی تقدیر لکھی ہے ۔ وزیرِ اعظم کے دوست نے برقی خط میں انہیں لکھا کہ غنیم کو دارالحکومت تک آنے کی اجازت کون دیتا ہے؟ اسی دوست نے ، جس
مزید پڑھیے


مملکتِ خداداد

پیر 04 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
پاکستان ایک منوّر مستقبل رکھتا ہے ۔ مسلم برصغیر کے لیے پیغمبرِ آخر الزماںؐ کی بشارت یہ ہے کہ اسے مشرکین اور یہودیوں کو نمٹانا ہے ۔ نہیں ، چند ہزارلوگ مملکتِ خداداد کا آنے والا کل اغوا نہیں کر سکتے ، چرا نہیں سکتے ۔ پانچ آدمی ہیں ، پانچوں کی کہانی معلوم ۔تیس برس ہوتے ہیں ،اسفند یار ولی خاں کے والدِ گرامی عبد الولی خاں نے ایک کتاب لکھی تھی ۔ "Facts are facts" اس میں ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان انگریزوں کی سازش کا نتیجہ ہے ۔ ربع صدی کے بعد عبد الغفار
مزید پڑھیے