BN

ہارون الرشید



ہمتِ مرداں، مددِ خدا


مایوسی کفر ہے اور امید ایمان۔ دعا، صدقہ، صفائی، علاج اور مشترکہ جدوجہد۔ ابتلا میں سبق پوشیدہ ہوتے ہیں مگر بحران میں مواقع بھی۔ پروردگار کادروازہ چوپٹ کھلا ہے اور اس کی صفتِ رحم اس کی صفتِ عدل پہ غالب ہے۔ ابھی ابھی ایک دوست نے بتایا کہ ایک مشہور میڈیکل سٹور کے مالک ظفر بختاوری نے، جس کی بہت ساری شاخیں ہیں ڈیڑھ لاکھ ماسک مفت بانٹے ہیں۔ شناختی کارڈ کی شرط کے ساتھ ہر خاندان کے لیے تین ماسک۔ اللہ ان کی نیکی قبول کرے اور دوسرو ں کوتقلید کی توفیق۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں
پیر 16 مارچ 2020ء

بنیادی سوال

هفته 14 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
قدرت ہمیں سکھانا چاہتی ہے لیکن ہم سیکھیں بھی۔ حسرت کے ساتھ قرآنِ کریم کہتاہے: افسوس کہ اکثر لوگ غور نہیں کرتے۔ عرض کیا کہ کورونا وائرس پر ہر طرح کی بحث ہے مگر بنیادی سوال پہ کوئی بات نہیں کرتا۔ یہ کہ جب حرام کو حلال سمجھ لیا جائے گا تو اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔صاف اور صریح الفاظ میں قرآنِ کریم بتاتا ہے، کیا چیز طیب ہے، کون سی مکروہ اور کون سی حرام۔ پھر وہ حکم دیتا ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے،اس پر اللہ کا نام پڑھا جائے۔ ادبیات کے انگریزاستاد،میرے دوست نو مسلم عمران نے
مزید پڑھیے


سیّدالطائفہ

جمعه 13 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
’’اللہ کے نزدیک عقلِ انسانی کا سب سے بڑا مغالطہ ترجیحات کی ترتیب میں برپا ہوتاہے۔ اگر ترجیح اول پروردگار نہیںتو زندگی کی بساط سے آدمی ناکام اٹھے گا۔‘‘ یہ عصرِ رواں کے عارف کا قول ہے۔ دارا شکوہ ایسا شخص ہی یہ جسارت کر سکتا ہے کہ ایک نظر ڈال کر میاں میرؒ نے اسے ولایت بخش دی۔ مقامات اس طرح نہیں ملتے۔ عمر بھر کی کمائی ہوتی ہے۔ ایک ایک دھاگا بٹا جاتا ہے، حتیٰ کہ پیراہن سی لیا جائے۔ نامور افسانہ نگار اشفاق احمد مرحوم نے درویش سے پوچھا کہ کیا وہ صوفی بن سکتے ہیں؟ جواب
مزید پڑھیے


صدمہ

جمعرات 12 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
منصور آفاق نے کہ حمد، نعت اور تصوف کے شاعر بھی ہیں، عمران خان اور فردوس عاشق اعوان سے پسماندگان کے لیے مدد کی اپیل کی تو صدمہ ہوا، بہت صدمہ۔ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ کیا یہ ہم دوستوں کی ذمہ داری نہیں؟ انوار حسین حقی کے انتقال کا زخم ابھی تازہ تھا کہ دوسراسانحہ ہوا۔ حقی ان نادرونایاب لوگوں میں سے ایک تھے، جن کی امانت و دیانت کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ لاکھوں دوسرے لوگوں کی طرح وہ عمران خان کا شکار ہوئے۔ صدیوں سے بگڑی ہوئی اشرافیہ سے نجات کی وہی آرزو۔وہی
مزید پڑھیے


بستی بسنا کھیل نہیں ہے!

منگل 10 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
افغانستان میں طالبان کی فتح کا جشن منانے والوں کو تامل سے کام لینا چاہئے۔ آگ کا دریا وہ عبور کر چکے لیکن کئی ندیاں نالے، پہاڑ اور ریگزار ابھی عبورکرنا ہیں۔ بستی بسنا کھیل نہیں ہے۔ بستے بستے بستی ہے۔ زندگی شاعری نہیں ، خواب نہیں ہے۔ سپنوں کو مجسم کرنے کے لیے جاں گسل جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے۔ قدرت کے ان ابدی قوانین سے آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے، جو کبھی بدلتے نہیں۔ اس میں پیغمبرانِ عظام کے لیے بھی کوئی استثنا نہیں۔زندگی آدمی سے سمجھوتہ نہیں کرتی۔ آدمی کو سمجھوتہ کرنا ہوتا ہے۔ سرائیکی کے شاعر نے
مزید پڑھیے




خواتین کی قیادت کا حق دار کون ہے؟

پیر 09 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
دودھ پینے والے مجنوں اور ہوتے ہیں، خون دینے والے دوسرے۔ باتیں بنانے والے اور ہوتے ہیں صاحبِ عمل دوسرے۔ دعویٰ ایک چیزہے، ریاضت و ایثار دوسری۔ دعوے تو بھٹو نے بھی بہت کیے تھے۔ فخرِ ایشیا اور قائدِ عوام بھی کہلائے۔ دعوے تو میاں محمد نواز شریف نے تو یہ بھی کہا تھا کہ وہ قوم کی تقدیر بدل ڈالیں گے‘ یعنی پروردگار کے قائم مقام ہو جائیں گے۔ ان دونوں سے زیادہ قصیدے عمران خان کے لکھے گئے۔ انہیں تاریخِ انسانی کے عظیم ترین رہنما کے طور پرپیش کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اکیسویں صدی میں
مزید پڑھیے


عورت مارچ

جمعرات 05 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
آپؐ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ، جو چھوٹوں کا لحاظ اور بڑوں کی تکریم نہ کرے ۔ خلیل الرحمٰن قمر عجیب آدمی ہیں ۔ اس قدر تاب و توانائی کہ حیرت ہوتی ہے۔پرسوں پرلے روزجو لب و لہجہ اختیار کیا اس کی تحسین ممکن نہیں۔ ایک بہت اچھا مقدمہ انہوں نے خراب کر دیا ۔ اپنی حماقتوں سے اس ناچیز نے سیکھا ہے کہ غصے کو حرام کیوں کہا گیا ۔سال ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے ، ایک بے گناہ بیچارے کو پولیس نے پکڑ لیا ۔تفتیشی افسر سے بات کی تو وہ بھڑک اٹھا
مزید پڑھیے


کھرا شاعر، دریوزہ گروں کے درمیاں

بدھ 04 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
اظہارالحق میں عہدِ اوّل کی آرزو پیہم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنے زمانے سے بچھڑ کر اس کے ملال میں وہ زندہ ہے۔اسی کی تمنا ہے اور اسی کا گداز۔ کم ہوتے ہیں جنہیں یہ نعمت نصیب ہو۔ ہر لحاظ سے وہ منفرد ہے۔ شاعری تو الگ۔ مجھ سا معمولی آدمی اس پہ کیا بات کرے۔ یہ ظفر اقبال، ڈاکٹر خورشید رضوی اور افتخار عارف کو زیبا ہے۔ بیس پچیس برس سے اخبار نویس ایک شعر کے سحر میں ہے کہ ضرب المثل ہو چکا۔ غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر محل پر ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے انصاف
مزید پڑھیے


جیت کے ہارا ہوا شخص

منگل 03 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
ان میں سے کوئی بھی تاریخ کے افق اور آسمان پہ ستارہ بن کر جگمگائے گا نہیں۔ ان میں محمد علی جناحؒکوئی نہیں ۔ حسنِ خیال تو گاہے چمکتا ہے مگر بجھ جاتا ہے ۔ حسنِ عمل کا نام و نشان تک نہیں ۔ اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی شریف خاندان لندن براجے گایا پاکستان پہ اترے گا ۔ انہیں کھینچ کر لایا جائے گا یا وہ فاتحانہ آمد کا بگل بجائیں گے ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے دھمکی دی ہے کہ مفرور نواز شریف کو واپس
مزید پڑھیے


شہ مات

پیر 02 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
غیر ملکی دشمنوں پر پاکستان اور افغانستان نے فتح پا لی ہے۔ اب امتحان یہ ہے کہ اپنے اندر وہ آہنگ پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے: تمہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔صداقت ہی نہیں مومن صبر و حکمت سے بھی سرفراز ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک فرمان الٰہی ہے۔ افغانستان میں امریکہ کو مات نہیں ہوئی، شہ مات ہے یہ شہ مات۔ صرف امریکہ نہیں، یہ بھارت کی شکست ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کی بھی جو ملّا عمر کے نام پر پاکستان میں قتلِ عام کا کھیل کھیلتے رہے۔
مزید پڑھیے