BN

ہارون الرشید



پائوں تلے گھاس


مہینوں تک ایک بھی چھٹی نہ کرنے والے آدمی کے پائوں تلے گھاس اگ آئی ہے ۔ وہ بددلی کا شکار ہے ، معلوم نہیں کیوں ؟ مشکلات نہیں بلکہ اندازِ فکر کی خرابی ہوتی ہے ، جو ایک پر عزم آدمی کو اس حال سے دوچار کرتی ہے ۔ 1992ء کے ورلڈ کپ میں پہلے چار میچ ہار کر بھی‘ جس آدمی کو ورلڈ کپ جیتنے کا یقین تھا ،اس کا مایوسی میں مبتلا ہونا حیرت انگیز نہیں؟دونیاں چونیاں مانگ کر شوکت خانم ہسپتال اور نمل کالج جیسے شاہکار جس نے تعمیر کیے۔ نمل کالج بہترین اداروں میں سے ایک
جمعه 06  ستمبر 2019ء

جیسے شجر سے شاخ پھوٹے!

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
محمد علی سے لے کر ٹیپو سلطان اور ٹیپو سے صلاح الدین ایوبی تک، صلاح الدین سے جناب عمر بن عبد العزیزؓ ، جنابِ عمر بن عبد العزیز ؓ سے امام حسینؓ اور امام حسینؓ سے لے کر ان کے نانا ؐتک ،ہماری ساری تاریخ مشعلوں سے جگمگاتی ہے ۔ پلٹ کر ہم انہیں دیکھتے کیوں نہیں ؟ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے امریکی تاریخ کے ایک کردار ایڈی ایزی کے بارے میں سوچ رہا تھا ، خیال کی ایک لہر اٹھی کہ وراثت فقط علم کی نہیں‘ حُسن
مزید پڑھیے


باقی کل

اتوار 01  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
واعظوں کی نہیں ، یہ اہلِ عمل کی دنیا ہے ، مکافاتِ عمل کی دنیا۔ کاشتکار وہی کاٹتا ہے ، جو اس نے بویا ہوتا ہے ۔گندم از گندم ، جو از جو۔ اللہ کا شکر ہے کہ پچیس دن کی مسلسل تبلیغ کے بعد بالاخر نیو یارک ٹائمز کے لیے وزیرِ اعظم نے مضمون لکھ دیا ۔ یہ خوش فہمی ہرگز نہیں کہ ناچیز کے کہنے پر لکھا۔ ممکن ہے کہ کسی لاڈلے مشیر نے منا لیا ہویا جیسا کہ دستور ہے ، خود اخبار ہی نے ان سے درخواست کی ہو ۔ ممکن ہے ،
مزید پڑھیے


کوئی کوئی ۔خال خال

هفته 31  اگست 2019ء
ہارون الرشید
آخری عظیم صوفی خواجہ مہر علی شاہؒ نے کہا تھا: یہ تجلی‘ برقِ عارضی ہے کوئی تھامے رکھے تو تجلیٔ برقِیٔ دائمی بھی نصیب ہو سکتی ہے۔ کون تھام سکتا ہے؟ کوئی کوئی‘ خال خال۔ ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب! کالم بھی تو ایک طرح کا شعر ہے ۔ اگر کوئی تازہ خیال نہ پھوٹے تو آدمی کیا کیجے؟ اردو کے ایک ممتاز شاعر تلاشِ روزگار میں دکن پہنچے کہ حاجت مند اہلِ ہنر کا ٹھکانہ تھا۔ جوشؔ ملیح آبادی ایسوں کاتو ذکرہی کیا ، اقبالؔ ایسے عبقری کو بھی سایہ نصیب ہوا تھا۔ یہ الگ بات کہ آخر غنا غالب آیا‘ اکتا گئے یہ
مزید پڑھیے


مایوسی کا کیا سوال

جمعرات 29  اگست 2019ء
ہارون الرشید
اس کی کتاب میں لکھا ہے: اللہ کی رضا سے کتنے ہی چھوٹے لشکر کتنے ہی بڑے لشکروں پر غلبہ پاگئے ۔ عالمی ضمیر اور دوست ممالک سے وابستہ امیدیں دم توڑسکتی ہیں ،جو امید مالک سے وابستہ ہو، وہ کبھی نہیں ٹوٹتی ۔’’وہی اللہ ہے کہ اس کے سو اکوئی معبود نہیں ۔ وہ بادشاہ، پاک ذات، سلامتی والا، امن دینے والا ، نگہبان، غالب، زبردست ، بے پناہ عظمت والا!‘‘ مایوسی کا کیا سوال، مسلمان کبھی مایوس نہیں ہو سکتا۔ انسان کو پیدا ہی آزمائش کے لیے کیا گیا ۔ آدمی پھلتا پھولتا ہی اس وقت ہے ،
مزید پڑھیے




سفر ہے شرط

اتوار 25  اگست 2019ء
ہارون الرشید
ہزار ہا ‘ ہزار ہاکتنے ہی مناظر ہیں،کتنے ہی کردار اور کتنے ہی زمانے ۔ دو چار برس کی بات نہیں نصف صدی کا قصہ ہے ۔ یہ قصہ اب لکھ دیا جائے ! ؎ سفر ہے شرط مسافر نواز بہترے ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے سید ابو الاعلیٰ مودودی کے آخری انٹرویو میں شرکت کی سعادت ناچیز کو حاصل ہوئی ۔ سوالات مصطفی صادق مرحوم نے مرتب کیے تھے لیکن عبارت لکھنے کی توفیق خاکسار کوملی۔ سید صاحب تھک چکے تھے ۔ کہنا اس ریاضت کیش آدمی کا یہ تھا
مزید پڑھیے


بستی بسنا کھیل نہیں ہے

جمعه 23  اگست 2019ء
ہارون الرشید
مسلم بر صغیر کا المیہ یہ ہے کہ آزادی کے باوجود تمیزِ بندہ و آقا میں گرفتار ہے ۔ سرکار سنگ دل ، نا تربیت یافتہ عوام بے نیاز اور مایوس۔کب تک ، آخر کب تک ؟ ڈپٹی کمشنر سمیت اسلام آباد کی انتظامیہ میں اتفاق سے ڈھنگ کے کچھ لوگ ہیں ، جن سے امید وابستہ رہتی ہے ۔ اس زمانے میں ایک ذرا سا حسنِ ظن جب افسر شاہی زنگ کھائے دروازے جیسی ہو چکی ۔ کھولنا مشکل ، بند کرنا اور بھی مشکل ۔مستقل طور پر روٹھے ہوئے ایک ناراض نوجوان کی طرح ، جس پر
مزید پڑھیے


اقتدار

جمعرات 22  اگست 2019ء
ہارون الرشید
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد کیا تھا : میں یہ مان سکتا ہوں کہ الکحل کے باوجود کوئی نشے میں نہ ہو مگر یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ اقتدار کے باوصف کوئی نشے کا شکار نہ ہو ۔ صدارتی ایوارڈ کے موضوع پر برادرم عامر خاکوانی نے ایک بار پھر شامِ غریباں برپا کی ہے۔ پچھلے برس بھی انہوں نے اپنا گریبان چاک کیا تھا۔ پچھلے برس بھی انہوں نے اس خاکسار کا نام لکھا تھا کہ کالم نگاری کے میدان میں اگر وہ اعزاز کا مستحق نہیں تو اور کون ہے ۔ کچھ دوسرے ممتاز اہلِ
مزید پڑھیے


خیر اور شر

اتوار 18  اگست 2019ء
ہارون الرشید
اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے : تم ایک چیز کو برا سمجھتے ہو؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے خیر پوشیدہ ہوتی ہے ۔ تم ایک چیز سے محبت کرتے ہو ؛حالانکہ اس میں تمہارے لیے شر ہوتاہے ۔آنے والا کل کیا لائے گا ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتامگر یہ کہ ظلم کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہونے والے ، جہاد کرنے والے ہی سرخرو ہوتے ہیں ۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے پہلے جتنے با خبر لوگوں سے بات ہوئی ، وہ اندیشوں کا شکار تھے ۔ ماسکو سے کوئی امید وابستہ نہیں تھی ۔
مزید پڑھیے


جنرل محمد ضیاء الحق

هفته 17  اگست 2019ء
ہارون الرشید
جنرل ضیاء الحق کے عہدِ اقتدار کا اگر کوئی سبق ہے تو شاید یہ کہ فوجی حکمران کتنا ہی دانا اور دیانت دار ہو ،قومی فروغ کی ضمانت مہیا نہیں کر سکتا۔ جتنا جھوٹ جنرل محمد ضیاء الحق کے بارے میں لکھا اور بولا گیا ، شاید ہی اس کی کوئی دوسری نظیر ہو ۔ جنرل کے طرزِ حکومت کی تحسین کی جا سکتی ہے اور نا مارشل لا کی ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہمیشہ سول ادارے ملکوں اور قوموں کو قوت اور بالیدگی عطا کرتے ہیں ۔ اچھی پولیس ، اچھی عدالت ، خدمت گزار
مزید پڑھیے