BN

ہارون الرشید


فریبِ ناتمام


اس کتاب کی اشاعت کے بعد اے این پی کی لیڈر شپ کو سانپ سونگھ گیا۔ جمعہ خاں صوفی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔آج تک نہ کر سکے۔سوویت یونین ڈھے پڑا تو اے این پی کی قیادت نے امریکہ سے رشتے استوار کر لیے۔تفصیلات مہیا کی جا سکتی ہیں۔ کالم لکھنے کا آج کوئی ارادہ نہیں۔ کالم اس طرح نہیں لکھے جاتے۔ چار بجنے میں صرف ستائیس منٹ باقی ہیں، جب کاپی پریس بھیج دی جاتی ہے۔ بس ایک وضاحت مطلوب ہے، کل جس کا وعدہ کیا تھا۔ یہ ایک خوشگوار شام تھی،
منگل 12 مئی 2020ء

ذہنی غسل

پیر 11 مئی 2020ء
ہارون الرشید
ذہنی غسل ایک عجیب چیز ہے۔ اس کے مارے ہوئے خال ہی شفایاب ہوتے ہیں۔ نفیسہ شاہ فرماتی ہیں: ارطغرل پہ مقامی ہیروز کو ترجیح دینی چاہئیے۔ ہمارے بزرگ کالم نگار نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی بجائے شبلی فراز کو بھارت نواز نیشنل عوامی پارٹی سے وابستہ ہونا چاہئیے تھا۔ مولانا مفتی محمود مرحوم کا یہ جملہ مشہور ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔ یہ 1971ء کے بعد کا اظہارِ خیال تھا، جب ذوالفقار علی بھٹو ایک سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی طرح ملک چلا رہے تھے۔ پریس پابہ زنجیر تھا۔
مزید پڑھیے


جزا و سزا

جمعه 08 مئی 2020ء
ہارون الرشید
بہترین کو داد نہ ملے اور کمتر کی تادیب نہ ہو تو آبِ زر سے لکھا ہوا کوئی نظام بھی نامراد رہے گا۔ ڈاکٹر شعیب سڈل ہنسے اور بولے ’’روسی ماہرین اس کے لیے درآمد کرنا ہوں گے‘‘۔ سوال ان سے یہ کیا تھا کہ کس طرح اور کیونکر سول سروس بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ کپتان جب سے اقتدار میں آیا ہے،کچھ بحران مسلسل قائم ہیں۔ اب تو خیر کورونا کا زہریلا سایہ ہے لیکن اس سے پہلے بھی معاشی پالیسیوں کے بارے میں الجھاؤ ہمیشہ قائم رہا۔ نئی حکومت کے آتے ہی معاشی سرگرمیاں محدود ہونے لگیں۔ سرمایہ
مزید پڑھیے


نجات پایا ہوا آدمی

جمعرات 07 مئی 2020ء
ہارون الرشید
معروف یا غیر معروف، دانشور یا سیاستدان، ادیب یا شاعر، دہقان یا مزدور، کوئی زندگی چند الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ سفینہ چاہئیے، اس بحرِ بیکراں کے لیے پھر کبھی شاید، پھر کبھی۔ چوہدری انوار الحق چلے گئے۔شعیب بن عزیز سے شکوہ کیا کہ اطلاع کیوں نہ دی؟ اس دن لاہور میں تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اب اس طرح سے پرہجوم جنازے نہیں ہوتے۔ انتقال کی خبر پا کر وہ خود بھی تدفین سے قبل مرحوم کے گھر پہنچے۔ دعا اور صبر کی تلقین کر کے لوٹ آئے۔ بات ابھی جاری تھی کہ شعیب کے لہجے میں
مزید پڑھیے


کارِ دگر

بدھ 06 مئی 2020ء
ہارون الرشید
چمن اجڑا پڑا ہے اور اجڑتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کا کوئی مداوا سپریم کورٹ کر سکتی ہے اور نہ اسٹیبلشمنٹ۔ دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لیے پھرتا ہوں کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں کارِ دگر ہے یہ کارِ دگر۔ معزز جج صاحبان نے حیرت زدہ کر دیا۔ فرمایا کہ کورونا پر وفاق اور صوبوں کوہم آہنگی پیدا کرنی چاہئیے۔ کسی قدر ہم آہنگی تو موجود ہے۔عدالت کی مراد غالباً یہ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور بیان بازی سے باز آنا چاہئیے۔ اس سے
مزید پڑھیے



وزیرِ اعظم سے ایک سوال

پیر 04 مئی 2020ء
ہارون الرشید
"عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر سڑکوں، پلوں، انڈر پاسوں کی بجائے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انسانوں پر سرمایہ کاری کریں گے۔ کیا یہی وہ سرمایہ کاری ہے ؟ میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں اورنج لائن جیسا کوئی بڑا منصوبہ تباہ کیا جا رہاہے۔ میری گزارش یہ ہے کہ حکومت پنجاب کا محکمہ سکول ایجوکیشن ایک اور شاندار منصوبے کی بربادی کے درپے ہے۔ جی ہاں، میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی بات کر رہا ہوں جس کی بنیاد چودھری پرویزا لٰہی کی وزارت اعلیٰ میں رکھی گئی۔ یہ منصوبہ
مزید پڑھیے


ایں خیال است و محال است و جنوں

جمعه 01 مئی 2020ء
ہارون الرشید
واقعہ یہ ہے کہ بہت پہلے ہمارے ہیرو نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ شکست میدانِ جنگ میں بعد ازاں واقعہ ہوتی ہے۔ دل کے دیار میں بہت پہلے۔ باتیں جتنی مرضی بنائے، اپنے دل میں وہ ہار چکا ہے۔ علیم خاں سے بات ہوئی تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ بتایا کہ لگ بھگ پانچ سو فلور ملوں میں سے اڑھائی سوبند اور بے کار پڑی رہتی ہیں۔سرکاری گوداموں سے 1400روپے من کے حساب سے گیہوں وصول کرتی، 400روپے منافع پر بازار میں بیچ دیتی ہیں۔ بیٹھے بٹھائے28فیصد منافع۔ کیا یہ بجلی اور شوگر ملوں
مزید پڑھیے


اپاہج

جمعرات 30 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
خواجہ سعد رفیق نے ٹھیک کہا: سیاسی جماعتیں کمزور، محتاج اور پست و پامال رہیں گی، جب تک وہ اداروں میں نہیں ڈھل جاتیں۔ بڑھتے بڑھتے سیاست میں فوج کا عمل دخل بہت بڑھ گیا۔ تازہ ترین مثال وزارتِ اطلاعات کی ہے، جو ایک جنرل کی گود میں جا گری ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیاں کبھی ایسی منظم، مرتب اور تربیت یافتہ نہ تھیں کہ کاروبارِ حکومت ڈھنگ سے چلا سکیں۔ مذہبی سیاسی پارٹیوں کو چھوڑیے، باقیوں کا حال بھی وہی ہے۔وہ بھی تو ایک طرح کے فرقے ہیں۔ 1980ء کے عشرے میں ایم کیو
مزید پڑھیے


باقی پھر کبھی

بدھ 29 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
میڈیا کے ساتھ خوشگوار مراسم میں سب سے بڑی رکاوٹ وزیرِ اعظم خود ہیں۔ صحافت اور صحافیوں کو وہ زیادہ پسند نہیں کرتے۔کیوں پسند نہیں کرتے، اس پر پھر کبھی۔ بریگیڈئیر عاصم سلیم باجوہ سے پہلی ملاقات راولپنڈی کے واحد پانچ ستارہ ہوٹل میں ہوئی۔ایک آدھ دن کی چھٹی لے کر میدانِ جنگ سے آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرستان میں قبائلیوں کی معاشی بحالی کے لیے فوج نے کون کون سے منصوبے پروان چڑھائے۔ سان گمان میں بھی تب نہ تھا کہ ایک دن فوج کے محکمہ تعلقات عامہ سے وابستہ ہو کر اس کی جون ہی
مزید پڑھیے


یا للعجب، یا للعجب

منگل 28 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
مولانا کی طرف سے رضاکارانہ معافی اور اخبار نویسوں کی طرف سے معقول رویے کے باوجود سوشل میڈیا پر ان کے مریدوں نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ ویسی ہی بدتمیزی اور ویسی ہی دشنام طرازی، جو سیاسی کارندوں کا دستور ہے۔۔۔اور وہ بھی رمضان المبارک میں۔ یا للعجب، یا للعجب۔ خطابت سے دنیا اگر بدل سکتی تو عطا ء اللہ شاہ بخاری کے زورِ کلام سے بدل جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ بر صغیر کی تاریخ کے سب سے بڑے خطیب تھے۔ عشا کے بعد آغاز کرتے تو نمازِ فجر تک سامعین کو مبہوت کیے رکھتے۔۔۔اس پر بھی
مزید پڑھیے