BN

ہارون الرشید



صورتِ حالات


ہمیشہ عرض کیا کہ سیاست میں سب سے زیادہ اہمیت لیڈروں اور گروہوں کی نہیں ، ابھرتی ہوئی صورتِ حالات کی ہوتی ہے ۔ قرائن یہ ہیں کہ صورتِ حالات اب پاکستان کے حق میں ہے ، عمران خان کے لیے سازگار ہے ۔ کم از کم وقتی طور پراس کا عَلم بلند ہے ۔ ملک کے اندر اور باہر بھی ۔کم از کم فی الحال اپنے حریفوں کو زچ کرنے میں وہ کامیاب ہے ۔میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کی ترجیح اور تمنا یہ تھی کہ اسے اکھاڑ پھینکا جائے ۔کم از کم کمزور
جمعرات 25 جولائی 2019ء

آزادی

منگل 23 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
آزادی مگر قانون کی بالاتری بھی ، آزادی مگر ریاست کی تقدیس بھی ، آزادی مگر ڈسپلن ، قومی مفادات اور بے چارگانِ خاک کی حفاظت بھی۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ انارکی کا سفر ہے ، خودشکنی اور خود اپنی تباہی کا سامان ۔ عقل و علم کی جو امانت آدمی کو بخشی گئی ،غلام اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ۔ تین صدیوں سے روسو کا جملہ دہرایا جاتاہے ۔ انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن ہر کہیں زنجیروں میں جکڑا ہے ۔ 1400برس سے اہلِ ایمان عمر فاروقِ اعظمؓ کا قول سنتے اور سناتے آئے
مزید پڑھیے


ترجیحات

اتوار 21 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
فقط ایک لیڈر نہیں ، محض ایک پارٹی بھی نہیں ، ادبار سے نجات کے لیے پوری قوم کو بروئے کار آنا ہوتا ہے ۔ ہر شعبہ ء حیات کو ۔فقط بحث و تمحیص، چیخ و پکار اور گریہ و فریاد سے زندگی نہیں سنورتی ، ادبار نہیں ٹلتا ۔انسانوں کے لیے وہی کچھ ہے ، جس کے لیے وہ ریاضت کریں ، جس کے لیے وہ سرگرمِ عمل رہیں ۔ کیا عمران خان تعمیرِنو کا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں ؟ کیا وہ اس معاشرے کو دلدل سے نکال سکتے ہیں ، جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا
مزید پڑھیے


سردار

هفته 20 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
’’سردار‘‘۔۔۔ فارسی کا یہ لفظ کیسے گہرے معانی کا حامل ہے : وہ آدمی جو سر رکھتاہے ۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جسے عطا ہو ئی ہو ۔ دور اندیشی جس میں پائی جاتی ہے ، جو آنے والے کل کو ملحوظ رکھّے ۔ فرمایا: کلکم راع و کلکم مسئول ۔ تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص جواب دہ ۔ رات گئے لوٹ کر آئے تو مرکزی دروازے پر لکھا تھا "ہم بنیاد رکھنے والے ہیں ، ہم اس بستی کے مالک ہیں ۔‘‘ چند دن ہوتے ہیں ، ہائوسنگ سوسائٹی کے انتخابات ہوئے ۔جیسا
مزید پڑھیے


عافیت

جمعه 19 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
امن بھیک میں نہیں ملتا ۔ یہ طاقت ، خوف کا توازن اور تحمل و تدبیر چاہتا ہے ۔ افسوس کہ اپنے بحران کا ابھی ہمیں ادراک ہی نہیں ۔ ابھی تو سوچ بچار پر بھی ہم آمادہ نہیں ۔ نوا ز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے تو مینارِ پاکستان بھی پہنچے ۔ اپنے یادگار خطاب میں بھارت کی سیاسی قوتوں کا انہوں نے ذکر کیا ،پاکستان کو تسلیم کرنے کے جو حق میں نہ تھیں ۔ ان کاکہنا یہ تھا کہ واجپائی پاکستان کے وجود کو جواز کیوں بخش رہے ہیں ۔ معترضین
مزید پڑھیے




بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا

جمعرات 18 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
پاکستان کو تنہا کرنے والا بھارت افغانستان میں تنہا رہ گیا ۔مواقع ایک بار پھر ارزاں ہیں لیکن جیسا کہ سرکارؐ نے فرمایا تھا : زندگی ایسی ایک سواری ہے کہ آدمی اس پر سوار نہ ہو تو آدمی پر وہ سوار ہو جاتی ہے ۔ مثبت اور سائنسی اندازِ فکر، پہل کاری ، قوانینِ قدرت کا ادراک، ریاضت اور یکسوئی ۔ قائداعظم نے کہا تھا: ایمان، اتحاد اور تنظیم! عامر خاکوانی نے پاکستانیوں کو کاغذ کی قوم کہا ۔ عمل پسندی سے محروم ، کاغذ کالے کرنے اور باتیں بنانے والی ۔ جی ہاں ، جذباتی مگر بنیادی خرابی شاید
مزید پڑھیے


گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر

اتوار 14 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
جج صاحب کا کیا ہو گا؟ محترمہ مریم نواز ان کے یمین و یسارکا کیا ہو گا؟ گرداب میں کشتی خال ہی بچتی ہے۔ بھنور میں بادشاہ کم ہی بچتے ہیں۔ گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر بھنور ہے تقدیر کا بہانہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کا بیان‘7دسمبر 1970ء کے اخبارات میں چھپا :کسی طرح یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جماعت اسلامی الیکشن ہار سکتی ہے۔سید صاحب کا اندازہ یکسر غلط نکلا۔ ادھر بنگالی قومی پرستی کا ادھر بھٹو کاجادو سر چڑھ کے بولا۔ گل فشاں وعدے ۔مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے سب کا صفایا کر دیا۔
مزید پڑھیے


پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے

هفته 13 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
عظیم رہنما راستہ دکھاتے ہیں لیکن معاشروں کی نجات کسی ایک لیـڈر کی حوصلہ مندی اور شہ دماغی میں نہیں ہوتی بلکہ قوموں کی بیداری میں ۔ یہی نکتہ اہم ہے اور یہی نظر انداز۔ چھک چھک کرتی گاڑی بہاولپور کے ریلوے سٹیشن پر رکی ۔ڈبے کا دروازہ کھلا اور اس آدمی کو سامنے پایا ، جسے دیکھنے کے لیے تین گھنٹے کی مسافت طے کی تھی ۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ۔ اپنے عہد کے وجیہہ ترین حکمران ۔ جن کی ایک جھلک کے لیے خلقت ٹوٹ پڑتی تھی ۔ تعمیرِ ملت اور گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول رحیم
مزید پڑھیے


دلِ مردہ دل نہیں ہے

جمعه 12 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
عدل کے لیے سخت فیصلے حکمرانوں کو صادر کرنا پڑتے ہیں اور ضرورت ہو تو کرنے چاہئییں ۔ کارِ ریاست کمزور لوگوں کا کام نہیں ۔ دلوں کا نم مگر باقی رہنا چاہئیے ورنہ ویرانہ ہوجائے گا، اس میںکچھ اگے گا نہیں ۔ اقبالؔ نے یہ کہا تھا دلِ مردہ دل نہیں ہے ، اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ حکمرانی کے لیے کیا قساوتِ قلبی لازم ہے ؟ ڈاکٹر طاہر مسعود کے کالم کا پہلا جملہ پڑھا تو طبیعت میں کوفت پیدا ہوئی ۔ ڈاکٹر صاحب کو چالیس بر س سے میں جانتا
مزید پڑھیے


فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی

جمعرات 11 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
چترال کے اس پیکرِ خلوص ہدایت اللہ اور اس کے کارنامے کا تذکرہ جلد ہی ۔ جو دلوں میں امید جگاتا اور ایثار بوتا ہے ۔ سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی چترال کی وادی میں اترتے ہوئے’’ الخدمت ‘‘کے روحِ رواں وقاص شاہ نے دائیں ہاتھ اشارہ کیا ’’یہ ہوائی اڈہ ایک دریا کے درمیان ہے‘‘ درمیان اگر نہیں تو دریا کنارے ضرور ۔ چترال ایک پراسرار سرزمین ہے ۔ 21ہزار کلومیٹر پر پھیلا ، آزاد کشمیر سے چار گنا بڑا ۔ متحدہ عرب امارات کی اکثر ریاستوں اور کئی یورپی ممالک سے وسیع
مزید پڑھیے