BN

ہارون الرشید


وزیرِ اعظم سے ایک سوال


"عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر سڑکوں، پلوں، انڈر پاسوں کی بجائے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انسانوں پر سرمایہ کاری کریں گے۔ کیا یہی وہ سرمایہ کاری ہے ؟ میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں اورنج لائن جیسا کوئی بڑا منصوبہ تباہ کیا جا رہاہے۔ میری گزارش یہ ہے کہ حکومت پنجاب کا محکمہ سکول ایجوکیشن ایک اور شاندار منصوبے کی بربادی کے درپے ہے۔ جی ہاں، میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی بات کر رہا ہوں جس کی بنیاد چودھری پرویزا لٰہی کی وزارت اعلیٰ میں رکھی گئی۔ یہ منصوبہ
پیر 04 مئی 2020ء

ایں خیال است و محال است و جنوں

جمعه 01 مئی 2020ء
ہارون الرشید
واقعہ یہ ہے کہ بہت پہلے ہمارے ہیرو نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ شکست میدانِ جنگ میں بعد ازاں واقعہ ہوتی ہے۔ دل کے دیار میں بہت پہلے۔ باتیں جتنی مرضی بنائے، اپنے دل میں وہ ہار چکا ہے۔ علیم خاں سے بات ہوئی تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ بتایا کہ لگ بھگ پانچ سو فلور ملوں میں سے اڑھائی سوبند اور بے کار پڑی رہتی ہیں۔سرکاری گوداموں سے 1400روپے من کے حساب سے گیہوں وصول کرتی، 400روپے منافع پر بازار میں بیچ دیتی ہیں۔ بیٹھے بٹھائے28فیصد منافع۔ کیا یہ بجلی اور شوگر ملوں
مزید پڑھیے


اپاہج

جمعرات 30 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
خواجہ سعد رفیق نے ٹھیک کہا: سیاسی جماعتیں کمزور، محتاج اور پست و پامال رہیں گی، جب تک وہ اداروں میں نہیں ڈھل جاتیں۔ بڑھتے بڑھتے سیاست میں فوج کا عمل دخل بہت بڑھ گیا۔ تازہ ترین مثال وزارتِ اطلاعات کی ہے، جو ایک جنرل کی گود میں جا گری ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیاں کبھی ایسی منظم، مرتب اور تربیت یافتہ نہ تھیں کہ کاروبارِ حکومت ڈھنگ سے چلا سکیں۔ مذہبی سیاسی پارٹیوں کو چھوڑیے، باقیوں کا حال بھی وہی ہے۔وہ بھی تو ایک طرح کے فرقے ہیں۔ 1980ء کے عشرے میں ایم کیو
مزید پڑھیے


باقی پھر کبھی

بدھ 29 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
میڈیا کے ساتھ خوشگوار مراسم میں سب سے بڑی رکاوٹ وزیرِ اعظم خود ہیں۔ صحافت اور صحافیوں کو وہ زیادہ پسند نہیں کرتے۔کیوں پسند نہیں کرتے، اس پر پھر کبھی۔ بریگیڈئیر عاصم سلیم باجوہ سے پہلی ملاقات راولپنڈی کے واحد پانچ ستارہ ہوٹل میں ہوئی۔ایک آدھ دن کی چھٹی لے کر میدانِ جنگ سے آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرستان میں قبائلیوں کی معاشی بحالی کے لیے فوج نے کون کون سے منصوبے پروان چڑھائے۔ سان گمان میں بھی تب نہ تھا کہ ایک دن فوج کے محکمہ تعلقات عامہ سے وابستہ ہو کر اس کی جون ہی
مزید پڑھیے


یا للعجب، یا للعجب

منگل 28 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
مولانا کی طرف سے رضاکارانہ معافی اور اخبار نویسوں کی طرف سے معقول رویے کے باوجود سوشل میڈیا پر ان کے مریدوں نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ ویسی ہی بدتمیزی اور ویسی ہی دشنام طرازی، جو سیاسی کارندوں کا دستور ہے۔۔۔اور وہ بھی رمضان المبارک میں۔ یا للعجب، یا للعجب۔ خطابت سے دنیا اگر بدل سکتی تو عطا ء اللہ شاہ بخاری کے زورِ کلام سے بدل جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ بر صغیر کی تاریخ کے سب سے بڑے خطیب تھے۔ عشا کے بعد آغاز کرتے تو نمازِ فجر تک سامعین کو مبہوت کیے رکھتے۔۔۔اس پر بھی
مزید پڑھیے



گربہ کشتن روزِ اول

جمعرات 23 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
حکمران واعظ ہو جائے تو ریاست پھر ریاست نہیں رہتی، تماشہ بن جاتی ہے۔غلطی ہو چکی اور اب اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔ وزیرِ اعظم کرونا سے بچ نکلے۔ اچھا ہوا، بہت اچھا ہوا۔ ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ قوم کو بچانے کی کوشش کریں۔ بجا کہ تنہا انہی کی نہیں بلکہ ہم سب کی۔ اس طرح کی آزمائش میں جب معاشرے مبتلا ہوتے ہیں تو احتیاط ایک ایک فرد پہ لازم ہوتی ہے۔ اس سے بڑی افتاد ہم پہ نہیں آپڑی ، جب جرمن بمبار طیارے لندن شہر پہ بم برسایا کرتے۔ برصغیر میں تو راشن بندی
مزید پڑھیے


مجدّد

بدھ 22 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
خود اپنے بارے میں یہ ارشاد کیا تھا: یا رب میری فکر کا سرچشمہ اگر قرآن نہیں ہے تو روزِ قیامت مجھے سرکارﷺ کے بوسۂ پا سے محروم کر دینا۔ جواں سال سید ابوالاعلی مودودی کو اقبال ؔکے انتقال کی اطلاع راستے میں ملی۔ لاہور میں ملاقات کے بعد دلی جا رہے تھے کہ راہ میں خبر ہوئی۔ فوراً ہی ’’اقبالؔ میرا نفسیاتی سہارا‘‘ کے عنوان سے انہوں نے ایک مضمون لکھا۔ کہا کہ قرآن اقبالؔ کے لیے شاہ کلید تھا۔ وہ چابی جس سے ہر تالا کھل سکتا ہے۔ لکھا: جس فلسفے کے دوچار جام پی کر لوگ بہکنے لگتے
مزید پڑھیے


امید پہ دنیا قائم ہے

پیر 20 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
عروج کی طرح زوال بھی ہمہ گیر ہوتا ہے۔ سیاست میں کبھی قائد اعظم تھے۔ اب زرداری صاحب، میاں محمد نواز شریف اور عمران خان۔ ظفر علی خان اور محمد علی جوہر صحافت کی آبرو تھے۔ اب مجھ ایسے کج بیاں۔ اللہ جانے زوال کا یہ سفر کب تھمے گا۔ امید پہ دنیا قائم ہے۔ پچاس برس ہوتے ہیں، پیپلز پارٹی کا ایک جلوس میکلوڈ روڈ سے گزرا۔ روزنامہ کوہستان مرحوم میں یہ ناچیز ادارتی صفحے کا انچارج تھا۔ انچارج کیا، صحافت کے بہترین اساتذہ میں سے ایک سید عالی رضوی کا مددگار۔ انہیں ایک نائب کی ضرورت پڑی تو
مزید پڑھیے


تری طلب، تجھے پانے کی آرزو،ترا غم

جمعرات 16 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
دعا ہے سو جاری رکھنی چاہئیے، صدقہ ہے، اللہ کی بارگاہ میں جو اپنے رفتگاں کی نذر کیا جا سکتاہے۔ جانے ملاقات کب ہوگی؟ طلوعِ مہر، شگفتِ سحر، سیاہی ء شب تری طلب، تجھے پانے کی آرزو،ترا غم عصرِ رواں کے عارف نے کہا تھا: آدمی کی اکثریت ایسی ہے کہ جیسی پیدا ہو، ویسی ہی دنیا سے اٹھ جاتی ہے، الّا یہ کہ ان کی زندگی میں کوئی بڑا حادثہ پیش آئے اورادراک کے در کھول دے۔ الّا یہ کہ کسی سچے استاد سے سامنا ہوجائے اور ترجیحات تبدیل ہو جائیں۔ وہ کہتے ہیں: زیاں بہت ہے، خدا کی
مزید پڑھیے


بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں

بدھ 15 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
سعید اظہر برعکس تھے۔ لا تعلق، بے نیاز اور کبھی کبھی تو بے زار بھی۔ ان کی کہانی کا اگر کوئی عنوان ہو سکتاہے تو یہ کہ بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں۔ سعید اظہر کی کہانی بیچ میں رہ گئی۔مجیب الرحمٰن شامی اور عباس اطہر کا ذکر کیے بغیر یہ داستاں مکمل نہیں ہو سکتی۔ دونوں ممتاز ایڈیٹر ان کے مربی تھے۔ ان سے شکایت پالتے لیکن سرپرستی بھی کرتے۔ یہ کہانی شاید ایک طویل خاکے ہی میں سمٹ سکتی ہے لیکن پے بہ پے حادثات اور افق تابہ افق تک پھیلے ہوئے کرونا کے خوف میں ایسی
مزید پڑھیے