BN

ہارون الرشید


منصوبہ بندی


ایک موزوں ترین منصوبے پہ عمل درآمد میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ایسے خوفناک بحران میں کنفیوژن اور بے عملی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ایسی تیزی سے وبا پھیلی ہے کہ ساری دنیا گڑبڑا گئی۔ پاکستان کا تو کیا رونا کہ سول ادارے تباہ حال ہیں۔ لاہور میں ایک صاحب نے چھ ہزار روپے لے کر کورونا کے مریض کو جانے دیا۔جہاں مہیا تھے، وہاں بھی اکثریت نے ماسک خریدنے سے گریز کیا۔ یہ نسبتاً تیزی سے بنائے جا سکتے تھے، گھروں میں بھی۔ ڈاکٹروں کے لیے موزوں لباس مہیا نہ تھا۔ وینٹی لیٹرز کی تعداد کم
پیر 23 مارچ 2020ء

بارِ دگر

جمعرات 19 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
وزیرِ اعظم نے ٹھیک کہا کہ عظیم ابتلاؤں میں جنگ پوری قوم کو لڑنا ہوتی ہے۔خود سیاستدان ہی اگرایک دوسرے کے درپے ہوں تو قوم کو کیا خاک متحد کریں گے؟ وزیرِ اعظم کی تقریر کے بعض نکات بہت اچھے تھے۔ ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی اپیل ایک عظیم اخلاقی تقاضے کی تکمیل ہے۔سرزمینِ پہلوی بدترین صورتِ حال سے دوچار ہے۔ اوّل اوّل چھپانے اور نظر انداز کرنے کی روش۔ خو دپاکستان میں بھی وائرس زیادہ تر ایران ہی سے پھیلا۔تہران میں سب سے بڑا مسئلہ اب یہ ہے کہ درآمدات پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس فہرست میں
مزید پڑھیے


آدمی عجیب ہے

بدھ 18 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
آدمی عجیب ہے، سیکھتا ہی نہیں۔ افتاد آپڑے تو گھبرا کر آسان راستے کی آرزو پالتا ہے۔ قوانینِ قدرت سے ہم آہنگی اور دیر پا منصوبہ بندی کی فکرطوفان اوربحران میں بھی جاگتی نہیں۔ مسٹر فاؤچی الرجی اور وائرس کا انسداد کرنے والے امریکی ادارے کے سربراہ ہیں۔ انیس برس سے چلے آتے ہیں۔ دوسری احتیاطوں کے علاوہ وہ سب لوگوں کو نیند پوری کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر پچھلے کچھ دنوں سے 79سالہ معالج خود چند گھنٹے ہی سوتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے چینل پر نمودار ہوتے ہیں اور کرید کرید کر پوچھے جانے والے سوالوں
مزید پڑھیے


جان ہے تو جہان ہے

منگل 17 مارچ 2020ء
ہارون الرشید

ایک قومی لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ فوجی قیادت، صوبائی حکومتوں، ذمہ دار اپوزیشن لیڈروں اور ماہرین سے مسلسل مشورہ۔ ملک بھر میں آگہی کی ایک بھرپور مہم۔ صرف صفائی،مزاحمت بڑھانے والی خوراک اور احتیاطی تدابیر سے ممکنہ تباہی کی سطح بہت کم ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کورونا وائرس پہلی بلا نہیں جو بنی آدم پہ اتری ہے۔ٹی وی دیکھنے اور اخبار پڑھنے والے سب لوگ جانتے ہیں کہ کب کب کہاں کہاں طاعون اور ہیضہ پھیلتا رہا۔پولیو، چیچک، ایڈز اور ایبولا ابھی کل کی بات ہیں۔ بعض سے انسان نے چھٹکارا پا لیا۔ بعض سے نجات کے
مزید پڑھیے


ہمتِ مرداں، مددِ خدا

پیر 16 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
مایوسی کفر ہے اور امید ایمان۔ دعا، صدقہ، صفائی، علاج اور مشترکہ جدوجہد۔ ابتلا میں سبق پوشیدہ ہوتے ہیں مگر بحران میں مواقع بھی۔ پروردگار کادروازہ چوپٹ کھلا ہے اور اس کی صفتِ رحم اس کی صفتِ عدل پہ غالب ہے۔ ابھی ابھی ایک دوست نے بتایا کہ ایک مشہور میڈیکل سٹور کے مالک ظفر بختاوری نے، جس کی بہت ساری شاخیں ہیں ڈیڑھ لاکھ ماسک مفت بانٹے ہیں۔ شناختی کارڈ کی شرط کے ساتھ ہر خاندان کے لیے تین ماسک۔ اللہ ان کی نیکی قبول کرے اور دوسرو ں کوتقلید کی توفیق۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں
مزید پڑھیے



بنیادی سوال

هفته 14 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
قدرت ہمیں سکھانا چاہتی ہے لیکن ہم سیکھیں بھی۔ حسرت کے ساتھ قرآنِ کریم کہتاہے: افسوس کہ اکثر لوگ غور نہیں کرتے۔ عرض کیا کہ کورونا وائرس پر ہر طرح کی بحث ہے مگر بنیادی سوال پہ کوئی بات نہیں کرتا۔ یہ کہ جب حرام کو حلال سمجھ لیا جائے گا تو اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔صاف اور صریح الفاظ میں قرآنِ کریم بتاتا ہے، کیا چیز طیب ہے، کون سی مکروہ اور کون سی حرام۔ پھر وہ حکم دیتا ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے،اس پر اللہ کا نام پڑھا جائے۔ ادبیات کے انگریزاستاد،میرے دوست نو مسلم عمران نے
مزید پڑھیے


سیّدالطائفہ

جمعه 13 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
’’اللہ کے نزدیک عقلِ انسانی کا سب سے بڑا مغالطہ ترجیحات کی ترتیب میں برپا ہوتاہے۔ اگر ترجیح اول پروردگار نہیںتو زندگی کی بساط سے آدمی ناکام اٹھے گا۔‘‘ یہ عصرِ رواں کے عارف کا قول ہے۔ دارا شکوہ ایسا شخص ہی یہ جسارت کر سکتا ہے کہ ایک نظر ڈال کر میاں میرؒ نے اسے ولایت بخش دی۔ مقامات اس طرح نہیں ملتے۔ عمر بھر کی کمائی ہوتی ہے۔ ایک ایک دھاگا بٹا جاتا ہے، حتیٰ کہ پیراہن سی لیا جائے۔ نامور افسانہ نگار اشفاق احمد مرحوم نے درویش سے پوچھا کہ کیا وہ صوفی بن سکتے ہیں؟ جواب
مزید پڑھیے


صدمہ

جمعرات 12 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
منصور آفاق نے کہ حمد، نعت اور تصوف کے شاعر بھی ہیں، عمران خان اور فردوس عاشق اعوان سے پسماندگان کے لیے مدد کی اپیل کی تو صدمہ ہوا، بہت صدمہ۔ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ کیا یہ ہم دوستوں کی ذمہ داری نہیں؟ انوار حسین حقی کے انتقال کا زخم ابھی تازہ تھا کہ دوسراسانحہ ہوا۔ حقی ان نادرونایاب لوگوں میں سے ایک تھے، جن کی امانت و دیانت کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ لاکھوں دوسرے لوگوں کی طرح وہ عمران خان کا شکار ہوئے۔ صدیوں سے بگڑی ہوئی اشرافیہ سے نجات کی وہی آرزو۔وہی
مزید پڑھیے


بستی بسنا کھیل نہیں ہے!

منگل 10 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
افغانستان میں طالبان کی فتح کا جشن منانے والوں کو تامل سے کام لینا چاہئے۔ آگ کا دریا وہ عبور کر چکے لیکن کئی ندیاں نالے، پہاڑ اور ریگزار ابھی عبورکرنا ہیں۔ بستی بسنا کھیل نہیں ہے۔ بستے بستے بستی ہے۔ زندگی شاعری نہیں ، خواب نہیں ہے۔ سپنوں کو مجسم کرنے کے لیے جاں گسل جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے۔ قدرت کے ان ابدی قوانین سے آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے، جو کبھی بدلتے نہیں۔ اس میں پیغمبرانِ عظام کے لیے بھی کوئی استثنا نہیں۔زندگی آدمی سے سمجھوتہ نہیں کرتی۔ آدمی کو سمجھوتہ کرنا ہوتا ہے۔ سرائیکی کے شاعر نے
مزید پڑھیے


خواتین کی قیادت کا حق دار کون ہے؟

پیر 09 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
دودھ پینے والے مجنوں اور ہوتے ہیں، خون دینے والے دوسرے۔ باتیں بنانے والے اور ہوتے ہیں صاحبِ عمل دوسرے۔ دعویٰ ایک چیزہے، ریاضت و ایثار دوسری۔ دعوے تو بھٹو نے بھی بہت کیے تھے۔ فخرِ ایشیا اور قائدِ عوام بھی کہلائے۔ دعوے تو میاں محمد نواز شریف نے تو یہ بھی کہا تھا کہ وہ قوم کی تقدیر بدل ڈالیں گے‘ یعنی پروردگار کے قائم مقام ہو جائیں گے۔ ان دونوں سے زیادہ قصیدے عمران خان کے لکھے گئے۔ انہیں تاریخِ انسانی کے عظیم ترین رہنما کے طور پرپیش کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اکیسویں صدی میں
مزید پڑھیے