BN

ہارون الرشید


عورت مارچ


آپؐ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ، جو چھوٹوں کا لحاظ اور بڑوں کی تکریم نہ کرے ۔ خلیل الرحمٰن قمر عجیب آدمی ہیں ۔ اس قدر تاب و توانائی کہ حیرت ہوتی ہے۔پرسوں پرلے روزجو لب و لہجہ اختیار کیا اس کی تحسین ممکن نہیں۔ ایک بہت اچھا مقدمہ انہوں نے خراب کر دیا ۔ اپنی حماقتوں سے اس ناچیز نے سیکھا ہے کہ غصے کو حرام کیوں کہا گیا ۔سال ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے ، ایک بے گناہ بیچارے کو پولیس نے پکڑ لیا ۔تفتیشی افسر سے بات کی تو وہ بھڑک اٹھا
جمعرات 05 مارچ 2020ء

کھرا شاعر، دریوزہ گروں کے درمیاں

بدھ 04 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
اظہارالحق میں عہدِ اوّل کی آرزو پیہم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنے زمانے سے بچھڑ کر اس کے ملال میں وہ زندہ ہے۔اسی کی تمنا ہے اور اسی کا گداز۔ کم ہوتے ہیں جنہیں یہ نعمت نصیب ہو۔ ہر لحاظ سے وہ منفرد ہے۔ شاعری تو الگ۔ مجھ سا معمولی آدمی اس پہ کیا بات کرے۔ یہ ظفر اقبال، ڈاکٹر خورشید رضوی اور افتخار عارف کو زیبا ہے۔ بیس پچیس برس سے اخبار نویس ایک شعر کے سحر میں ہے کہ ضرب المثل ہو چکا۔ غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر محل پر ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے انصاف
مزید پڑھیے


جیت کے ہارا ہوا شخص

منگل 03 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
ان میں سے کوئی بھی تاریخ کے افق اور آسمان پہ ستارہ بن کر جگمگائے گا نہیں۔ ان میں محمد علی جناحؒکوئی نہیں ۔ حسنِ خیال تو گاہے چمکتا ہے مگر بجھ جاتا ہے ۔ حسنِ عمل کا نام و نشان تک نہیں ۔ اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی شریف خاندان لندن براجے گایا پاکستان پہ اترے گا ۔ انہیں کھینچ کر لایا جائے گا یا وہ فاتحانہ آمد کا بگل بجائیں گے ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے دھمکی دی ہے کہ مفرور نواز شریف کو واپس
مزید پڑھیے


شہ مات

پیر 02 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
غیر ملکی دشمنوں پر پاکستان اور افغانستان نے فتح پا لی ہے۔ اب امتحان یہ ہے کہ اپنے اندر وہ آہنگ پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے: تمہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔صداقت ہی نہیں مومن صبر و حکمت سے بھی سرفراز ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک فرمان الٰہی ہے۔ افغانستان میں امریکہ کو مات نہیں ہوئی، شہ مات ہے یہ شہ مات۔ صرف امریکہ نہیں، یہ بھارت کی شکست ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کی بھی جو ملّا عمر کے نام پر پاکستان میں قتلِ عام کا کھیل کھیلتے رہے۔
مزید پڑھیے


تم انتظار کرو ، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

جمعه 28 فروری 2020ء
ہارون الرشید
جو نہیں مانتے ، وہ نہ مانیں ۔جب کوئی فیصلہ آسمانوں پر صادر ہو چکے تو زمین پر اسے نافذ ہونا ہوتا ہے ۔ کچھ قرائن سے اندازہ لگاتے ہیں اور کچھ واقعات رونما ہونے کے بعد تسلیم کیا کرتے ہیں ۔ اللہ کے آخری پیغمبرؐ کے نام پروردگار کا پیغام یہ تھا : اپنے حریفوں سے کہو: تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔ دوقومی نظریہ اور قائدِ اعظمؒ سچے ہو گئے ۔شیرِ کشمیر شیخ عبد اللہ کی اولاد سمیت اچانک بہت سے لوگوں کو احساس ہوا کہ قیامِ پاکستان پر امت کا اجماع بالکل درست تھا
مزید پڑھیے



چراغ بجھ گیا ہے!

جمعرات 27 فروری 2020ء
ہارون الرشید
چراغ بجھ گیا ہے ، بولتا ہواچمن خاموش ہو گیا۔ سیاست میں نجابت و شرافت کا آخری پیکر مٹی اوڑھ کر سو چکا ہاں مگر ایسے لوگ مرتے نہیں بلکہ امر ہو جاتے ہیں ۔ بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور دور تک پھیلے گیہوں کے سبز کھیتوں کے درمیان پھولتی سرسوں کا نظارہ مبہوت کرتا ہے لیکن نعمت اللہ خاں کی وفات ۔ ایک غم ہے جو جی میں بیٹھ گیا ہے ۔ یہاں سے وہاں تک درد کی چادر تنی ہے ۔سرما کے سیاہ بادل کی طرح ، جو ٹلنے کا نام نہ لے ۔
مزید پڑھیے


خود اپنے جال میں

بدھ 26 فروری 2020ء
ہارون الرشید
ہم اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔ غیب تو بس اللہ ہی جانتا ہے۔ مکّرر عرض ہے کہ بھارت کو دلدل میں دھنسا کر قدرتِ کاملہ نے ایک سنہری تاریخی موقع ہمیں عطا کیا ہے۔ ہمیں اپنا گھر سنبھالنا چاہئیے ۔ دشمن خود اپنے جال میں پھنستا چلا جا رہا ہے ۔ کیسا چونکا دینے والا واقعہ ہے۔ توجیہہ یہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت آپڑی ہے ۔ افغانستان سے انخلا کے لیے صدر ٹرمپ بے چین ہیں ۔انہیں الیکشن جیتنا ہے، معیشت کو فروغ دینا ہے۔ افغانستان میں 80، 90بلین ڈالر سالانہ کی بچت ممکن ہے۔ طالبان سے
مزید پڑھیے


چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر

منگل 25 فروری 2020ء
ہارون الرشید
اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے : کسی قوم کوہم اس وقت پکڑتے ہیں جب اپنی معیشت پہ اسے ناز ہو جاتا ہے ۔اور میر ؔ صاحب نے یہ کہا تھا چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ مدتوں بعدپہلی بار بھارت امریکی گٹھ جوڑ کے ہنگام پاکستانی قیادت گھبراہٹ کا شکار نہیں ۔ بھارت اور امریکہ تزویراتی (strategic)حلیف ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں مقیم بھارتی ہندوئوں کے ووٹ چاہتے ہیں ۔ وہ کہہ چکے ، میں ہندو سے محبت کرتا ہوں ۔پاکستان اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے رہے ۔صرف
مزید پڑھیے


جستجو

بدھ 19 فروری 2020ء
ہارون الرشید
مگر اللہ کا فرمان تو یہ ہے: انسانوں کے لیے، اس کے سوا کچھ بھی نہیں، جس کی انہوں نے جستجو کی۔ اب جو امام یاد آئے تو یاد آتے چلے گئے، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ۔ آپ کا ایک قول یاد آیا اور جی میں ٹھہر گیا۔فرمایا: قرآن کریم کی یہ آیت ظالموں کے لیے ایک تیر اور مظلوموں کے لیے سائبان ہے۔ ’’تیرا رب بھولنے والا نہیں‘‘ پھر ان کا ایک واقعہ برادرم محمد الغزالی نے سنایا: کمسن صاحبزادی سے ان کے بہت ہی محترم شاگرد اپنے گرامی قدر استاد کا ذکر کیا کرتے۔ الفت، انس اور احسان مندی
مزید پڑھیے


ابوبکرؓ ایک ہی تھے

منگل 18 فروری 2020ء
ہارون الرشید
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے ،صحرا کے آسمان پہ نگاہ کی اور پوچھا : یا رسول اللہؐ ایسا بھی کوئی ہوگا ، جس کی نیکیاں ان ستاروں کے برابر ہوں ۔ فرمایا: ہاں ، ابوبکرؓ !وہ سب معتبر اور معزز تھے۔شاعر نے کہا تھا ع کوئی پھول بن گیا ہے ، کوئی چاند ، کوئی تارہ ابوبکرؓ کی بات ہی دوسری تھی ۔ ابد الآباد تک ان پہ رشک کیا جائے گا۔پیغمبر ان عظام کے سوا‘ ان کے سرخیل ‘اللہ کی آخری کتاب میں جن کے باب میں لکھا ہے : اللہ ان سے راضی
مزید پڑھیے