BN

ہارون الرشید


جہالت


اور سب سے اہم وہی کہ سب سے بڑی بیماری جہالت ہے‘ جہالت۔ کیسی کیسی آزمائش میں زندگی ڈالتی ہے۔ بقولِ اقبالؔ‘ بجلیاں، زلزلے، قحط اور آلام۔ سیلابوں اور طوفانوں سے بھی بڑا امتحان شاید یہ ہے کہ اپنے جہل اور بے خبری کے سبب کوئی قوم رسوائی، او ر اس کے نتیجے میں مایوسی کا شکار ہونے لگے۔ کوئی ابتلا بے سبب نہیں اترتی اورادنیٰ انسانوں سے لے کر پیغمبرانِ عظام تک کے لیے اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔ ہر آزمائش مختلف ہوتی ہے۔ رحمتہ اللعالمینؐ پر طائف کے بازاروں میں پتھر برسائے گئے۔ وہ بھی آوارہ بازاری
پیر 17 فروری 2020ء

آزادی انسانوں کی متاع ہے حیوانوں کی نہیں

جمعرات 13 فروری 2020ء
ہارون الرشید
آدمی کو انا کے ساتھ پیدا کیا گیا ۔ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے ۔ اپنی ذات اور اس کے اثبات کا جذبہ ۔ ابنِ آدم کو مگر عقل بھی بخشی گئی ۔ دانش بھی عطا کی گئی ۔ دانش کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ اپنے سوا دوسروں کے وجود کو بھی تسلیم کیا جائے ۔۔۔اور صمیمِ قلب سے تسلیم کیا جائے ۔ زمین ایک مقتل ہے ، انسانی خوابوں اور آرزوئوں کا مقتل۔ اقبالؔ نے شکوہ کیا تھا: کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟ ایک قدسی حدیث کا مفہوم یہ ہے : آدمی اپنی
مزید پڑھیے


خاکوانیوں نے لوٹ لیا

بدھ 12 فروری 2020ء
ہارون الرشید
لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت کا مظہر ہوتاہے ۔ جی جان سے ، خلوصِ قلب سے کی جانے والی عنایت ۔ شرط یہ کہ وہ دل صداقت کا مسکن ہو ، تلاشِ حق کا آرزومند! تیرہ برس ہوتے ہیں ،جھجکتے ہوئے عامر خاکوانی شاہ جی کے کمرے میں داخل ہوئے، عباس اطہر مرحوم ۔ شاہ جی نے ان سے کچھ استفسار کیا۔ سادہ سا ،لجاتا ساجواب۔ ایک آدھ سوال میں نے بھی کیا، وہی ادھورا سا جملہ۔ شاہ جی سے پوچھا تو سر اٹھائے بغیر بولے ’’مزاج ہی ایسا ہے ‘‘ پانچ سال بعد لاہور سے ایک بڑے اخبار کا اجرا
مزید پڑھیے


اقتداراور یوٹرن

منگل 11 فروری 2020ء
ہارون الرشید
اقتدار ، اس کے حصول اور اسے باقی رکھنے کی خواہش بے کراں ہوتی ہے ، آدمی جس کی گرفت میں بے بس و لاچار ہو جاتا ہے ۔ یہ بخاری شریف کی روایت ہے ، بخاری شریف کی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے حضرت ابو سفیانؓ نے یہ واقعہ بیان کیا کہ شاہِ روم ہراقل نے ، ان کے پاس قریش کے قافلے میں سے ایک آدمی بلانے کو بھیجا ۔ اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے شام میں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہؐ نے قریش اور ابوسفیانؓ سے ایک وقتی عہد
مزید پڑھیے


آتا ہے بہت یاد جمالؔ احسانی

پیر 10 فروری 2020ء
ہارون الرشید
پروردگار کی کائنات بے کنار تنوع میں کار فرما ہے۔ ہزار رنگ ہیں اور سب رنگوں کا اپنا جمال۔قوس قزح، بادلوں، پھولوں، آبشاروں، جھرنوں، ندیوں اور ساحلوں کی طرح، شاعری بھی مالک کی عظیم ترین عنایات میں سے ایک ہے۔ شاعری اگر نہ ہوتی تو فصاحت بھی نہ ہوتی اور فصاحت کے بغیر زندگی کتنی بے رنگ، کتنی سطحی اور کٹھور سی۔ عرض کیا تھا کہ ماضی کبھی تحلیل نہیں ہوتا بلکہ ماضی ہوتا ہی نہیں وہ حال میں گھل جاتا ہے اور مستقبل کے نقوش اجاگر کرتا ہے۔ چالیس برس کے بعد جمال احسانی سے ملاقات ہوئی، تو پوری
مزید پڑھیے



اصول یہ ہے

جمعه 07 فروری 2020ء
ہارون الرشید
اصول یہ ہے کہ آدمی کو آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا اور یہ بھی کہ غلطی سے نہیں‘ غلطی پر اصرار کرنے سے تباہی آتی ہے۔ چودھری سرور سے ایک بار پھر معذرت۔ چودھری محمد سرور سے پہلے پہلی ملاقات کب ہوئی‘ کچھ یاد نہیں۔ یہ بھی نہیں یاد کہ یہ راولپنڈی شہر تھا یا اسلام آباد۔بھاگتا ہوا میں گیا۔تجسس یہ تھا کہ بظاہر ایک عام سا پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کا ممبر کیسے ہو گیا۔ چودھری صاحب اس دن فارم میں تھے۔ کسی نے کہا کہ قاضی حسین احمد ایسے جیّد آدمی پجیرو پہ کیوں اڑے پھرتے
مزید پڑھیے


کیوں نہیں؟

جمعرات 06 فروری 2020ء
ہارون الرشید
ترجیحات حکمران کو طے کرنا ہوتی ہیں ، مردانِ کار کا انتخاب بھی ۔ آدمی کی بجائے اگر وہ دیوتا بن جائے اور خود سے فرصت ہی نہ پا سکے ؟ محترمہ ثانیہ نشتر ویسی ہی لگیں ، جیسا کہ گمان تھا۔ تین الفاظ میرے ذہن میں ابھرے ۔simple، straight،اور sincere سادہ ، سیدھی اور مخلص ۔ اوّل ایک محترمہ تشریف لائیں۔ ڈھنگ سے اوڑھا ہوا دوپٹہ۔ بولیں : میں ثانیہ نشتر صاحبہ کی سیکرٹری ہوں ۔ میز کی طرف بڑھا تو انہوں نے دوسری طرف رکھے ہوئے صوفوں کی طرف اشارہ کیا ۔ تب معاً احساس ہوا کہ یہ
مزید پڑھیے


ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر؟

بدھ 05 فروری 2020ء
ہارون الرشید
وحشی کو صرف طاقت جھکاتی اور سپر انداز ہونے پر مجبور کر تی ہے۔ راجیو گاندھی کے سامنے سروقد کھڑے ضیاء الحق کے صرف ایک جملے نے جنگ ٹال دی تھی ۔ تصاویر تو سب آویزاں ہیں ۔پیلٹ گنوں سے چھلنی معصوم چہروں ، مقتل میں کھڑے کشمیر کے عالی ہمت رہنمائوں کے علاوہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے والے پاکستانی لیڈروں کی ۔ ایک سے دوسری شاہراہ تک ، یہ ایک دردناک منظر ہے ، بیک وقت جو اذیت ناک بے بسی اور ایثار کے جذبات اگاتا ہے ۔ امورِ کشمیر کے ممتاز ماہر ارشاد
مزید پڑھیے


جذبات اور جنون

منگل 04 فروری 2020ء
ہارون الرشید
یہ مکافاتِ عمل کی دنیا ہے ۔ ہر بونے والے کو اپنی فصل کاٹنا ہوتی ہے مگر جذبات اور جنون کے ماروں کو یہ بات کون سمجھائے ۔ تازہ افواہ یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے میڈیا ایڈوائزر افتخار درانی کو سبکدوش کر دیا گیا ہے ۔ خود درّانی صاحب تبصرہ کرنے سے گریزاں ہیں ۔ چند ماہ قبل انہیں پشاور بھیج دیا گیا تھا ۔ صوبے میں ضم ہونے والی قبائلی پٹی میں انہیں کچھ ذمہ داریاں سونپی گئیں ۔ فردوس عاشق اعوان ان سے ناراض ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے زمانے میں ، جب وہ
مزید پڑھیے


رک جائو‘ اب تو رک جائو

جمعه 31 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
انگریزی میں کہتے ہیںSomeone should cry halt۔ کسی نہ کسی کو چیخ کر کہنا چاہیے:رک جائو‘ خدا کے لئے اب تو رک جائو۔ ’’سندھ کے آئی جی کلیم امام کے بارے میں تم نے کچھ نہ لکھا‘‘ ایک بہت عزیز دوست نے شکایت کی۔ کلیم امام کے بارے میں لکھنے سے کیا حاصل۔ بہت سے ممتاز اخبار نویسوں نے زور لگایا تو کیا ہوا؟ جہاں تک اس ناچیز کا ادراک ہے‘ اٹھارہویں ترمیم کے بعد آئی جی کا تقرر‘ اصلاً صوبائی حکومت کا حق ہے۔ وفاق مشورہ دے سکتا ہے مگر مشورہ ہی۔ زیادہ سے یہ کہ اس کی رضا مندی حاصل
مزید پڑھیے