BN

ناصرخان


پاکستان کی سلامتی کا نیا تصور!


ایک انٹرویو کنڈکٹ کیاگیا۔ اس میں فوج کے ریٹائرڈ جنرلز بھی شامل تھے، دانشور بھی، میڈیا پنڈت بھی اور سوچنے والے سیاستدان بھی۔ کچھ دانش ور ٹائپ بیوروکریٹ بھی شامل تھے۔ پوچھا گیا ملکی سلامتی کا جدید تصور کیا ہے؟ حیرت انگیز طور پر صرف پانچ فیصد درست کے قریب جواب دے سکے۔ تو ضرورت ہے سلامتی کے بدلتے ہوئے تصورات پر آگاہی کی۔ مگر یہ کون کرے گا؟ جس کو پوچھو وہ کہتا ہے ’’اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجات … اس بنا پر فکر عالم کہ کیا کریں؟ … ان ہی صفحات پر بات ہوتی رہتی ہے
جمعرات 03  ستمبر 2020ء

کیا علم تمہیں سایہ اوڑھنے والو!

اتوار 30  اگست 2020ء
ناصرخان
مسلم امہ کی تعداد کتنی ہے؟ یہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہے؟ اس پر دانشور جو بھی کہے کچھ اہل نذر کا کچھ اور خیال بھی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہو رہا ہے’’اے محمدؐ اپنی امت سے کہہ دو کہ میں تم کو ظلمت کفر سے نکال کر نور اور سلام سے مشرف کیا۔ میں اس کا اجر نہیں چاہتا مگر اہل بیت کی دوستی۔ اور وہی آقائے دو جہاں جن کی وجہ سے ہم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ وہ جو اللہ کا پیغام ہم تک لائے۔ وہ ہی فرما رہے ہیں‘‘ حسین منی و انا من
مزید پڑھیے


ڈاکٹر ارسلان سے افتخار چودھری تک

هفته 15  اگست 2020ء
ناصرخان
ان سے ملئے…یہ شیخ زید ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں اور لاہور میں اکیلے ہی رہتے ہیں۔ سی ایس ایس کرنا چاہتے ہیں۔ آپ انہیں کرنٹ افیئرز اور پاک اسٹڈیز پر گائیڈ کر دیں۔حسن نثار صاحب بولتے جا رہے تھے اور میں حیرت سے اس خوبصورت نوجوان کو دیکھ رہا تھا۔ کھلتا ہوا رنگ‘ فربہی کی طرف مائل جسم۔ چہرے پر ایک مؤدب سا تاثر‘ سلور فریم کی خوبصورت عینک اور ذرا لاپرواہ مگر قیمتی کپڑے۔مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ ان دنوں میں نے نیا نیا ایک روزنامہ بھی جائن کیا تھا ۔ میری ایم فل کی کلاس بھی تھی
مزید پڑھیے


روک سکو تو روک لو!

جمعرات 13  اگست 2020ء
ناصرخان
مریم نواز بے نظیر تو نہیں بن سکتیں مگر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ اس سارے شو کے پس منظر میں جو میوزک اوورلیپ کر رہا تھا اس کے بول تھے ’’روک سکو تو روک لو‘‘۔ شیکسپیئر کا ایک مکالمہ بہت خوبصورت ہے"There is a method in madness." پاگل پن میں بھی ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ یہ جو مریم نواز عرف مسلم لیگ (ن) کا شو تھا یہ نہ تو پرویز رشید کی اینٹی اسٹیبشلمنٹ تربیت کا اعجاز تھا اور نہ ہی کوئی مارکس، مائو اور لینن کے نظریات کا اثر تھا۔ ایک خالصتاً سرمایہ دار سیاستدان
مزید پڑھیے


خود کشی پر آمادہ بھارت!

اتوار 09  اگست 2020ء
ناصرخان
طے تو یہ تھا آج لکھا جائے گا چاہ بہار پر، چین، ایران اور بھارت پر اور اس کے خطے پر اثرات پر۔ مگر بھارت کا جنگی جنون اس قدر احمقانہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ کوئی حکومت اس طرح بھی خطے کو اور اپنے عوام کو جنگ اور بھوک کی طرف دھکیل سکتی ہے؟ 2017ء کی بات ہے ، اس وقت بھارت کا چیف آف آرمی سٹاف جنرل بپن راوت تھا۔ اس وقت وہ چیف آف ڈیفنس سٹاف ہے۔ تین سال قبل بھی بھارت کا چین کے ساتھ تنائو چل رہا تھا۔ جنرل صاحب میڈیا سے بات
مزید پڑھیے



ہم نے کیا کھویا؟ ہم نے کیا پایا؟

بدھ 05  اگست 2020ء
ناصرخان
قائداعظم سے عمران خان تک … ایک پوری تاریخ ہے کشمیر کی۔ درمیان میں 1971ء اور ڈھاکہ بھی آتے ہیں۔ اگر دو رقیب ملکوں کے درمیان سکور کارڈ تیار کیا جائے تو جمع تفریق میں کیا جواب آئے گاـ؟ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیونکر بن گیا؟ جب پاکستان بنا تو ہم پر کتنا قرضہ تھا۔ آج ہمارا ہر نومولود پیدا ہونے سے پہلے ہی مقروض ہوتا ہے۔ ہم کشمیر کا قرض کیا چکاتے، ہم تو اپنا قبضہ بھی قائم نہ رکھ سکے اور بنگالی بھائی ناراض ہوکر الگ ہوگئے۔ کیوں؟ کیسے؟ ہمیں رک کر دوبارہ میزانیہ بنانا ہوگا۔ ہم نے
مزید پڑھیے


علموں بس کریں او یار!

اتوار 26 جولائی 2020ء
ناصرخان
اس کا نام تو کچھ اور ہے مگر ہم اسے موسیٰ کہتے ہیں۔ جب ہم یونیورسٹی میں کلاس فیلو تھے تو تب بھی وہ کچھ عجیب سا ہی تھا۔ لیکچر کے دوران کاغذ پر آڑھی ترچھی لکیریں بناتا رہتا اور اگر کبھی استاد پوچھتا کہ موسیٰ میں نے کیا کہا ہے تو وہ لفظ بہ لفظ دہرا دیتا۔ اس کے والدین مسقط میں تھے اور وہ پاکستان میں اکیلا رہتا تھا۔ میں جب بھی اس کے گھر جاتا… اس کی سٹڈی میں دشت شناسی، نجوم، عملیات، وظائف اور قرآن مجید کے نسخے اس کی میز پر رکھے ہوتے۔ کلپ بورڈ
مزید پڑھیے


ہائبرڈ وار کے عہد میں

هفته 25 جولائی 2020ء
ناصرخان
دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو ایٹمی قوتوں کے مابین جنگ سے پرہیز کا چارٹر طے ہوا۔ جنگ مگر ہوتی رہی جسے جان فاسٹر ڈلس اور ہنری کسنجر نے کولڈ وار کا نام دے دیا۔ پیار تو ہونا ہی تھا۔ تو یہ کولڈ وار پراکسی وارز میں بدل گئی۔ پھر روس بکھر گیا۔ کسی نے کہا اب Clash of civilization ہوگا اور کوئی پکارا کہ یہ End of history ۔ مگر بات چلتے چلتے جا پہنچی Hybrid Warfare تک۔اب جنگ کا انداز اور عہد سبھی بدل چکے ہیں۔ اب لڑائی فوجوں سے، ٹینکوں سے، میزائلوں سے اور سرحدوں پر ہی
مزید پڑھیے


کیا ہمیں ضرورت ہے ایک نئے روڈ میپ کی؟

اتوار 19 جولائی 2020ء
ناصرخان
آئن سٹائن کا کہنا تھا کہ Words are things ’’لفظ اشیا کی طرح ہوتے ہیں‘‘۔ ان کی اچھی ترتیب ابلاغ کا سبب بن جاتی ہے۔ ورنہ مفہوم اور ابلاغ دُھندلا جاتے ہیں۔ بات مشکل ہے … ہوسکتا ہے ابلاغ ہوجائے۔ ہمارے ہاں جمہوریت، سیاست، سول انتظامیہ اور لیڈرشپ پر مسلسل سوالیہ نشان مارک ہورہے ہیں۔ ماضی کے اسباق … حال کے تجربات۔ مرکزی سطح پر دو ادارے آج کل بڑا موثر پرفارم کررہے ہیں۔ NCOC نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر اور NLCC نیشنل لوکسٹ سنٹر۔ ہمارے وزیراعظم 4 جولائی کے دن NCOC میں گئے اور 10 جولائی کے دن NLCC
مزید پڑھیے


بلا عنوان!

جمعرات 16 جولائی 2020ء
ناصرخان
کچھ یادیں، کچھ باتیں اور بہت سی شخصیات آپ کے شعور کی سڑک کب پھلانگ کر لاشعور میں براجمان ہوجاتی ہیں … پتہ ہی نہیں چلتا۔ وقت کی تقسیم میں حال او رماضی یوں گڈمڈ سے ہوجاتے ہیں کہ احمد ندیم قاسمی کے مطابق ’شام کی بات بھی لگتی ہے بہت دور کی بات‘۔ غالباً 2005ء کی بات ہے میں جس روزنامے کے لیے کالم لکھا کرتا تھا اس کی خوش قسمتی تھی اور ہماری بھی کہ اس کے اداراتی صفحے کے ایڈیٹر جناب اطہر ندیم صاحب تھے۔ صحافت کے باوقار ناموں میں سے ایک نام۔ ایسے میں برادرم اشرف
مزید پڑھیے