BN

ناصرخان



رومانٹک کامریڈ!


1987ء کی بات ہے مال روڈ پر ایک صحافی کی دکان تھی۔ وہ پبلشر بھی تھا اور کتابیں امپورٹ بھی کرتا تھا۔ اس زمانے میں وہ اپنی دکان اور پبلشنگ ہائوس کو بہت وقت دیا کرتے تھے۔ پاکستان کے سیاسی نظام پر انگریزی میں کسی اچھی کتاب کی تلاش میں تھا۔ جب بک شیلف دیکھ کر تسلی نہ ہوئی تو مَیں موصوف کے دفتر کے اندر چلا گیا۔ ان سے پوچھنے ، ان سے کچھ مشورہ کرنے۔ اس صحافی نے کافی کی دعوت دی اور انگریزی زبان کے بڑے بڑے رائٹرز اور ان کی تحریروں پر بات ہونے لگی۔ انہوں
جمعه 16  اگست 2019ء

عروج و زوال!

اتوار 11  اگست 2019ء
ناصرخان
عروج کیا ہوتا ہے؟ کامیابی کسے کہتے ہیں؟ خوشیوں میں خوش ہونا … اور غموں میں غم زدگی بڑی نارمل سی بات ہے۔ہر فرد کا خوشیوں اور غموں کو ہینڈل کرنے کا انداز ایک سا نہیں ہوتا۔ خوشی، غم، ناکامی، کامیابی، فتح، شکست، عروج و زوال اِن سب کے ساتھ ہمارے رویے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایک انسان کا رویہ … پوری قوم کا رویہ۔ یہی فرد اور انسان کی تقدیر کا دیباچہ ہوتا ہے اورابتدائیہ بھی۔ فرد کا بھی اور قوم کا بھی۔ ترانوں کی حد تک شاید ہم زندہ قوم ہیں … ہوسکتا ہے پائندہ بھی ہوں مگر ذرا
مزید پڑھیے


سسکتی… مسکراتی زندگی!

پیر 05  اگست 2019ء
ناصرخان
جی! یہ کسی افسانے یا ڈرامے کا موضوع نہیں، آپ بیتی کا نام ہے۔ ڈاکٹر مغیث الدین صاحب نے اپنی زندگی کی چالیس سے زیادہ بہاریں صحافت اور ابلاغ عامہ کو دے دیں۔ وہ صحافی بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں شاید ہی کوئی ایسا میڈیا ہائوس ہوگا جہاں ان کے شاگرد اور دوست نہ ہوں۔ امریکہ سے ڈاکٹریٹ کرنے والے مغیث صاحب کے بہت سے کریڈٹس ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے پاکستان میں ماس کمیونیکیشن کو اکیڈیمک جدت بخشی۔ اس میں نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ ان کی یہ انفرادیت بھی
مزید پڑھیے


فلمی الف لیلیٰ!

اتوار 28 جولائی 2019ء
ناصرخان
علی سفیان آفاقی صاحب سے میری پہلی ملاقات سید نور کی ایک فلم کے پریمیئر پر ہوئی۔ اس فلم کا نام تھا ’’گھونگھٹ‘‘۔ فلم کا پریمیر شو تھا الفلاح سینما میں۔ شاید اس شوکو مِس کرجاتا مگر ایک سرکس فیم میاں فرزند صاحب جو کہ مشہور فلم ساز بھی تھے، ان کے نوجوان بیٹے راشد فرزند کا اصرار ردّ نہ کرسکا۔ ہمیں جو نشست ملی وہ آفاقی صاحب کے ساتھ ہی تھی۔ راشد نے میرے چہرے پر اس ہیجان کو نوٹ کرلیا جو آفاقی صاحب کو دیکھ کر پیدا ہوا تھا۔ پھر فلم چلتی رہی اور ہم آفاقی صاحب کے
مزید پڑھیے


لیڈر شپ!

جمعه 26 جولائی 2019ء
ناصرخان
لارڈ پامر سٹون کا عالمی تعلقات پر اپنی کتاب میں حاصل کلام جملہ ہے ’’عالمی تعلقات میں نہ تو مستقل دوست ہوتے ہیں اور نہ ہی مستقل دشمن… بس مستقل مفادات ہوتے ہیں‘‘۔ مگر عمران خان کے دورئہ امریکہ میں عمران کی پرفارمنس کو انڈر مائنڈ کرنا انصاف کے ترازو کے خلاف ہوگا۔ عمران اور ٹرمپ کی ملاقات دیکھ کر بار بار برطانیہ کے عظیم رہنما ونسٹن چرچل کا جملہ یاد آتا ہے۔ وہ اپنی کتاب GREAT CONTEMPORARIES میں کہتا ہے ’’کسی بھی لیڈر کی عظمت کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملنے والوں
مزید پڑھیے




مریم اور بلاول کے ادھورے سچ!

جمعه 19 جولائی 2019ء
ناصرخان
بات ہورہی تھی مریم اور بلاول کے اس شور کی جو وہ عمران خان کے خلاف برپا کررہے ہیں۔ جھوٹ کا طومار اور پھر اس کی بھرمار۔ اس آگ کو ہوا دے رہا ہے، ریٹنگ کا متلاشی میڈیا۔ کبھی ریکوڈک، پھر برطانیہ کا ’’دی میل‘‘ اور پھر شہباز شریف کے منجمد اثاثے۔ ویسے ویڈیو سکینڈل سب سے زیادہ ریٹنگ لے رہا ہے۔ اعلیٰ عدالت اگرچہ نوٹس لے چکی ہے مگر انگریزی محاورے کے مطابق اس الماری میں بہت سے ڈھانچے ابھی باقی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اشرافیہ ان ڈھانچوں کا برآمد ہونا Afford کر پائے گی؟
مزید پڑھیے


مریم اور بلاول کے ادھورے سچ !

اتوار 14 جولائی 2019ء
ناصرخان
چوری اور سینہ زوری کامحاورہ شاید ایسی ہی صورتحال کے لیے بنا تھا ۔ جعلی بے نظیر مسلم لیگ ن کو وراثت میں لے اڑی اور چچا اور بیچارے کو اُسکا ساتھ دینا پڑ رہا ہے ۔ جج ارشد ملک پر دبائو تھا ۔۔ اوکے ۔۔ اسے ٹپ کیا جا رہا تھا ۔۔ جی درست۔ مگر دو غلط آپس میں ضرب کھائیںتو جواب درست کیسے آسکتا ہے ۔ میاں نواز شریف ۔۔۔ ان کے برادر خورد اور آل شریف بمعہ مریم ، حسین، حسن پلس حمزہ اور سلمان نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ کیا اس کے بعد
مزید پڑھیے


سفیرانِ حرم (آخری قسط)

جمعه 12 جولائی 2019ء
ناصرخان
امام احمد بن حنبلؒ بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا کا نام حنبل بن بلال تھا۔ اس لیے لفظ حنبل آپ کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔ آپ نسلی اعتبار سے عرب تھے۔ آپ کے دادا اور چچا نے عباسیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ حکام کو تازہ ترین حالات سے باخبر رکھیں۔ ایک بار حاکم نے آپ کے چچا سے پوچھا ’’تم نے آج کی خبریں کیوں نہیں بھیجیں؟ میں اپنے بھتیجے احمد کے ہاتھ ساری خبریں آپ کو بھیج چکا ہوں۔ چچا حیران تھا کہ خبریں حاکم وقت کے ہاتھ
مزید پڑھیے


سفیرانِ حرم (1)

اتوار 07 جولائی 2019ء
ناصرخان
بنو عباس کے خلیفہ منصور اور اس کی بیوی حرہ خاتون کے مابین دوران گفتگو تلخی پیدا ہوگئی۔ اسے شکایت تھی کہ خلیفہ انصاف نہیں کرتا۔ منصور نے ا س بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی کو منصف مقرر کرنے کی تجویز پیش کی۔ حرہ خاتون نے امام ابوحنیفہؒ کا نام تجویز کیا۔ منصور نے اس وقت آپ کو دربار میں طلب کرلیا۔ حرہ خاتون پردے میں ہمہ تن گوش ہوگئیں۔ منصور نے پوچھا … شرع کے اعتبار سے ایک مرد کتنے نکاح کرسکتا ہے؟ چار … امام نے جواب دیا … مگر تھوڑے توقف کے بعد بولے …
مزید پڑھیے


تبدیلی؟

جمعه 05 جولائی 2019ء
ناصرخان
یہ وہی تحریک انصاف ہے جس نے حکومت میں آنے کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے تھے۔ دل ربا ہم نے تیرے پیار میں کیا … کیا نہ کیا؟ … پی ٹی آئی نے دل تو نہیں دیا مگر البتہ اس چکر میں بے تحاشہ درد ضرور لے لیے ۔ کیا عمران خان نہیں جانتے کہ ان سے پہلے جو جو حکومت میں رہا … اس نے جو جو کچھ کیا … وقت کی سان پر وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا؟ جب مشرف نے 1999ء میں شریف حکومت ختم کی تو سینٹر سیف الرحمن المعروف
مزید پڑھیے