BN

جسٹس نذیر غازی


تم کیسی کرامات کرو ہو (2)


گزشتہ معروضات میں قرآنیات کی تعلیم کی تجویز نہیں بلکہ باقاعدہ سرکاری حکم پر تبصرہ تحریر تھا۔ جس کا اہم پیغام یہ تھا کہ جامعات کی سطح پر قرآنی تعلیم کے لئے یکسر اور بیک جنبش قلم کوئی حکم ہرگز مفید اور ثمر آور نہیں ہو سکتا‘جب تک ابتدائی تعلیم سے لے کر قبل از جامعات کی تعلیم کا مکمل تفصیلی و تنقیدی جائزہ ماہرانہ جائزہ نہ لیا جائے تب تک قرآنی تعلیم کا مقصد کبھی بھی پورا نہیں ہو گا۔ جناب گورنر نے جس موقع پر یہ حکم جاری فرمایا ہے۔ بادی النظر میں ملک میں جس وبائے ناگہانی نے
هفته 04 جولائی 2020ء

تم کیسی کرامات کروہو!

منگل 30 جون 2020ء
جسٹس نذیر غازی
کاروبار بند نہیں ہوتا۔ کاروبار کائنات بہت خاموشی سے اپنے اتار چڑھائو سمیت مائل بہ سفر رہتا ہے۔ نبض کائنات ہر وقت سریع الحرکت نظام کی دسترس میں ہے۔ اظہار ہوتا ہے تو زاویے ذرا مختلف نظر آتے ہیں۔ اگر بصیرت کی روشنی ذرا مدھم ہو تو بہت بڑا فرق واقع ہوتا ہے۔ ضعیف البصیرت بے چارے ٹامک ٹوئیوں کا نام تجزیہ رکھتے ہیں۔ بے مقدور رصدگاہوں سے ساتویں آسمان کی خبر ٹٹولنے کی غیر مفید مشق آزمائی ان کا وسیلۂ نان مرغن ہے۔ الفاظ کے تیر قلم کے کمان سے اڑانا سب بے وقعت وقار قرار پایا ہے۔ اس لیے
مزید پڑھیے


آپ اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

جمعه 19 جون 2020ء
جسٹس نذیر غازی
مذاہب کی جنگ ہو یا تہذیبوں کا تصادم‘ایک دم سے اچانک نہیں ہوتا پس منظر میں ایک طویل سرد جنگ کا خاموش ماحول ہوتا ہے‘ اس ماحول کو قوت فراہم کرتے ہیں مذاہب کے شرپسند مفسدین کے وہ نمائندے جن کے اعصاب و قویٰ پر ابلیسی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ علم معاشرت کی تاریخ میں جتنے بھی مفکرین نظر آتے ہیں ان کے ظن و تخمین کی پیداوار وہ عمرانی افکار ہیں جن کو سست فکر اور جدال پسند طبائع بہت جلد قبول کرلیتی ہیں۔ انسانی فلاح اور باہمی انسانی رواداری کے لئے جن عمرانی افکار کی ضرورت ہے وہ محض
مزید پڑھیے


احترامِ سلف بھی دہشت کی زد میں آ گیا

منگل 09 جون 2020ء
جسٹس نذیر غازی
سادہ سا ایک غریب آدمی ہسپتال میں کھڑا اپنے پرانے سے رومال سے کبھی آنسو پونچھتا تھا اور کبھی بہتے ہوئے نزلے کو روکتا تھا اور آہستہ آہستہ بڑ بڑاتا ہوا سسکیاں بھی لے رہا تھا۔ اس پریشان حال کو ذرا قریب ہو کر دیکھا تو بہت ہی نحیف اور بے کس نظر آیا۔ پوچھا کہ بھائی میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا ہوں تو اس نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا اور جواب دیا کہ بائوجی بس معاف کرو۔یہاں کوئی کسی کا نہیں ہے۔ پندرہ دن ہو گئے اس ہسپتال میں میری بیوی داخل ہے کوئی علاج نہیں ہو رہا۔
مزید پڑھیے


اک سہارا تھا درد والوں کا

جمعه 29 مئی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
قوموں کا امتحان ہوتا ہے‘زندہ قومیں زندہ دلی سے اور خوش جبینی سے ان حالات کو تسلیم کرتی ہیں۔ بے نیاز خالق کی جانب سے حالات کا جبر اترتا ہے‘ فطرت کی تبدیلیوں کا اہتمام مقصود ہے۔ اشیا کو ان کے مقام پر صحیح رکھنے کا خدائی نظم ہے۔ خدائی نظم میں مکمل تدبیر کارفرما ہوا کرتی ہے۔ اس تدبیر کی ظاہری تکمیل اور تعبیر فرشتگان ذی تدبیر کے ذریعے سے عمل میں آتی ہے۔ کتاب آخر میں ان کارکنان تقدیر کو مدبرات اِمر کا انتظامی منصب عطا کیا گیا ہے۔ فرشتے نوری مخلوق ہیں وہ مدبرانہ امور میں مصروف
مزید پڑھیے



شاہیں بچوں کے بال و پر نوچے گئے

منگل 12 مئی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
تقدیر اور تدبیر کا راستہ کیا ہے؟بے بہرہ اور کوتاہ دانش لوگ اصرار کر رہے ہیں کہ ان پر ساتوں آسمانوں کی کائنات کا نقشہ ہتھیلی پر عیاں ہے۔ دعوے میں خود اعتمادی سے بھی بڑھ کر خودسری کا عنصر ایسے جھلکتا نظر آتا ہے گویا اب سب پرانے مرضوں کا علاج پلک جھپکنے میں میسر آ جائے گا۔ روز قلم یار عقل کی قلمرو میں خیالات کے اشہب منہ زور پر سوار اس فاتحانہ انداز سے بیان جاری کرتے ہیں حل مشکلات کا مژدہ محسوس ہوتا ہے۔ مسئلہ کیا ہے؟ یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے ان کا مسئلہ یہ
مزید پڑھیے


جوانوں کو مری آہِ سحر دے

اتوار 03 مئی 2020ء
جسٹس نذیر غازی
کچھ اختصار اور اجمال ہے اہل دانش کی باتوں میں اور بہت سے ایسے احباب ہیں جو تفصیل سے وضاحت سے اور شفاف طریق پر اپنی بات کہنا چاہتے ہیں۔ اختصار پسند نئے موضوعات کی تلاش میں اپنا رزق تلاشتے ہیں اور بات کہنے سے غرض رکھتے ہیں۔ انہیں کیا کہنا چاہیے یا انہیں کیا تجویز کرنا چاہیے۔ اسے وہ اپنی ذمہ داری میں شمار نہیں کرتے۔ لوگ ان کی باتوں کو سنتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے کچھ پڑھتے ہیں۔کبھی بہت غور کرتے ہیں اور کبھی بعجلت اعراض کرتے ہوئے کسی اور طرف دھیان پھیر کر سکون میں آ
مزید پڑھیے


کلمہ ہی اب بچائے گا

منگل 21 اپریل 2020ء
جسٹس نذیر غازی
روزمرہ کا رونا دھونا اور آئے دن بے یقینی کا فسانہ ہے۔ غریب عوام اور اتنے غریب کہ غربت خود ان سے شرمندہ ہوتی ہے۔ بھوک ہے۔ افلاس کا سورج ڈھلتا نظر نہیں آتا۔ بیماری ہے ‘ وبا ہے۔ مخلص اور ہمدرد بھی موجود نہیں۔ہر وقت اور ہر موقع غریب کی درگت بنانے کے لئے بگڑے دل سرمایہ دار ٹھگوں اور جاگیردار قزاقوں کے لئے رنگ بہاراں ہوتا ہے۔ وقت کی سرعت رفتاری کورونا کو اپنے ساتھ ساتھ گھسیٹ رہی ہے۔ سارا ماحول اس وبا کے آلودہ ذکر سے ذہنی آلودگی کی گود میں جا پڑا ہے۔ اہل فکر بالکل ہی بے
مزید پڑھیے


اے خدائے بے کساں فریاد ہے

جمعه 03 اپریل 2020ء
جسٹس نذیر غازی
ضعف ‘ بے بسی‘شکستگی اور سراسیمگی کا اعتراف ہے۔ کوئی قدم ارادے کی مضبوطی سے نہیں اٹھ پا رہا ہے۔ ادھر ادھر کی سنی ہوئی پر یقین ہے‘ پھر ذرا دیر کے بعد تشکیک کا دورہ پڑتا ہے اور کسی سمت کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ہاں وہ بڑے سیانے جو چوری کے ماہر اور ڈاکہ زنی کا مجرب دبستان ہیں۔ اسی طرح سے مگن اپنے شطرنجی کھیل میں مصروف ہیں۔ذرا جُوں تو کیا رینگے‘ ان کے احساس پر مفادات‘ گروہی سیاست اور من پرستی کی برف جمی ہوئی ہے۔ ڈھٹائی سے اپنی پرانی طرز کو ہی ہر
مزید پڑھیے


ہم تجھے بھولے ہیں‘ تو نہ ہم کو بھول جا

جمعه 27 مارچ 2020ء
جسٹس نذیر غازی
آخر کو ایک ہی خیال دامنگیر ہے‘ کیسے بچا جائے؟ وبا کا آخری سرا کیا ہے؟ کس کس پر یہ بلا ٹوٹے گی اور کب تک ،یہ بے یقینی اور کب تک یہ مایوسی؟ ہر طبقہ خیال اور ہر طبقہ عمر اپنی اپنی سی کئے جا رہا ہے۔ طے شدہ حقیقت ہے کہ ایک وبال ہے‘ عذاب ہے‘ تنبیہ ہے۔ واپس لوٹنے کا اشارہ ہے۔ برائی سے توبہ کا حکم ہے۔ بے حیائی سے کنارا کرنے کی ہدایت ہے۔ قوموں کو جگانے کا آسمانی اعلان ہے۔ انسانوں کی پہاڑوں جیسی گھنائونی خطائوں اور دل دہلا دینے والے حیوانی گناہوں کا آسمانی
مزید پڑھیے