Common frontend top

ڈاکٹر محمد سلیم شیخ


ادارے:تاریخ کے کٹہرے میں


خلفشار بڑھتا ہی جارہا ہے۔سیاسی انتشار کے اثرات اب ریاستی اداروں پر بھی نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔سیاست میں گہری ہوتی تقسیم نے ان اداروں کو بھی،جو دستور کے محافظ اور نگہبان سمجھے جاتے ہیںاور جن پر اعتبار کیا جانا محترم اور ناگزیر تھا،متاثر کر دیا ہے اور وہ اب اپنی کارکردگی کے باعث ابلاغ کی ہر سطح پر تنقیدو تنفر کی زد میں ہیں ۔ اس صورت حال کا استقرارکسی بھی لحاظ سے ریاست کے حق میں نہیں ہے۔ریاستوں کا وجود اور استحکام اداروں کے استحکام پر انحصار کرتا ہے ادارے اس وقت مستحکم ہوتے ہیں جب وہ اپنے تفویض
جمعرات 06 اپریل 2023ء مزید پڑھیے

’’ مجال‘‘

منگل 04 اپریل 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
اس دور پر فتن میں جب کہ ہر لمحہ ہر پل زیست کرنا مشکل ہوتا جارہا ہو ۔چہروں پر شادابی کی جگہ پریشانی ہویدا ہو اورحواس حوالہ ء شعلگی ہو چکے ہوں۔ ہر سو بیزاری بے دلی براجمان ہو تو پھر کوئی اچھی کتاب ، کوئی خوبصورت شعر ، کوئی حسین منظر یا پھر کسی یار دیرینہ کی صحبت ہی تشفی کا باعث ہو تی ہے۔اس با ر اس کیفیت میں ایک شعری مجموعہ شامل مطالعہ رہا ۔ شاعری لطیف احساسات کا نازک اور خوبصورت اظہاریہ ہے جو جذبات و احساسات، مشاہدات ، تجربات اور مطالعہ سے اپنا اسلوب تراشتا ہے۔
مزید پڑھیے


’’ ارمغان لاہور ‘‘

بدھ 29 مارچ 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
سیاسی کشیدگی اور سماجی انتشار کی بڑھتی ہوئی اس کیفیت سے خود کو بچانے کے لئے (کچھ دیر کے لئے ہی سہی) ضروری ہے کہ مطالعہ ء کتب کو زیادہ وقت دے دیا جائے۔اور یہ تو ایک حقیقت ہے کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے سو جب سیاسی او ر سماجی منظر پریشان کن ہو اور فکری بے بسی اس پر مستزاد تو پھرخود کو بہترین دوست کی آسودہ پناہ گاہ کے سپرد کر نا ضروری ہو جاتا ہے ۔ اس آسودگی میں آپ کی شرکت بھی ضروری ہے ۔انٹر نیٹ کی سہولت نے برقی کتب کی
مزید پڑھیے


نیرو کی پیروی سے گریز

اتوار 26 مارچ 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
روم جل رہا تھا اور نیرو( روم کا حکمران ) بانسری بجا رہا تھا۔بارہا یہ مثال پڑھتے اور سنتے رہے ہیں، اس کی واقعاتی سند سے قطع نظر یہ جملہ اس صورت حال پر منطبق کیا جاتا ہے جب ذمہ داررانہ مناصب پر فائز افراد ( یا ادارے ) موجود صورت حال میں غفلت کا شکار ہوں اور اس پر مطمئن بھی ہوں۔سقوط بغداد ہو یا سقوط ڈھاکہ ان ہی غفلتوں کے تسلسل کے ناگزیر نتائج کی صورت سامنے آئے باعث عبرت آئے ہیں۔تاریخ میں موجود یہ واقعات ان کے اسباب اور نتائج اگرچہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ
مزید پڑھیے


کوئی تو صورت ہو بہتری کی !

اتوار 12 مارچ 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
سیاسی سطح پر موجود انتشار کسی صورت کم نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت کی جانب سے اسے کم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے آئی ہے۔اس بات کی تکرار تو سب ہی کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے سیاسی استحکام نہایت ضروری ہے مگر اس کے قیام کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے اس کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ۔ سیاسی ومعاشی بگاڑ کی جو کیفیت آ ج اس ریاست کو درپیش ہے وہ باعث تشویش ہونے کے ساتھ ساتھ درست اور دور رس فیصلوں کی متقاضی ہے۔ اوران فیصلوںکے
مزید پڑھیے



الیکشن ہو ہی جائیں تو بہتر ہے !

هفته 04 مارچ 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی بنچ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب اور خیبر پختون خوا کی تحلیل شدہ اسمبلیوں کے انتخابات نوے روز کی طے شدہ مدت میں کرائے جانے کا فیصلہ سنادیا ہے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو مشاورت کے ذریعہ تاریخ کے تعین کا پابند کر دیا ہے ۔ اس بنچ کے دو ارکا ن نے اختلاف کرتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کا ا ز خود نوٹس لیا جانا ہی غلط ہے کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی ہائی کورٹس میں زیر سماعت ہے۔اس سے
مزید پڑھیے


جمہوری سیاست: سیاسی کارکن اور قیادت

جمعه 03 مارچ 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
پاکستان میں جمہوری سیاست میں بار بار کی رخنہ اندازیوں اور اس کی عدم پختگی کے باوجود ملک کی سیاست سے عام شہری کی دلچسپی اور وابستگی حیرت انگیز حد تک بہت زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی زیادہ دلچسپی اور وابستگی کے باوجود سیاست اور سماج میں جمہوری رویوں کا اتنا ہی فقدان اور کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔سیاسی قائدین ہوں یا سیاسی کارکن ،مذہبی واعظین ہوں یا ان کے مقلدین،صحافی ہوں یا ان کے قارئین سب بحیثیت مجموعی جمہوری رویوں اور اقدار سے انحراف کا شکار ہیں ۔جمہوری سیاسی نظام محض
مزید پڑھیے


تبدیلی کا درست راستہ

هفته 25 فروری 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
پاکستان کی ریاست اس وقت ایک عجیب بحران کا شکار ہے ۔ عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل کچھ اور ہیں جب کہ حکمرانوں اور اداروں کی توجہ کچھ اور معاملات پر ہے ۔لگتا ہے سب بند گلی میں پہنچ گئے ہیں اور اس سے نکلنے کا کوئی راستہ کسی کو بھی سجھائی نہیں دے رہا یا اس سے نکلنا ہی کسی کا مقصود نہیں۔ سیاسی ادارے تو کبھی مضبوط نہیں تھے مگر اب ریاستی ادارے ( فوج،بیوروکریسی اور عدلیہ ) بھی سیاسی معاملات میں الجھ کر تنازعات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اداروں کی
مزید پڑھیے


لئے پھرتا ہے مجھے شوق جنوں آوارہ

جمعه 24 فروری 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
شوق جب جنوں بن جائے اور کچھ کر گزرنے کا ارادہ بھی پختہ ہو تو پھر راہ شوق کے سب مرحلے آسان نظر آنے لگتے ہیں،ایسے میں جو بھی فن ہو،تحریر ہو یا تحقیق اس کا اظہار منفرد،ممتاز اور اثر انگیز رہتا ہے۔عزم صمیم کا ہی یہ اعجاز ہے، جس نے محترم مہر محمد بخش نول کو اس عمر میں،جب لوگ آرام سے گھر بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں،اسفار بے شمار پر آمادہ کیا اور ایسا کام کرادیا،جس کا سوچنا ہی اس عمر میں محال ہومگر مہر بخش نول صاحب نے کمال جواں ہمتی اور اوج شوق آوارگی سے
مزید پڑھیے


یہ تغافل رہے گا کب تک !

اتوار 19 فروری 2023ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
معیشت اور سیاست کے معاملات اور مسائل ہر گزرتے دن کے ساتھ الجھتے جارہے ہیں ۔ڈالر کے کم ہوتے ذخائر،بند ہوتی صنعتیں، بڑھتی ہوئی بے روزگاری،بے قابو ہوتی مہنگائی، سیلاب میں ڈوبی زراعت اور اس پر مستزاد I. M.Fکی تمام تر منت و سماجت کے بعد خا لی کشکول ۔ تیرہ جماعتی اتحاد پرمشتمل وفاقی حکومت اپنے تمام تر تجربات اور فہم و دانائی کے دعووں کے باوجود ریاست کو معاشی اور سیاسی بھنور سے نکالنے میں اب تک ناکام رہی ہے ۔ اہلیت کے فقدان کے ساتھ ساتھ ان کی ترجیحات اور اخلاص عمل کی کمی اس کی بنیادی
مزید پڑھیے








اہم خبریں