Common frontend top

یوسف سراج


سیاستِ موجودہ کی بیگمات کے آنسو!


شاعر کی نوکِ زبان پر بھی کبھی کیا کچھ اتر آتا ہے۔الہام قلم کی نوک پر ہوتا ہے۔ صحافت کے ایک استاد نے ایک بار ٹھیک یہی بات کہی ۔ لکھنے والے ہی اس کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ چند لفظوں میں زمانوں کی بات کہہ دینا، ایک شاعر پرکبھی یوں سہل ہو کے اتر آتا ہے کہ دوسرے جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔غزل اگرچہ کچھ دوستوں کو پسند نہ آئی ، غزل کے دو مصرعے اور کبھی ایک ہی ، حقائق کو یوں نچوڑ دیتے ہیں کہ پہروں آدمی کا دل آباد اور طبیعت شاد رہے۔کسی ایک
بدھ 09 مئی 2018ء مزید پڑھیے

ڈاکٹر عبدالسلام میں خامی کیا ہے

پیر 07 مئی 2018ء
یوسف سراج

خط اس نے جلتے تنور میں ڈال دیا اورلرزتے ہاتھوں سے گالوں پر لڑھکتے آنسو پونچھے۔دیر تک وہ روتا رہا۔ قاصدنے حیرت سے اسے دیکھا۔ خط میں ایسا کچھ نہ تھاکہ رونا پڑتا۔خط میں تو اس کی ستائش لکھی تھی اور خوبیوں کابخوبی اعتراف ۔ اس پر گزرتی قیامت پر افسوس اور یکجہتی کااظہار لکھا تھا۔ اس مشکل گھڑی میں اس کا ہاتھ تھام کے ساتھ دینے کے عہدوپیمان لکھے تھے۔لکھا تھاکہ تنہائی اوربے اعتنائی کی زندگی چھوڑ کے ہمارے پاس چلے آؤ ،ہم تمھیں وہ مقام دیں گے کہ دنیا رشک کرے۔ عجیب شخص تھا، یہ سب پڑھ کے
مزید پڑھیے


زمیں پر انسان کا پہلا قدم

جمعرات 03 مئی 2018ء
یوسف سراج

تاریخ اور انسانی نفسیات پر کبھی غورکریں توحیرت کے کئی جہاں آشکار ہو جائیں۔کئی بار خیال آتا ہے ،آخر زمیں پر انسان کا وہ پہلا دن اور پہلا قدم کیسا ہوگا، جنت سے اتر کر دو ہم جنسوں نے پہلی بار جو قدم یہاں دھرا اور پہلا دن جویہاں گزارا تھا۔ا س پہلے دن کے مقابلے میںیہ دنیا آج آسائشات اور معلومات سے کتنی زیادہ بھر چکی ۔ اس کے باوجود لیکن آج بھی گھروں سے نکل کر مسافر ہوجانے والوں کویہاں کتنی آسانیوں اور راحتوں سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں ، کتنی دل بستگیوں سے سمجھوتہ کرلینا پڑتاہے،
مزید پڑھیے








اہم خبریں