BN

عبدالرفع رسول


مسلمانوں اور بنی اسرائیل میں کوئی حد فاصل ؟


قرآن کے مطالعے سے یہ بات واضح ہے کہ بنی اسرائیل ایمان کی کمزوری سے لے کر اخلاقی پستی تک پھنسی ہوئی تھی اور اسے اپنی بے بسی کا کوئی خاص احساس بھی نہیں تھا اور نہ وہ اس دلدل سے نکلنے کے لئے کوئی حکمت عملی ہی بنانے پر غور کرتی تھی۔انہوں نے الہ واحد کی ہدایات و احکامات کو ترک کر رکھا تھا اور رب العالمین پر ان کا ایمان،یقین اور اعتماد حد درجہ کمزور ہو چکا تھا۔ انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کی بات نہیں سنی اور جب سنی بھی تو بالکل بے یقینی کے ساتھ۔
اتوار 06 دسمبر 2020ء

بھارت کی اسلام دشمن ہند و تنظیمیں

هفته 05 دسمبر 2020ء
عبدالرفع رسول
بھارت کی خونخوارہندوتنظیمیں جوزہرپھیلانے پرلگی ہوئی ہیں اسی کے سبب بھارت میں اسلامو فوبیا معاندانہ رویہ اختیار کر چکا ہے۔یہ انہی دہشت گرد تنظیموں کا کیاکرایا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کی شناخت سے لیکر ان کے وجود کے خاتمہ کی سعی کی جا رہی ہے۔ مودی کوسامنے لاکریہ تنظیمیں مسلمانوں کی تاریخ سے لے کران کاوجود دا ئوپر ہے۔ پورے بھارت میں مسلم پہچان اورمسلمانان لاحقے کھرچ کھرچ کر مٹائے جارہے ہیں۔ دہلی کی میونسپل کونسل نے 2ستمبر 2015کو اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرکے عبدالکلام روڈ کردیا۔ یوپی یعنی اترپردیش حکومت نے 5اگست 2018ء کو مغل سرائے جنکشن
مزید پڑھیے


بھارتی کسانوں کے احتجاج میں سکھوں پرتشدد

بدھ 02 دسمبر 2020ء
عبدالرفع رسول
بھارت میں کسانوں کی طرف سے ناکام احتجاجی مظاہرے کی کوئی نئی بات نہیں۔ کئی برسوں سے بھارتی کسان سرکاری شکنجے میں آکرکراہ رہے ہیں اوردل گرفتہ ہوکرخودکشیاں بھی کررہے ہیں ۔گذشتہ دوعشروں میں تین لاکھ سے زیادہ بھارتی کسانوں نے خود کشیاں کیں ہیں کوئی اور ملک ہوتا توحکومتی اداروں میں بھونچال بپاہوجاتا لیکن یہ بھارت ہے یہاں حکومتوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ 2017ء سے تواتر کے ساتھ وہ دلی میں آتے ہیں اوربرسر احتجاج ہوتے ہیں۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بارکسانوں کے اس احتجاج میں شامل ہریانہ اورپنجاب کے سکھوں کوچن چن
مزید پڑھیے


دی اکانومسٹ سےOICتک بھارت پرلعن طعن

منگل 01 دسمبر 2020ء
عبدالرفع رسول
30 نومبر 2020ء سوموارکوکثیرالاشاعت بین الاقوامی ہفتہ وار میگزین دی اکانومسٹ نے بھارت کولعن طعن کرتے ہوئے اس کی نام نہاد جمہوریت کاپردہ فاش کرتے ہوئے اس کا بہروپی چہرہ بے نقاب کردیا۔اپنی تازہ ترین رپورٹ میں عالمی جریدے نے لکھاکہ بھارت میں جمہوریت کی موت،مودی بھارت کویک جماعتی ریاست بنانے میں مصروف ہوگئی ،مودی کے بھارت میں اداروں کے اختیارات کاتوازن ختم ہوگیا۔دی اکانومسٹ اپنی تازہ رپورٹ میں لکھتاہے کہ مودی سرکار بھارت کو غیر جمہوری بنانے پر تلی ہوئی ہے جبکہ مودی کیبنٹ کے وزرا کی اداروں کے اختیارات میں مداخلت عام ہے جس کی تازہ مثال
مزید پڑھیے


دلی کی قدیم مساجدکسمپرسی کی حالت میں

اتوار 29 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
’’گزشتہ سے پیوستہ ‘‘دلی کی چوتھی مسجد’’نیلی مسجد حوض خاص‘‘ کہلاتی ہے۔ مسجد کی دائیں طرف ایک بہت بڑا پیپل کا درخت ہے ، جس پرہندو مورتیاں رکھ دیتے ہیں اور فساد برپاکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسجدمیں پانی کے انتظام کی اجازت نہیں ہے۔دلی کی پانچویں مسجد’’مخدوم شاہ مسجد مئے فیر حوض خاص‘‘ایک بڑے پارک کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ مسجدبے حرمتی کے باعث کافی اضطراری حالت میں ہے، یہاںجب نماز پڑھنے کی بات کی جاتی ، تو داروغان کاکہناہوتا کہ جی جناب یہ ہمارے پیٹ کا سوال ہے ، ہم قطعی نماز پڑھنے نہیں دیں گے۔، لیکن مسجد
مزید پڑھیے



دہلی کی قدیم مساجد کسمپرسی کی حالت میں

هفته 28 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ گویا مٹھیوں سے خشک ریت پھسل رہی ہے۔ قدیمی چہرے ،آثار،شعائر،نشانات ایک ایک کرکے منہدم اور مٹتے چلے جارہے ہیں۔ایسے میں جب ہاتھ ساز کے کسی تار کے ساتھ چٹختے ہیں تو نغمہ ان دیکھے خلا میں کھو جاتا ہے۔ 1947ء میں تقسیم برصغیرکی اٹھا پٹخ کے دوران ہندوستان کے جومسلمان پاکستان بنانے کے لئے مہاجرت اختیار کرگئے کامیاب ہوگئے اورجنہوں نے اس وقت پاکستان کی دشمن مسلم قیادت کے جھانسے میں آکراپنے لئے ہندوستان کوہی مستقرٹھرایاتووہ خوارہوگئے اوروہ 73برس گزرجانے کے طویل عرصے کے بعد بھی رستاخیز صورتحال
مزید پڑھیے


دہلی کا تاریخی اردو بازار، قصہ پارینہ

بدھ 25 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
میر تقی میر سے منسوب شعر کا یہ مصرعہ ’’دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب‘‘ ایک تاریخی سچائی ہے کہ’’ شاہجہاں آباد ‘‘ تعمیر ہوا تو شاہجہاں نے عرب و ایران اور ایشیائی ممالک کے صاحب علم و ہنر کو دعوت دی کہ یہاں آکر آباد ہوںاورجویہاں آبادہونے کے لئے آئے گا انہیں دس ہزاری، بیس ہزاری کا اعزاز اور اکرم سے نوازا جائے گا۔دلی کی گلیوں، محلوں، حویلیوں، سیرگاہوں،قلعوںاور بازاروں کے نام یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ یہاں مدت تک مسلمان سلاطین کی حکومت قائم رہی ۔دلی کی جامع مسجد سے متصل
مزید پڑھیے


کشمیر میں نسل کشی پر انتباہ

پیر 23 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
اسلامیان جموںو کشمیرقابض بھارتی فوج کے حصاراوراس کے نرغے میں بدستوریرغمال ہیں اور پھڑپھڑارہے ہیں۔وہ ’’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ والی اضطراری کیفیت کے شکار ہیں۔ 73 برسوں سے وہ لگاتار اقوام متحدہ کی زنجیر ہلانے کی کوشش بسیارکررہے ہیں،لیکن یہ زنجیر ایسی جگہ پر آویزاں ہے جہاں ایسٹ تیموراورجنوبی سوڈان کے مسیحیوںکے ہاتھ پہنچ توجاتے ہیں مگرارض کشمیرکے فریادیوں کے رسائی اس تک ممکن نہیں ۔چندبرس قبل اقوام متحدہ کی یہ زنجیرہل گئی اورمشرقی تیمور جوانڈونیشیاکاباضابطہ طورحصہ تھاکو ریفرنڈم کے ذریعے مسلمان ملک انڈونیشیاسے کاٹ کر الگ کردیاگیا۔عین اسی طرح جنوبی سوڈان کومسلم مملکت سوڈان سے کاٹ دیاگیااوردونوں خطوں
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیرمیںاردوادب کی تاریخ

هفته 21 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
اردو ادب کی تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم زبان اور اس زبان کے بولنے اور لکھنے والوں کی اجتماعی وتہذیبی روح کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ادب میں سارے فکری ،تہذیبی ،سیاسی ،معاشرتی اور لسانی عوامل ایک دوسرے میں پیوست ہو کر ایک وحدت، ایک اکائی بناتے ہیں اور تاریخ ادب ان سارے اثرات ،روایات،اور محرکات اور خیالات و رحجانات کا آئینہ ہوتی ہے ۔ ادبی تاریخ لکھنے والوں پریہ ذمہ داری عائد ہے کہ وہ ادبی مظاہرکو سیاسی ،معاشی،سماجی ، اور فنی ماحول میں پیش کرنے کی کوشش کریں ۔جب ہم کسی خاص ادبی دور کا تجزیہ کریں
مزید پڑھیے


ہائبرڈ وار ہوتی کیاہے؟

منگل 17 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
عصر حاضرمیں جنگوں کے میدان اور ہتھیار تبدیل ہوگئے ہیں،ظاہری اور روایتی فوجیں توپوں ، بموںاور بندوقوں پریقین رکھتے ہوئے اپنے زیر سایہ سوشل میڈیا والی ایک نادیدہ فوج جو اسمارٹ فونز اور لیب ٹاپ سے لیس ہوتی ہے کوترتیب دے کر میدان میں اتارتی ہے اوراس کارروائی کو ہائبرڈ وار کہا جاتا ہے۔ (HYBRID WAR) عصر حاضر کی جنگی اصطلاح ہے اورعسکری ماہرین میں بہت عام ہے ۔اگرچہ ابھی تک اس کی کوئی حتمی اور طے شدہ تعریف نہیں ہے ۔تاہم یہ ایک ہمہ گیرغیر روایتی ،بے قاعدہ،خفیہ ،غیر رسمی جنگ ہوتی ہے جوسائبروارکہلاتی ہے ۔یہ طریقہ جنگ
مزید پڑھیے