BN

عبدالرفع رسول


مودی انسانی تہذیب کے لئے خطرہ


چندیوم قبل عالمی ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے جریدے’’دی اکانومسٹ‘‘ جولندن سے شائع ہوتاہے نے اپنے تازہ شمارے کے سرورق پرشہہ سرخی میں لکھاکہ خاردارتاروں پرپھول نہیں کھلتے‘‘ مودی کس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس سٹوری میں وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔حکومت کی پالیسیاں نریندر مودی کو انتخابات جیتنے میں مدد کر سکتی ہیں لیکن وہی پالیسیاں بھارت کے لیے سیاسی زہر ثابت ہو سکتی ہیں۔اسے قبل نریندر مودی کی 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران بھی’’ دی اکانومسٹ‘‘ نے
منگل 28 جنوری 2020ء

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پرعالمی عدالت کانوٹس

اتوار 26 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
عدل،انصاف اور مساوات کوبنیادی اصولوں تسلیم کئے بغیر انسانیت کی تعمیرممکن نہیں۔سرمائے، مذہب،رنگ، نسل اور جنسی تفریق کی بنیاد پر کھڑی دنیا میں جس طرح اقلیتوں کودبایاجارہاہے،مختلف بہانے تراش کرانہیں موت کے گھاٹ اتاراجارہاہے ،بچ جانے والوں کا استحصال کیاجارہا،ان کے ساتھ ظلم ، ناانصافی اور تشدد کیاجارہاہے ۔انسانی حقوق کے لئے آواز غداری قرار پا رہی ہے۔ مذہب،رنگ و نسل اور جنس کی بنیاد پر تفریق کی دیوار قائم ہے۔یہ اکیسویں صدی کے ماتھے پربہت بڑے دھبے ہیں جس کے باعث انسانی تاریخ کاہرورق اورہرباب آلودہ ہے۔کرہ ارض کے شرق وغرب میں جوجنگل راج نافذہے اس سے صاف دکھائی
مزید پڑھیے


شاہین باغ دہلی میں خواتین کا احتجاجی دھرنا

هفته 25 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
آج جب یہ کاکالم ہمارے قارئین کی نظروں سے گذررہاہے تو شاہین باغ میں خواتین کے اس احتجاج کو43روز ہورہے ہیں۔14دسمبر 2019ء کی دوپہر کو 10تا 15علاقائی خواتین نے دریائے جمنا کے کنارے واقع شاہین باغ جس کا محل وقوع کالندی کنج شاہین باغ نامی شاہراہ عام ہے جو دھرنے کے باعث 15دسمبر سے بند ہے ۔دھرنے میں خواتین جوق درجوق اس دھرنامیںشامل ہوتی چلی گئیں۔ اس طرح یہ 24/7احتجاج بن گیا ہے۔ دہلی میں ریکارڈ کی جانے والی سوسالوں میں پہلی بارپڑنے والی شدید سردی اوربارش بھی ان کا حوصلہ پست نہیں کرسکی ۔اب روزانہ کی بنیادپریہاں لاکھوں کا
مزید پڑھیے


کشمیری پنڈتوں کابھیانک کردار …(2)

جمعرات 23 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
کل کے کالم میں ہم نے کوشش کی کہ اپنے قارئین کوکشمیری پنڈتوں’’کشمیری ہندئووں‘‘کی تحریک آزادی کشمیرکے خلاف صف آراء ہونے کے حوالے سے باخبرکریں ۔سچ یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ تحریک آزادی کشمیرمیں ساتھ نہ دے کرجس بھیانک کردارکامظاہرہ کیاتاریخ اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔یہ دوسراموقع ہے کہ جب کشمیری پنڈتوں نے کشمیری مسلمانوں کو دھوکہ دیابلکہ یوں کہاجائے توبہترہوگاکہ یہ دوسراموقع ہے کہ جب کشمیری پنڈت کشمیری مسلمانوں کے خلاف صف آراہوئے۔ اس سے قبل1931ء میں جب ڈوگرہ کی مطلق العنان حکومت کے خلاف اسلامیان کشمیراٹھ کھڑے ہوئے لیکن کشمیری پنڈت اس
مزید پڑھیے


کشمیری پنڈتوں کا بھیانک کردار

بدھ 22 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
کشمیری پنڈت وادی کشمیر کے ہندو باشندے ہیں یہ کشمیری زبان بولتے ہیں اوریہ اپنے آپ کوہندئوں کی اعلیٰ ذات برہمن کہتے ہیں۔مقبوضہ وادی کشمیرمیںکشمیری پنڈتوں کی آبادی 2لاکھ نفوس پرمشتمل ہے اوراس طرح یہ وادی کشمیرکی کل آبادی کا2فیصدہیں۔98فیصد کشمیری مسلمانوں نے ہمیشہ کشمیری پنڈت اقلیت کے ساتھ بہت ہی اچھاسلوک روارکھا اورانہیں کبھی بھی اقلیت میں ہونے کے احساس کمتری کاشکار ہونے نہیںدیا ۔کشمیری مسلمان ہمیشہ انکی غمی اورخوشی میں ان کے ساتھ شریک رہے حتیٰ کہ ان کے مردوں کوجلانے کے لئے بھی پیش پیش رہے۔ اندازہ کیجئے گاکہ اگربھارت کی کسی ریاست میں اٹھانوے فیصد ہندوآبادی
مزید پڑھیے



کشمیری بچوں کے تعذیب خانوں کاروح فرساانکشاف

پیر 20 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کا کشمیری کمسن بچوں کے لیے قائم’’ ڈی ریڈکلائزیشن ‘‘کیمپوں روح فرسا اوررونگٹے کھڑے کرنے والے انکشاف سے کئی سوالات پیداہوئے ہیں۔ بپن راوت نے دلی میں منعقدہ ’’رائے سینا ڈائیلاگ‘‘میں جمعرات16جنوری 2020 ء کو ایک مذاکرے میں یہ انکشاف کیاکہ دس سے بارہ برس کے کشمیری بچوں کو آزادی پسند نظریات سے نکالنے کے لیے حکومت کے ذریعے ’’ڈی ریڈیکلائزیشن کیمپس‘‘چلائے جا رہے ہیںجن میں ان کے بقول شدت پسند کشمیری بچوں اور نوجوانوں کو تنہائی میں رکھا جارہا ہے تاکہ نظریات بدلنے کے لئے ان کی ذہن سازی کی جا
مزید پڑھیے


جینوسائڈ واچ کی تحقیق اورآج کاہندوستان (آخری قسط)

اتوار 19 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
کل کے شمارے میں ہم نے جینوسائڈ واچ کی تحقیقی اورآج کاہندوستان پربات کرتے ہوئے اس امرکاجائزہ لینے کی کوشش کی تھی کہ کیسے ظالم حکمران اپنے ہی ملک کی اقلیتوں کے خلاف پہلے سازشیں رچاکران کاقتل عام کرتے ہیں اورکسی طرح زندہ بچ جانے والوں کو بالآخرملک بدرکرتے ہیں۔آج کے ہندوستان کی صورت حال جینوسائڈ واچ کی تحقیق کے پس منظرمیں ایک بہت بڑے خوفناک انسانی المیے کی طرف بڑھ رہی ہے۔جس دس ادوارکاجینوسائڈ واچ کی تحقیق میں تذکرہ کیاجاچکاہے اسے سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں جس طرح فاشسٹ طاقتوں کے لیے یہ صورت حال’’
مزید پڑھیے


جینوسائڈ واچ کی تحقیق اور آج کا ہندوستان

هفته 18 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
تاریخی حقائق کامطالعہ بتلاتاہے کہ نسلی یا مذہبی آبادی کی بنیادپرکسی ملک کی اقلیت کی شہریت ختم کرنے کے بعد اس کی نسل کشی کا آغاز نہیں ہوتابلکہ چند سالوں تک اکثریتی آبادی میں نفرت کا پروپیگنڈا کرکے پہلے ماحول بنایا جاتاہے اور پھر نسلی کشی کے خوفناک منصوبے کو انجام دیا جاتا۔اس پس منظر میں یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ کسی بھی علاقے میں نسل کشی اچانک نہیں ہوتی ہے، بلکہ فاشسٹ طاقتیں اس کے لیے اسٹیج تیار کرتی ہیں، اس کے پیچھے کئی برسوں کی محنت ہوتی ہے، تب جاکر نسل کشی کا ارتکاب ہوتا ہے ۔جینوسائڈ
مزید پڑھیے


آزادکشمیرمیں برف کاقہر

جمعرات 16 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول

آزاد کشمیر میں برفبانی تودوں نے تباہی مچا دی تادم تحریر 90سے زائدافراد جاں بحق ہو ہوچکے ہیں۔ درجن بھرافراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ 56سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔آزادکشمیرکے انتہائی خوبصورت علاقے کی وادی نیلم میں سرگن گائوں اورکیل کے قریب گائوںڈھکی چنگاڑمیںسوموار13جنوری کو برف کے خوفناک تودے گرنے کے باعث بڑے پیمانے پریہ انسانی المیہ پیش آیا۔جبکہ بلوچستان میں بھی بارش اور برفباری سے درجنوںافراد جاں بحق ہوگئے ۔پوری مقبوضہ وادی کشمیرکے ساتھ ساتھ آزاد کشمیرکے تمام بلندوبالاپہاڑوں اوروای نیلم میں تائوبٹ سے لیکراٹھمقام تک اس پورے ضلع میں ہرسال موسم سرمامیں شدیدبرف
مزید پڑھیے


عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی سازش

منگل 14 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
دنیاکوجُل دینے کے لئے مغربی ممالک کے سفیروں کوسری نگرکادورہ کرایاگیا۔جمعرات 9جنوری 2020ء کوہندوستانی ائیرفورس کی ایک خصوصی پروازکے ذریعے غیرملکی سفارتکاروں کے17رکنی وفد کوسری نگر پہنچا یاگیا۔ وفد میں جنوبی امریکہ، افریقہ اور بعض خلیجی ممالک کے سفارتکار شامل تھے۔ان سفارتکاروں کے وفد کو سری نگر میں قابض ہندوستانی فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈ کوارٹر سری نگرمیں ٹھرایاگیاجہاں انکی فوجی قیادت کے ساتھ ملاقات کرائی گئی۔ مقبوضہ کشمیرکے عوام غیرملکی سفراء کے اس دورے سے مطلق لاتعلق رہے کیونکہ یہ وفد عام لوگوں سے ملنے کے بجائے ہندوستان کے تعینات کردہ گورنراوراسکی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ صرف فوجی عہدے
مزید پڑھیے