BN

عبدالرفع رسول


پھانسی کے پھندوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا


کشمیرکاہرشہیدتحریک آزادی کشمیر کے ناقابل فراموش ہیرو زاور ایک ایسے روشن چراغ کے مانندہے کہ جواپنی شہادت سے قبل اپنی لوسے بے شمارچراغ روشن کرجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2020ء تک سرزمین کشمیرپربھارتی جبروقہر کے باعث ایک کے بعد ایک چراغ گل ہوتاچلاجارہاہے لیکن یہ چراغ ختم نہیں ہورہے۔اگرچہ کشمیرکے ہرشہیدکی شہادت کی الگ الگ کہانی ہے لیکن سب ایک ہی عظیم مقصد ’’کشمیرکی آزادی ‘‘کے لئے اپنے جانوں کانذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ چندیوم قبل تہاڑ جیل کے سابق آفیسر سنیل گپتا نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویومیں کہا کہ افضل گورو سے جینے کا حق صرف اور
جمعرات 13 فروری 2020ء

افضل گورواورمقبول بٹ شہیدکی باقیات ؟ (2)

بدھ 12 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
یہ حقیقت ہے کہ افضل کی پھانسی کا غیر منصفانہ اور جلد بازی میں اٹھائے جانے والابھارت کایہ ایک ایساا قدام تھاکہ جسے کشمیری کبھی بھول نہیں پائیں گے ۔بلاشبہ افضل کی شہادت سے ایسے ہزارانجم پیداہوئے جواپنے پیدائشی مقصد سے کبھی دستبردارنہیں ہونگے کیوںکہ گوروکواچانک پھانسی دیئے جانے سے انہیں یقین آگیاکہ کشمیریوں کے لئے انصاف نام کی کوئی چیزموجودنہیں۔اگراس امرمیں کسی کوکوئی ابہام تھاتو2016ء کی فقیدالمثال عوامی ایجی ٹیشن نے اسے دورکردیا۔افضل کے مقدمے کی سماعت کے دوران انصاف کے تقاضوں کا کبھی خیال ہی نہیں رکھا گیا ۔انہیںایک ایسے حملے اورایک ایسی کارروائی میں ملوث ٹھرایاگیا جوسراسرمشکوک
مزید پڑھیے


افضل گورواورمقبول بٹ شہیدکی باقیات ؟

منگل 11 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
سانحات کی تلخی، کڑواہٹ، سختی اور درشتگی سے کوئی انکارنہیںلیکن قاتل کومعلوم نہیں ہوتاکہ جسے وہ بے تقصیرقتل کرتاہے تواس کا لہوایساپکاراٹھتاہے کہ قاتل چھپ نہیں سکتا ۔اگرکسی کواس میں شک وریب ہے تووہ افضل گوروکے قتل اورپھراس کے لہوکی پکارسننے کے لئے سری نگرکے لال چوک میں کھڑاہوجائے۔اسے پتاچلے گاکہ گورو کی پھانسی کشمیر کازکے لئے عہد نو کا دیباچہ ثابت ہوئی اورانکے جوڈیشل قتل سے کشمیرمیںتازہ دم ولولہ اورفکروسخن کا سامان فراہم ہوا۔ شہدائے کشمیر نے بھارتی استعمار سے آزادی کا خواب دیکھا اور اسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے میدان عمل کا راستہ اختیار کیا اور بالآخر
مزید پڑھیے


کشمیر!لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا(1)

پیر 10 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیرمیں نافذ کالے قوانین میں سے ایک جسے پبلک سیفٹی ایکٹ(PSA)کانام دیاگیاہے کے تخلیق کارشیخ عبداللہ نے کبھی یہ نہیں سوچاہوگاکہ ایک دن ایسابھی آئے گاکہ اس کے بیٹافاروق عبداللہ اوراس کاپوتابھی زہرمیں بجھی اس تلوارکی زدمیں آئے گا۔جمعرات 6فروری 2020ء کونئی دلی کی طرف سے مقبوضہ کشمیرکے بھارت نوازسابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اسکے بیٹے عمر عبداللہ پر خودانہی کے والداورداداشیخ عبداللہ کے ہاتھوںکے تخلیق کردہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) عائدکرکے انھیں بغیر عدالتی سماعت مزیدمدت کے لئے حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا ۔5 اگست 2019ء کو جموںوکشمیر کی ہندوستانی آئین
مزید پڑھیے


کشمیر گرائونڈ رپورٹ

اتوار 09 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول

اگست2019 معروف برطانوی میڈیکل جریدے ’’لانسیٹ‘‘نے اپنے ایک ادارتی مضمون میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی ذہنی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں کے عوام کئی دہائیوں سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ اقتصادی خوشحالی سے پہلے لوگوں کو پرانے ذہنی زخموں سے نجات چاہیے۔ طبی دنیا میں کشمیریوں کی ذہنی صحت کے بارے میں یہ پہلا تبصرہ نہیں تھا۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے’’ڈاکٹرز وداٹ بارڈرز‘‘ نے مئی 2016میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ وادی میں مقیم 41فیصد افراد ذہنی دبا کا شکار ہیں۔ا سے
مزید پڑھیے



کشمیر گرینڈ رپورٹ (1)

جمعه 07 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
پرینکا دوبے انڈیامیں بی بی سی ہندی سروس کی نمائندہ ہیںانہوں نے چندیوم قبل مقبوضہ کشمیرکے عوام کی کیفیات ،انکی صحت اور معاملات ومعمولات زندگی پر’’کشمیر گرانڈ رپورٹ ‘‘کے عنوان سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس سے اس امرکی تصدیق ہوجاتی ہے کہ مقبوضہ کشمیرپرڈپریشن اور دل و دماغ پر چھائی مایوسی کی چادرتنی ہوئی ہے۔اپنی اس تازہ رپورٹ میںوہ ر قم طرازہیں کہ ہسپتال میں چیک والے کشمیری لباس میں ایک 30سالہ شخص خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا ہوا ہے۔ اس نے سر پر اونی ٹوپی اور ہاتھوں دستانے بھی پہن رکھے ہیں اور اس کے ہاتھوں میں
مزید پڑھیے


یوم یکجہتی کشمیر:تحریک آزادی کے لئے آکسیجن

بدھ 05 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
جب ریاست پاکستان یوم یکجہتی کشمیرمناتی ہے توکشمیری عوام اپنایہ عقیدہ پختہ بنالیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بعد کروڑوںپاکستانی عوام ان کے پشت بان ہیں۔جب ریاست پاکستان کشمیری عوام کوسیاسی ،سفارتی اوراخلاقی مددجاری رکھتے ہوئے ان کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتی ہے توبلاشبہ یہ تحریک آزادی کشمیرکے لئے آکسیجن کاکام کرتی ہے ۔اس آکسیجن کے بہم پہنچنے سے اہل کشمیرکے حوصلے مزیدبلندہوتے ہیں،اوریہ امرانکے عزائم جوان رکھنے اورانکے قدم غیرمتزلزل بنانے میں ممددممدگارثابت ہوتاہے۔آج جہاں مملکت خدادادکی اپیل پرپاکستان اورپوری دنیامیں یوم یکجہتی کشمیرمنایاجارہاہے توسری نگرمیں بھارتی قابض فوج کی بربریت بدستورجاری ہے۔ کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ کلمہ طیبہ
مزید پڑھیے


ہندو راشٹر کیسا ہوگا؟

منگل 04 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
سوال یہ ہے کہ مودی کاہندو راشٹر کیسا ہوگا۔اس حوالے سے مودی اینڈکمپنی کامائنڈسیٹ پڑھنے اورکئی خوفناک واقعات اورٹھوس شواہدسامنے آنے کے بعد یہ واضح ہورہاہے کہ مودی کاہندو راشٹر اس طرح ہو گاکہ جہاں مسلمان کیڑے مکوڑوں سے بدتر مخلوق تصورہونگے اوربدترین زندگی گذارنے پرمجبورہونگے،انہیں اپنی اسلامی شناخت ختم کرناہوگی۔ انہیں داڑھی ،ٹوپی اورقمیض شلوار کے بجائے ماتھے پرٹیکہ لگاکرزعفرانی طرزکاہندوانہ لباس پہنناہوگا،جہاں گائے کاٹنے والے کاٹ دیئے جائیں گے، مساجد مندروں میں تبدیل ہونگی، مدارس اسلامیہ گائو خانوں میں بدل دیئے جائیں گے اورجہاں آگرہ سے دہلی تک مغلوں کی تمام اسلامی طرزفن تعمیرات کوایک ایک کرگرایاجائے گا۔ دوسرا
مزید پڑھیے


کشمیرپرٹرمپ کی ثالثی فلسطین فارمولہ کے تناظر میں

اتوار 02 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
ٹرمپ جو باربارکشمیرپر ثالثی کی پیشکش کررہے ہیں توان کے سامنے کشمیرپرثالثی کاجومنصوبہ ہے ہمارے خیال کے مطابق وہ فلسطین ٹائپ کا فارمولہ ہے یعنی’ ’ارض فلسطین کی طرح کشمیرکی بندربانٹ کا‘‘ ٹرمپ کے پیش کردہ فلسطینی فارمولہ سے انکی کشمیرپرثالثی کی شکل وصورت اگرچہ ہمارے سامنے واضح ہوچکی ہے لیکن اسکی کئی جہتیں ابھی درپردہ ہیں۔لیکن ارض فلسطین کی طرح کشمیرپریہ اقدام عالمی سطح کے فورموں خصوصاًاقوام متحدہ کے منہ پرایک ایسا زوردار تمانچہ ہو گا کہ اس تمانچے سے اسے اس کی اوقات یاددلائی جائے گی کہ یہ ’’نیوورلڈآرڈر‘‘ ہے جس کے سامنے کسی اقوام متحدہ یاکسی مظلوم
مزید پڑھیے


روہنگیامسلمانوںکی نسل کشی پرعالمی عدالت کانوٹس

بدھ 29 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے عالمی عدالت کے ابتدائی ریمارکس سے قبل 28دسمبر 2019ء کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے میانمار میں روہنگیا کی نسل کشی کے خلاف قرارداد منظورکرلیا۔یہ قرارداد 193رکن ممالک والی اسمبلی میں 134ممالک کی حمایت کے ساتھ منظور کی گئی ہے۔ نو ممالک نے اس کی مخالفت کی جبکہ 28ممالک نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔قرارداد میں میانمار سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہونے والے مسلمانوںکے تحفظ اور ان کو انصاف دیئے جانے کی بات کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں میانمار سے کہا گیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں اور دیگر
مزید پڑھیے