Common frontend top

محمد عامر رانا


دور زوال کا نوحہ


عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کو کس چیلنج کا سامنا ہے۔ علمی اور فکری حلقوں میں اس پر اتفاق ہے کہ علم کی دنیا میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دوسرے الفاظ میں اجتماعی طور پر مسلم سماج اور تہذیب دنیا کے بدلائو‘ سائنس ‘ فکر اور فلسفے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے اس کا منطقی نتیجہ زوال ہے اسے آپ تہذیبی زوال کہیے، مسلم ثقافت کی ابتری، سماج کی کمزور قوت مدافعت یا فکری کمزوری عالم اسلام زوال کے تصور سے نکل نہیں پا رہا۔ اب تو زوال کا سوال اٹھانا بھی جرم کے
پیر 11 جون 2018ء مزید پڑھیے

قابل انتظام جارحیت :ایک المیہ

اتوار 03 جون 2018ء
محمد عامر رانا
پاکستان اور بھارت میں لوگوں کی اکثریت دونوں ممالک کے درمیان امن کو خواب ہی سمجھتی ہے۔ مگر اس کے باوجود دونوں ممالک میں ایک طبقہ بہرحال موجود ہے جو امن کے خواب دیکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ امن نا ہونے کا مطلب جنگ یا تصادم ہرگز نہیں لیا جا سکتا۔ بسا اوقات اس کا مطلب محدود پیمانے پر تصادم یا مینج ایبل جارحیت بھی ہوتی ہے جس کی شدت تو کم ہوتی ہے مگر متعلقہ ممالک کو کمزور اور وسائل کو ضائع کرتی ہے۔ دونوں ممالک میں روایتی اور غیر روایتی چینلز موجود ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان
مزید پڑھیے


کیا تاریخ خاموش رہ سکتی ہے؟

پیر 28 مئی 2018ء
محمد عامر رانا
حالات کیسے بھی ہوں، سماعتوںپر کتنے ہی پہرے ہوں، آواز رستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ تاریخ افراد کو چن لیتی ہے۔ بات چھپانے سے تاریخ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا اور بحران کو پردے کے پیچھے چھپایا نہیں جا سکتا۔ جاسوسی کے معتبر اداروں کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی نے بھارتی جاسوسی کے ادارے کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کے ساتھ جو مکالمہ کیا ہے اس نے ایک بات واضح کردی ہے کہ امن کا راستہ مفاہمت کی کٹھن وادیوں سے گزرتا ہے اور اس کے لیے دونوں اطراف ابھی تیار نہیں ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان
مزید پڑھیے


انتخابات میں مذہبی جذباتیت کا عنصر

اتوار 20 مئی 2018ء
محمد عامر رانا
جوں جوں عام انتخابات قریب آ رہے ہیں ملکی سیاست کا درجہ حرارت توں توں بڑھ رہا ہے۔ اس انتخابی منظر نامے میں ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے بھی نئی صف بندی کے ساتھ عوام کے مذہبی جذبات کا سہارا لے کر انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔ البتہ میڈیا اور ٹی وی کیمروں کی تمام تر توجہ پنجاب اور کراچی کے سیاسی منظر نامے پر مرکوز ہے۔ قومی سطح پر سیاسی منظر نامے میں جہاں ہلچل برپا ہے اس ہنگامے میں مسلم لیگ ن میں تخریب اور پاکستان تحریک انصاف کی تنظیم نو کا عمل بھی جاری ہے۔
مزید پڑھیے


جِن اور بُونے

پیر 14 مئی 2018ء
محمد عامر رانا
گلیور کی مہمات اور جانوروں کا باڑہ انگریزی فکشن کے دو ایسے شاہکار ہیں جن کی سیاسی‘ نظری اور سماجی معنویت ابھی تک برقرار ہے۔ اپنے سادہ اسلوب اور گہرے تاریخی اور سماجی شعور کے باعث آج بھی یہ دنیا بھر کے قارئین کو لبھاتے ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں جہاں جہاں آمریت کی سیاہی پھیلی ہے اظہار رائے پر قدغنیں لگی ہیں۔ جبر کا کہرا گہرا ہوا ہے تب تب ان ادب یاروں کے معنی نکھر کر سامنے آئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ جبر اور خوف کے موسم میں حریت فکر رکھنے والے تجزیہ کاروں،
مزید پڑھیے



گنجے فرشتے

پیر 07 مئی 2018ء
محمد عامر رانا

گنجے فرشتے‘سعادت حسن منٹو کے خاکوں کا مجموعہ ہے جو 1952ء میں شائع ہوا۔ یہ خاکے کیا ہیں بس منٹو نے فلمی اور ادبی دنیا کے کرداروں کے باطن سے ایک نئی دنیا تخلیق کی ہے۔ قائد اعظم کا خاکہ ’’میرا صاحب‘‘ جو منٹو نے ان کے ڈرائیور محمد حنیف آزادکی زبانی بیان کیا ہے خاصے کی چیز ہے جس میں قائد اعظم ایک انسان کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ گنجے فرشتے کے بعد منٹو نے ملکہ ترنم نور جہاں کا شہرہ آفاق خاکہ ’’نورجہاں سرور جہاں‘‘ لکھا جو ان کے خاکوں کے دوسرے مجموعے ’’لائوڈ سپیکر‘‘ میں شامل
مزید پڑھیے








اہم خبریں