BN

اشرف شریف



گرین پاکستان: وے ٹاہلی اتے بیٹھ طوطیا


چوہدری خورشید مرحوم نے اپنی کتاب باغبانی میں کئی پھولوں کے دیسی اور مقامی نام لکھے ہیں۔ ہم جب فلوریکلچر پڑھ رہے تھے تو اپنے اساتذہ سے جوہی، چنبا، بیلا، رات کی رانی، ہار سنگھار، عشق پیچاں کے پھولوں کی بابت پوچھا کرتے۔ پھول پودے سراپا بلکہ جڑ سے سر تک عشق کی علامت ہیں۔ دنیا میں کسی وجود کی بقا اس وقت تک ہے جب تک اس سے محبت کرنے والے باقی ہیں۔ جب محبت کرنے والے عناصر یا مخلوق ختم ہو جائے تو وہ جانور ہو، پرندہ ہو یا درخت معدوم ہو جایا کرتا ہے۔ زمین اس لیے
پیر 15 اکتوبر 2018ء

حکومت پر ناتجربہ کاری کا الزام کتنا سچ

اتوار 07 اکتوبر 2018ء
اشرف شریف
شہباز شریف کی گرفتاری ایک قانون شکن کی گرفتاری ہے‘ ہماری سیاست کی بہت سی مچھلیاں گندی ہیں اس لیے وہ کہہ رہی ہیں کہ یہ ضمنی انتخاب سے قبل دھاندلی منصوبے کا حصہ ہے۔ کہا گیا یہ جگنو راستے پر پڑی تاریکی میں سورج بن جائیں گے۔ ہمارے بزرگ جگنوئوں کے سورج بننے کا انتظار کرتے کرتے مٹھی پر پہرہ دیتے رہے جو امید دلانے والے تھے انہوں نے ساری کائنات کے چاند اور سورج اپنے آنگن میں ڈال لئے۔ ابا جی 50سال پہلے لاہور آئے تھے۔ ان کی ساری کمائی اولاد کی تعلیم پر خرچ ہو گئی۔ ہم
مزید پڑھیے


پاکستانی سیاست کی نئی حرکیات

اتوار 30  ستمبر 2018ء
اشرف شریف
ایک وقفے کے بعد پاکستانی سیاست کی حرکیات واضح ہونے لگی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے خود کو مولانا فضل الرحمن کے کمبل سے دور کر لیا ہے۔ مولانا اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے یہودیوں کا ایجنٹ‘مغربی طاقتوں کا ایجنٹ جیسے القابات خرچ کر چکے ۔یہ سکے بازار میں کھوٹے ثابت ہوئے۔ مولانا موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ سعودی عرب کو اعتماد میں لے کر کوئی مہم شروع کریں مگر عمران خان کی سعودی عرب میں بھر پور پذیرائی نے ان کی اس منصوبہ بندی کا راستہ مسدود کر دیا ہے۔ سنا ہے مولانا کے کچھ ہمدردوں نے انہیں مشور
مزید پڑھیے


مودی طرز فکر کا تجزیہ

پیر 24  ستمبر 2018ء
اشرف شریف
سفارتی دشمنی کی کئی داستانیں مشہور ہیں۔ سرد جنگ سرمایہ داری نظام کے سرخیل امریکہ اور کمیونزم کے پرچارک سوویت یونین کے درمیان کشمکش کا زمانہ ہے۔ دونوں دنیا پر اپنا غلبہ پانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ دونوں ملکوں کے فیصلہ ساز حلقوں نے ایک مرحلے پر سوچا کہ ان کی باہمی دشمنی دنیا کے لیے کئی نئے خطرات پیدا کر رہی ہے‘ پھر دونوں طرف کشیدگی کم کرنے پر توجہ دی گئی۔ 1960ء سے 1970ء تک کا عشرہ دیتا نت کہلاتا ہے‘ اس عرصے میں بہت کارآمد کام ہوئے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول اور سفارتی تعلقات میں
مزید پڑھیے


کلثوم نواز کی موت اور سیاسی فائدہ

منگل 18  ستمبر 2018ء
اشرف شریف
بیگم کلثوم نواز کی وفات پر پاکستانی عوام نے افسوس کا اظہار کرنے میں بخل اور سیاسی تعصب کا اظہار نہیں کیا۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ سیاست میں ہر شخص متنازع ہو جاتا ہے لیکن بیگم کلثوم نواز نے خود کو ایسے سیاسی علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا جہاں ان کے متعلق منفی سوچ پیدا ہوتی۔ انہیں دو بار بات کرنے کا موقع ملا۔ پہلی بار جب لاہور میں ان کی گاڑی کو کرین سے کھینچا گیا اور انہوں نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے جدوجہد کا اعلان کیا۔ دوسری بار کسی نے ان سے پوچھا آپ
مزید پڑھیے




اعلیٰ سطحی امریکی وفد کا نئے پاکستان سے سامنا

پیر 10  ستمبر 2018ء
اشرف شریف
کچھ ہفتے پہلے لکھا تھا کہ عمران نئے سول ملٹری تعلقات کی بنیاد رکھیں گے۔ یہ بھی لکھ چکا ہوں کہ اس سے پہلے جو لوگ اقتدار میں رہے وہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی فعال کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے اس لیے قومی مفادات کی نئی شکل نے عمران خان کے لیے مواقع بڑھا دیے۔ مائیک پومپیو سی آئی اے کے سربراہ رہے ہیں۔ انٹیلی جنس پس منظر رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ کس آدمی کی انا کو کیسے تسکین پہنچا کر اسے ڈھب پر لایا جا سکتا ہے۔ پومپیو جس طرح کی بڑھکیں لگاتے رہے
مزید پڑھیے


کیا عمران خان ثقافتی پالیسی بھی دیں گے؟

پیر 03  ستمبر 2018ء
اشرف شریف
تحریک انصاف میں سیاسی دانشوروں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد قابل ذکر سے زیادہ ہے۔ مگر ثقافتی دانشوروں کی کمی یا ان کو پچھلی صفوں پر رکھنے کا نقصان یہ ہوا کہ ثقافت پر بات کرنے والا کوئی نہیں۔ کرپشن سے نمٹنے کے لیے قانون سے زیادہ کرپشن بیزار ثقافت موثر ہو سکتی ہے‘ ثقافت کا مشترکہ ورثہ قومی یکجہتی مضبوط کر سکتا ہے۔ تاریخ ‘ادب ‘ فون لطیفہ کی سرپرستی کئے بغیر قوم مادی ترقی کر سکتی ہے مگر روحانی اطمینان سے محروم رہے گی۔میں نے ایک بار پنجاب یونیورسٹی میں اپنے طلباء
مزید پڑھیے


بنجوسہ کا سفر

پیر 27  اگست 2018ء
اشرف شریف
اس سبز رنگ کی آنکھ کے گرد تناور پلکوں کا سبزہ ایستادہ ہے۔ ہم راولا کوٹ کے تاریخی سرکٹ ہائوس میں ایک رات قیام کے بعد ابھی ابھی بنجوسہ پہنچے تھے۔ گزشتہ برس وادی نیلم گئے تھے۔ اب کی بار بنجوسہ آ گئے۔ راولا کوٹ سے بنجوسہ 40منٹ کی مسافت پر ہے۔ سولہ سترہ کلو میٹر کا پہاڑی سفر کئی جگہ سبزے کی رات جیسا ماحول ہوتاہے‘ کھائی گلہ سے جونہی ہم دائیں طرف مڑے زیر تعمیر سڑک پر گاڑی کی رفتار مزید آہستہ ہو گئی۔ پتا چلا کوئی فیصل آباد کا ٹھیکیدار ہے جس نے ڈیڑھ سال قبل یہ
مزید پڑھیے


تبدیلی کا سفر اور کچھ فراموش کارکن

پیر 20  اگست 2018ء
اشرف شریف
قازقستان کے نامور دانشور چنگیز ایتماتوف ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ گھر سے اعلیٰ طبی تعلیم کا بتا کر شہر آئے۔ وہاں ایک ویٹرنری یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ قازقستان میں دنیا کے عمدہ ترین نسلوں کے گدھے پائے جاتے ہیں۔ وسیع چراگاہوں میں گدڑیے سینکڑوں مویشیوں کا ریوڑ لے کر گھومتے ہیں۔ جدید شہری طرز زندگی نے اس ملک کے لوگوں کو مویشیوں‘ چراگاہوں اور مقامی ثقافت سے دور نہیں کیا۔ چنگیز کے پروفیسر ان کی ساری جماعت کو پریکٹیکل کے لیے مویشی منڈی لے کر گئے۔ پروفیسر صاحب مختلف نسلوں کے خچروں اور گھوڑوں کی پہچان
مزید پڑھیے


چودھری سرور کا پنجاب میں کردار

پیر 13  اگست 2018ء
اشرف شریف
چودھری سرور سراپا تبدیلی ہیں۔ بھلا اس شخص سے زیادہ کون تبدیلی کی حقیقت سے واقف ہو گا جو خالی ہاتھ محنت مزدوری کرنے انگلینڈ گیا اور مسلسل محنت سے ایک وسیع کاروبار کا مالک بن گیا۔ چودھری سرور سے تین ملاقاتیں ہوئیں۔ پہلی ملاقات بارہ سال قبل ہوئی جب وہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن تھے اور پاکستان آئے ہوئے تھے۔ انہیں اخبار کے فورم میں مدعو کیا جہاں برطانوی اور پاکستانی جمہوری نظام کا دلچسپ تقابل سننے کو ملا۔ چودھری سرور جب گورنر پنجاب بنے تو کالم نگاروں کے ایک وفد کو گورنر ہائوس مدعو کیا۔ ہمارے سامنے وہ
مزید پڑھیے