BN

اشرف شریف


مریم نواز پر والد کے قرضوں کا بوجھ


علاج کیلئے لندن گئے نواز شریف نے شرط رکھی ہے کہ مریم تیمارداری کیلئے جب تک لندن نہیں آئیں گی وہ آپریشن نہیں کرائیں گے۔ ن لیگ بطور سیاسی جماعت پہلے ہی اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ نواز شریف کی بیماری کا معاملہ متنازع ہونے سے یہ تاثر مزید مستحکم ہو رہا ہے کہ وہ کسی جان لیوا مرض کے شکار نہیں ، اس عمر میں معمول کے عوارض ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مریم نواز کو اسلئے لندن بلایا جانا ضروری ہے کہ ان کے چاچو وطن واپس آ کر مسلم لیگ ن کی قیادت سنبھال سکیں۔ کچھ حلقے
پیر 10 فروری 2020ء

قحط الرجال

هفته 08 فروری 2020ء
اشرف شریف
اس بار ہفتہ وار چھٹی پر مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ملنا تھا۔ دو اور دوستوں سے ملاقات طے تھی مگر سب کی مصروفیات میں ایسی تبدیلی آئی کہ میرے پاس اپنے نرسری فارم پر جانے کے سوا کوئی کام نہ رہا۔ گھر آیا اور کئی برسوں بعد ایک نشست میں دو فلمیں دیکھیں۔ دونوں فلمیں پنجابی ہیں مگر ایک پاکستان اور دوسری بھارت میں نمائش کی گئی۔ چھومنتر 1958ء کو ریلیز ہوئی تھی اور اس میں نورجہاں‘ اسلم پرویز‘ظریف جیسے اداکار تھے۔نامور گلوکارہ زبیدہ خانم نے صرف اس فلم میں کام کیا۔ بعدازاں وہ گلوکاری تک محدود ہو گئیں۔
مزید پڑھیے


اتحادیوں کا فٹ بال

پیر 03 فروری 2020ء
اشرف شریف
دو ہفتے قبل تحریک انصاف کی حکومت جن خطرات کا شکار دکھائی دیتی تھی آج وہ ان خطرات سے نجات پا چکی ہے۔ بغاوت پر آمادہ اتحادی اب اپنے طرز عمل کو مشورے اور اصلاح احوال کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب میں ن لیگ‘ پی پی اور ق لیگ کے بعض ارکان تو مخلوط حکومت کی صورت میں وزارت اعلیٰ‘ سپیکر شپ اور وزارتوں تک کی منصوبہ بندی کر بیٹھے تھے۔ صورت حال اس قدر تشویشناک تھی کہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا اجلاس سات روز تک جاری رہا‘ وزیر اعظم کے منع کرنے
مزید پڑھیے


فیاض الحسن چوہان:پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں

هفته 01 فروری 2020ء
اشرف شریف
دوراہے ہمیشہ اس کے سامنے آتے ہیں جو اپنے راستے سے واقف نہیں ہوتا۔ قوم خارجہ تعلقات اور معاشی مجبوریوں سے لڑھکتی ہوئی اس سطح پر آ پہنچی ہے کہ ہمیں ایک آخری موڑ کا انتخاب کرنا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو ہمیں پھر سے کرپشن کی وادیوں‘ جھوٹے اعداد و شمار اور قرض کی طرف لے جائے گا‘ بدلے میں دستار ہی نہیں اس بار سرگروی رکھنا ہوں گے۔ دوسرا راستہ تھوڑا مشکل‘ طویل اور پتھریلا ہے۔ طے کر لیا تو 20کروڑ سر اور ان کی دستاریں بلند رہیں گی۔’’قلم دوست‘‘ نے وزیر اطلاعات پنجاب برادرم فیاض الحسن
مزید پڑھیے


’’میڈم سیکرٹری‘‘ میڈلین البرائٹ کی یادداشتیں

پیر 27 جنوری 2020ء
اشرف شریف
’’موجودہ امریکی تاریخ میں کارٹر سب سے زیادہ مستعد اور باصلاحیت صدر تھے۔ انہوں نے خارجہ محاذ پر کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے سمیت بہت کچھ حاصل کیا تاہم سیاسی اعتبار سے وہ بدقسمت رہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ملکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی سفارتی عملے کو ایران میں یرغمال بنائے جانے کا واقعہ ہماری بے بسی ثابت ہوا۔ افغانستان میں سوویت مداخلت نے ہماری خارجہ پالیسی کو موڑ دیا۔ ری پبلکن امیدوار رونالڈ ریگن ڈیمو کریٹس کی توقعات سے زیادہ متحرک ہوئے۔20جنوری 1981ء کو نئے صدر نے وائٹ ہائوس میں آنا تھا۔ مجھے اور کرسٹائن کو دوپہر
مزید پڑھیے



’’میڈم سیکرٹری‘‘ میڈلین البرائٹ کی یادداشتیں

هفته 25 جنوری 2020ء
اشرف شریف
یہ امریکہ کی ممتاز دانشور ‘ استاد‘ سفارت کار اور سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ کی خود نوشت ہے۔ پہلی بار 2003ء میں شائع ہوئی۔ مجھے عمومی پیرائے میں بیان واقعات متوجہ نہیں کرتے۔ انداز بیان میں علمی روشنی پھوٹتی دکھائی نہ دے تو دل اوبھ جاتا ہے۔میڈلین البرائٹ کمیونسٹ ریاست چیکو سلواکیہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ اور والد ہائی سکول میں ملے اور چند برسوں بعد 1935میں شادی کر لی۔ والدہ کی تعلیم سکول تک تھی تاہم انہیں ثقافتی سرگرمیوں میں ازحد دلچسپی تھی۔ شادی کے بعد وہ پراگ کے ایسے اپارٹمنٹ میں منتقل ہوئے جو فنکارانہ
مزید پڑھیے


مرشد کوں آکھیں آکے ساڈا حال ڈیکھ ونج

پیر 20 جنوری 2020ء
اشرف شریف
سیدمسعود حسنین زیدی ادب دوست زمیندار تھے اس لئے محکمہ امیگریشن سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی اور اپنے والد ڈاکٹر نظیر حسنین زیدی کے نام پر ایک مجلس بنا کر نوادر کا اجرا کیا۔ نوادر کا نام مشفق خواجہ نے تجویز کیا۔ اس مجلس کو مشفق خواجہ کے علاوہ ڈاکٹر وحید قریشی اور ڈاکٹر گوہر نوشاہی کی سرپرستی حاصل رہی۔ زیدی صاحب کو اہل علم و فضل کی میزبانی کا ازحد شوق تھا۔ ایک بار کراچی سے ڈاکٹر سحر انصاری لاہور تشریف لائے۔ زیدی صاحب نے انہیں اپنے ٹھہرایا‘ ممتاز کالم نگارہ رئیس فاطمہ اور ان کے شوہر صحافی
مزید پڑھیے


نواز شریف کے لندن پلان کی کچھ جھلکیاں

هفته 18 جنوری 2020ء
اشرف شریف
معاشرے میں جس طرح کا نظام زر ہو گا اس کا سیاسی ڈھانچہ بھی ویسا ہو گا۔ گندم ‘ چاول اور گڑ صدیوں تک ہماری کرنسی رہے ہیں آج بھی دور دراز کے کسان اجناس کے بدلے ضروریات زندگی خریدتے ہیں۔ اس عہد کے نظام میں جاگیردار کی مدد کے لئے کئی طرح کے عمال حکومت تھے۔ انگریز نے تھوڑا سا نظام بدلا۔ جاگیر دار کی بادشاہت برقرار رکھی بلکہ اسے موروثی اور قابل انتقال بنا کر مزید طاقتور کر دیا۔ اس کی مدد کے لئے ڈپٹی کمشنر‘ تحصیلدار‘ قانونگو‘ پٹواری‘ نمبردار اور چوکیدار پر مشتمل انتظامی مشینری ترتیب دی۔1973ء
مزید پڑھیے


نمک حاضر ہے!

پیر 13 جنوری 2020ء
اشرف شریف
پاکستان جیسے اذیت پسند معاشروں میں نمک کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ مسلم لیگ کے کارکن مایوس ہیں، وہ اس اردوان سے مایوس ہیں جس کی خاطر ٹینکوں کے سامنے لیٹنے کا عزم کیا جاتا رہا۔ وہ اس بھٹو سے ناراض ہیں جو صرف مائیک گرانا جانتا ہے۔ انہیں مریم نامی بے نظیر کا ٹویٹر اکائونٹ خاموش دکھائی دیا تو وہ بیزار ہو گئے۔ کارکنوں کی مایوسی جائز ہے وہ زخمی ہیں اور زخموں پر نمک پاشی کا کام ان کے قائدین سے بہتر کون جانتا ہے۔ کارکنوں کو ان سے ضرور رجوع کرنا چاہئے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم، نیب کے
مزید پڑھیے


آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ : دو آگ دو سانحے

هفته 11 جنوری 2020ء
اشرف شریف
یہ طے کرنے کے لئے زیادہ وقت صرف نہیں ہو گا کہ آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ میں سے کون سی آگ کرہ ارض کے لئے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ ایک زمین زادہ ہونے کی وجہ سے مجھے گھاس کے ہر تنکے، پھول‘ پودوں اور درختوں کے گردمنڈلاتے ہر جانور اور پتنگے سے محبت ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے مجھے افریقہ‘ امریکہ‘ یورپ‘ ہندوستان اور مشرق وسطیٰ میں بے گناہوں کے بدن سے ٹپکنے والے خون کے ہر قطرے پر تشویش ہے۔ آسٹریلیا حیاتیاتی و تباتیاتی تنوع کی سرزمین ہے۔ کرکٹ تو ایک کھیل ہے۔ آسٹریلیا نے زراعت میں اتنی
مزید پڑھیے