BN

اشرف شریف



بابائے امن کے لئے دوستوں کی محفل اور ابصار عبدالعلی


عمران خان ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کینسر سے جنگ کے میدان میں اترے۔ اس کام کے لئے انہیں بہت سے پرخلوص لوگوں کی ضرورت تھی۔ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کی ٹیم بن گئے۔ برطانیہ کے شہر گلاسگو میں ملک غلام ربانی نے پاکستانی کمیونٹی کو متحرک کیا۔ بھلے وقتوں میں لاکھوں روپے جمع کر کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی تعمیر کے لئے بھجوائے۔ میاں نواز شریف نے ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کے لئے قرض اتارو ملک سنوارومہم شروع کی تو ملک غلام ربانی نے 26لاکھ روپے کے عطیات دیے۔ اب وہ
پیر 24 دسمبر 2018ء

ریشم کے کیڑے‘ شیخ رشید اور ایس ایم ای سیکٹر

پیر 17 دسمبر 2018ء
اشرف شریف
میں چھانگا مانگا جنگل کے اس حصے میں جانکلا تھا جس کی کہانیاں ابا جی سنایا کرتے ہیں۔ کبھی یہاں موسم بہار امنڈتا تھا۔ شاخوں سے پتے پھوٹتے مگر سبز رنگ آسمان سے گویا برس رہا ہوتا۔ یہاں جاپان کے تعاون سے ایک سو ایکڑ رقبے پر توت کے درخت لگے ہیں۔ ڈیوٹی پر سریکلچر ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہلکار موجود تھا۔ وہ مجھے اپنا شہری بابو سمجھ چکا تھا جو اپنے درختوں اور ان کے استعمال سے ناواقف ہو۔ چھانگا مانگا جنگل اور توت کے درختوں کے بعد میں ریشم کے کیڑوں کے موضوع کی طرف آیا تو اسے یقین
مزید پڑھیے


لاہور میں تحریک انصاف کی ابھرتی کمزوریاں

پیر 10 دسمبر 2018ء
اشرف شریف
پی ٹی آئی حکومت کو درپیش معاشی بحران کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آ رہا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کی محنت اور دیانتداری کو کسی طریقے سے قوم کے لئے فائدہ بخش بننے سے روکا جا رہا ہے۔ زیادہ آسانی سے بات سمجھنا ہو تو وہ جو عمران خان نے کہا تھا ’’یہ جمہوریت خطرے میں ہونے کا شور مچائیں گے‘‘ لیکن لگ یہ رہا ہے کہ تحریک انصاف کو کوئی اندر سے کھوکھلا کرنے کے مشن پر ہے۔ جونہی حکومت نے اپنے پہلے سو روز مکمل کئے اس پر نئے حملے ہو گئے۔ ان حملوں کا موقع
مزید پڑھیے


کرتارپورراہداری پاکستان کی کیا مدد کر سکتی ہے

پیر 03 دسمبر 2018ء
اشرف شریف
پہلا منظر آپ کی آنکھوں میں اس وقت سبزہ گھول دیتا ہے جب آپ نارووال سے آنے والی پتلی سی پختہ سڑک سے اتر کر اس سے بھی دبلی سڑک کی طرف موڑ کاٹتے ہیں۔ دونوں طرف کھیت، ایک گھمائو کے دوران نزدیک آتا گائوں یکایک دور ہو جاتا ہے اور آنکھوں کے سامنے ایک سفید عمارت ابھرتی ہے۔ گیٹ پر محافظ ہیں، راہداری کے دائیں طرف کنٹینر نما عارضی رہائش گاہیں بنی ہیں جہاں سکھ یاتری قیام کرتے ہیں۔ تھوڑا آگے بڑھیں تو بائیں طرف وہ مقدس کنواں ہے جہاں سے سکھ مت کے بانی بابا گورونانک پانی نکالا
مزید پڑھیے


سیاست دان نیب سے کیوں پریشان ہیں

پیر 26 نومبر 2018ء
اشرف شریف
ایسے لوگ نیب کے مظالم بیان کر رہے ہیں جو ذاتی طور پر لوگوں پر تشدد اور ظلم کرنے میں معروف ہیں۔ ان لوگوں نے اداروں کو تشدد پسند بنایا۔ پنجاب پولیس نے سابق حکمرانوں کے سیاسی مخالفین کو کس طرح خاموش کرایا کیا یہ کہانیاں کسی کو یاد نہیں؟ آصف زرداری بھلے اس بات کو مفاہمتی سیاست کی نذر کر کے خاموش ہو جائیں مگر یہ تاریخ کا حصہ تو رہے گی کہ دوران قید ان کی زبان کاٹنے کی کوشش مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تفتیشی افسران نے ہی کی تھی۔ کہانیاں تو اتفاق فائونڈری کی
مزید پڑھیے




مستنصر تارڑ کا ’’ڈاکیا اور جولاہا‘‘

پیر 19 نومبر 2018ء
اشرف شریف
مستنصر حسین تارڑ کا ناول ’’جولاہا اور ڈاکیا‘‘ چند ہفتے قبل پڑھا۔ بڑا صبر آزما ناول ہے۔ دراصل تارڑ صاحب ہر وقت ایک نیا تخلیقی تجربہ کرنے پر کمربستہ رہتے ہیں۔ ان کے لگ بھگ ہر ناول کا ڈھانچہ نئی تکنیک پر استوار ہوتا ہے۔ مثلاً کچھ ناول اس طرح شروع ہوتے ہیں کہ انجام کو شروع میں بیان کر کے پھر آغاز ہوتا ہے، بالکل ایسے جیسے فلیش بیک ہو۔ بعض ناول روایتی انداز سے شروع ہوتے ہیں۔ واقعات کو ابتدا سے آگے بڑھا کر انجام تک لایا جاتا ہے۔ جولاہا اور ڈاکیا ان دونوں طرح کی ہنرکاری سے
مزید پڑھیے


تشدد کی مصنوعات خریدنے والے

پیر 12 نومبر 2018ء
اشرف شریف
ہماری دلچسپی کی دو خبریں ہیں ایک خبر بتاتی ہے کہ مسلم لیگی دور حکومت میں کئی ٹاک شوز کا خرچ سرکاری خزانے سے پورا ہوتا تھا۔ کچھ پروگراموں کو حکومتی پروپیگنڈہ ٹول بننے پر چینل پر اشتہارات کی بارش ہوتی اور کئی جگہ عملے کے اخراجات میں مدد دی جاتی۔ حالیہ دنوں اس طرح کے اشتہارات کی سرکاری خزانے سے ادائیگی روکی گئی تو کچھ حلقے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومتی اشتہارات میں کمی کے باعث میڈیا انڈسٹری میں بحران آیا ہے۔ کیسے کیسے نیک نام سمجھے جانے والے اینکروں کے بارے میں
مزید پڑھیے


مولانا سمیع الحق کے قتل کے سٹرٹیجک پہلو

اتوار 04 نومبر 2018ء
اشرف شریف
وزیر اعظم غربت میں کمی اور بدعنوانی کے خاتمہ کے گر سیکھنے چین گئے اور ملک میں ان کے ایک بڑے حامی مولانا سمیع الحق کو قتل کر دیا گیا۔ ہو سکتا ہے اس قتل کے محرکات نہائت معمولی اور مقامی ہوں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قتل کا فائدہ ان قوتوں کو پہنچے گا جو افغانستان میں پاکستان کا اثرورسوخ کم کرنا چاہتی ہیں۔ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ہمارے اردگرد کھیتوں میں ہل چلائے جا چکے ہیں۔ اب وتر کا انتظار کیا جا رہا ہے کچھ جگہ گندم
مزید پڑھیے


انجم نیاز: لو سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے

پیر 29 اکتوبر 2018ء
اشرف شریف
روزنامہ 92 نیوز کی سینئر کالم نگار انجم نیاز وفات پا گئیں۔ وہ گزشتہ چند ماہ سے کینسر سے لڑ رہی تھیں۔ اس لیے کالموں میں وقفہ آ جاتا۔ کبھی ہماری طرف سے اصرار ہوتا تو برادرم اجمل شاہ دین سات آٹھ سو الفاظ کی تحریر ترجمہ کروا کر میل کردیتے۔ ہم شکوہ کرتے کہ کم از کم گیارہ سو الفاظ تو ہوں۔ انجم نیاز امریکہ میں مقیم تھیں مگر ان کی تحریروں میں پاکستان کی تصویریں اس قدر بھری ہوئی ہوتیں کہ گمان ہوتا وہ اسلام آباد میں ہیں۔ وہ پاکستان کے بڑے بڑے باخبر صحافیوں سے زیادہ باخبر
مزید پڑھیے


پاک سعودیہ تعلقات: کچھ کنکر ہٹا دیں

پیر 22 اکتوبر 2018ء
اشرف شریف
گزشتہ جمعرات کے روز دفتر سے چھٹی تھی مگر برطانیہ کے تین بڑے اخبارات گارڈین، ڈیلی میل اور انڈیپنڈنٹ سے وابستہ جوناتھ سٹیل، کم سین گپتا اور امانڈا کوکلے نے آفس آنا تھا، ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور سی پیک کے تناظر میں خطے میں رونما اہم تبدیلیوں پر مکالمہ ہونا تھا۔ آخری وقت بتایا گیا کہ وفد پہلے سے کچھ مصروفیات میں الجھ کر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ انہیں اسلام آباد روانہ ہونا تھا سو یہ مکالمہ نہ ہوسکا۔ کم سین گپتا کے کئی کالم ہم نے ترجمہ کر کے 92
مزید پڑھیے