Common frontend top

ڈاکٹر محمد سلیم شیخ


مکالمہ، مفاہمت اور مراجعت


زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے، جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔ ساغر صدیقی کا یہ شعر پاکستان کی مجبور ،بے بس اور غریب عوام کی حالت زار پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ر وزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے مسائل،بے یقینی اور ناامیدی میں گھرا سیاسی نظام جو اپنی سمت کھو چکا ہے اور سیاست جیسے بند گلی میں آ چکی ہو۔ ریاستی ادارے باہم برسرپیکار ہو کر عوام کا اعتماد کھو رہے ہیں ۔ریاستی اداروں کا باہم ارتباط کمزور ہو چکا ہے ۔ مداخلت اور بالادستی کی کشمکش نے ان کے اعتبار اور وقار
هفته 15 جون 2024ء مزید پڑھیے

قربانی کے تقاضے اور مقصدیت

بدھ 12 جون 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
ذوالحجہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے جو انتہائی اہم اور محترم ہے اور یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کی حرمت بیان کی گئی ہے ۔ (بقیہ تین ذیقعد، محرم اور رجب ہیں) اس مہینے کی آٹھ سے بارہ تاریخ حج کے ایام ہیں ۔یہ ایام عبودیت کی انتہائی تربیت اور اس کے اظہار کے لئے ( صاحب استطاعت مسلمانوں پر ) فرض کئے گئے ہیں ۔ اس ماہ کی دس تاریخ کو عید الاضحی کے موقع پر امت مسلمہ جانوروں کی قربانی دیتے ہوئے اس دینی شعار سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتی ہے۔
مزید پڑھیے


حضرت ادب گلشن آبادی : صوفی ، ادیب اور شاعر

پیر 10 جون 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
کردار کی پختگی ، معاملات میں دیانت داری ،مذہب میں میانہ روی اور معاشرت میں سادگی انسانی شخصیت کی وہ خوبیاں ہیں جو ’مطلوب و مقصود مومن ‘ ہیں ۔یہی انسانی سماج کی ترقی اور اس کے اوج کمال تک پہنچنے کا سیدھا اور واضح راستہ ہے ۔جس پر استقامت کے ساتھ چلنے کی تلقین کی گئی ہے۔اس راہ ہدایت پر کامیابی ان کا ہی مقدر ہوتی ہے جو مقصد زندگی کو سمجھ کر خود بھی اس پر عمل پیرا رہتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی راستے روشن رکھتے ہیں۔ ہدایت کے مراحل کو نصاب زیست
مزید پڑھیے


جمہوری سیاست اور زمینی حقائق

پیر 27 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
جمہوری سیاست میں سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو جن بنیادی باتوں کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے ان میں عوامی مسائل کی سب سے زیادہ اہمیت ہے ۔ عوامی نمائندگی کی بنیادپر حکمرانی حاصل کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ریاست عوامی حقوق کی ضامن ہو ،جان،مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ دار ہو ۔ایساماحول موجود ہو جس میں فرد اپنی معاشی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے میں آزاد ہو ۔ مگر یہ بات باعث حیرت ہے کہ پاکستان کے جمہوری سیاسی نظام میںعوام اور ان کے مسائل کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا
مزید پڑھیے


’’ جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے ‘‘

جمعرات 16 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
ڈاکٹر فاروق عادل کی اس کتاب کے عنوان میں ایک جہان معانی پوشیدہ ہے۔ہر دور میں تاریخ کے ساتھ یہ رویہ رہا ہے ۔سیاست اور سماج کے مقتدر طبقات نے تاریخ لکھے جانے پر ہمیشہ اپنا جبر قائم رکھنے کی کوششیں کی ہیں ۔ جب واقعاتی حقائق مصلحت کی آڑ میں دھندلادیے جائیںاور واقعات کے اسباب و نتائج کو من پسند زاوئیے سے دیکھنا اور دکھانا ضروری سمجھ لیا جائے تب جان لیجئے کہ مئورخ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے مگر مصلحت کی دبیز چادر کی اوٹ میں چھپنے والے فیصلہ ساز شاید اس بات سے بے
مزید پڑھیے



جمہوری سیاست اور مذاکرات

جمعرات 09 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
تین سیاسی جماعتوں ( مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ) سے مذاکرات نہیں ہونگے۔ وفاق اور تین صوبوں کی حکومتیں تسلیم نہیں کرتے ۔ مذاکرات صرف اسٹیبلشمنٹ سے ہونگے ۔سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اور اسی طرح کے مخمصوں اور الجھنوں میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاست گھری ہوئی ہے۔ آج کچھ بیان اگلے دن کوئی اور بیان ۔ آج کسی ترجمان کی وضاحت اور اس کے بعد کسی اور ترجمان کی جانب سے اس وضاحت کی بھی وضاحت ۔ پا رلیمانی سیاست میں تمام
مزید پڑھیے


’’ کوئے دلبراں ‘‘ کی سیر

هفته 04 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
ڈاکٹر طاہر مسعود ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔ایک شفیق اور مہربان استاد، خاکہ نگار، انٹرویو نگار، افسانہ نگار، شاعر ، کالم نگاراور اس پر مستزاد ایک صوفی ( راہ سلوک کا بے چین مسافر)۔ہر حیثیت میں منفرد و یکتا بالخصوص انٹرویو نگاری میں جس جراٗت اور بے ساختگی کو اختیا ر کیا اس سے انٹرویو نگاری کو بلا شبہ ایک نئی جہت فراہم ہوئی ، بعینہہ یہی اسلوب قدرے جراٗ ت کے ساتھ انہوں نے خاکہ نگاری میں بھی اپنائے رکھا ۔ زیر مطالعہ ’’ کوئے دلبراں ‘‘ دو جلدوں پر مشتمل ہے
مزید پڑھیے


کیا اسحاق ڈار ناگزیر ہیں !!

بدھ 01 مئی 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
وزیر اعظم صاحب سعودی عرب کے دورے پر ہیں اسی دوران یہ ضروری سمجھا گیا کہ جناب اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیر اعظم بنادیا جائے۔وہ وزیر خارجہ کے منصب پر پہلے ہی فائز ہیں ۔یہ اور بات کہ وہ اس پر خوش نہیں تھے ۔ اسحاق ڈار کی اہلیت سے قطع نظر ( وہ ایک چارٹرڈ اکاوئنٹنٹ ہیں ) یہ بات حیرت کا باعث بنی ہے کہ شہباز حکومت پر اچانک ایسی کیا افتاد آپڑی کہ ان کے دورہ ء سعودی عرب کے دوران ہی انہیں ڈپٹی وزیر اعظم
مزید پڑھیے


ہم پاکستانی۔۔قوم کب بنیں گے !

جمعرات 18 اپریل 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
یہ وہ سوال ہے جو 84 برس کے محمود شام کو آج بھی بے چین کئے رکھتا ہے اوروہ اس سوال کے جو اب کے لئے وہ ارباب سیاست اور اکابرین ملت اور فیصلہ سازوں کے ذہنوں کو ٹٹولتے رہے ہیں ۔یہ بات باعث رشک ہے کہ وہ اس عمر میں بھی پوری توانائی کے ساتھ قلم و قرطاس سے جڑے ہوئے ہیں۔رب کریم صحت او ر آسودگی کے ساتھ ان کی یہ توانائیاں سلامت رکھے اور وہ اسی طرح خرد افروزی میں اپنا حصہ شامل کرتے رہیں۔ محمود شام صحافتی ادبی اور سیاسی حلقوں میں صبح کے ستارے کی
مزید پڑھیے


اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے !!

منگل 09 اپریل 2024ء
ڈاکٹر محمد سلیم شیخ
سیاست ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر دائرے کا سفر ثابت ہو رہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے ہم قوم کی حیثیت سے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔دو قدم آگے بڑھتے ہیں تو پھر چار قدم پیچھے پلٹ جاتے ہیں ۔ فروری میں ہونے والے انتخابات نے معاملات کو اور زیادہ گھمبیر کردیا ہے۔ یہ امید تھی کہ انتخابات کے بعد سیاسی فضا پر چھائی ہوئی دھند چھٹ جائیگی اور ایک مستحکم سیاسی حکومت کے قیام کے بعد ملک آگے کی طر ف اپنا سفر شروع کرسکے گا۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں