سعدیہ قریشی



روحی بانو کی کلینکل موت


زندگی کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے روحی بانو روز مرتی تھی۔ شاید اسی لیے 25 جنوری 2019ء کو روحی کی کلینکل موت کی خبرمیں کچھ نیا پن نہیں تھا۔ روز مرنے کا ایک تسلسل ہو جیسے۔ ہاں مگر وہ روزمرنے کی اذیت سے نکل کر آسودہ ہوگئی۔ روحی بانو کی موت پر وہ روایتی جملے نہیں لکھے جاتے جو عموماً مشہور اور معروف مرنے والوں کی موت پر کہے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ فلاں کی وفات پر بہت دکھ ہوا۔ ان کے جانے سے خلا پیدا ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ روحی بانو کی افسوس بھری زندگی جن کے سامنے تھی‘ انہیں اس
اتوار 27 جنوری 2019ء

غم زدہ لوگوں کو پروڈکٹ سمجھنے والا میڈیا

جمعه 25 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ جس میں ایک صحافی موصوف ایک ننھی بچی سے سوالات کرتے ہوئے‘ بے حسی پر مبنی صحافت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں۔ ننھی بچی جس نے ابھی اپنی آنکھوں سے اپنے ماں اور باپ کے ہولناک قتل کا سانحہ دیکھا ہو۔ اس سے سوال کر رہے ہیں‘ بلکہ کرید کرید کر پوچھ رہے ہیں۔ ’’آپ کے ابو کہاں ہیں؟ آج صبح آپ کی ان سے ملاقات ہوئی؟۔ بچی حیران پریشان جواب دیتی ہے’’ نہیں‘‘پھر وہ موصوف ایک اور سوال داغتے ہیں۔ کیوں ملاقات نہیں ہوئی۔ آپ کے ابو کہاں گئے ہیں۔ بچی معصومانہ انداز میں کہتی ہے’’وہ
مزید پڑھیے


یہ ہوتی ہے تبدیلی…

بدھ 23 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
عمر‘ منیبہ اور ہادیہ۔ تین کم نصیب بچے‘ عمریں بالترتیب 11 سال‘ سات اور چار سال۔ ان کے ساتھ جو ہولناک قیامت بیتی اس کی مذمت کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ 19 جنوری کی صبح گھر سے چاچو کی شادی پر جانے کے لیے نکلے‘ ماں نے بہترین کپڑے بچوں کو پہنائے اور خود بھی اچھی تیاری کی۔ نئے چمکتے دمکتے کپڑے اٹیچی کیسوں میں رکھے‘ شادی پر جانے کی سو تیاریاں ہوتی ہیں‘ کئی ہفتوں سے ماں انہی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی اور پھر خاندان میں شادی ہو تو ناک رکھنے کو بہت سے اضافی خرچے
مزید پڑھیے


گھر میں بے روزگاری کا کہرام

جمعه 18 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی

آج کا اخبار کھولا تو کالم کے صفحات پر جہاں دیدہ سینئر صحافی مجاہد بریلوی صاحب کے کالم پر نظر پڑی۔ کالم کا عنوان تھا’’سعودیہ میں پاکستانیوں پر کیا گزر رہی ہے…؟ اس کالم میں جناب مجاہد بریلوی نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں مزدوری کے لئے گئے پاکستانیوں کی جس حالت زار کا تذکرہ کیا ہے وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ برس ہا برس سے کام کرنے والے غریب پردیسیوں کو کس طرح مالدار بزنس گروپ بیک جنبش قلم بے روزگار کر دیتے ہیں۔ ہزاروں بے روزگار ہونے والے پاکستانی انصاف کے لئے عدالت سے کر سفارت
مزید پڑھیے


واشنگٹن میں قابل فخر پاکستانی۔ قاضی منان

بدھ 16 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
قاضی منان سے ہماری ملاقات واشنگٹن ڈی سی میں حلال سکینہ گرل میں ہوئی جہاں ہم پاکستانی کھانے کی تلاش میں پہنچے۔ ہم تین لوگ تھے پرنٹ میڈیا کی صحافی گلناز نواب‘ ریڈیو آر جے سعدیہ رفیق اور میں۔ واشنگٹن ڈی سی میں ہمیں دو دن ہو چکے تھے اور ہم پاکستانی کھانے کو ترسے ہوئے تھے۔ پاکستانی ریسٹورنٹ گوگل کیے تو اس میں سکینہ حلال گرل کا نام سرفہرست تھا جو ہمارے ہوٹل سے نزدیک ترین مسافت پر تھا۔ جونہی ریستوران کے اندر داخل ہوئے پاکستانی کھانوں کی خوشبو نے ہمارا استقبال کیا۔ کچھ دیر بعد ہم واشنگٹن ڈی
مزید پڑھیے




امریکی میزبانی اور حلال کھانے کی تلاش

اتوار 13 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
دیارِ غیر کے جتنے بھی سفر نامے ہم نے اپنے ادیبوں اور شاعروں کے پڑھ رکھے تھے ان میں جا بجا‘ ان کے پاکستانی مداحوں اور میزبانوں کی طرف سے سجائی گئیں دعوتوں‘ ظہرانوں اور پرتکلف عشائیوں کی کہانیاں پڑھنے کو ملتیں ایک تو ہمارے شاعر اور ادیب اپنی تخلیقات کے بل بوتے پر اتنے مشہور و معروف اور ہر دل عزیز ہوتے ہیں اور بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں جو اردو ادب سے محبت کرتے ہیں۔ دیار غیر میں بسنے والے وہ پاکستانی جو سالہاسال کی پردیسی کاٹ کر جب خوشحالی کے سرسبز خطے میں داخل ہو جاتے
مزید پڑھیے


ڈینور‘ دونا برائسن اور تاریخی ویمن پریس کلب

جمعه 11 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ڈینور میں قیام کی ایک خوب صورت یاد وہاں کے تاریخی ویمن پریس کلب کا وزٹ تھا جہاں پاکستانی صحافیوں کے وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف کافی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ 12دسمبر کو جب ہم اس روز کی مختلف نشستیں اور انٹرایکٹو سیشن نمٹانے کے بعد ڈینور کے تاریخی ویمن پریس کلب پہنچے دن‘ سرمئی شام میں چھل رہا تھا۔ وہاں اتنے روشن اور محبت بھرے چہروں نے ہمارا استقبال کیا کہ دن بھر کی تھکن اور بوریت جیسے ہوا ہو گئی۔ سنہری ‘ گولڈن برائون‘ مہندی رنگ‘ سرمئی اور سفید ہر رنگ کے بالوں والی خواتین‘ خوبصورت لباس پہنے
مزید پڑھیے


ٹیکساس‘وینڈی ہنّہ۔ عافیہ اور اداسی

بدھ 09 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
امریکہ میں ہمارا تیسرا پڑائو ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں تھا۔ ڈینور سے ڈیلس جاتے ہوئے ہمیں ہوسٹن سے کینکٹڈ فلائٹ لینا تھی ہوسٹن ایئر پورٹ پر چند گھنٹوں کا ٹرانزٹ تھا۔ ٹیکساس اور ہوسٹن کے ساتھ ہی جو تیسرا نام ذہن میں آیا وہ کم نصیب عافیہ صدیقی کا تھا۔ کیونکہ وہ ہوسٹن کی جیل میں جبر مسلسل کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ دل پر ایک عجیب سا بوجھ اور اداسی سی چھا گئی اور اپنی اور اپنے ملک کی بے بسی کا شدید احساس ہوا۔ عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ہر آنے والی حکومت سے امید لگاتی
مزید پڑھیے


پروفیسر ونڈھم کی میزبانی اور ہم… (2)

اتوار 06 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ہمارے امریکی میزبان پروفیسر ونڈھم لوپسیکو ‘ یونیورسٹی آف ڈینور میں (global perspective of business)کے استاد تھے اور عالمی منڈی کے سیاسی اور معاشی زاویوں پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ وہ ایک جہاندیدہ‘ کایاں اور کسی حد تک متعصب دانشور تھے۔ اس کے علاوہ وہ ڈینور میں welaکے نام سے ایک کاروباری مشاورت کی کمپنی کے مالک تھے۔ جو دنیا کے دوسرے ملکوں میں کاروبار کرنے کے خواہش مند امریکیوں کو پیشہ ورانہ مدد اور مشاورت دیتی ہے۔ بہرحال پروفیسر ونڈھم نے آغاز میں ہمارے ساتھ پروفیسروں والا رویہ اختیار کرتے ہوئے ہم پر تابڑ توڑ سوالات کرنے شروع کر دیے۔
مزید پڑھیے


پروفیسر ونڈھم کی میزبانی اور ہم

جمعه 04 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
11دسمبر 2018ء ڈینور کولو روڈو کی ایک یخ بستہ شام تھی اور ہم پروفیسر ونڈھم کے گھر ڈنر پر مدعو تھے۔ انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام میں یہ ایک ہوم ہوسپٹیلیٹی کا سیگمنٹ تھا جس میں تمام ممبرز کو چار چار کے گروپ میں بانٹ کے کسی امریکی گھرانے میں ڈنر پر جانا تھا۔ یہ ہمارے پروگرام کا بہت دلچسپ حصہ تھا کیونکہ ابھی تک ہم واشنگٹن ڈی سی اور ڈینور کولوروڈو میں مختلف یونیورسٹیوں اداروں اور میڈیا ہائوسز کے وزٹ کر رہے تھے لیکن اس طرح کسی امریکی خاندان کے گھر جا کر ان کے رہن سہن طور طریقوں کو
مزید پڑھیے