Common frontend top

علی احمد ڈھلوں


پی ٹی آئی الیکشن سے باہر: اب مسئلہ کیا ہے؟


بھلا الیکشن کی کیا ضرورت ،،، غریب ملک کے 50ارب روپے بچائیں،،، کیوں کہ سبھی جانتے ہیں کہ رزلٹ کیا آئے گا!اور پھر سب سے اہم بات کہ اس فعل کا تعلق نہ تو جمہوریت سے ہے اور ہی آئین و قوانین سے۔ بلکہ یہ تو محض ایک مذاق ہے اور وہ بھی پوری قوم کے ساتھ۔ پوری قوم 9مئی جیسے واقعات کے خلاف ہے، کوئی بھی اس پر Appreciateنہیں کر رہا۔ بلکہ پکڑے جانے والے افراد اور اُن کے لواحقین بھی اس واقعہ کی مذمت کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ اُن کے خلاف بھی سازش
منگل 23 جنوری 2024ء مزید پڑھیے

پاک ایران : نیا محاذ !

هفته 20 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
بس اب سمجھ لیں کہ الیکشن ملتوی کرنے کا ایک جواز مل گیا ہے،،، وہ بھی پاک ایران کشیدگی کی صورت میں۔ تادم تحریر قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہوسکی۔ لیکن بادی النظر میں اشارے کنائے میں باتیں ہو رہی ہیں کہ شاید وزیر اعظم صدر مملکت کو ایمرجنسی کی سمری بھیج دیں۔ جس کے بعد الیکشن تو گئے!! لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا واقعی پاک ایران تعلقات اس نہج تک آچکے تھے کہ دوست ممالک چند لمحوں میں تعلقات اس نہج پر لے آئے کہ ایک دوسرے کی سرحدی حدود کا بھی احترام نہ کیا۔
مزید پڑھیے


میں ووٹ کس کو دوں؟

جمعرات 18 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
الیکشن جوں جوں قریب آرہے ہیں، ذہن کی سکرینوں پر پڑی گرد بھی آہستہ آہستہ چھٹ رہی ہے۔ اور سب چیزیں آہستہ آہستہ کلیئر بھی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس الیکشن میں اعداد و شمار کے مطابق 2018ء کے الیکشن کے مقابلے میں اس مرتبہ 2024ء کے انتخابات میں 12 لاکھ زیادہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ان نئے ووٹرز کے اندراج کے بعد پاکستان میں ووٹرز کی تعداد 127 ملین ہوگئی ہے۔جن میں خواتین ووٹرز کی تعداد 6کروڑ کے قریب جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد پونے 7کروڑ کے قریب ہے۔ ان ووٹرز میں سے 18 سے 35
مزید پڑھیے


بحران در بحران !

منگل 16 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
اور پھر جو چاہا گیا، حسب منشاء ویسا ہی ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو الیکشن 2024ء سے آئوٹ کر دیا گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے بعد پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرکے تحریک انصاف سے اُس کا انتخابی نشان بلّا واپس لے لیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت انتخابی عمل سے باہر ہوگئی۔ تحریک انصاف کے 14 ارکان نے پارٹی انتخابات کے بارے شکایات الیکشن کمیشن کو بھجوائی تھیں
مزید پڑھیے


الیکشن سے پہلے کی کشمکش !

هفته 13 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
ویسے تو اس ملک میں 90فیصد سرکاری ملازمین کسی نہ کسی ذریعے سے کرپشن میں ملوث ہیں، لیکن پکڑا وہ جاتا ہے جس کی فائل کھلتی ہے، یا جو اپنے بڑوں کے ساتھ سینگ پھنسا لیتا ہے۔ تبھی عالمی رینکنگ میں ہمارے سرکاری ادارے کم و بیش آخری دس نمبروں میں آتے ہیں۔ ویسے تو ان سرکاری افسران کو سینگ نہیں پھنسانے چاہئیں کیوں کہ جب آپ آئوٹ آف دی وے سہولت لیتے ہیں تو پھر ذہنی طور پر تیار بھی رہنا چاہیے کہ افسران بالا کسی بھی قسم کا تقاضا آپ سے کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے
مزید پڑھیے



تاحیات نااہلی ختم

جمعرات 11 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
اس وقت جتنا موسم سرد ہے، اُتنا ہی سیاسی طوفان مچا ہوا ہے، ویسے تو سیاسی طوفان ملک کے لیے اچھا ہوتا ہے، ہر طرف گہما گہمی ہوتی ہے، سردی ہو، گرمی ہو، بارش ہو، کارکن سڑکوں پر ہی نظر آتے ہیں مگر یہ سیاسی طوفان سڑکوں پر نہیں بلکہ اداروں میں دیکھا جا رہا ہے، کہیں کاغذات نامزدگی بحال کیے جا رہے ہیں تو کہیں مسترد۔ کہیں الیکشن کمیشن میں مختلف قسم کی خبریں آرہی ہیں تو کہیں زبردست دبائو کی خبریں باز گشت کر ہی ہیں۔ اور آج ہی کی خبر ہے کہ جسٹس مظاہر علی نقوی نے
مزید پڑھیے


کیاواقعی الیکشن ہوں گے؟

منگل 09 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
اتوار کو ایک بار پھر الیکشن کمیشن سارا دن خبروں میں رہا۔ قیاس آرائیاںکی جاری تھیں کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان نے دبائو میں آکر استعفیٰ دیا ہے، مگر بعد ازاں خبریں آئیں کہ وہ بیمار ہیں، لیکن قیاس آرائیاں ابھی بھی جاری ہیں، کیوں کہ الیکشن کو صرف ایک ماہ رہ گیا ہے۔اس طرح کی خبر آنا واقعی تشویشاک ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کی دو سالہ مدت ِملازمت گزشتہ برس جولائی میں ختم ہوگئی تھی تاہم چیف الیکشن کمشنر نے ان کی مدتِ ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر دی
مزید پڑھیے


کیا الیکشن ملتوی ہونا واقعی ملکی مفاد میں ہے؟

هفته 06 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
کل ذوالفقار علی بھٹو کی 96ویں سالگرہ تھی اور سالگرہ کے دن ہی پیپلزپارٹی سمیت سینیٹ میں موجود دیگر جماعتوں نے بل پیش کیا کہ الیکشن کے لیے حالات ساز گار نہیں ہیں اس لیے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کر دیا جائے۔ اور پھر پوری قوم نے دیکھا کہ یہ قرارداد ’’کثرت رائے‘‘ سے منظور بھی کر لی گئی۔کثرت رائے کا مطلب 14اراکین میں سے 12نے اس کے حق میں اور 2نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ حالانکہ سینیٹ اس وقت 100اراکین پر مشتمل ہے، جن میں سب سے زیادہ تحریک انصاف کے اراکین 27 ،
مزید پڑھیے


اقتداراور نظریہ ضرورت!

جمعرات 04 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
آج ایک بار پھر سپریم کورٹ آف پاکستان میں ’’تاحیات نااہلی کیس‘‘ کی سماعت ہو رہی ہے۔ یہ درخواست دو سیاستدانوں نواز شریف اور جہانگیر ترین کی طرف سے دائر کی گئی تھی، کیوں کہ ان دونوں رہنمائوں کو تاحیات نااہلی کا سامنا ہے۔ ہو سکتا ہے آج سماعت مکمل ہو جائے اور کیس کا فیصلہ بھی جاری کر دیا جائے، یا اُسے ’’محفوظ‘‘ کر دیا جائے۔ قانونی ماہرین نے اس حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ ماضی میں تاحیات نااہلی کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 62اور 63کو الگ الگ دیکھ کر غلط فیصلے کیے گئے۔ آئین کے
مزید پڑھیے


نیا سال اور ہمارا خستہ حال ملک!

منگل 02 جنوری 2024ء
علی احمد ڈھلوں
نیا سال 2024ء شروع ہو چکا ہے، 2023ء تاریخ کی بڑی غلطیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ آنکھیں بند کر چکا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ کبھی اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ اور نہ ہمیں کوئی پچھتاوا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بلکہ کامیاب کمپنیوں میں ہر سال ان چیزوں کا احاطہ کیا جاتا ہے جن سے اُن کی ساکھ خراب ہوئی ہو اور نئے سال کے لیے ٹارگٹ سیٹ کیے جاتے ہیں لیکن یہاں حکومتی سطح پر ا یساکوئی رواج نہیں تو عوامی سطح پر کیسے ہوگا ؟ ہم تو جمہوریت کے فروغ کے لیے کام تو دور
مزید پڑھیے








اہم خبریں