Common frontend top

علی احمد ڈھلوں


2023ء ایک اور بدترین سیاسی سال !


سال 2023ء کا آغاز پی ڈی ایم کی نام نہاد حکومت کے ساتھ ہوا، جس نے 77سالہ پاکستانی تاریخ کی ریکارڈ 49فیصد تک مہنگائی کی۔ اس کا سہرا یقینا نواز لیگ کے سر پر ہوگا کیوں کہ وزیر اعظم سمیت وزراء کی بڑی تعداد اُنہی کی تھی۔ اسی سال مذکورہ جماعت کے سربراہ اور سزا یافتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی ’’علاج ‘‘ کے بعد پاکستان واپس آئے، پھر اُن کی سزائیں بھی معطل ہوئیں اور الیکشن کے لیے اُنہوں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ دوسری طرف تحریک انصاف خاصی دبائو کا شکار رہی، یا دوسرے لفظوں
هفته 30 دسمبر 2023ء مزید پڑھیے

ایسا الیکشن ؟

جمعرات 28 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
پیشگی معذرت چاہوں گا کہ میں نے اپنے کرئیر میں اس قسم کا تنازعات سے بھرا الیکشن نہیں دیکھا۔ جس میں کبھی ایک جماعت کے عہدیداروں کو نکال باہر کیا جاتا ہے، تو کبھی اُسی جماعت کے اراکین کی پکڑ دھکڑ پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا ،، اور تو اور کبھی اُس کے انٹرا پارٹی الیکشن کو ہی غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جاتا ہے ،کبھی اُس سے انتخابی نشان ہی واپس لے لیا جاتا ہے۔ جسے بعد ازاں عدالت عالیہ کے حکم پر واپس کیا جاتا ہے۔ ویسے ہم نے اپنی زندگی میں بہت سے
مزید پڑھیے


بے نظیر شہید آج کیا سوچتی ہوں گی!

منگل 26 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی واحد خاتون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں قتل کردیا گیا۔کل اُن کی 16 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ بے نظیر بھٹو کے چاہنے والے اور معتمدین آج بھی ان کے ساتھ گزرے ہوئے ایام کو یاد کرتے ہیں ، کیوں کہ بے نظیر بھٹو شہید پاکستان کا روشن چہرہ اور روشن مستقبل تھیں،انہیں عالمی سطح پر آئرن لیڈی، مشرق کی شہزادی، دخترِ اسلام اور مشرق کی بیٹی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔محترمہ بینظیر بھٹو شہید وفاقِ پاکستان کی علامت اور
مزید پڑھیے


کیا ریاست ماں کی طرح نہیں ہوتی؟

هفته 23 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
جب بھی بلوچستان میں امن کی ایک ہلکی سی اُمید نظر آتی ہے تو کہیں نہ کہیں سے چنگاری سُلگا دی جاتی ہے، یہ چنگاری شاید دشمن ملک کی طرف سے یا ملک دشمن عناصر کی طرف سے پھینکی جاتی ہے، مگر استعمال ہمارے لوگ ہو جاتے ہیں۔ جیسے رواں ہفتے ہی خبر آئی تھی بی این اے کے سربراہ سرفراز بنگلزئی عرف مرید بلوچ اپنے70ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے۔ یہ پاک فوج کے لیے واقعی بڑی کامیابی ہے مگر 6دسمبر سے کوئٹہ سے روانہ ہونے والے بلوچ یکجہتی مارچ پر جو بدھ
مزید پڑھیے


الیکشن کروانے کے بعد کیا ہوگا؟

جمعرات 21 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
اس وقت 95فیصد امکان ہے کہ 8فروری کو الیکشن ہو جائیں گے، کیوں کہ آہستہ آہستہ الیکشن میں کھڑی تمام رکاوٹیں ختم ہو رہی ہیں۔ جیسے حلقہ بندیوں پر اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا ہے، پھر لاہور ہائیکورٹ کے بیوروکریسی سے الیکشن کروانے کے حوالے سے فیصلے کو سپریم کورٹ نے رد کر دیا ہے، اور پھر الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ کے کہنے پر الیکشن شیڈول جاری کر دیا ہے۔ جبکہ اگر کہیں مسئلہ ہے تو یہ ہے کہ تمام جماعتوں کو الیکشن مہم کے لیے یکساں مواقع فراہم نہ کرنا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر
مزید پڑھیے



پروٹوکول… ملک تباہ ہونے کی بڑی وجہ !

منگل 19 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
یہ کیسا ملک ہے، جہاں دوالگ طبقات رہتے ہیں، ایک وہ جسے اشرافیہ کہتے ہیں اور دوسرا وہ جسے ’’عام آدمی‘‘ کہتے ہیں۔ ایک وہ جو ہیلمٹ نہ پہننے یا سگنل توڑنے پر حوالات میں رات گزارتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ بندے مار کر بھی گھر میں چین کی نیند سوتا ہے۔ ایک وہ جس کو انصاف پہنچانے کے لیے دن رات عدالتیں کھلی ہیں جبکہ دوسرا وہ جس کی کئی کئی نسلیں ’’فیصلے‘‘ کے انتظار میں گزر گئیں۔ ویسے ہمیں پاکستان بننے سے پہلے کے حالات کا توآنکھوں دیکھا حال نہیں معلوم… اس وقت دو قومی نظریہ سامنے
مزید پڑھیے


16دسمبر 1971ء : ہم غلطیوں سے کیوں نہیں سیکھتے؟

هفته 16 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
یوم سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے گا۔ بلا یہ دن ہمیںتاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے لیکن1971ء سے لیکر آج تک52سالوں میں ہم نے اس سانحہ سے کچھ نہیں سیکھا، بلکہ آج بھی حالات ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے، فرق صرف اتنا ہے کہ گزشتہ دور کی نسبت اس دور میں جمہوریت کا تڑکہ زیادہ لگایا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں سانحے کے پیچھے دشمن ملک کا ہاتھ تھا، لیکن وہ
مزید پڑھیے


بیوروکریٹ کی گرفتاری اور لینڈ مافیا!

جمعرات 14 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
بیوروکریسی کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں بیوروکریسی کا عمومی تاثر اچھا نہیں ہے۔ لوگ پاکستان میں بیورو کریسی کو زیادہ تر مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں ، لیکن آج تک ان عوامل پر غور نہیں کیا گیا کہ بیوروکریسی کی راہ میں کیا کیا رکاوٹیں ہوتی ہیں،،، کبھی اُنہیں سیاستدانوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے، کبھی فیصلہ کرنے والی قوتوں کے تو کبھی ’’مافیاز‘‘ کے۔ بیوروکریٹ تب بھی مرتا ہے جب وہ کسی کی ناجائز بات مانتا ہے،،، اور تب بھی مرتا ہے کہ جب وہ انکار کرتا ہے۔ مرتا وہ اس طرح
مزید پڑھیے


بھٹو کی پھانسی کے خلاف ریفرنس،خوش آئند عمل !

منگل 12 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
تہذیب یافتہ ممالک میں یہ روایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پرانے doubtedکیسز کو کھولا جائے، اور عوام کے سامنے اُس کی حقیقت کو رکھاجائے۔ اور جہاں جہاں غلطیاں ہوئیں، ایسا لائحہ عمل بنایا جائے کہ دوبارہ ایسے ’’بلنڈرز‘‘ سے بچا جا سکے۔پاکستان میں بھی آجکل ایسا ہی ایک کیس ناصرف زیر بحث ہے، بلکہ سپریم کورٹ میں آج ہی کی تاریخ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9رکنی لارجر بینچ اس کی سماعت بھی کر رہا ہے۔ یہ کیس 11 سال بعد سماعت کے لیے مقرر کیاگیاہے۔اور اسے سابق صدر آصف علی زرداری نے اپریل
مزید پڑھیے


العزیزیہ ریفرنس کیس اور ہمارا نظام !

هفته 09 دسمبر 2023ء
علی احمد ڈھلوں
کیا کوئی تصور کر سکتا ہے ، کہ دنیا میں ایسی عدالتیں بھی موجود ہیں جن میں 360ڈگری تک لچک پائی جاتی ہے، یعنی آپ اُنہیں جس انداز میں چاہیں مولڈ کر سکتے ہیں، ان عدالتوں میں میکسیکو، روس، الجیریا، ایران ، مالے، پاکستان ، نائیجیریا، کمبوڈیا وغیرہ کی عدالتیں سرفہرست ہیں۔ یہاں آپ کو عام آدمی کو انصاف دینے میں اتنی تاخیر کی جاتی ہے کہ اُس کی کئی نسلیں کیس لڑتی رہتی ہیں، اور آخر میں کہا جاتا ہے کہ صلح کر لیں۔ لیکن اس کے برعکس یہاں یہ عدالتیں حکمرانوں اور اشرافیہ کے لیے 24گھنٹے،
مزید پڑھیے








اہم خبریں