BN

ہارون الرشید


تجزیے


کتنے برس بیت گئے، شہرِ لاہور میں قائدِ اعظم کے سپاہیوں میں سے ایک، نسیم بیگ مٹی اوڑھے سو رہے ہیں ۔ دانشور بحث کا دھاگا الجھا دیتے تو وہ کہتے : اور تو سب عوامل کی وہ بات کرتے ہیں ، بس ایک اللہ کا نام نہیں لیتے۔ جس نے کائنات پیدا کی ۔ سارے لشکر، سب آدمی اس نے پیدا کیے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی تقدیر لکھی ہے ۔ وزیرِ اعظم کے دوست نے برقی خط میں انہیں لکھا کہ غنیم کو دارالحکومت تک آنے کی اجازت کون دیتا ہے؟ اسی دوست نے ، جس
جمعرات 07 نومبر 2019ء

مملکتِ خداداد

پیر 04 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
پاکستان ایک منوّر مستقبل رکھتا ہے ۔ مسلم برصغیر کے لیے پیغمبرِ آخر الزماںؐ کی بشارت یہ ہے کہ اسے مشرکین اور یہودیوں کو نمٹانا ہے ۔ نہیں ، چند ہزارلوگ مملکتِ خداداد کا آنے والا کل اغوا نہیں کر سکتے ، چرا نہیں سکتے ۔ پانچ آدمی ہیں ، پانچوں کی کہانی معلوم ۔تیس برس ہوتے ہیں ،اسفند یار ولی خاں کے والدِ گرامی عبد الولی خاں نے ایک کتاب لکھی تھی ۔ "Facts are facts" اس میں ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان انگریزوں کی سازش کا نتیجہ ہے ۔ ربع صدی کے بعد عبد الغفار
مزید پڑھیے


کسی خیرخواہ سے پوچھا ہوتا

اتوار 03 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
اپنے خیر خواہ ‘ طارق پیرزادہ ہی سے پوچھ لیا ہوتا۔ 1971ء میں گرفتار پاکستانی فوجیوں میں ایک ایسا بھی تھا‘بھارتی جنرل جس سے مرعوب تھے اس کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ممتاز ترین عالمی جریدوں میں سے ایک نیوز ویک نے لکھا‘معتبر اخبار کرسچین سائنس مانیٹر نے لکھا کہ وہ بہترین میں سے بہترین ہے۔ملٹری کالج جہلم میں اس نے تعلیم پائی تھی۔ عسکری تعلیم کے لئے وہ دنیا کا سب سے بہترین ادارہ تھا۔بریگیڈیئر رفیق پرنسپل تھے‘فیلڈ مارشل ایوب خان دس منٹ پہلے پہنچے تو انہیں انتظار کرنا پڑا۔ سلامی کے ہنگام چیخ کر یحییٰ خان سے کہا ''Shun
مزید پڑھیے


حکومت

جمعه 01 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
جتھوں میں بٹایہ معاشرہ بتدریج انارکی کو بڑھتا جاتاہے۔ ایک ہمہ گیر اخلاقی اور علمی تحریک لازم ہے ، آبادی کے تمام طبقات جس میں خوش دلی سے شریک ہوں ۔ جاگنا چاہئیے ، جاگ اٹھنا چاہئیے ، اس سے پہلے کہ آندھی میں گردو غبار ہم ہو جائیں ۔ عارف نے کہا تھا: خلوصِ قلب سے جب ہم دعا مانگتے ہیں تو احساس ہوتاہے کہ کوئی ہمارے ساتھ ہے ، کوئی ہمارا سائباں ہے ۔انسانوں کا پروردگار اگر غفور الرحیم ہے اور یقینا ہے تو آئے دن اذیت پہنچانے والے المناک حادثات کیوں برپا ہوتے ہیں ۔ ملک اور
مزید پڑھیے


رہے نام اللہ کا

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
ایسا لگتاہے کہ سبھی خسارے میں ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ اپنا ورق الٹنے والی ہے ۔ ایسا لگتاہے کہ اگلے ڈرامے کے سب کردار نئے ہوں گے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ لانگ مارچ کا انجام کیا ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ، عمران خان، نواز شریف اور آصف علی زرداری ، سبھی نے اپنے پتے سینے سے لگا رکھے ہیں ؛حتیٰ کہ مولوی صاحب نے بھی ۔ اسلام آباد پہنچ کر معلوم نہیںوہ اپنی جلسہ گاہ تک محدود رہیں یا شاہراہِ دستور پہ یلغار۔ لوٹ جائیں گے یا جمے رہیں گے ۔ ظاہر ہے کہ انحصار حالات پر ہے ۔اس
مزید پڑھیے



بے یقینی

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
عدمِ تحفظ اور بے یقینی کس قدر خوفناک چیز ہے ۔ انسانی کردار کا تمام حسن اور رعنائی برباد ہوتی ہے ۔ پارٹیاں نہیں ، ایسے میں جتھے بنتے ہیں ۔ تجزیے نہیں ہوتے ، تعصبات بروئے کار آتے ہیں ۔ جب تک یہ بات نہیں سمجھی جائے گی، کچھ نہیں ہوگا ، کبھی بھی نہیں ! کوپن ہیگن کی ایک سڑک پر کسی نے ہارن بجایا تو گاڑی میں سوار تین کے تین مسافروں نے بے ساختہ کہا ’’ کون پاگل ہے ؟ ‘‘ناروے کا دارالحکومت ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔ مغرب کا تصور ذہن میں آتا ہے تو
مزید پڑھیے


سلطانی ٔ جمہور

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
جمہوریت اور میرٹ کا رونا بہت ہے ، نعرے اور چرچا بہت ۔ہمہ وقت سیاستدان اور دانشور سلطانی ء جمہور کا گیت گاتے ہیں ۔ فیصلوں کا وقت آتاہے تو یہ جمہوریت کہاں چلی جاتی ہے ؟ قاعدے، ضابطے اور روایات سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ شاہی فرمان کی طرح حکم صادر ہوتے ہیں اور برطرفی ناگہانی موت کی طرح ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب جنابِ عثمان بزدار نے چار ترقیاتی اداروں کے سربراہ برطرف کر ڈالے ، جو Development Authorities کہلاتے ہیں ۔ گوجرانوالہ کے عامر رحمٰن ، ملتان کے رانا عبد الجبار ، فیصل آباد
مزید پڑھیے


مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
اللہ کی آخر ی کتاب یہ کہتی ہے : لوگ سوئے پڑے ہیں ۔ موت آئے گی، تب جاگیں گے ۔ میر ؔ صاحب نے کہا تھا مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر خدا کی زمین آدمیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان میں انسان کتنے ؟ کتنے ہیںجن سے سیکھا جا سکتا ، جن پہ رشک کیا جا سکتاہے ، جنہیں دیکھ کر امید جاگتی ، زندگی بامعنی لگتی ہے ۔ اب یہ معاشی حیوانوں کی بستیاں ہیں، جن میں کلیدی چیز اخلاق و احساس ، دردمندی اور خلوص نہیں بلکہ معاشی
مزید پڑھیے


اقتدار کے بھوکے

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
خلقِ خدا کی بہبود نہیں ، یہ صرف ذاتی نمود کے تمنا ئی ہیں اور سرکار ؐ کا فرمان یہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتاہے ۔ہمارے لیڈر اقتدار کے بھوکے اور ہم سب فریب خوردہ ۔ جمہوریت سے مراد اگریہ ہے کہ عام آدمی کی امنگوں او ررجحانات کو ملحوظ رکھا جائے ۔ سلطانی ء جمہورکا مطلب یہ ہے کہ ہیئت ِ مقتدرہ کی تشکیل خلقِ خدا کی رضا مندی سے ہو تو سر آنکھوں پر لیکن اس سے مراد اگر من مانی ہے ، فتنہ وفساد کی آزادی ہے تو صد ہزار بار
مزید پڑھیے


اعتراف

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
خطا سرزد ہو تو اعتراف کرنا چاہیے مگر یہ نہیں کہ ردعمل میں چوروںاور ٹھگوں کا دامن تھام لیا جائے۔ اس دن سے پہلے اللہ اس دنیا سے اٹھا لے کہ میں اس قماش کے لوگوں کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کروں۔ تین عشرے ہوتے ہیں،جناب احمد ندیم قاسمی کا جملہ پڑھا تو حیرت زدہ رہ گیا’’اخوان المسلمون نے اس دور میں سنّت منصورتازہ کر دی‘‘ وہ ایک مانے ہوئے ترقی پسند تھے اور کوئی ان سے یہ گمان نہ لگتا۔ ابوالکلام آزاد اور سید ابواعلیٰ مودودی کے دیرینہ رفیق نصراللہ خان سے منسوب ایک بات کبھی سنی تھی‘ وہ
مزید پڑھیے