اوراق گرچہ ہم نے کئے ہیں بہت سیاہ لفظوں کی کائنات سے نکلے نہ مہرو ماہ شاید ہمارے ہاتھ میں ہوتی کوئی لکیر قسمت پہ بھی یقین ہمارا نہیں تھا آہ اور پھر اس جبر اور قدر کا آئے نہ کیوں یقیں۔انسان کو اپنے ساتھ بھی کرنا پڑا نباہ ،پھر یہ تو ہے کہ انساں کو اس کی اوقات میں رکھا گیا ہے۔ سراب در سراب سفر اور منزل عنقا ۔اختتام سفر کھلا ہم پر وسعت دشت تھی سراب کے ساتھ۔ اس بات کو موقوف کر کے ایک نہایت عمدہ بات کی جانب میں آپ کو لے چلتا ہوں کہ ہمیں ہماری ترجیحات نے مار دیا ہے میں شمشیر وسنا اول طائوس رباب آخر والا معاملہ نہیں چھیڑوں گا مگر اپنی روایات و اقدار کے حوالے سے دلچسپ مسئلے کی جانب نشاندہی کروں گا حمید حسین صاحب نے نہایت عمدہ بات کی کہ قانون کیا ہوتا ہے؟پھر خود ہی جواب میں بتایا کہ اصل میں قوانین کا مقصد اپنی اقدار کی حفاظت کرنا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں قانون سازی پر زور دیا جاتا ہے۔ اس مسئلے پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہماری زندہ و تابندہ اقدار کیا ہیں آپ بالغ نظر ہیں مثالوں کی ضرورت نہیں پھر بھی انصاف عدل خدمت اور دیانت دای کی مثال رکھ لیتے ہیں دیکھنا پڑے گا کہ فی الوقت ہم اس حوالے سے کہاں کھڑے ہیں ہر میدان میں خود فریبی کی انتہا ہے کہ ہم بدعنوانی اقربا پروری اور ایسے ہی دوسرے عوامل پر تاک ہیں رشوت کو بھی رشوت نہیں سمجھتے، سرکاری ملازمت کو میٹنگ اور اس کی بنیاد پر لوٹ مار کو اپنا حق۔ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں ۔ پہلے اقدار بنانا ہوں گی اولین سطح پر اپنے معاملات پر غور کرنا ہو گا۔ لوگوں کے سامنے اخلاقیات کی مثال رکھنا ہی نہیں اس پر عمل پیرا بھی ہو کر دکھانا ہو گا۔ اصل شعور بھی یہی ہے کہ اپنے حقوق چھیننے کی نہیں دوسروں کو حقوق دینے کے لئے قائل ہونا ہے۔ جب قانون اقدار و اخلاقیات کی حفاظت کرتا ہے تو پھر کیا کریں گے، ذہن میں رہے کہ قوانین اقدار و اخلاقیات پیدا نہیں کرتے۔اس مقصد کے لئے کچھ اور کرنا ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس جانب راغب کریں ان کے اندر احساس ذمہ داری پیدا کریں دوسری جانب اچھی اقدار اور بہتر اخلاقیات ہی بہتر قوانین بنانے میں مددگار ہونگی بس یہی بات سمجھے کی ہے: دھوپ میں جلنے والو آئو بیٹھ کے سوچیں اس رستے میں پیڑ لگایا جا سکتا تھا ہم دور کیوں جائیں کہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اب جو قوانین پاس ہو رہے ہیں ان میں سوائے سیاست کے کیا ہے ایک ہی دن میں 33 قوانین پاس کروا لیتے جاتے ہیں اپوزیشن لاکھ شور مچاتی رہے چونکہ جمہوریت کا تقاضا ہے اور پھر جمہووریت بھی اپنی ہے کہ جو طاقت یا طاقتور کا سہارا بھی لے سکتی ہے اس کی اپنی مرضی اور پھر ممبران آتے نہیں تو لائے بھی جا سکتے ہیں اس میں بس زیادہ مضحکہ خیز بات یہ کہ قوانین ہیں کس مقصد کے لئے باقی معاملات چھوڑیے ای ووٹنگ مشین ہی دیکھ لیجیے۔ مشین چلانے والے کی کریڈیبیلٹی کیا ہو گی ضمنی الیکشن تو آپ کے ذھن میں ہو گا جس میں دھند پڑی تھی الیکشن کروانے والے ہی غائب ہو گئے تھے اب تو رپورٹ بھی سامنے آ چکی اس حوالے سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی کوئی مثالی جماعتیں نہیں اور نہ ہی ایم کیو ایم یا جمعیت العلمائے اسلام۔میں بات کچھ اور کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کے سامنے ہے صدارتی ریفرنس سے اپنے چوروں کو تحفظ دینے کے دینے کی کوشش بھی ہوئی۔جناب پہلے معاملات درست کریں پہلے معیشت کو درست کریں غریب کی رسائی میں کچھ دال دلیا تو رہنے دیں ہمارا تو حال یہ ہے کہ ساحر لدھیانوی کی نظم یاد آنے لگتی ہے۔ایک بند: نور سرمایہ سے ہے روئے تمدن کی جلا ہم وہاں ہیں جہاں تہذیب نہیں پل سکتی مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی بھوک سے مرتا ہوا انسان پیٹ کا دوزخ کسی نہ کسی طرح تو بجھائے گا ایسی صورت میں کیا آپ اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے اس کے ہاتھوں کو محنت کرنے کا موقع تو دیں آپ تو لوگوں کو بے روزگار کئے جا رے ہیں۔سب آپ کے طعام و قیام پر نہیں جی سکتے۔ وہ بہت زیادہ ہیں اور محنت کرنے والا خوددار ہوتا ہے۔مانگ کر نہیںکھائے گا۔یہ سٹیٹ کی ذمہ داری ہے آپ تو حوالے بھی حضرت عمرؓ کے دیتے تھے پہلے عام آدمی اور خاص طور پر مزدور کو ان کے حقوق دیں۔ عملی طور پر اسے لاگو کریں اور پھر ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے قانون بنائیں۔ اسمبلی ممبران کی مراعات بڑھانی ہوں تو وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہمارے قوانین کا اثر بھی تو صرف کمزور پر ہوتا ہے آپ رائو انوار کی طرح لوگ مار دیں یا بھتہ کے لئے زندہ جلا دیں کون پوچھتا ہے۔ ہماری نامور ڈرامہ نگار دانشور محترمہ نور الہدیٰ شاہ نے کیا خوب فائدہ اٹھایا ہے۔قصہ اصحاب کہف سے: دل چاہتا ہے‘ غار اصحاب کہف میں جا کر سو جائوں‘ جب نیند سے اٹھوں‘ میرا زمانہ گزر چکا ہو‘ میرے سکے کھوٹے ہو چکے ہوں‘ میری بات کوئی نہ سمجھتا ہو‘ مجھے کوئی نہ جانتا ہو‘ آپ سے پوچھوں کہ بتا کہاں جائوں‘وہ کہے کہ تمہارا زمانہ گزر چکا۔یہ نامکمل نظم ہی آپ کے لئے کافی ہے۔سچ مچ یہ ایک اذیت ناک دور ہے۔ آخر میں سیما غزل کے لئے چند لفظ کہ وہ نہایت عمدہ تخلیق کار ہیں اور میں نے انہیں بات کرتے سنا ہے۔ وہ ہسپتال میں ہیں دیکھا نہیں گیا وہ اپیل کر رہی تھیں صدر اور وزیر اعظم سے یہ اس کا حق ہے کہ یہ فنکار آپ کے سفیر ہیں۔لفظ روشن کرنے والے اربوں اڑانے والے سیما غزل کے لیے کچھ کریں وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے پھیپھڑوں کا علاج ہو رہا ہے اس مقصد کے لئے جتنی رقم درکار ہے وہ افورڈ نہیں کر سکتیں میں نے تو صرف ان کی پوسٹ دیکھی اور پریشان ہو گیا ہم ان کے لئے دعا گو ہیں کہ وہ جلداز جلد صحت یاب ہوں سیما غزل کے خوبصورت شعر ک ساتھ اللہ حافظ: سنائی دیتی ہے اب خامشی بھی اس کی مجھے دکھائی دیتاہے لہجے کا بانکپن مجھ کو ٭٭٭٭٭