BN

احمد اعجاز


ہم سب شام کا انتظار کھینچتے ہیں


آسمان گہرے سیاہ بادلوں کی جکڑ میں آیا ہواتھا۔رات کا پچھلا پہر تھا،بہت ہی تاریک اور ٹھنڈا۔مَیں تارکول کی سڑک کو بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا۔یہ کچاراستہ تھا،ریتلا۔پائوں ریت میں دھنس رہے تھے۔کچے راستے کے ہردوجانب ریت کے کھیت تھے،کہیں اِکا دُکاپیڑ تھے ،مگر سرکنڈوں کے جھنڈ تھے اور جھاڑیاں۔مَیں چلا جارہا تھا۔ڈیڑھ کلومیٹر چلتے چلتے،اُس ٹوبے کے پاس پہنچ گیا، جہاں سے یہ راستہ دوحصوں میں بٹ جاتاتھا،ایک حصہ ٹوبے کے اندر سے ،دوسرا بائیں جانب اُوپر سے گھوم کر آتاتھا۔مجھے ٹوبے کے اندر سے جانا ہوگا۔جو راستہ ٹوبے کے بائیں جانب گھوم کر جاتا تھا،وہ قصائیوں کے گھروں
هفته 21 مارچ 2020ء

آخر وہ کیا چیز ہے؟

اتوار 08 مارچ 2020ء
احمد اعجاز
مئی دوہزار تیرہ میں انتخابات ہوتے ہیں اور میاں نوازشریف تیسری باروزیرِ اعظم بن جاتے ہیں۔میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بنتے ہیں اور وفاق میں چودھری نثارعلی خان وزارتِ داخلہ کا اہم منصب پاتے ہیں۔یہ وہ دِن تھے جب چودھری نثارعلی خان میاں نوازشریف کے بہت قریب تھے۔میاں نواز شریف کو حکومت سنبھالتے وقت جن تین بڑے چیلنج کا سامنا تھا،اُن میں ایک دہشت گردی ،دوسرا توانائی بحران اورتیسرا معاشی بحران تھا۔دہشت گردی کے خاتمے اور قیامِ اَمن کے لیے کالعدم تحریکِ طالبان سے مذاکرات کی ٹھانی گئی،یہاں چودھری نثارعلی خان کا کردار بڑی اہمیت اختیار کرگیا تھا۔ایک
مزید پڑھیے


میاں نواز شریف کی واپسی

اتوار 01 مارچ 2020ء
احمد اعجاز
میرا ماننا ہے کہ میاں نوازشریف یہ فیصلہ کہ کب باہر جا نااورکب واپس آنا ہے؟ کرنے میںہمیشہ غلطی کرجاتے ہیں۔میرا یہ بھی ماننا ہے ملکی سیاسی تاریخ میں میاں نوازشریف سب سے زیادہ سیاسی غلطیاں کرنے والے سیاست دان ہیں۔جب مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں یہ تیسری بار وزیرِ اعظم بنے تو خیال ظاہرکیا گیاکہ اب کوئی بڑی سیاسی غلطی نہیں کریںگے۔مگردوہزار تیرہ سے دوہزارسترہ تک وزیرِاعظم رہنے تک پے دَرپے غلطیاں کرتے رہے،نتیجہ یہ نکلاکہ تیسری بار بھی بطور وزیرِ اعظم اپنی مُدت پوری نہ کرسکے۔اِن کا تیسری بارمُدت پوری نہ کرسکنا،اگرچہ بڑا واقعہ
مزید پڑھیے


…پھر افتخار عارف رُودیے

اتوار 23 فروری 2020ء
احمد اعجاز
یہ سماج عام اور خاص کی تقسیم پر مبنی ہے۔ہم پھلوں کی دُکان پر دیکھتے ہیں کہ اُوپر بہت ہی اچھے اورتازہ جبکہ نیچے’’ ایسے ویسے ‘‘پھل پڑے ہوتے ہیں ۔گاہک کو اچھے اور تازہ پھلوں کا جھانسا دے کر’’ ایسے ویسے‘‘ فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یوں خاص کے دھوکے میں عام کا سودا ہوتا ہے۔یہاں کے جمہوری و غیر جمہوری نظام ،جو انسانوں پر مسلط رہے ،میں’’عام‘‘کا سوداہوتارہا۔خاص کو اپنی’’ چمک‘‘ کا احساس ہواتو اُس نے اس کا ہردَور میں فائدہ اُٹھایا،عام ،خاص کی چمک پر قربان ہوتارہا۔مُرورِ ایام کے ساتھ سماج میں عام اور خاص کی
مزید پڑھیے


’’جھاؤ‘‘

اتوار 16 فروری 2020ء
احمد اعجاز
یہ ایک دِن کا واقعہ ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم نے ہمیشہ کی طرح بہت ’’شاندار اور انوکھی‘‘تقریر کی۔فرمایا’’نوجوان تنخواہ اور پنشن والی نوکری کے پیچھے نہ بھاگیں،ایسی نوکری کا مطلب اپنی صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے،ذہنی غلام کبھی ترقی نہیں کرسکتا،آزاد ذہن ہی نئی سوچ ،نئے راستوں کا تعیّن کرتے ہیں ،نوجوانوں کوآزادی دینے والا معاشرہ ہی آگے بڑھتا ہے،چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے بعد کامیابی آپ کا مقدر بنتی ہے‘‘ اُسی دِن یک عجیب سا لفظ’’جھائو‘‘میرے مطالعہ میں آیا۔ میری کم علمی کی بدولت اس کے معانی معلوم نہ تھے،یوں اِدھر اُدھر سے اس لفظ کا تعاقب کیا تو
مزید پڑھیے



متوازن اور اعتدال پسند سماج کی تشکیل کیسے؟

اتوار 09 فروری 2020ء
احمد اعجاز
جب افراد مختلف بندھنوں،ضرورتوں اور آزادانہ طرزِ اظہار کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں ، تو اِن کا مل جل کر رہناہی سماج کہلاتا ہے۔اس مل جل کررہنے میں اخلاقیات،قواعد و ضوابط، روایات اور اقدار کی کارفرمائی ضروری ٹھہرتی ہے ،کہ ان کے بغیر سماج کا ڈھانچہ برقرار نہیں رہ پاتا۔یوں آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سماج سے مُراد، افراد کا وہ مجموعہ ہے جو قواعد و ضوابط، اخلاقیات، اقدار، روایات، آزادی، مختلف بندھنوں اور ضرورتوں کے تحت مل جل کر رہتا ہے۔سماج کے مختلف طبقات کا ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بے حد
مزید پڑھیے


اُمید کی موت

اتوار 02 فروری 2020ء
احمد اعجاز
یہ جامد سماج ہے ،اس کی سماجی و معاشی نمو رُکی ہوئی ہے،ایک سچی مڈل کلاس جو اپنی بھرپور پیداواری صلاحیتوں سے سماج میں خوشحالی پیداکرتی ہے ،وہ پیدا نہیں ہوئی،جامد سماج نے غریب طبقہ میں معاشی ترقی کا عمل ختم کر دیا ہے۔یہاں سماج کی ساخت اور طبقات کی درجہ بندی سے سماجی ترقی کے امکانات کا جائزہ ضروری ہے۔ سماج کا سب سے نچلا طبقہ غربت زَدہ لوگوں کا ہوتاہے۔یہ وہ طبقہ ہوتا ہے جو خطِ غربت سے بہت نیچے زندگی بسر کرتا ہے۔اس کی حیثیت فصل میں جڑی بوٹیوں کی مانند ہوتی ہے۔یہ جڑی بوٹیاں لحظہ بھر کے
مزید پڑھیے


یقین سے خالی زندگی

اتوار 26 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
ایک دُھند ہے بے یقینی کی جو سماج پر تہہ دَر تہہ چھائی ہے۔لمحہ ٔ موجود تک بے یقین ٹھہرے تو آنے والے لمحے کا بھروسہ چہ معنی؟ہر کام کی ابتدابے یقینی کی دستک سے ہوتو کام تکمیل تک کیسے پہنچے؟بے یقین بستیوں کے مکینوں کی زندگیاں تک بے یقین ہو چکی ہیں ،معلوم ہی نہیںپڑتا کہ کون کس وقت مارا جاتا ہے۔یہ جو بے یقینی ہے ،یہی دَرحقیقت مصیبت ہے ،مگر یہ مصیبت ہے ،کوئی مانتا ہی نہیں۔یہ محض مصیبت ہی نہیں ،مصیبتوں کی ماں ہے۔بے زاری اور فراریت ،اس کی سگی بیٹیاں ہیں۔بے زاری اور فراریت آدمی سے
مزید پڑھیے


بات آگے نکل چکی ہے

اتوار 19 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
یہ سیاست دانوں کی خوش بختی ہے کہ عوام کی جانب سے،اُنہیں کبھی اور کسی بڑے امتحان میں نہیں ڈالا گیا۔البتہ ہر دَور میں حکمران خود اور عوام کوامتحانات میں ڈالتے چلے آئے ہیں ۔سیاسی حکمرانوں نے اپنے عمل سے بارہا عوام کے حوصلے کا امتحان بھی لیاہے اورنئے تنازعہ میں اُلجھایا بھی ہے۔ا س ملک یا عوام پر جس قدر بحران نازل کیے گئے وہ سارے کے سارے حکمرانوں کی کج فہم عمل کا نتیجہ ہی تو تھے۔عوام نے اگر کسی حکمران کی غلطی کا ردِ عمل دیا بھی تو محض علامتی نوعیت کے احتجاج کی صورت ۔ا س
مزید پڑھیے


چودھری نثار علی خان کی یاد میں

اتوار 12 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
میاں نواز شریف اور اُن کی پارٹی نے اپنے ’’خیالی بیانیہ‘‘سے جیسے ہی یوٹرن لیا،بہت سارے لوگوں کو چودھری نثارعلی خان کی یادستانے لگی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اُس وقت پی ایم ایل این چودھری نثارعلی خان کے مشوروں پر عمل کرتی تو آج شہبازشریف ملک کے وزیرِ اعظم ہوتے اور میاں نوازشریف جیل جاتے نہ بیمار پڑتے۔واقعی!چودھری نثارعلی خان کی سیاسی بصیرت بلنددرجہ کی تھی اور میاں نواز شریف نے اُن کے مشوروں پر عمل نہ کرکے اپنا اور پارٹی کاسیاسی نقصان کیا؟اس کے لیے چودھری نثارعلی خان کے طرزِ سیاست کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ اُنیس سوپچاسی
مزید پڑھیے