BN

اوریا مقبول جان


تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ پنجاب


پرویز مشرف کی آمریت کے کندھوں پر سوار ہوکر جو لبرل اور سیکولر ملحدین کا جتھہ اس ملک پر مسلط ہو اتھا، مشرف کے جانے کے بعد بھی آج تک جمہوری حکومتوں کی راھداریوں میں زہریلے ناگوں کی طرح پھنکارتا پھر رہا ہے۔ ان کے زہر کا نشانہ اس ملک کی آئندہ آنے والی نسلیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صرف اور صرف نظامِ تعلیم اور خصوصاً نصابِ تعلیم پر حملہ کیا اور اس میں سے ہر اس تصور کو کھرچنے کی کوشش کی جس کا تعلق ہماری اسلامی اساس، طرزِ معاشرت، خاندانی زندگی اور اخلاقی اقدار سے
اتوار 26 جولائی 2020ء

جدید مغربی تعلیم سے ’’سیکولر مذہب‘‘ کے نفاذ تک

هفته 25 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
مولانا الطاف حسین حالیؔ ان سوانح نگاروں میں سے ہیں جن کے بارے میں تمام اہل علم متفق ہیں کہ انہوں نے جب بھی کسی شخصیت کی زندگی کے بارے میں تحریر کیا، ہمیشہ اس کے محاسن اور خوبیوں کا ہی تذکرہ کیا اور اس کی کمزوریوں، کوتاہیوں اور خامیوں کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا۔ علامہ اقبال کے بعد اگر کسی ایک شخصیت کو پڑھنے کا مجھے انتخاب کرنا پڑے تو میرے لیے کوئی مشکل نہ ہوگی کہ اردو شعرو نثر کی تاریخ میں حالیؔ جیسا تناور درخت جہالت کی دھوپ میں سائبان کی طرح موجود ہے۔ اردو غزل
مزید پڑھیے


لاپتہ افراد اور ’’علامتی گمشدگی‘‘ کی تاریخ

جمعه 24 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ کا والد شاہ حسین میر صاحب کے گھر مہمان تھا، وہ یہاں تیتر کا شکار کھیلنے آیا تھا۔ میر غلام علی تالپور اس وقت سندھ اسمبلی کے سپیکر بھی تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صوبہ سندھ کا صدر مقام حیدرآباد تھا اور سندھ اسمبلی کا اجلاس دربار ہال میں منعقد ہوتا تھا۔ پاکستان کا گورنر جنرل ایک سابقہ بیوروکریٹ تھا، جس نے لیاقت علی خان کو ’’غریب آدمی کا مشہورِ زمانہ بجٹ‘‘ بنانے میں مدد کی تھی۔۔ یہ ملک غلام محمد بعد میں سیاست میں آیا اور لیاقت علی خان کی وزارتِ عظمیٰ میں
مزید پڑھیے


تیسری عالمگیر جنگ: کیا محاذ گرم ہوچکا

جمعرات 23 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
جس تیزی سے یہ پورا خطہ جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کا اندازہ یہاں کی حکومتوں اور عوام کو تو شاید نہ ہو، لیکن چین جس کی تباہی کے لئیے یہ میدانِ جنگ سجایا گیا ہے، اسے اس کا بخوبی علم ہے اور وہ گذشتہ دس سال سے ایک ایسے جاندار کی طرح پنجوں پر کھڑا ہے جسے خونخوار درندوں نے گھیر رکھا ہو۔ امریکی صدر ’’بارک اوباما‘‘نے 2016ء میں بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، کہ بھارت اور امریکہ اکیسویں صدی کے مشترکہ دوست اور مشترکہ دشمن رکھتے ہیں اور بھارت کو یہ مشورہ دیا
مزید پڑھیے


گراں خواب چینی سنبھلنے لگے (2)

اتوار 19 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
آج سے نو سال قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن یہ کہہ رہی تھی کہ ’’افغانستان اور عراق‘‘ میں مہمات کی وجہ سے امریکی معیشت پر جو منفی اثرات ہوئے، اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ یہ خیال کررہے ہیں کہ امریکہ کو بیرونِ ملک اپنی سرگرمیاں کم کرکے اندرونِ ملک ترجیحات کو بہتر بنانا چاہیے، ایسے لوگوں کے خیالات گمراہ کن (Misguided) ہیں۔ ہم نے ساٹھ برسوں سے اس ’’گھر واپس آؤ‘‘ والی طاقتوں کا مقابلہ کیا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی بیرونی دنیا میں اپنی مداخلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ امریکی نظام
مزید پڑھیے



گراں خواب چینی سنبھلنے لگے ……(۱)

هفته 18 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
تقریباً پچاس سال کے بعد مشرقِ بعید پھر میدانِ جنگ بننے والا ہے۔ آج سے پنتالیس سال قبل، 30اپریل 1975ء کو امریکہ ذلت و رسوائی کے ساتھ ویت نام سے نکلا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد دنیا نے ابھی سکھ کا سانس لیا تھا کہ، ہند چینی کے وہ ویت نامی علاقے جو فرانس کے قبضے میں آئے تھے، ان میں 19دسمبر 1946ء کو ویت منہہ گوریلوں نے فرانسیسی قبضے کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا۔ یہ جنگ 20 جولائی 1954ء تک چلی جس میں ویت منہہ گوریلوں کو فتح حاصل ہوئی اور خطے میں چار نئے
مزید پڑھیے


بہت بے آبرو ہو کر

جمعه 17 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
بھارت کو اس خطے سے نکل جانے کا اشارہ آج سے آٹھ سال پہلے ہی مل چکا تھا، جب امریکہ نے باراک اوباما کے زمانے میں افغانستان کے محاذ سے بوریا بستر لپیٹنے کا ارادہ کیا تھا۔ امریکہ کے تمام تھنک ٹینک اسے متنبہ کر رہے تھے کہ اگر امریکہ مزید اس جنگ میں الجھا رہا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ خاموشی سے معاشی ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا چین، امریکہ کا اس خطے سے بوریا بستر گول کردے گا۔ 16دسمبر 2010ء کو باراک نے اعلان کردیا کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجوں کو مرحلہ وار واپس بلائے
مزید پڑھیے


کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے

جمعرات 16 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
پہلی افغان جنگ کی ذلت آمیز شکست اور 13جنوری 1842ء کو کابل میں بیس ہزار برطانوی ہند فوج کے سورمائوںکے قتلِ عام کے بعد تلملاتا ہوا ’’گورا‘‘ صبر سے نہیں بیٹھا اور 1878ء میں اس نے ایک اور جنگ چھیڑ دی جو دو سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کے آخر میں گندمک کے مقام پر افغانستان کے امیر یعقوب خان اور برطانوی افواج کے سربراہ سرلوئی کیوگناری کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت کوئٹہ، پشین، ہرنائی، سبی، کرّم اور خیبر کے علاقے برطانوی تسلط میں آگئے اور برطانیہ نے افغانستان کو ایک خود مختار سلطنت کے
مزید پڑھیے


یادداشتیں اور سچ جھوٹ کا کھیل

اتوار 12 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
نواب محمد اکبر خان بگٹی نے ایک دفعہ مجھے اپنی سوانح عمری لکھوانا شروع کی۔ آغاز میں انہوں نے اپنے بچپن کے واقعات، ایچی سن کالج کی یادیں اور خصوصاً اپنے اتالیق علامہ آئی آئی قاضی کا ذکر اسقدر تفصیل سے کیا کہ یوں لگتاتھا، اس سوانح عمری کے کئی سو صفحات اس عظیم شخصیت کی ہمہ جہتی کے لئے ناکافی ہوں گے۔ علامہ امداد علی قاضی 18اپریل1886ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی امام علی انصاری نے اپنے ہونہار بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لئے گھر پر استاد رکھ کر دئیے جنہوں نے انہیں عربی،
مزید پڑھیے


دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

هفته 11 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
قسطنطنیہ جسے آج کی دنیا استنبول کے نام سے جانتی ہے۔ سید الانبیائؐ کی زبانِ مبارک سے اس شہر کا ذکر کئی حوالوں سے ہوا ہے اور یہ آپؐ کی پیش گوئیوں کی حقانیت کا امین ہے۔ یہ شہر آپ کی پیش گوئیوں کے مطابق 1453ء میں فتح ہوا۔ لیکن اس عظیم شہر کے بارے میں باقی تمام احادیث اس بڑی جنگ ’’ملحمتہ الکبریٰ‘‘ سے متعلق ہیں جس میں یہ شہرـ ایک بار پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائیگا اور سیدنا امام مہدی کی فتوحات میں فتح ہونے والا آخری شہر یہی ہو گا۔ یہ قسطنطنیہ جو اس وقت
مزید پڑھیے