BN

اوریا مقبول جان


ناکام حسرتوں کے امین


جس دن سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، یہ جشن منا رہے تھے۔ یہ نعرے بلند کرتے تھے کہ، دیکھو انقلاب نے ہمارے دروازے پر دستک دے دی ہے۔ اسلام پسندو! اپنی خیر مناؤ، مولویو! تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے علاقوں کی تاریخ پڑھو،عبرت حاصل کرو اور اپنا انجام سوچ لو۔ یہ روس ہے امریکہ نہیں جو ویتنام کی طرح بھاگ جائے گا۔ یہ ایک نظریاتی ملک سوویت یونین ہے۔ یہ جہاں گیا ہے، وہاں سے کبھی نکلا نہیں، بلکہ آگے ہی بڑھا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی باقیات، ادباء اسی طرح کے تبصرے تحریر کرتے۔
جمعرات 05 مارچ 2020ء

’’مشرکوں،کافروں کو بہت ناگوار ہے‘‘

اتوار 01 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
اللہ کے فرمان کی حقانیت اور سچائی ہر بار کھل کر سامنے آتی ہے، اہل ایمان، کے ایمان میں اضافہ کرتی ہے اور اہلِ ہوش و عقل کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں میرے اللہ نے قرآن پاک میں یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مومنین کو فتح و نصرت عطا کرے گا، اپنے دین کو غالب کرے گا، اپنے نور کی تکمیل کرے گا، وہیں اس نے یہ آیات بھی اتار یں ہیں کہ یہ نصرت و فتح ''کافروں کو بہت ناگوار ہے''۔ انسانی تاریخ کی کتنی بڑی گواہی ہے کہ ایک ہی سرزمین پر میرے اللہ نے
مزید پڑھیے


فتح و نصرت کا دن

هفته 29 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
آج کا دن محترم ہے۔ پوری امت کے لئے محترم۔ یہ دن میرے اللہ کی آیات (نشانیوں) میں سے ایک ہے۔ یہ دن اللہ کے اس اعلان کی تکمیل کا دن ہے کہ '' دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی سر بلند ہو گے اگر تم مومن ہو (آل عمران:139)۔ آج کے دن قطر کے شہر دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان جو'' اتفاق نامہ'' دستخط ہوگا وہ ایک دستاویز نہیں، بلکہ ڈیڑھ ارب جیتی جاگتی، ہنستی بولتی اور عیش و عشرت میں گم،امت مسلمہ کے لئے ایک ایسی دستاویز ہے جو روزِ حشر ان کے
مزید پڑھیے


دو عالمی حکومتوں کے خواب اور انکے نقشے

جمعه 28 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
اس وقت پوری دنیا میں دو مذاہب کے پیروکاروں کی اکثریت ایسی ہے جو خود کو پوری دنیا میں آباد اقوام سے مذہب کی بنیاد پرایک الگ اکائی تصور کرتی ہے۔ دونوں مذاہب اپنی گذشتہ دو ہزار سالہ تاریخی غلامی پر ماتم کرتے ہیں اور دونوں ہی اس غلامی سے قبل اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے خواب بھی دیکھتے ہیں۔ دونوں کے خوابوں میں مستقبل میں قائم ہونے والی عظیم الشان حکومتوں کے نقشے سجے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں مذاہب بلکہ قومیں یہودی اور ہندو ہیں۔ دونوں کا گذشتہ تقریبا دو ہزار سال کا ماضی ہر طرح سے ایک
مزید پڑھیے


تقدیرِ امم اور فراستِ مومن

جمعرات 27 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ کون لوگ ہیں، انہیں عالمی سفارتکاری کے داؤ پیچ کس نے سکھائے، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس نے ہاورڈ کے سفارت کاروں کی تربیت کے مشہور ادارے،''فیلچر سکول آف ڈپلومیسی'' سے سفارتی زبان و بیان اور عالمی معاہدات کو تحریر کرنے کی تربیت لے رکھی ہو۔ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں جو گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پوری دنیا سے کٹے ہوئے تھے۔ کوئی گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں تھا تو کوئی پاکستانی جیل میں، اور باقی افغانستان کے پہاڑوں میں امریکہ سے جنگ لڑ رہے تھے۔ مگر کمال یہ ہے کہ گذشتہ ایک
مزید پڑھیے



کشمیری زبان و ثقافت پر یلغار ، یونیسکو سے فریاد

منگل 25 فروری 2020ء
افتخار گیلانی
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے سے قبل یا اسکے فوراً بعد کشمیر، بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے ، ایک ایک کرکے وہ سبھی درست ثابت ہو رہے ہیں۔ غالباً2014 ء اور 2015ء میں جب ان خطرات سے آگاہ کرانے کیلئے میں نے مودی کا کشمیر روڑ میپ ، کشمیر میں ڈوگرہ راج کی واپسی وغیرہ جیسے موضوعات پرکالم لکھے توکئی افراد نے قنوطیت پسندی کا خطاب دیکر مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ کانگریس کی کمزور اور پس وپیش میں مبتلا سیکولر حکومت کے
مزید پڑھیے


سول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدیق (آخری قسط)

اتوار 23 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی سول سروس میں گذشتہ ساٹھ سال میں کی جانے والی تبدیلیوں پر نظر ڈالنے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ عمران خان صاحب کی ''تبدیلی ٹیم'' نے جو تازہ ترین اصلاحات پیش کی ہیں۔ ان تمام گذشتہ ناکام اصلاحات کا بھونڈا چربہ ہیں انہی میں سے مواد حاصل کرکے ایک بارہ مصالحے کی چاٹ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں ہر وہ تبدیلی جسے ایک نئی کوشش اور تجویز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ بار بار نافذ ہوئی، ناکام رہی اور پھرسابقہ حکومتوں نے انتہائی بے شرمی سے اسے واپس لے لیا۔مثلا،
مزید پڑھیے


سول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدیق ……(قسط 3)

هفته 22 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
قیام پاکستان کے بعد پورے ملک کا انتظام و انصرام اسی سول سروس کے ذمہ تھا، جس کی وجہ سے ایک گھنٹے کے لیے بھی امورِ سلطنت کی انجام دہی میں خلل نہیں پڑا۔ تمام کاروبار سلطنت بالکل ویسے ہی چلتا رہا، حالانکہ جیسی افتاد اس زمانے میں ٹوٹیں اور جس طرح کی بے سر و سامانی کا عالم تھا اگر سرکاری مشینری مضبوط نہ ہوتی تو یہ نو زائیدہ ملک آغاز میں ہی ہمت ہار جاتا۔ دس لاکھ لوگ سرحد کے آر پار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور لاکھوں مہاجرین کے قافلے کیمپوں میں پڑے ٹھکانوں کے
مزید پڑھیے


سول سروس ریفارمز :تباہی پر مہر تصدیق …قسط 2

جمعه 21 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی سول سروس ابھی تک انہی خطوط پر استوار ہے، جن پر اسے برطانوی سامراج نے اپنے اقتدار کی مضبوطی اور استحکام کے لیے قائم کیا تھا۔ برطانیہ نے بھی اپنا انتظامی ڈھانچہ ان بنیادوں پر استوار کیا تھا جوپہلے سے مغلیہ دور میں موجود تھیں۔ پورے ہندوستان کو ضلع، پرگنہ اور صوبہ وغیرہ کی تقسیم سے ایک انتظامی اختیاراتی درجہ بندی میں بانٹا گیا تھا۔ چانکیہ کی ارتھ شاستر، البیرونی کی تاریخِ ہند اور آئین اکبری سے لے کر ماثر عالمگیری تک ہر بڑی تاریخی کتاب میں برصغیر کے اس شاندار انتظامی ڈھانچے اور انتہائی کامیاب سول سروس
مزید پڑھیے


سول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدق

جمعرات 20 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
ڈیڑھ سال کے بعد عمران خان صاحب کی سول سروسز ریفارمز کمیٹی کی پٹاری سے جو برآمد ہوا ہے اس نے ہر بددیانت، چور، کرپٹ سیاستدان اور ہر طالع آزما، ہوسِ اقتدار میں غرق، مسند اقتدار پر موجود شخص کے ہاتھ میں ایک ایسا چابک تھما دیا ہے، جس کے خوف سے اعلیٰ سے اعلیٰ اور ادنی سے ادنیٰ سرکاری ملازم،ایک سدھائے ہوئے خوف زدہ ریچھ کی طرح انکے حکم پر ناچے گا۔ خان صاحب کی ٹیم کی ان ریفارمز میں ایمانداری کی حفاظت، غلط احکامات سے انکار، اور بددیانت وزراء وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم کے سامنے سینہ سپر
مزید پڑھیے