BN

اوریا مقبول جان



امت مسلمہ کی تقسیم میں "تصورِ نظم ِاجتماعی "کا کردار


امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لئے یوں تو ہر دور میں نظریاتی، مسلکی اور فقہی گروہ چودہ سو سال سے سرگرم عمل رہے ہیں ،لیکن مسلمانوں کو قومی ریاستوں میں تقسیم کرکے ان میں محدود وطنیت کا بیج بونا ایک ایسی سازش تھی جو تیار تو اسلام دشمن قوتوں کے ہاں ہوئی لیکن اسے "نظمِ اجتماعی" کے شرعی لبادے میں ڈھالنے کا فریضہ ان جدیدیت و مغربیت کے متاثرین نے ادا کیا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گذشتہ تین صدیوں سے یہ دستور بنا لیا ہے کہ اسلام کا جو بھی تصور سائنس، سوشل سائنس، معاشرت، مدنیت یہاں تک
جمعه 08 مارچ 2019ء

اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ۔کوئی نئی خبر نہیں

بدھ 06 مارچ 2019ء
اوریا مقبول جان
قیام پاکستان اور قیام اسرائیل کے تقریباً ستر سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی کسی حکومت نے بلا خوف ِتردید بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور پاکستان پر مشترکہ حملہ کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔ قومی ریاستوں کے فتنے اور امت مسلمہ کو اس کے ذریعے تقسیم کرنے کے عمل کے بعد مسلمان ریاستوں نے اگر کبھی اسرائیل کے خلاف موقف اپنایا بھی تو اسے قومیت کے تناظر میں ہی اپنایا۔ یعنی اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے جس نے وہاں پر صدیوں سے آباد عربوں اور فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر
مزید پڑھیے


پاک و ہند۔2019ء کی اہمیت

پیر 04 مارچ 2019ء
اوریا مقبول جان
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانان ہند کا دو قومی نظریہ ابھی علامہ اقبال کی شاعری اور چند صاحبانِ بصیرت علماء کی تحریروں تک محدود تھا،مگر اس سے پہلے سر زمین ہند پر ایک اور دو قومی نظریے کی گونج سنائی دے چکی تھی۔ اس نظریہ کے تحت ،ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر سری لنکا کی وادیوں تک " ہندو ستان" ایک سرزمین ہے جسے ایشور نے دیوتاؤں کے لئے خاص کیا ہے، یہ برہما، وشنو اور شیو کی دھرتی ہے اور یہاں صرف ان کے ماننے والوں کوہی رہنے کا حق حاصل ہے۔وہ
مزید پڑھیے


پاک بھارت جنگ : دور ِفتن کا عالمی تناظر (آخری قسط)

جمعه 01 مارچ 2019ء
اوریا مقبول جان
سیدنا عیسیٰ ؑ کا صلیب پر مصلوب کیے جانے کا واقعہ ایسا تھا جس نے ایک جانب یہودیوں کو یقین دلادیا تھا کہ یہ وہ مسیحا ہرگز نہیں تھا جس کی بشارت پیغمبر لیسعیاہ (Isaiah) لے کر آئے تھے کیونکہ یہ خدا کی عالمگیر حکومت قائم کرنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور وہ بھی نعوذباللہ ایک ایسی موت کے ساتھ جو ایک پیغمبر کی شایان شان نہیں، دوسری جانب ان کے ماننے والے خصوصاً بارہ حواری اسقدر مغلوب ہو گئے اور یہودیوں نے رومن بادشاہوں کے ساتھ مل کرمدتوں انہیں عتاب کا شکار رکھا۔
مزید پڑھیے


پاک بھارت جنگ : دور ِفتن کا عالمی تناظر

بدھ 27 فروری 2019ء
اوریا مقبول جان
برصغیر میں جن لوگوں کو اپنے آس پاس طبل جنگ بجنے کی آوازیں سنائی نہیں دے رہیں یا جنہیں جنگ کے شعلے اپنی جانب لپکتے ہوئے نظر نہیں آرہے، انہیں گذشتہ دس سالوں میں دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کو ایک دفعہ غور سے قرآن پاک کی تعلیمات اور سید الانبیاء ﷺ کی اس دور کے بارے میں کہی گئی احادیث کی روشنی میں ازسر ِنو اپنے حالات حاضرہ کو پرکھنے اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آج سے بیس سال قبل وہ لوگ جو عالمی سیاسی، معاشی اور عسکری حالات کو معروضی تناظر میں دیکھا کرتے تھے اور "بزعمِ
مزید پڑھیے




کشمیر ،افغانستان : سیکولر لبرل سوچ کی بوکھلاہٹ

پیر 25 فروری 2019ء
اوریا مقبول جان
اسلام اور مسلمان دو ایسے استعارے ہیں کہ جن سے گزشتہ چار سو سال میں پروان چڑھنے والا ، مذہب مخالف بلکہ مذہب دشمن نظریاتی طبقہ ہمیشہ خوفزدہ رہا ہے۔ سیکولر لبرل ہوں یا کیمونسٹ یہ لوگ دنیا کے دیگر مذاہب کی رسومات یا ان کے تہذیبی اثرات سے عموما ًنفرت نہیں کرتے، بلکہ انہیں ایک طرح کی تہذیبی ارتقاء کا حصہ سمجھ کر قبول بھی کرتے ہیں اور رسم رواج کے اعتبار سے انہیں منانے، ان میں شرکت کرنے سے بھی کبھی گریز نہیں کرتے۔ لیکن ان کی ساری سیکولرزم، لبرلزم حتٰی کہ کیمونزم بھی اسلام اور مسلمانوں کے
مزید پڑھیے


پولیو ویکسین :ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے

جمعه 22 فروری 2019ء
اوریا مقبول جان
1985ء میں اس کی عمر صرف اڑتالیس سال تھی جب وہ ایک عالمی سطح کا کنسلٹنٹ مشہور تھا۔ دنیا کی پانچ بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک "ایم آئی ٹی" سے اس نے ڈاکٹر آف سائنس (D.Sc) اور ماسٹر آف سائنس (M.Sc) کی ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں۔ وہ دنیا میں بائیو کیمسٹری کا بہت بڑا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اسی سال ایک دن اچانک وہ ایک ناقابل علاج مرض کا شکار ہو گیا۔ اس کا آغاز تو الرجی سے ہوا لیکن مسلسل تھکن (Chronic Fatigue) تمام جسم میں مسلسل درد (Fibromyalgia)، جسم کے مدافعتی نظام کی ناکامی (Lumps)،
مزید پڑھیے


معاشی منصوبہ بندی یا جہاد ہند۔فیصلے کی گھڑی

بدھ 20 فروری 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا عجیب اتفاق ہے کہ اس پورے خطے کے چاروں ممالک میں ایک ساتھ شہ سرخیاں بننے والے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں سعودی ولی عہد کی پذیرائی ہے، بیس ارب ڈالر سے زیادہ کی سودی سرمایہ کاری ہے، عمران خان کے ایک ابھرتے ہوئے لیڈر اور کامیاب حکمران ہونے کا چرچا ہے۔ بھارت میں اسکی گزشتہ ستر سالہ تاریخ کا سب سے بڑا اور پہلا خودکش حملہ ہوا ہے جس نے واضح کردیا ہے کہ کشمیر کا جہاد اب ایک بالکل مختلف موڑ لے چکا ہے اور اب یہ اس پرانی قوم پرستانہ روش اورجدوجہد سے
مزید پڑھیے


کشمیری جہاد۔ افغان طالبان سے متاثر

پیر 18 فروری 2019ء
اوریا مقبول جان
جہاد اور تصور جہاد مسلم امہ میں کبھی بھی سرد خانے کی زینت نہیں بنا۔ انتہائی ادبار، کسمپرسی اور نوآبادیاتی یورپی طاقتوں کے قبضوں اور حکمرانی کے باوجود بھی دنیا میں ایک خطہ یا ایک جماعت ایسی ضرور رہی ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے تلوار اٹھاتی رہی، ہتھیار چلاتی رہی اور قتال کے راستے پر گامزن رہی۔ جس وقت برطانیہ کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اسی دور میں سوڈان میں 1881ء میں مہدی سوڈانی کی جہادی تحریک نے جنم لیا۔ تلواروں اور نیزوں سے آراستہ انہوں نے برطانوی کالونی مصر کی فوج کے
مزید پڑھیے


میڈیا کی ستائی مظلوم عورت

جمعه 15 فروری 2019ء
اوریا مقبول جان
بیسویں صدی کے آغاز میں جب سودی بینکاری کے سرمائے سے کارپوریٹ سرمایہ داری نظام مضبوط ہوا تو عورت کی آزادی اور مساوی انسانی حقوق کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ یہ آوازیں کسی شعوری ترقی یا علمی انقلاب کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ ایک کاروباری ضرورت کے تحت بلند ہوئیں، کیونکہ اب کثیر تعداد میں سستے کارپوریٹ مزدوروں کی ضرورت تھی۔ مرد تو معاشی مزدوری صدیوں سے کر ہی رہے تھے لیکن اب سرمایہ دار کے کارخانوں کا ایندھن بننے کے لیے گھروں سے عورتوں اور بچوں تک کو بھی اس جہنم میں جھونکنا ضروری ہوگیا تھا۔ کھیتوں
مزید پڑھیے