BN

اوریا مقبول جان


تیسری عالمگیر جنگ: کیا محاذ گرم ہوچکا


جس تیزی سے یہ پورا خطہ جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کا اندازہ یہاں کی حکومتوں اور عوام کو تو شاید نہ ہو، لیکن چین جس کی تباہی کے لئیے یہ میدانِ جنگ سجایا گیا ہے، اسے اس کا بخوبی علم ہے اور وہ گذشتہ دس سال سے ایک ایسے جاندار کی طرح پنجوں پر کھڑا ہے جسے خونخوار درندوں نے گھیر رکھا ہو۔ امریکی صدر ’’بارک اوباما‘‘نے 2016ء میں بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، کہ بھارت اور امریکہ اکیسویں صدی کے مشترکہ دوست اور مشترکہ دشمن رکھتے ہیں اور بھارت کو یہ مشورہ دیا
جمعرات 23 جولائی 2020ء

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے (2)

اتوار 19 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
آج سے نو سال قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن یہ کہہ رہی تھی کہ ’’افغانستان اور عراق‘‘ میں مہمات کی وجہ سے امریکی معیشت پر جو منفی اثرات ہوئے، اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ یہ خیال کررہے ہیں کہ امریکہ کو بیرونِ ملک اپنی سرگرمیاں کم کرکے اندرونِ ملک ترجیحات کو بہتر بنانا چاہیے، ایسے لوگوں کے خیالات گمراہ کن (Misguided) ہیں۔ ہم نے ساٹھ برسوں سے اس ’’گھر واپس آؤ‘‘ والی طاقتوں کا مقابلہ کیا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی بیرونی دنیا میں اپنی مداخلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ امریکی نظام
مزید پڑھیے


گراں خواب چینی سنبھلنے لگے ……(۱)

هفته 18 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
تقریباً پچاس سال کے بعد مشرقِ بعید پھر میدانِ جنگ بننے والا ہے۔ آج سے پنتالیس سال قبل، 30اپریل 1975ء کو امریکہ ذلت و رسوائی کے ساتھ ویت نام سے نکلا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد دنیا نے ابھی سکھ کا سانس لیا تھا کہ، ہند چینی کے وہ ویت نامی علاقے جو فرانس کے قبضے میں آئے تھے، ان میں 19دسمبر 1946ء کو ویت منہہ گوریلوں نے فرانسیسی قبضے کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا۔ یہ جنگ 20 جولائی 1954ء تک چلی جس میں ویت منہہ گوریلوں کو فتح حاصل ہوئی اور خطے میں چار نئے
مزید پڑھیے


بہت بے آبرو ہو کر

جمعه 17 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
بھارت کو اس خطے سے نکل جانے کا اشارہ آج سے آٹھ سال پہلے ہی مل چکا تھا، جب امریکہ نے باراک اوباما کے زمانے میں افغانستان کے محاذ سے بوریا بستر لپیٹنے کا ارادہ کیا تھا۔ امریکہ کے تمام تھنک ٹینک اسے متنبہ کر رہے تھے کہ اگر امریکہ مزید اس جنگ میں الجھا رہا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ خاموشی سے معاشی ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا چین، امریکہ کا اس خطے سے بوریا بستر گول کردے گا۔ 16دسمبر 2010ء کو باراک نے اعلان کردیا کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجوں کو مرحلہ وار واپس بلائے
مزید پڑھیے


کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے

جمعرات 16 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
پہلی افغان جنگ کی ذلت آمیز شکست اور 13جنوری 1842ء کو کابل میں بیس ہزار برطانوی ہند فوج کے سورمائوںکے قتلِ عام کے بعد تلملاتا ہوا ’’گورا‘‘ صبر سے نہیں بیٹھا اور 1878ء میں اس نے ایک اور جنگ چھیڑ دی جو دو سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کے آخر میں گندمک کے مقام پر افغانستان کے امیر یعقوب خان اور برطانوی افواج کے سربراہ سرلوئی کیوگناری کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت کوئٹہ، پشین، ہرنائی، سبی، کرّم اور خیبر کے علاقے برطانوی تسلط میں آگئے اور برطانیہ نے افغانستان کو ایک خود مختار سلطنت کے
مزید پڑھیے



یادداشتیں اور سچ جھوٹ کا کھیل

اتوار 12 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
نواب محمد اکبر خان بگٹی نے ایک دفعہ مجھے اپنی سوانح عمری لکھوانا شروع کی۔ آغاز میں انہوں نے اپنے بچپن کے واقعات، ایچی سن کالج کی یادیں اور خصوصاً اپنے اتالیق علامہ آئی آئی قاضی کا ذکر اسقدر تفصیل سے کیا کہ یوں لگتاتھا، اس سوانح عمری کے کئی سو صفحات اس عظیم شخصیت کی ہمہ جہتی کے لئے ناکافی ہوں گے۔ علامہ امداد علی قاضی 18اپریل1886ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی امام علی انصاری نے اپنے ہونہار بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لئے گھر پر استاد رکھ کر دئیے جنہوں نے انہیں عربی،
مزید پڑھیے


دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

هفته 11 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
قسطنطنیہ جسے آج کی دنیا استنبول کے نام سے جانتی ہے۔ سید الانبیائؐ کی زبانِ مبارک سے اس شہر کا ذکر کئی حوالوں سے ہوا ہے اور یہ آپؐ کی پیش گوئیوں کی حقانیت کا امین ہے۔ یہ شہر آپ کی پیش گوئیوں کے مطابق 1453ء میں فتح ہوا۔ لیکن اس عظیم شہر کے بارے میں باقی تمام احادیث اس بڑی جنگ ’’ملحمتہ الکبریٰ‘‘ سے متعلق ہیں جس میں یہ شہرـ ایک بار پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائیگا اور سیدنا امام مہدی کی فتوحات میں فتح ہونے والا آخری شہر یہی ہو گا۔ یہ قسطنطنیہ جو اس وقت
مزید پڑھیے


نیست ممکن جزبہ قرآن زیستن

جمعه 10 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے بائیس کروڑ عوام میںاگر مسلمانوں سے یہ رائے لی جائے کہ تم کوئی ایسا سکول، کالج یا یونیورسٹی چاہتے ہو جہاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی ارفع تعلیم بھی دی جائے تو چند مغرب زدہ، سیکولر، لبرل، بے روح دانشوروں اور مادر پدر آزاد تہذیب کے دلدادہ مٹھی بھر لوگوں کو چھوڑ کر کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے۔ یہ لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ آج کی جدید دنیا میںمقبولیت کو ناپنا بہت آسان ہے۔ اخبارات پڑھنے والوں میں سے نوے فیصد قارئین انٹرنیٹ پر اپنی اخباری پیاس بجھاتے
مزید پڑھیے


اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے

جمعرات 09 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی تاریخ میں اگر ضیاء الحق کا دس سالہ زرّیں دور نہ ہوتا تو یہ ملک اخلاق باختہ دانشوروں کا اکھاڑہ بن چکا ہوتا۔ وہ دانشور جن کے دلوں میں پرویز مشرف کی آمریت روشن ستارے کی طرح ٹمٹماتی ہے لیکن وہ ضیاء الحق کے دور کو تاریک رات سے تشبیہ دیتے ہیں۔ یہ ’’تاریک رات‘‘ ایک ایسے پر اطمینان اخلاقی ماحول کی علامت تھی، جس میں کسی باپ، ماں، بھائی یا بہن کو ٹیلی ویژن لگاتے ہوئی یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ اچانک خبرنامے کے اندر کسی فلم کے آیٹم گانے کی ریلیز کی خبر نشر ہوتے
مزید پڑھیے


پاکستانی سودی خزانہ اور اسلامی بیت المال کی تشبیہہ (آخری قسط)

اتوار 05 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
آپؐ نے بازار کے بارے میں فرمایا، ’’یہ تمہارا بازار ہے یہاں لین دین میں کمی نہ کی جائے گی اور اس پر محصول (ٹیکس) مقرر نہ کیا جائے گا‘‘ (سنن ابنِ ماجہ)۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے تین معاملات میں اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ’’اے اللہ میں برآت کا اعلان کرتا ہوں تین باتوں سے (۱) لوگوں کا گمان ہے کہ میں طاعون سے بھاگا ہوں، (۲) میں نے طلاء کو حلال کیا حالانکہ وہ شراب ہے اور( ۳) میں نے مسلمانوں سے ٹیکس کو حلال کیا حالانکہ وہ نجس ہے‘‘ (شرح معافی الاثار)۔ جس
مزید پڑھیے