رعایت اللہ فاروقی



مصنف و کتاب اور زچہ و بچہ


میں ایک ایسے عالم دین کا بیٹا ہوں جن کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ بچے کو سکول یا کالج کی تعلیم کے لئے بھیجنا گمراہ کن کام ہے کیونکہ ان اداروں میں بچے اخلاقی و دینی لحاظ سے برباد ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے میں گھومتی پھرتی نوجوان نسل کی اخلاقی حالت بطور مثال پیش کیا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنے بچوں کے لئے ان کی تعلیمی ترجیح مدرسہ تھا۔ ہم نو بھائی ہیں اور ہر بھائی مدرسے ہی کا پڑھا ہوا ہے۔ ہم امیر تو کیا متوسط طبقے سے بھی تعلق نہ رکھتے تھے، سو میرا بچپن انہی غریب
منگل 09 اکتوبر 2018ء

’’سچ کی بتی‘‘

اتوار 30  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
انسان کے پاس سب سے بیش قیمت چیز ’’خیال‘‘ ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو انسان کو سماجی زندگی گزارنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو کسی نثر کو شہ پارے کی حیثیت دلوا دیتا ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو کسی شعر کے لئے مکرر ارشاد کے مطالبات بلند کروا دیتا ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو سیاسی کوچوں میں ہنگامہ خیزی کا طوفان برپا کر دیتا ہے اور وہ بھی خیال ہی ہے جو لشکری طوفانوں کا رخ موڑ دیتا ہے۔ خیال کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ انسان کے لئے
مزید پڑھیے


’’خدا کو منظور نہ تھا‘‘

منگل 25  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
نصیب یا قسمت وہ خدائی تقسیم ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں میں فرمادی ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ بندہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور تقسیم میں سے اس کا حصہ اس تک پہنچ جائے۔ ہر محنت کا صلہ ہے اور محنت جتنی ہوگی صلہ اتنا ہی ہوگا۔ نصیب اور قسمت کے کھیل میں خدا کے ’’امر‘‘ اور بندے کی محنت دونوں ہی کا عمل دخل ہے۔ اگر غور کیجئے تو بات اسی نصف اختیار کی ہے جو بندے کو حاصل ہے اور جس کا باقی نصف خدا نے اپنے پاس رکھ لیا
مزید پڑھیے


’’بیوقوف، سمجھدار اور پاگل‘‘

بدھ 19  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
خرد کی زبان سے قدرتی آفات پر انسان کا سب سے بڑا دشمن ہونے کا الزام بارہا سنا ہوگا۔ اور یہ بھی دیکھا ہوگا کہ جب یہ الزام گونجتا ہے تو سننے والے پورے جوش و خروش کے ساتھ اس کی تصدیق میں سر ہلاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر اصل حقیقت دیکھی جائے تو روح کانپ اُٹھتی ہے۔ چھ بڑی قدرتی آفات ، قحط، سیلاب، طوفان، زلزلہ، سونامی اور گرمی نے انسانی تاریخ میں جو بڑی تباہیاں مچائی ہیں اگر ان کے مجموعی عدد کو دیکھیں تو 10 کروڑ 28 لاکھ انسانوں کا قتل ان کے گلے پڑتا ہے،
مزید پڑھیے


’’علمی زوال‘‘

هفته 15  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
جب کسی معاشرے پر زوال آتا ہے تو ہر سطح پر آتا ہے، معاشرے کا کوئی ایک بھی طبقہ یا میدان ایسا نہیں ہوتا جو زوال کے آسیب سے خود کو بچا سکے ۔ تعلیم وہ واحد چیز ہے جو کسی معا شرے کو زوال کی پستی سے واپس اٹھا سکتی ہے ۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان دو ایٹم بم کھا کر مسمار ہو چکا تھا یہ انسانی تاریخ کے دو مہلک ترین زخم تھے جو ایک قوم کو ایک ہی ہفتے میں لگے تھے۔ جاپانیوں کا حوصلہ زمین سے جا لگا تھا۔ کچھ ایسا ہی حال جرمنی کا
مزید پڑھیے




’’آج کا نوجوان، ایک سیاسی دہقان‘‘

منگل 11  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
مطالعہ اور مشاہدہ انسانی دل دماغ کو غور کا سامان مہیا کرتاہے ۔ اگر کوئی غور کرتا ہے تو یہ غور اس کے شعو ر کو پرواز عطاء کرتا ہے ، یہ پرواز جب بلندی پر پہنچتی ہے تو زندگی کے اسرار و رموز سے ہی آشنائی حاصل نہیں ہوتی بلکہ عالم امکان کے مناظر بھی کھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ تب انسان بیقرار ہو جاتا ہے اور باقی دنیا کو دکھتے مناظر اور آنے والے طوفانوں کی خبر کرتا ہے۔ لوگ نت نئے سوالات کرتے ہیں اور یہ فہم کو قبول جوابات دیتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے اس کا کہا
مزید پڑھیے


درس نظامی کا جمود

هفته 08  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ہم سالہا سال سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ِ وقت مدارسِ عربیہ میں اصلاحات کا ایک شوشہ چھوڑتی ہے جواباََ کچھ سیاسی و نیم سیاسی علماء گھسے پٹے ڈائیلاگ بول دیتے ہیں اور معاملہ سٹیٹس کو کے سپرد ہو جاتا ہے۔ حکومت اس معاملے پر کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور نہ ہی علماء اپنی روایتی ڈگر چھوڑنے پر غور کرتے ہیں۔ کوئی اس حقیقت سے کیسے انکار کر سکتا ہے کہ ارتقاء فطرت کی تین بڑی صداقتوں میں سے ایک ہے، انسانیت نے اپنی پوری عمر میں ایسا ایک سیکنڈ بھی نہیں دیکھا جب ارتقاء
مزید پڑھیے


ٹھیکیداری نظام

منگل 04  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وطنِ عزیز میں اسلامی نظام ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ نہیں ہے اور ایسے بھی ہیں جن کے مطابق ایڈھاک ازم کو فروغ ہے، کبھی ملک اسلامی ہو جاتا ہے، کبھی سیکولر ۔جہاں سے میں دیکھتا ہوں وہاں سے ’’ٹھیکیداری نظام ‘‘ سکہ رائج الوقت نظر آ تا ہے۔ اہلِ دین کئی یونینوں میں بٹے ہیں اور ہر یونین کا دعویٰ ہے کہ دینی و شرعی تعبیرات کی تعمیر کا ٹینڈر انہیں کے نام ہے لہٰذا ان کی یونین کے علاوہ کسی کو اس کام میں ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ جو
مزید پڑھیے


ہتھیار چھوٹا، تباہی بڑی

هفته 01  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
انسانی رویہ بھی عجیب چیز ہے۔ یہ یکمشت نقصان پر تو دل کے دورے جیسی سنگین کیفیت تک پہنچ جاتا ہے جبکہ قسطوں میں ہوتے اس سے کئی گنا بڑے نقصان کو اہمیت ہی نہیں دیتا۔ مثلا آپ ہتھیاروں کے معاملے کو ہی لے لیجئے ! ایٹم بم یا جراثیمی ہتھیار کا نام ہی سن کر اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے اور بسا اوقات یہ تک کہہ جاتا ہے کہ ’’شکر ہے ہیرو شیما اور ناگاساکی کے بعد اس کا مزید استعمال نہیں ہوا‘‘ لیکن یہ جانتا نہیں کہ ’’چھوٹا ہتھیار‘‘ ہر سال ہیروشیما اور ناگاساکی کی
مزید پڑھیے


نشے کے نرخ

منگل 28  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ چند برس قبل اسلام آباد میں دسمبر کی ایک یخ بستہ رات تھی ، جب میں بوجھل طبیعت لئے ایک دوست کی رہائشگاہ پہنچا، اس نے پوچھا ، تمہاری بے کیفی کیسے ختم کی جائے ؟ میں نے عدم مرحوم کا شعر پڑھ دیا خزاں زدہ دل کی بے حسی کا علاج صرف ایک تلخ شئے ہے وہ تلخ شئے کوئی لے کے آئے، تو میں یقینِ بہار کر لوں وہ اُٹھا ، گیا اور لوٹا، ااُ س نے تلخ شئے سے بھرا گلاس میرے سامنے رکھدیا۔ گلاس کو سامنے سے ہٹانے کے لئے اسے چھونا پڑتا، میں نے گلاس
مزید پڑھیے