BN

عارف نظامی


وزیراعظم کے گرد سب ہرا؟


چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ جو چند ہفتوں میں اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہونے والے ہیں‘ جاتے جاتے وزیراعظم عمران خان کو ایک کڑی مشکل میں ڈال گئے ہیں ۔آرمی چیف کی مدت ملازمت جو 29 نومبر کو ختم ہو گئی تھی میں حکومتی نوٹیفکیشن کے تحت چھ ماہ کی توسیع کے حوالے سے بال اب پارلیمنٹ کے کورٹ میں ہے ۔ویسے تو معاملہ سیدھا سادا لگتا ہے اور حکومت کے قانونی مشیر آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے یہ کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت اور شرائط کا تعین ہو سکے
بدھ 04 دسمبر 2019ء

جمہو ری اداروں میں پختگی

هفته 30 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع /دوبارہ تقرری کے حوالے سے سپریم کورٹ میںمنگل کی صبح اچانک شروع ہونے والا ’ڈرامہ ‘ جمعرات کی سہ پہر ان کی مدت ملازمت میںچھ ماہ کی مشروط توسیع اور آئین کے آرٹیکل 243جو سروسز چیفس کی تعیناتی کے بارے میں ہے میں ترامیم کرنے کے حکم کے ساتھ ختم ہو گیا۔ اب جنرل باجوہ جن کی تین سالہ پہلی مدت چند گھنٹے بعد ختم ہونے والی تھی مزید چھ ماہ آرمی چیف رہیںگے۔ اس ساری صورتحال کے لیے حکومت وقت کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ یہ بات
مزید پڑھیے


متوقع تبدیلیاں اور خوف

بدھ 27 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والا تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ’’شام غریباں ‘‘ کا سماں پیش کر رہا تھا ۔ ٹی وی چینلز پر دکھا ئی گئی اجلاس کی فوٹیج میں اکثر شرکا کے چہرے کچھ اترے اترے سے نظر آ رہے تھے ۔ایک طرف تو یہ نوحہ پڑھا جا رہا تھاکہ ’’ہٹاکٹا ‘‘ نواز شریف ہمیں جُل دے کر لندن نکل گیا جبکہ دوسری طرف پارٹی قیادت پنجاب میں ناقص کارکردگی کا رونا رو رہی تھی ۔ عمومی طور پر حکومتوں کا یہ وتیرہ ہوتا ہے کہ اپنی کو تاہیوں کو چھپانے کے لیے سارا ملبہ
مزید پڑھیے


سی پیک اور امریکہ کا غم

پیر 25 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
امریکہ اچانک پاکستان کا غمخوار بن گیا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہد اری پر اس کے اعتراضات نئے نہیں ہیں، سفارتی ذرائع سے پہلے بھی ان کا اظہار ہوتا رہا ہے اور اب امریکہ کی معاون خصوصی وزیرخارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کر دیا ہے۔ چار ماہ قبل جب وہ پاکستان کے دورے پر آئی تھیں اس موقع پر بھی پاکستانی میڈیا پرسنزسے نجی اور آف دی ریکارڈ ملاقاتوں میں اسی قسم کے خیالات اظہار کیا گیا تھا۔امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ چین’سی
مزید پڑھیے


نظریۂ سیاست و ضرورت

هفته 23 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید خان کھوسہ جو اگلے ماہ ریٹائر ہونے والے ہیں‘ نے وزیراعظم عمران خان کے ہزارہ موٹر وے کی افتتاحی تقریب میں غصیلے خطاب جس میں انھوں نے موجودہ چیف جسٹس اور آنے والے چیف جسٹس گلزار احمد کو تلقین کی تھی کہ وہ عدلیہ کے بارے میں یہ تاثر دور کریں کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے ،ایسی اصلاحات لائیں جن سے ہمارا قانون ایسا ہو کہ کمزور سے کمزور آدمی بھی جب طاقتور کے سامنے کھڑا ہو تو اسے اعتماد ہو کہ اسے انصاف ملے گا،کا ٹھونک بجا کر
مزید پڑھیے



مراقبہ اور آئندہ کی سمت

بدھ 20 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
میاں نواز شریف کو بغرض علاج بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے دن وزیراعظم عمران خان دوروز کے لیے ’’مراقبے‘‘ میں چلے گئے۔ اگرچہ خان صا حب کے دوروز کی چھٹی پر جانے کا ناتا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے زبردستی جوڑنا زیادتی ہو گی، لگتا ہے کہ خان صاحب حالات کی بنا پر ذہنی طور پر تھک گئے تھے لہٰذا سرکاری اور سیاسی مصروفیات ترک کرکے انھیں کچھ آرام کی ضرورت تھی۔غالباً وزیر اعظم کو یہ احسا س ہو گیا ہو گاکہ پاکستان میں حکومت کرنا انتہائی کٹھن اور پیچیدہ ہے۔یقیناً خان صا
مزید پڑھیے


حالا ت تیز ی سے بدل رہے

پیر 18 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
سابق وزیراعظم نواز شریف کی روبہ زوال صحت کے پیش نظر بغرض علاج بیرون ملک روانگی کوئی خلاف توقع نہیں تھی لیکن یہ کہ میاں شہبازشریف کو اس مقصد کے لیے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑاجو بظاہر غیر ضروری تھا، بالخصوص جب وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے سر براہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو سروسز ہسپتال بھجوا کر خود تصدیق کرلی تھی کہ میاںصاحب کی صحت تشویشناک حد تک خراب ہے لیکن لگتا ہے کہ یہاں بھی سیاست آڑے آئی۔ نیب نے جو خود کو آزاد اور خودمختار ادارہ کہتے نہیں تھکتا، ای سی ایل سے
مزید پڑھیے


مولانا،نواز،عمران

هفته 16 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد میںدوہفتے سے جاری دھرنا بدھ کی رات اچانک جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ جو وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور نئے عام انتخابات کا اعلان ہوئے بغیر ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں تھے اب اپنے پلان’’ بی‘‘ پر عمل پیرا ہیں جس کے مطابق ملک کی تمام اہم شاہراہوں اور ہائی ویز کو باقاعدہ پروگرام کے تحت بند کیا جائے گا ۔یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ مولانا کا نیا منصوبہ پسپائی کی ایک آبرومندانہ شکل ہے یا واقعی وہ پورے ملک کو شٹ ڈاؤن
مزید پڑھیے


صدمے کی صورتحال؟

هفته 09 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
وزیر ریلویز شیخ رشید احمد جیسے جغادری سیاستدان جنہوں نے اپنے محکمے کے علاوہ ساری حکومت کا بوجھ اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھا رکھا ہے کی حسب توقع ایک اور پیشگوئی نقش برآب ثابت ہوئی۔مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچتے ہی ان کا فرمانا تھا کہ’’ مولانا ایک دو روز تک چلا جائے گا‘‘۔بدھ کی شب دھرنے سے مولانا کے خطاب سے تو یہی لگتا ہے کہ کم از کم اتوار تک وہ اسلام آباد میں ہی ہیں اور عام خیال بھی یہی ہے کہ سردی اور ناموافق موسم کے باوجود مولانا اور ان کے کارکن
مزید پڑھیے


کامیابی صرف ’ڈیلیو ری ‘ سے

بدھ 06 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
دوروز کی مہلت ختم ہونے کے باوجود مولانا فضل الرحمن وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور نئے عام انتخابات کا اعلان ہونے تک ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں،گویا کہ سیاسی بحران شدیدہو گیا ہے۔دونوں فریق نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ کسی بھی حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ دھرنے سے گھبراکر گھر چلی جائے گی عبث ہے۔ فضل الرحمن حکومتی بھونپوؤں اور ان کے ہمنواؤں کی اس گردان کے با وجود کہ دھرنا فلاپ ہو گیا ہے اسلام آباد میں بڑی تعداد میں کارکنوں کے ساتھ موجود ہیں۔ حکومت کے لیے
مزید پڑھیے