BN

اشرف شریف



طوطا حلوہ کھاتا جائے


سیاست کتنی بے رحم ہوتی ہے۔ شیرجیسے درندے سے زیادہ۔ مولانا کیا بیچتے تھے؟ ریاستی اداروں سے ماضی کی شراکت داری کے راز‘ مدارس کے طلباء کی عقیدت و سرفروشی‘کچھ حسینوں کے خطوط اور کچھ تصاویر بتاں۔ادارے کب کسی سے بلیک میل ہوتے ہیں‘ مدارس کے طلباء کے علاوہ مارچ میں کوئی نہیںتھا۔ اسے سیاسی مارچ نہیں مدرسہ مارچ کہا جا سکتا ہے۔ چند روز قبل جس زبان سے لاکھوں کے مجمع کی بات کی جا رہی تھی وہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے ناراضی کا اظہار کر رہی تھی کہ ان کے لیڈر اور کارکن مارچ میں نہیں
پیر 04 نومبر 2019ء

نردھن کے دھن گردھاری

پیر 28 اکتوبر 2019ء
اشرف شریف
تذکرہ غوثیہ حضرت سید غوث علی شاہ پانی پتی کے ملفوظات و حالات کا بیان ہے۔ اس کتاب کی تالیف حضرت کے مرید مولانا شاہ گل حسن نے کی جبکہ ترتیب مولانا اسمعیل میرٹھی نے فرمائی،بڑی سبق آموز حکایتوں سے بھر پور کتاب ہے۔ ایک حکایت ہے گرو اور اس کا چیلا سفر کرتے کرتے‘ منزلیں مارتے ایک شہر میں پہنچے۔ شہر میں ہر چیز ایک روپے کلو تھی۔ دیسی گھی اور بناسپتی گھی دونوں کی قیمت ایک روپیہ تھی۔ گاجر ایک روپے کلو اور سیب بھی ایک روپے میں کلو۔ گورو نے چیلے سے کہا یہاں سے فوراً کوچ
مزید پڑھیے


ایک شہزادہ اک شہزادی

پیر 21 اکتوبر 2019ء
اشرف شریف
کہانیوں میںشہزادہ بہادر ہوتا ہے اور شہزادی ہمیشہ خوبصورت۔ باوقار‘ نرم دل اور عوام کی محبوب۔ پرنس ولیم کی والدہ پاکستانیوں کی محبوب تھیں۔ لیڈی ڈائنا نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈز جمع کرنے میں مدد دی۔ پرنس ولیم نو آبادیاتی حکمران خاندان کے چشم و چراغ کی بجائے اپنی والدہ لیڈی ڈائنا کی نسبت سے پاکستانیوں میں مقبول ہیں جبکہ ان کی اہلیہ شہزادی کیتھرین (کیٹ مڈلٹن) نے لیڈی ڈائنا کی طرح کینسر کے مریض بچوں، ایس او ایس ویلج میں مقیم یتیم بچوں اور شہزادیوں سے محبت کرنے والے‘ خواب دیکھنے والے ان پاکستانیوں کو مسحور کر
مزید پڑھیے


مجھے یقین ہے سردی میں مارے جائو گے

پیر 14 اکتوبر 2019ء
اشرف شریف
سردی اترتی ہے‘ جانے آسمان کی کھڑکیوں سے کون یخ ہوائوں کو زمین زادوں کے گھر بھیج دیتا ہے۔ سردی اترتی ہے‘ تو کئی دل عشق کی گرمی سے دہکنے لگتے ہیں اور کچھ آنکھیںدہلیز پر گلیشئر ہو جاتی ہیں۔ سردی اترتی ہے تو شہر میں گرم ملبوسات کی مہنگی دکانوں پر رش بڑھ جاتا ہے۔ سردی اترتی ہے تو کئی بے لباس جسموں کو اترن کی آس آ گھیرتی ہے۔ اس بار سردی اترے گی تو ہو سکتا ہے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے کوئی دھرنادیئے بیٹھا ہو۔ قالین سے آراستہ فرش‘ کھڑکیوں سے جھانکتے گلاب‘ سالویا اور گل
مزید پڑھیے


اہل سیاست کے ہاتھوں اہل ثقافت کی موت

پیر 07 اکتوبر 2019ء
اشرف شریف
پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی فلم اینڈ ٹی وی کے طلباء کو گزشتہ چند برسوں سے میں ’’قومی و بین الاقوامی امور‘‘ پڑھا رہا ہوں۔ صرف ایک لیکچر رہ گیا ہے۔ سمسٹر مکمل۔ ’’ڈپلومیسی، اس کا ڈھانچہ اور اس کے مقاصد‘‘ ان فنکار طالب علموں کے لئے شاید ایسا ہی خشک موضوع ہے جیسا ہمیں ریاضی معلوم ہوا کرتا تھا۔ لیکچر مکمل ہونے پر میں نے کچھ فنی گفتگو کا فیصلہ کیا۔ میں نے پوچھا آپ میں سے کتنے لوگ اندر سبھا ڈرامہ اور اس کے مصنف امانت لکھنوی سے واقف ہیں۔ جواب سکوت۔ پھر پوچھا کیا کوئی رستم
مزید پڑھیے




شکریہ عمران خان!

پیر 30  ستمبر 2019ء
اشرف شریف
مستنصر حسین تارڑ صاحب ڈھائی ماہ کے بعد ملک واپس آ ئے ہیں۔ رات کو ان کے ہاں مدعو تھا۔ عمران خان کا خطاب شروع ہوا تو ابتدائی چند منٹ کے بعد مجھے دفتر سے تارڑ صاحب کی طرف نکلنا پڑا۔ اگلی صبح نشرر مکرر میں ساری تقریر سنی۔ عمران خان کہاں، ایک درد تھا جو لفظوں کے سیلاب میں ڈھلا اور اقوام عالم کو بہا لے گیا۔ کیا دکھ تھا جس کو عیاں نہ کیا۔ مسلم ریاستوں میں عربی و عجمی کا امتیاز بہت نمایاں ہے، اتنا نمایاں کہ عربوں نے عرب لیگ بنا کر اپنے مفادات کی الگ تشریح
مزید پڑھیے


مولانا: کیا عمران مخالف دیوار گرنے کو ہے؟

پیر 23  ستمبر 2019ء
اشرف شریف
مولانا فضل الرحمان کے مارچ کو ختم نبوت سے جوڑیں یا عمران مخالف جذبات کا اظہار کہیں یہ سچ ہے کہ ریاست کو اپنی تعمیر کردہ ایک اور دیوار کو دھکا دینے کا وقت آ پہنچا۔ مولانا کا مزاج اقتدار پسندانہ ہے۔ ان کے پاس اپنی بات کہنے کے سو طریقے ہیں۔ سب سے خطرناک طریقہ مذہبی کارڈ کا استعمال ہے جو شاید پہلی بار اداروں کی مرضی کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ چند ماہ قبل ایک کالم میں لکھا تھا کہ مولانا کا خرچ اٹھانے پر جس دن مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی نے اتفاق کر لیا
مزید پڑھیے


1947 ء کے بعد خالصتان تحریک

پیر 16  ستمبر 2019ء
اشرف شریف
1950ء کے عشرے یعنی آزادی کے فوری بعد جب کانگرس کی طرف سے سکھوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہوتے نظر نہ آئے تو پنجاب کی لسانی شناخت محفوظ بنانے کے لئے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بھارت کے سٹیٹ ری آرگنائزیشن کمشن نے شدید احتجاج کے بعد پنجابی زبان کو قومی زبانوں میں شامل کرنے کے حوالے سے سکھوں کے مطالبات تسلیم کر لئے مگر اس کے بعد مشرقی پنجاب کے وسیع علاقے کو ہما چل پردیش ‘ ہریانہ اور پنجاب کی تین ریاستوں میں بانٹ دیا۔ پنجاب کو زرعی مراعات ملیں۔ سبز انقلاب کے مقامی
مزید پڑھیے


مطالبہ خالصتان کی تاریخی بنیادیں (2)

منگل 10  ستمبر 2019ء
اشرف شریف
اس نے کہا کہ 14مئی 1946ء کے بیان کی بنیاد پر ہم چاہتے ہیں کہ اگر سرکار برطانیہ سکھوں کو بیچ منجدھار چھوڑ کے چلی گئی تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہو گی‘‘ اس ملاقات میں کرتار سنگھ نے تجویز دی کہ پنجاب کے دو حصے کر کے انہیں اختیار دیدیاجائے کہ وہ جب چاہیں نئے آئین سے علیحدہ ہو سکیں۔ گیانی کرتار سنگھ نے اس موقع پر ایک سکھ ریاست کے کچھ خدوخال بھی گورنر کے سامنے رکھے۔ اس نے کہا کہ سکھوں کے الگ صوبے سے مرادغیر مسلم اکثریتی صوبہ ہے۔ جس میں تمام سکھ علاقہ شامل
مزید پڑھیے


مطالبہ خالصتان کی تاریخی بنیادیں

پیر 09  ستمبر 2019ء
اشرف شریف
خالصتان کی آزادی پر سکھ آبادی ایک بار پھر متحرک ہو رہی ہے۔ سکھ کشمیریوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے سکھ رکن نے اسلاموفوبیا اور کشمیر پر بڑے جوش بھرے انداز میں بات کی۔ کینیڈا میں مقیم سکھ برادری نے کشمیریوں کے لئے آواز اٹھائی ہے۔ برطانیہ میں سکھ نوجوانوں نے کشمیریوں کے ساتھ مل کر بھارتی ہائی کمشن کے دروازے پر انڈے پھینکے۔ خود بھارت کے اندر بہت سے دانشوروں کے علاوہ مشرقی پنجاب کی سکھ آبادی پاکستان اور اہل کشمیر کی حمایت کر رہی ہے۔نئی دہلی کے ایک انسان دوست سکھ نے ایک سو
مزید پڑھیے