BN

جسٹس نذیر غازی



ضعف کے مارے لوگوں کو ، آخر کب تک لوٹو گے


مقدمہ اہم ترین اس کمزور مخلوق کا ہے جس کی وکالت کے لیے ہر شخص تیار رہتا ہے لیکن حق وکالت ادا کرنے کو خوف کا پتھر اور بالکل جامد پتھر سمجھ کر ترک کردیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، مکان، کپڑا، روٹی بہت بڑے اور ضروری حقوق ہیں۔ رعایا حسرت کی نگاہوں سے کسی چارہ گر کی تلاش میں ایک عرصے سے سرگرداں ہے۔ آزادی کو ستر برس سے زیادہ تلخ ایام بیت گئے۔ غریب کی سوئی ہوئی قسمت ابھی تک ضعف میں آنکھیں ملتی ہے۔ بیدار نہیں ہوتی۔گہرے اور شاطر خیالات کو سیاست اور اختیارات کے لباس میں اتنا
هفته 09 فروری 2019ء

شاخ گل پر چہک و لیکن کر اپنی خودی میں آشیانہ

هفته 02 فروری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
حکمران اپنی معاون ٹیم میں گھرا رہتا ہے۔ بہت احتیاط سے سننا۔ پھر پوری دماغی قوت کو بیدار رکھنا اور اعتماد کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ فیصلہ مفید ہونا چاہیے۔ مخلوق سکھ محسوس کرے اور وہ پریشان نہ ہو۔ حق حکمرانی مل تو جاتا ہے‘ البتہ اس کا حق پہچاننا عمل ہی سے ثابت ہوتا ہے۔ نادان تلوار سے کھیلیں یا بچہ تخت پر بیٹھے۔ مخلوق کو راحت کہاں نصیب ہو گی۔ ایک مرتبہ کیا ہزاروں مرتبہ تاریخ میں اہل اور نااہل لوگ مل جل کر عوام کو ہانکتے رہے۔ نہ چین کا اچھا وقت آیا اور نہ ہی شر
مزید پڑھیے


مقتولوں کی آہیں تو فلک پار گئی ہیں

هفته 26 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
زندگی ہے تو اونچ نیچ ہوتی رہے گی۔ پھر موت سب کوبرابر کردیتی ہے۔ اچھی بری زندگی موت پر بھی اثر انداز ہوا کرتی ہے۔ قوموں کی زندگی میں اچھائی اور برائی اوپر سے نیچے کو منتقل ہوتی ہے۔ راجہ کے درباری ہی کل سیدھی رکھتے ہیں اور بگاڑ فساد بھی یہی سکھاتے بتاتے ہیں۔ راجہ کے سنگھاسن کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی نشہ دربار چڑھا رہتا ہے۔ ہر کاروں کا نشہ ذرا دھیرے دھیرے بڑھتا ہے تو وہ راجہ کو بھی مات کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔ رہی بات کوتوال کی تو اس کو کون پوچھے کہ تیری
مزید پڑھیے


آستینوں میں چھپے ہیں قزاق

هفته 19 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کسی دور میں غریبوں کے آنسو پونچھنے کے لیے اہل قلم اپنا حق ادا کرتے تھے، اپنی نظموں سے، اپنی غزلوں سے، نثرپاروں میں غم دوراں کے ماتم میں وہ شریک ہوتے، بے چارگان کے لیے، بے نوائوں کی نوا شاعر خستہ دل ہوا کرتے تھے۔ لہو میں ڈوبی انگلیاں ظلم کی داستان خونچکاں رقم کرتی تھیں۔ تب بھی قصیدہ خوان دربار، فرعون صفت بادشاہ کوسایہ خدا ثابت کرنے کے لیے مبالغہ کلام کو شرمندہ کرتے تھے اور دنیائے بے وقعت کو قلب کی ترازو میں سجاتے تھے۔ نگری میں اندھیرا بڑھتا جارہا ہے۔ راجہ نجانے کہاں کہاں چوپٹ ہوئے خود اندھے
مزید پڑھیے


ہر ادا پہ ایک ماتم چاہئے

اتوار 13 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک روز کسی دانشور نے جگرسوزی سے ایک درد مندانہ تحریری بھیجی ہے کہ ایک سناٹے دار موضوع پر توجہ فرمائیے۔ موضوع پر غور کیا تو واقعی احساس کو بھی سناٹا آ گیا۔ ہم بولتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ تبصرے کرتے ہیں اور پھر موضوع کو ترک کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں یا پھر کچھ وقت کے لئے تلملاتے ہیں‘ موضوع یہ ہے کہ اس ملک کے اشرافیہ اپنے بھاری بھاری حرموں کے ارتکاب کے باوجود بھی قابل احترام رہتے ہیں۔ عزت کی کلغی ان کی پیدائشی صفت اور وراثتی اثاثے کی طرح سمجھی جاتی ہے یہ اشرافیہ نجانے کس شرافت
مزید پڑھیے




ترا یہ دعویٰ غلط ہے ساقی

هفته 05 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
نظام کو بدلنے کے لیے شر اور خیر کی قوتیں مسلسل متصادم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تبدیلی کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ہماری عملی قوت تبدیلی کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کردے گی۔ بظاہر تو یہ سوچ ایک ولولہ تازہ کو میدان عمل میں حرکت دیتی ہے لیکن جب نتائج معکوس ہوں اور جمود برقرار رہے تو ایک نئی مایوسی، نئی بے چینی اور نئی خرابی کا نیا راستہ کھلتا ہے۔ یہ ایک عمرانی اور فطری حقیقت ہے۔ فضول مباحث اور الفاظ کا الٹ پھیر ذرا دیر کے لیے تو ایک تسلی بخش ماحول پیدا کرتا ہے
مزید پڑھیے


کیسی بازی؟ یہ موت کی بازی

اتوار 30 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
سب آسانیاں اور سب مفادات تو عوام کے لئے ہوتے ہیں حکومت ان آسانیوں کو فراہم کرنے کا بندوبست کرتی ہے اور حکومت کے تمام کارندے عوام کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ ان خدمت گزاروں کو مراعات اسی لئے مہیا کی جاتی ہیں کہ وہ عوام کے مفادات کا تحفظ کریں دور جدید میں دنیا بہت سے سیاسی اور معاشی نظاموں کی پابند ہے۔ ہر نظام کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کی بہتری اور فلاح کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔وطن عزیز پاکستان مختلف ادوار میں مختلف نظاموں کے نفاذ اور ترویج کی تجربہ گاہ رہا ہے اور اس تجرباتی سفر
مزید پڑھیے


آستاں ہے یہ کس شاہ ذیشان کا!مرحبا،مرحبا

هفته 22 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
بندہ صحرائی کیا کرتا ہے؟ مرد کہستانی کا زور قوت کیا ہے؟ خیال ہے۔ یقین ہے یا اہل تجربہ کا تبصرہ ہے۔ سب خام ہے اور بغیر یقین کے توخام بھی بے سود ہے اور بے قیمت ہے۔ بندۂ حق ہے جو فطرت کے سفر میں فطرت کی طے کردہ منزل کی جانب گام در گام یوں بڑھتا ہے جیسے کسی نے ہرآن ایسی دستگیری کی ہے کہ کسی مقام پر ٹھوکر نہ لگے۔ یہ خیال و واہمہ تو ہرگز ہو ہی نہیں سکتا۔ خدائی وعدہ ہے کہ ایمان کی حفاظت میں، مقصد حیات کی تکمیل میں، کردار کی تعمیر میں اور
مزید پڑھیے


اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی

جمعرات 13 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قوموں کے رویوں میں مستقل تبدیلی کے لئے اذھان کی تبدیلی ضروری ہے۔ اذھان کی تبدیلی تعلیم سے ہوتی ہے اور دلوں کی تبدیلی تربیت سے ہوتی ہے ایک مسلسل وقت درکار ہوتا ہے تب جا کر کہیں کچھ روشنی کے آثار امید دلاتے ہیں کہ اب تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ کبھی ممکن ہے کہ مردہ خانے کے باہر زندہ وجود کھڑے کرنے کے بعد توقع کر لی جائے کہ ہم نے مردہ خانوںمیں بھی زندگی کی روح پھونک دی ہے۔ بنجر زمین پر مصنوعی خوشنما پھول بوٹے سجا کر گیاکوئی عقل مند اعلان کر سکتا ہے کہ اس
مزید پڑھیے


دیکھتے رہیے‘ سوچتے رہیے

هفته 08 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہر دورِ حکومت میں متعلقہ ارباب بست و کشاد تعلیم پر بہت زور دیتے ہیں۔ ضرورت بھی بہت ہے کہ کوئی عاقل و دانا حکمران غفلت نہ برتے۔ غافل و دانا حکمران کوشش کرتے ہیں کہ ان کے مشیر تعلیم اپنے میدان کے ماہر ہوں۔ اور پھر بہت سے ماہرین اپنی خدمات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتے ہیں بسا اوقات یہ جدوجہد میں بدلتی کوششیں سرخ فیتے کی نذر ہو کر بے سانس اور بے آس ہو جاتی ہیں۔ وزارت اور مشاورت کی کلاہ بلند تو انہیں نصیب ہوتی ہے جو کسی سیاسی گروہ کا حمایت یافتہ ہو یا
مزید پڑھیے