BN

جسٹس نذیر غازی



حکمت مغرب کے تیور‘الامان


کوئی شائبہ اب باقی نہیں رہا ‘مغرب کے مذہبی جنونی اپنی تاریخ کی پرانی سیاہی سے دہشت گردی کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ یہودیوں کی تاریخی زہرناکیاں اور نصاریٰ کی صلیبی جنگیں اپنی سیاہ ناکی کبھی بھی تاریخ کے اوراق سے محونہیں کر سکتی ہیں۔ دلوں میں دہشت ناک کی آگ اس طرح سے بھری ہوتی ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کا الائو کبھی بھی مدھم نہیں ہوتا۔ان کی حکومتیں ان کے دانشور اور ان کے سیاستدان اپنی سوچ کے محدود دائرے کے اسیر ہیں۔ دہشت گردی‘ قزاقی‘ مظلومیت‘ محرومیت کے مغربی پیمانوں میں مشرق اور مسلمان بہرحال
اتوار 24 مارچ 2019ء

غیرت فقر کا انتظار ہوتا ہے

اتوار 17 مارچ 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ہر روز کی تازہ تحریر میںایک پرانا جملہ گردش کرتا ہے کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے اب یہ جملہ عمرانی ‘‘مسلمات ‘‘کا ایک مستقل مضمون ہوا چاہتا ہے خیر ایک نسیان زدہ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ تاریخ فروش جان بوجھ کر بھولنے کا سبق اپنی معرکتہ الارا تصانیف میں دھراتے ہیں۔ بدقسمتی کا یہ حصہ ہماری ملی تاریخ کو نصیب ہوا ہے۔ پاکستان کیوں ناگزیر تھا؟ اور اس کی بقاء کے لئے‘ اس کی فکری و نظری ضرورت کو پیش نظر رکھنا کیوں واجب ہے؟ اور کیسے سفر بقائے وطن کا زاد راہ بچا کر اور بڑھا
مزید پڑھیے


دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

هفته 09 مارچ 2019ء
جسٹس نذیر غازی
بھانت بھانت کی بولیاں اس روز بھی تھیں جب بھارتی نیتائوں نے اپنی ناپاک نیت کو جھوٹ کے غلاف میں لپیٹ کر دن کی روشنی میں شور مچایا کہ ہم نے پاک فضائوں کو ملیچھ کیا ہے۔ تب ارض پاک میں چھپے ہوئے منافقین کے چہرے کھل اٹھے۔ چھٹانک بھر کی زبان سے وہ شور اٹھایا کہ محب وطن ذرا دیر کو پریشان تو ہوئے لیکن کسی بھی لمحے کے ہزارویں حصے کے برابر بھی دشمن سے مرعوب نہیں ہوئے۔ منافقین کا کردار عبداللہ بن ابی سے اپنا رشتہ تازہ رکھتا ہے۔ اہل ایمان حالات کی چیرہ دستی سے پیچ
مزید پڑھیے


زاغوں کا شوروغوغا سن کر عقاب جاگے

هفته 02 مارچ 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک تماشہ ہے جو شیطان نے اپنے حواریوں کو سجھا کر، سمجھا کر، پیٹھ ٹھونک کر برپا کروا دیا ہے اور بڑی خاموش آگ بھر دی ہے۔ مشرکین کے اندھے دماغوں میں اور فساد کی انجانی لہر اتار دی ہے کافروں کے خون میں۔ اور رہے منافق تو وہ بے چارے کبھی ڈرتے ہیں اور کبھی آنکھیں کھولتے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ منافق ہر جگہ اور ہر وقت اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ملت پاکستان، ملت اسلامیہ کی دفاعی اساس ہے۔ اس کی بنیاد اول وآخر لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ (ﷺ) ہے۔ اس کی
مزید پڑھیے


دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز

هفته 23 فروری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
اپنی اپنی بولی اور اپنا اپنا خیال، وقت گزرتا ہے، میلے کا رنگ بھرتا جاتا ہے۔ ہر حاضر اپنی شناخت رکھتا ہے۔ شناخت کو عام کرتا ہے۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا وجود اور یاد دوسروں کو شناخت دیتی ہے۔ پھر شام کے سائے، زندگی کے سفر کا آخری پڑائو اور موت کا پلیٹ فارم، پلیٹ فارم کے اس طرف شہر خاموشاں اور اس شہر کے نئے آبادکار، لواحقین اور غمزدہ دوستوں کے اداس جلوس کے ساتھ قبر میں جا آباد ہوتے ہیں۔ وجود قبر میں ہے اور یادیں پس ماندگان کے سینوں میں حکایات وفا اور پریم
مزید پڑھیے




ضعف کے مارے لوگوں کو ، آخر کب تک لوٹو گے

هفته 09 فروری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
مقدمہ اہم ترین اس کمزور مخلوق کا ہے جس کی وکالت کے لیے ہر شخص تیار رہتا ہے لیکن حق وکالت ادا کرنے کو خوف کا پتھر اور بالکل جامد پتھر سمجھ کر ترک کردیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، مکان، کپڑا، روٹی بہت بڑے اور ضروری حقوق ہیں۔ رعایا حسرت کی نگاہوں سے کسی چارہ گر کی تلاش میں ایک عرصے سے سرگرداں ہے۔ آزادی کو ستر برس سے زیادہ تلخ ایام بیت گئے۔ غریب کی سوئی ہوئی قسمت ابھی تک ضعف میں آنکھیں ملتی ہے۔ بیدار نہیں ہوتی۔گہرے اور شاطر خیالات کو سیاست اور اختیارات کے لباس میں اتنا
مزید پڑھیے


شاخ گل پر چہک و لیکن کر اپنی خودی میں آشیانہ

هفته 02 فروری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
حکمران اپنی معاون ٹیم میں گھرا رہتا ہے۔ بہت احتیاط سے سننا۔ پھر پوری دماغی قوت کو بیدار رکھنا اور اعتماد کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ فیصلہ مفید ہونا چاہیے۔ مخلوق سکھ محسوس کرے اور وہ پریشان نہ ہو۔ حق حکمرانی مل تو جاتا ہے‘ البتہ اس کا حق پہچاننا عمل ہی سے ثابت ہوتا ہے۔ نادان تلوار سے کھیلیں یا بچہ تخت پر بیٹھے۔ مخلوق کو راحت کہاں نصیب ہو گی۔ ایک مرتبہ کیا ہزاروں مرتبہ تاریخ میں اہل اور نااہل لوگ مل جل کر عوام کو ہانکتے رہے۔ نہ چین کا اچھا وقت آیا اور نہ ہی شر
مزید پڑھیے


مقتولوں کی آہیں تو فلک پار گئی ہیں

هفته 26 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
زندگی ہے تو اونچ نیچ ہوتی رہے گی۔ پھر موت سب کوبرابر کردیتی ہے۔ اچھی بری زندگی موت پر بھی اثر انداز ہوا کرتی ہے۔ قوموں کی زندگی میں اچھائی اور برائی اوپر سے نیچے کو منتقل ہوتی ہے۔ راجہ کے درباری ہی کل سیدھی رکھتے ہیں اور بگاڑ فساد بھی یہی سکھاتے بتاتے ہیں۔ راجہ کے سنگھاسن کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی نشہ دربار چڑھا رہتا ہے۔ ہر کاروں کا نشہ ذرا دھیرے دھیرے بڑھتا ہے تو وہ راجہ کو بھی مات کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔ رہی بات کوتوال کی تو اس کو کون پوچھے کہ تیری
مزید پڑھیے


آستینوں میں چھپے ہیں قزاق

هفته 19 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کسی دور میں غریبوں کے آنسو پونچھنے کے لیے اہل قلم اپنا حق ادا کرتے تھے، اپنی نظموں سے، اپنی غزلوں سے، نثرپاروں میں غم دوراں کے ماتم میں وہ شریک ہوتے، بے چارگان کے لیے، بے نوائوں کی نوا شاعر خستہ دل ہوا کرتے تھے۔ لہو میں ڈوبی انگلیاں ظلم کی داستان خونچکاں رقم کرتی تھیں۔ تب بھی قصیدہ خوان دربار، فرعون صفت بادشاہ کوسایہ خدا ثابت کرنے کے لیے مبالغہ کلام کو شرمندہ کرتے تھے اور دنیائے بے وقعت کو قلب کی ترازو میں سجاتے تھے۔ نگری میں اندھیرا بڑھتا جارہا ہے۔ راجہ نجانے کہاں کہاں چوپٹ ہوئے خود اندھے
مزید پڑھیے


ہر ادا پہ ایک ماتم چاہئے

اتوار 13 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک روز کسی دانشور نے جگرسوزی سے ایک درد مندانہ تحریری بھیجی ہے کہ ایک سناٹے دار موضوع پر توجہ فرمائیے۔ موضوع پر غور کیا تو واقعی احساس کو بھی سناٹا آ گیا۔ ہم بولتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ تبصرے کرتے ہیں اور پھر موضوع کو ترک کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں یا پھر کچھ وقت کے لئے تلملاتے ہیں‘ موضوع یہ ہے کہ اس ملک کے اشرافیہ اپنے بھاری بھاری حرموں کے ارتکاب کے باوجود بھی قابل احترام رہتے ہیں۔ عزت کی کلغی ان کی پیدائشی صفت اور وراثتی اثاثے کی طرح سمجھی جاتی ہے یہ اشرافیہ نجانے کس شرافت
مزید پڑھیے