BN

جسٹس نذیر غازی



ظالمو، فتنہ گرو، شعبدہ بازو خاموش


قوم کی توجہات تقسیم ہو کر رہ گئی ہیں۔ کسی بھی طرز کا انداز یکسانیت کہیں واضح نظر نہیں آتا اور بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوٹ مار اور قوم فروشی کے پرانے ماہرین اب بزرگ سیاستدانوں میں شمار کئے جاتے ہیں اور ان کے طرز خرام سے تیز رفتار قزاقی آنکھوں والے اب تازہ خون کے جذبات پر خوان مفادات سجانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ قوم تو نظریات اور شعور و جذبات کی مربوط کہانی کا نام ہے۔ قوم کے نعرے کا علم مقہور و مجبور عوام ہر سردوگرم حالات میں اٹھائے رکھتے ہیں۔ عوام تو اکثریت میں ہیں
جمعرات 21 جون 2018ء

غفلت کی چادر‘ تان کر رہبر بھی سو گئے

منگل 12 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
روزانہ اخبار پڑھتا ہوں ‘ لوگوں سے ملتا ہوں اور مختلف چینلز دیکھتا ہوں کتنی ہی طرح کی باتیں ذہن میں ایک قافلہ بن کر مرتب ہوتی ہیں سفر فکر کا ارادہ بہت مضبوطی سے باندھنا میرا روز مرہ کا فطری شعار ہوتا ہے ارادے میں کتنے ہی موضوعات ہوتے ہیں کچھ تازہ عنوانات مجھے احساس دلاتے ہیں کہ اب یہ لکھو اور کچھ پرانے عنوانات مجھے سونے نہیں دیتے اور مجبور کرتے ہیں کہ ان پر لکھا جائے اور قوم کو سونے نہ دیا جائے۔ قوم تو سو رہی ہے اور چور ڈاکوئوں کی مٹھی میں ایک زہریلی دوا
مزید پڑھیے


لیڈروں کو اک حیا درکار ہے

جمعرات 07 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
کل شام ایک قریبی عزیز نے فون کیا اور رسمی خیر خیریت پوچھنے کے بعد بہت ہی مایوسانہ انداز میں بولے کہ بھائی آپ اخبار میں لکھتے ہیں ۔ اکثر قومی مسائل میں آپ کا انداز بے باکانہ ہوتا ہے اور آپ پاکستان کی بقا ‘ دفاع اور نظریہ وطن پر بات کرتے ہیں ۔ عرض کیا کہ آپ درست کہہ کر رہے ہیں۔ وہ بولے کہ کیا افرادِقوم کے مسائل میں اجتماعی مسائل سے جدا ہوتے ہیں اور کیا کسی لیڈر کو جیب تراشی کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔ وہ مسلسل بول رہے تھے اور اپنی دل
مزید پڑھیے


دستار کے ہر پیچ میں کچھ بھید ہیں پنہاں

جمعه 01 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
پاکستان آزاد ہوا، جغرافیائی پاکستان پر خیانت پیکر انگریز اور حیا سے عاری ہندو نے ضرب کاری لگائی۔ کچھ ریاستیں اور کچھ علاقے تھے کہ وہ برضا و رغبت پاکستان کے جغرافیے میں وسعت کا سبب بن گئے۔ کشمیر حیدر آباد دکن پر ہندو ننگ انسانیت نے اپنی بدنیتی کا پورا مظاہرہ کیا۔ کئی ننگ اسلاف بزعم خویش مرتبہ صالحیت پر فائز اور کھلم کھلا ننگ انسانیت ہندوئوں نے پاکستان کو خواب قرار دیا۔ کئی قلندری ذوق گویوں نے پاکستان کی پ کو لوح کائنات سے خارج کر رکھا تھا۔ رات بھر پاکستان کے قائدین کو استہزاء کی بنسری پر رکھ
مزید پڑھیے


راہبری کا ہے علم ‘ اب راہزنوں کے ہاتھ میں

اتوار 27 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
کتنی جرات بڑھتی جا رہی ہے ہندو بنئے کی زبان اور ہاتھ کی۔ روزانہ اشتعال انگیز فائرنگ ہے ‘پاک سرحدوں پر‘ بے گناہ خواتین‘ معصوم نونہال اور ضعیف الوجود بوڑھے زخمی ہوتے ہیں اور بہت سے تو جام شہادت نوش کر جاتے ہیں اور کتنا خمار ہے جو انڈیا کے ذمہ دار افسران کے دماغ پر چھایا ہوا ہے وہ پوری ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہتے ہیں کلبھوشن صحیح سلامت اپنی جنم دھرتی کو لوٹے گا ہم خبریں سنتے ہیں اخبار پڑھتے ہیں کچھ اثر قبول نہیں کرتے۔ ہم اور ہمارے سیاسی لیڈران اپنی کسی بھی ذاتی راگنی میں
مزید پڑھیے




آب سے محروم کر دیں دشمنوں کی چال ہے

بدھ 23 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قوم تو آخر قوم ہی ہوتی ہے۔ لاکھ انکار کرے کوئی حالات کی زد میں آ کر‘ بیزار مرتبہ کوئی آنکھیں موند لے اور بارہا کوئی ضمیر کا سودا کرے لیکن ایک خفیہ اور خاموش گہرا تعلق قوم کے رشتے کو قائم رکھتا ہے۔ دین سے قومیں بنتی ہیں اور دھرم کبھی بھی کمزور نہیں پڑتے دلوں میں۔ بھارت‘ اسرائیل اور امریکہ پھر ان کے بچے ہوئے دوسرے بین الاقوامی حواری جن کا پیشہ حیات ظلم کے توسیع پسندانہ منصوبے ہیں۔ ان کی نگاہ کا آخری ہدف دنیا کے کسی بھی خطے کا وہ سادہ مسلمان ہے جو اپنی زندگی کو
مزید پڑھیے


بدلتے وقت کی رفتار کون روکے گا!

جمعرات 17 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
بہت تیز رفتاری سے سفر جاری ہے۔ حالات کے انجام سے بے خبری اتنی زیادہ ہے کہ منزل کے گرد دھواں ہے اور آتش فشانی کے دور از قیاس آثار بھی موجود ہیں۔ پھر بھی بے خبری کا نشہ اتنا گہرا ہے کہ گھوڑے گدھے انہیں یکساں نظر آتے ہیں۔ اندر کا خوف بسا اوقات ذات کے اظہار میں اترتا ہے تو دماغی توازن کو بھی جھول آتا ہے کوئی سمجھائے تو اسے آنکھیں دکھاتے ہیں۔ شریف لوگ جب مخمور بھری آنکھوں سے اپنے مخلص دوستوں کو گھورتے ہیں تو نیا تماشا شروع ہوتا ہے۔ پاکستان میں آپا دھاپی کے سیاسی
مزید پڑھیے


صحن گلستان میں صیّاد آ کر بس گئے

هفته 12 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
کرائے کے مکان میں رہنے والے مالک مکان کے لیے آزار کا سبب بنتے ہیں۔ کرایہ دیتے نہیں، قبضہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں، جہاں سے دل کرتا ہے وہیں سے توڑ پھوڑ کرتے ہیں ان کے دل کو راحت ملتی ہے۔ مالک مکان کے ناک میں دم آ گیا ہے۔ اس ملک کے مالک اور وارث وہ اکثریتی عوام ہیں جن کے خون پسینے سے یہاں کی زراعت سانس لیتی ہے اور جن کی ہڈیوں کے گودے کی قیمت پر یہاں کی صنعتیں قوت پاتی ہیں۔ ان غریب اور مفلوک الحال لوگوں کی آمدنی کے ٹیکس سے سیاستدانوں کے ایوانوں کے
مزید پڑھیے


سو رہے ہیں قبر میں وہ ‘ نوری چادر اوڑھ کر

اتوار 06 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی

باپ شجر سایہ دار ہوتا ہے اور شفقت اس کو خلاق فطرت نے اتنی زیادہ ودیعت کر دی ہوتی ہے کہ وہ نسلوں کو فیض بخشتا رہے۔ انسانی اقدار کو تربیت میں اتارتا رہے اور امانت اخلاق‘ نفس و قلب میں ایسے بٹھا دے کہ انسان کا بچہ انسان بن جائے۔ عجب فطرت ہے انسان کی‘ جب ذرا سے ہوش کے ناخن لیتا ہے تو اسے فطرت کے عطا کردہ سائے کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہوتی ہے اور وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو اتنی جلدی پروان چڑھاتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ شعور کا مرقع نظر آتا ہے
مزید پڑھیے


تیری ہر بات میں سو سو فسانے پنہاں

منگل 01 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی

اب مکمل افراتفری کا سماں ہے۔ کاروباری لوگوں کے نزدیک فصل سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر آڑھتی چاہتا ہے کہ اس کی آڑھت پر کل فصل ڈھیر ہو جائے اور اس کی اجارہ داری مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے۔ کھیلنے والے اور کھلوانے والے پوری کاروباری دیانت اور سیان پت سے اپنے اپنے مورچوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ پیسہ نجانے کہاں سے آتا ہے اور کیسے آتا ہے؟ ایک سادہ آدمی ہونق بنا دیکھتا ہے اسے بالکل سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ تو اپنی دنیائے شکم کا اسیر ہے۔ اس کے نزدیک سب حساب کتاب
مزید پڑھیے