BN

راوٗ خالد



ڈیل یا ڈھیل، ممکنات و اثرات


ایک بار پھر کسی ڈیل یا این آر او کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔کیا ایسا ممکن ہے کہ حکومت یہ فیصلہ کرے اور یہ ڈیل سرے چڑھ جائے۔ ہمارے ہاں کیونکہ ڈیل اور ڈھیل جیسے معاملات ماضی میں سیاسی سطح پر ہوچکے ہیں اس لئے ایسی کسی بھی بات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے بھلے یہ افواہ ہی ہو۔ بنیادی طور پر تین ماڈل ہمارے ہاں رائج رہے ہیں۔ پہلا ماڈل تو ضیاء الحق والا ہے جس میں سیاسی مخالفین کو ہانکا کر کے ملک بدر کر دیا جائے جیسا کے انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کو
اتوار 10 فروری 2019ء

افغان امن عمل اور مشکلات

اتوار 03 فروری 2019ء
راوٗ خالد
چار ماہ پہلے تحریر کیا تھا کہ پاکستان کی گزشتہ دس سال سے جس تجویز کو ڈبل گیم کہاجا رہا تھا، اب امریکہ اسی تجویز کے ساتھ پاکستان کی جان کو آیا ہوا ہے کہ افغانستان کے اندر اپنا اثرو رسوخ استعمال کر کے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے تا کہ اس مسئلے کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔اور اسکے بعد امریکہ اپنی فوجیںلے کر یہاں سے واپس چلا جائے۔اسوقت اس سارے ہنگامی مذاکرات اور امن عمل کی وجہ امریکی انتظامیہ کا اس بات پر قائل ہونا ہے کہ وہ یہاں پر جنگ جیت نہیں سکتے۔
مزید پڑھیے


نظام سے خوفزدہ عوام

اتوار 27 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
ساہیوال کے واقعے کے بعد میرے جیسے بزعم خود بہت دلیر لوگ بھی شدید خوف کا شکار ہیں۔ رات کو لیٹ دفتر سے گھر جاتے ہوئے پولیس کی گشت کرتی ہوئی گاڑی کی فلیش لائٹس دیکھ کر میں دور سے ہی راستہ تبدیل کر لیتا ہوں کیا خبر کسی نے انکو دہشت گرد کے اسلام آباد کی سڑکوں پر سفر کرنے کی اطلاع دی ہو اور وہ اپنی بندوقیں لوڈ کئے اسے ڈھونڈتے پھر رہے ہوں۔ اتنا موقع تو وہ دیں گے نہیں کہ میں اپنے صحافی ہونے کا رعب ان پر ڈال سکوں۔ ہر رات گھر پہنچ کر اللہ
مزید پڑھیے


عدلیہ اور خواہشات

اتوار 20 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
چیف جسٹس افتخار چوہدری ریٹائر ہوں یا چیف جسٹس ثاقب نثار ایک خاص ٹولہء متاثرین بحر حال اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے شروع کر دیتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص کی اپنی خواہشات اور انصاف کا اپنا معیار ہے اور جو کوئی بھی جج یا اہم عہدے پر موجود شخص ان کی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا توانکی ناراضگی شروع ہو جاتی ہے۔گزشتہ دو روز سے جسٹس ثاقب نثارایسے لوگوں کے نشانے پر ہیں ۔ایک بہت ہی نامی گرامی بیرسٹر ایک ٹی وی پروگرام میں انکے بطور چیف جسٹس عرصے کو ایک تاریک دور
مزید پڑھیے


طالبان، امریکہ اور مذاکرات

منگل 15 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
بالآخر امریکہ بہادر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کسی حد تک سنجیدہ ہوتا نظر آ رہا ہے کہ اس بار جب مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ہے تو ابھی تک کوئی ایسی سازش دیکھنے میں نہیں آئی جو پہلے ان مذاکرات کے آغا ز کے وقت دو بارہو چکا ہے۔پہلی دفعہ جب مری میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تمام متعلقہ فریق پہنچ چکے تھے تو ایک رات قبل تین سال پہلے فوت ہوئے تحریک طالبان کے بانی ملاّ عمر کی موت کا اعلان کر دیا گیا جس سے ان مذاکرات کا آغاز ہی نہ ہو پایا۔ دوسری دفعہ
مزید پڑھیے




طالبان، امریکہ اور مذاکرات

اتوار 13 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
بالآخر امریکہ بہادر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کسی حد تک سنجیدہ ہوتا نظر آ رہا ہے کہ اس بار جب مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ہے تو ابھی تک کوئی ایسی سازش دیکھنے میں نہیں آئی جو پہلے ان مذاکرات کے آغا ز کے وقت دو بارہو چکی ہے۔پہلی دفعہ جب مری میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے متعلقہ فریق پہنچ چکے تھے تو ایک رات قبل تین سال پہلے فوت ہوئے تحریک طالبان کے بانی ملاّ عمر کی موت کا اعلان کر دیا گیا جس سے ان مذاکرات کا آغاز ہی نہ ہو پایا۔ دوسری دفعہ جب
مزید پڑھیے


نیا سال، نیا پا کستان

اتوار 06 جنوری 2019ء
راوٗ خالد
پوچھاجلدی کیا ہے؟ جواب ملا کہ پانچ ماہ ہو گئے نیا پا کستان کب بنے گا؟ کہا کہ نیا پا کستان کسی نئی سر زمین اور نئے لوگوں کے ساتھ تو نہیں بنانا تھا، وہی پرانی جگہ پر صفائی ستھرائی کے بعد کچھ نیا ہو گا۔لیکن بے صبری اتنی ہے کہ کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ کچھ کا خیال ہے کہ نئے پا کستان والوں کے پاس کوئی روڈ میپ ہی نہیں ہے۔سیلیکٹڈوزیر اعظم کا نعرہ لگانے والے ایک صاحب بہت دور کی کوڑی لائے، کہنے لگے کہ جنہوں نے منتخب کرایا ہے انہوں نے روڈ میپ اپنے
مزید پڑھیے


آہ بینظیر

اتوار 30 دسمبر 2018ء
راوٗ خالد
میں بینظیر بھٹو کا نوحہ لکھنا چاہتا ہوں، کہاں سے شروع کروں، بھٹو کی پنکی سے، شاہنواز اور مرتضیٰ کی لاڈلی بہن سے ، جن کو اس نے اپنی زندگی میں کھویا اور اتنے دردناک حالات اور طریقے سے کھویا کہ خدا کسی دشمن کو بھی اس دکھ سے آشنا نہ کرے۔پھر خود بھی اسی قسم کے ظلم کا شکار ہو کر، یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا، کیونکہ اس خون کا حساب لینے والے اپنے تھے لیکن ہر قسم کا اختیار ہونے کے باوجود انہوں نے شہید کے قاتلوں کوڈھونڈنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اسکے
مزید پڑھیے


احتساب یا انتقام

اتوار 23 دسمبر 2018ء
راوٗ خالد
ایک ہنگامہ بپا ہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، کسی کو شکوہ ہے اسکے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے، کوئی اسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے رہا ہے۔ کسی کو لگتا ہے کہ یہ سارا نظام دھڑام سے گر جائے گا۔ ہر کسی کا اپنا انداز ہے صورتحال کو دیکھنے کا۔ جو لوگ احتساب کے عمل کے متاثرین ہیں انکا خیال ہے کہ یہ سارا عمل ہمیشہ سے مخالفین کو دبانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، کوئی جنرل پرویز مشرف کے احتسابی عمل کی دلیل دیتا ہے تو کوئی سیف الرحمان جو کہ میاں
مزید پڑھیے


سیاسی بھونچال

اتوار 16 دسمبر 2018ء
راوٗ خالد
جب سے پانامہ، ڈان لیکس وغیرہ کا دور شروع ہوا ہے ملک میں مسلسل سیاسی بھونچال آ رہے ہیں اگر بڑے بھونچال رکتے ہیں تو آفٹر شاک چلتے رہتے ہیں۔ بھلے وہ اپوزیشن ہو یا حکومت سب اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ملک کا سیاسی منظر نامہ بدلنے کی رفتار دیکھ کر بے ساختہ کہنا پڑتا ہے کہ: ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں پانامہ سے شروع ہونے والا ہنگامہ کئی مراحل سے گزر چکا ہے اور اب شاید اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ کسی بھی وقت متوقع ہے۔اس مقدمے کی شنوائی میں سوائے
مزید پڑھیے