BN

سعد الله شاہ


آزادی نسواں ریلی اور تکریم نسواں واک


منیر نیازی نے بھی کہا تھا کہ ’’ہر حرف دوجے حرف دا پردا میتھوںقیاس نہ ہویا۔ساری عمر میں حرف لکھے پر حرف شناس نہ ہویا‘‘ تبھی تو کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو۔ اچانک مجھے انجم رومانی کا ایک شعر یاد آ گیا دلچسپ ہے: پہلے تول وحید قریشی پھر بھی نہ بول وحید قریشی یہ تو خیر ایک دوستانہ قسم کی طنز تھی ویسے واقعتاً بعض لوگوں کو خاموش ہی رہنا چاہیے کہ وہ بولتے ہیں تو مردے کے مماثل قرار پاتے ہیں۔ ویسے بولنا اچھی بات ہے کہ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ بولو تاکہ پہچانے جائو
جمعه 06 مارچ 2020ء

کچھ قلندر اور نواز شریف

جمعرات 05 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
ہم تو دریا تھے کسی سمت تو بہنا تھا ہمیں کیا خبر کس نے تری سمت ہمیں موڑ دیا بسوں کے پیچھے لکھا ہوا آپ نے بھی پڑھا ہو گا کہ ’’نہ چھیڑ ملنگا نوں‘‘سب لاہور قلندر کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور وہ بھی کب سے بھرے بیٹھے تھے۔ اب جو ان کا بس چلا تو وہ گلیڈیٹر پر چڑھ دوڑے اور 92نیوز نے خوب سرخی جمائی کہ قلندر کی دھمال گلیڈی ایٹر بے حال‘ قلندر جب اپنی آئی پر آئے تو رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔209کے جواب میںگلیڈی ایٹر صرف 172رنز ہی بنا سکے۔لاہور قلندر کے سپورٹرز تھوڑے سے
مزید پڑھیے


لاہور قلندر کی شکست کا راز

پیر 02 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے اپنی حالت پہ مجھے خود بھی ہنسی آتی ہے جو بھی آتا ہے مجھے اور رلا جاتا ہے پتہ نہیں مجھے یہ خیال لاہور قلندر کی لگاتار ہار پر کیوں آیا کہ جو بھی اٹھتا ہے وہ لاہور قلندر کو ہرا جاتا ہے۔ کوئی حد ہوتی ہے’’ماڑی بھیڈ ساریاں دی کھیڈ‘‘ ویسے تو کہتے ہیں کہ برا وقت اکیلا نہیں آتا۔ سب کچھ ہی ناموافق ہو جاتا ہے۔ مگر برا وقت بھی کبھی کبھی آتا ہے مگر لاہور قلندر پر تو ہر وقت ہی برا وقت رہتا ہے۔
مزید پڑھیے


جہان ہوتے نہیں اسباب بنا دیتی ہے

اتوار 01 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
میری حیرت کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب، بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارہ کہیں مہتاب بنا دیتی ہے ویسے اس ذات کو اسباب پیدا کرنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اسے تو کن کہنے کی بھی ضرورت کب تھی۔شاید صرف ہمارے محدود ذھنوں میں بات بٹھانے کے لئے اسباب تو فطرت میں پہلے سے بھی موجود ہیں۔ کس کو معلوم تھا کہ ہوا کے دوش پر کیا کچھ سفر کرتا ہے کس کو معلوم تھا کہ بے حیثیت مچھر اپنے ناتواں پروں پر موت اٹھائے پھرتا ہے اور کس کے علم
مزید پڑھیے


زنگار نامہ کی تقریب پذیرائی

هفته 29 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کہ وہ پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ اے سعدؔ فن یہی ہے کہ کہہ جائے آدمی مشکل ترین بات بڑی سادگی کے ساتھ آپ میرا حال دیکھیں کہ میرے ہاتھ عامر ہاشم خاکوانی کی کتاب زنگار نامہ لگ گئی اور میں نے رات سرداروں کے وقت پر اٹھ کر اپنے لئے کافی بنائی اور ابوالکلام کی چائے کی طرح اسے نوش کیا اور مزے لے لے کر کتاب کا ابتدائی حصہ پڑھ ڈالا۔ اصل میں آج ہی سرشام ایک مقامی ہوٹل میں ہمارے محمد ضیاء الحق نقش بندی نے اس کتاب کی تقریب
مزید پڑھیے



شبہ طراز کے یورپ میں 19دن

جمعه 28 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
آج مجھے ایک ایسے ہی تروتازہ سفر نامے کا حال لکھنا ہے جس میں جھیلیں‘دریا‘ سبزہ اور یادگار جگہوں کا تذکرہ بہت ہی شاعرانہ انداز میں کیا ہوا ہے۔ یہ سفر نامہ یورپ ہماری صاحب اسلوب ادیبہ اور شاعرہ شبہ طراز کے قلم نے صفحہ قرطاس پر رنگ و خوشبو کے احساس میں گوندھ کر اتارا ہے۔یہ محاورہ تو عام ہے کہ ایک کریلا اور اوپر سے نیم چڑھا مگر یہ محاورہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ انگور اور انناس چڑھا بہرحال شبہ طراز نے کیکر پر انگور نہیں چڑھایا اور نہ کوئی گوشہ زخمایا ہے۔عدیم یاد آ گیا: دور سے
مزید پڑھیے


زندگی کیسے گزاری جائے

بدھ 26 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
لفظ ٹوٹے لبِ اظہار تک آتے آتے مر گئے ہم ترے معیار تک آتے آتے بات ایسی ہے بتانے کی نہیں دنیا کو رو پڑے ہم بھی خریدار تک آتے آتے بات اب معیار کی بھی ہو گی اور بے وقعتی کی بھی۔ پہلے ایک دلچسپ اور خوبصورت بات پر بات کر لیتے ہیں۔ بات طرحدار اور ادبی ہو تو توجہ حاصل کرتی ہے اور ہم جیسے تشنگانِ ادب کو تو متاثر بھی کرتی ہے۔ اس سے غرض نہیں کہ بات کون کر رہا ہے۔ بس بات لطف دے جائے۔ وہی تقریر کی لذت والی بات ہے۔ جون ایلیا نے تو کسی اور تناظر
مزید پڑھیے


اب استغفار ہی کریں

اتوار 23 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کیا کیا جائے بات تو آخر دعائوں تک پہنچ جاتی ہے۔ بندہ اور جائے تو جائے کہاں کہ غالب نے بھی کہا تھا کہ ’’الٹا پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا‘‘ وہی تو ایک در ہے اور وہی ایک آسرا۔ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ امید دلانے والے خود بھی اعتماد سے خالی ہیں۔ خود ہی لوگوں کو ریلیف دینے کی بات کرتے ہیں اور اپنے حساس ہونے کا رونا روتے ہیں مگر عملی طور پر وہی صفر ضرب صفر۔ لوگ بھی حیران ہیں کہ یہ قبلہ بات کرتے
مزید پڑھیے


گل افشاں اور ہچکی لیتا سورج

هفته 22 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
اظہار شاہین نے کہا تھا: اپنے ہونے کا پتہ دے کوئی شیشہ کہیں گرا دے یہ انسان کی جبلت ہے کہ وہ توجہ مانگتا ہے اپنے ہونے کا اظہار چاہتا ہے اور کائنات کی آنکھوں سے گزرنا چاہتا ہے۔ایک تخلیق کار میں یہ خواہش مزید شدت اختیار کر جاتی ہے اور کبھی کبھی تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ ’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا‘‘ کبھی کبھی تو وہ فطرت کو بھی ہم رنگ کر کے سوچتا ہے اور خود ہی مظاہر کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ محرومی بہت کچھ عطا کر جاتی
مزید پڑھیے


آواز دے کے دیکھ لو

جمعرات 20 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کتنا نازک ہے وہ پری پیکر جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے بات اپنی وضاحتوں سے بڑھی ہم نے سوچا تھا بات ٹل جائے خان صاحب کی نازک مزاجیوں نے کہیں کا نہیں رکھا۔ اب وہ اورنج ٹرین پر لال پیلے ہو رہے ہیں کہ اسے کیسے چلایا جائے۔ وہ فرماتے ہیں اورنج ٹرین چلائیں‘ ہسپتال ‘سکول‘60روپے کا ٹکٹ رکھیں تو دس ارب کی سبسڈی دینا پڑتی ہے اور اربوں روپے قرض واپس کرنا پڑے گا۔ ان کا مقصد یہ بانسری اب بجانا پڑے کہ بانسری بجی تو اس کے چھیدوں پر انگلیوں کے آنے سے کئی راز پھوٹیں گے خاص طور
مزید پڑھیے