BN

سعد الله شاہ



بلاول کی تقریر اور سیاسی منظر نامہ


سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا بے نظیر کی 66ویں سالگرہ پر بلاول نے کیا خوب تقریر کی کہ میں نے بڑے اشتیاق سے پوری کی پوری سنی۔ یہ تقریر ہرگز دلچسپی سے خالی نہیں تھی۔ اب وہ تقریر کرنا سیکھ گیا ہے اور انداز اس کا اپنا ہے ایک مرتبہ تو اس نے مہنگائی کے حوالے سے ایک جملہ یوں ادا کیا کہ مفہوم نکل رہا تھا کہ آسمان مہنگائی سے بات کر رہا ہے ۔ویسے
منگل 25 جون 2019ء

مولانا روم اور کیمیائے سعادت

اتوار 23 جون 2019ء
سعد الله شاہ
مولانا روم پر انہیں تخصیص حاصل ہے۔ اس دن بھی وہ مولانا روم کے حوالے سے بات کرتے رہے کہ ان کی تعلیمات کا نچوڑ یکجہتی اتحاد اور یگانگت ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے نہایت دلچسپ بات بتائی کہ جب مولانا قونیہ میں قیام پذیر ہوئے تو شہرت چاروں وانگ پہنچی۔ وہاں کوئی مولانا سراج الدین تھے۔ انہوں نے اپنے ایک شاگرد کو مولانا روم کے حوالے سے معلومات لینے کے لئے ان کے پاس بھیجا کہ پتہ تو کر کے آئو کہ مولانا روم 72فرقوں سے متفق ہیں۔ وہ شاگرد مولانا کے پاس پہنچا اور مکالمہ کیا کہ
مزید پڑھیے


اسلامی کہکشاں کا ستارا

جمعه 21 جون 2019ء
سعد الله شاہ
کوئی جگنو ہے کہیں پر نہ ستارا کوئی شب تیرہ کے گزرنے کا اشارہ کوئی اک محبت ہے کہ شرمندہ آداب نہیں اس کے پیچھے کوئی مکتب نہ ادارہ کوئی اس وقت صورت حال کو بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ سب کچھ خود ہی آئینہ ہوتا دکھائی دیتا ہے اور پھر بقول خدائے سخن کے’آنکھ ہو تو آئینہ خانہ ہے دہرمنہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ‘ کچھ کھل نہیں رہا۔ عقدہ کشائی کرنے والے کچھ اور گانٹھیں ڈال بیٹھے ہیں یا پھر’’مٹ گیا کھلنے میں اس عقدہ کا وا ہو جانا۔ یہ قتل و غارت بھی نہ جانے کہاں رکے گی
مزید پڑھیے


ایسا کیچ تو میری نانی بھی پکڑ سکتی تھی

منگل 18 جون 2019ء
سعد الله شاہ
ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا‘ ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی ’’محبتوں میں تعصب تو در ہی آتا ہے۔ ہم آئینہ نہ رہے تم کو روبرو کر کے ’’بات یوں ہے کہ ہم اپنے وطن سے وابستہ ہر شے سے وابستہ و پیوستہ ہی نہیں بہت جذباتی اور جنونی ہیں۔ تمام معیارات کو پس پشت ڈال کر سوچتے ہیں۔ اب آپ کرکٹ کے معاملہ ہی کو لے لیجیے کہ ہم اپنی محبت میں سامنے کی چیز ماننے کے لئے تیار نہیں کہ بھارت کی کرکٹ ٹیم ہم سے بدرجہا بہتر
مزید پڑھیے


اللہ کے مہمانوں کی خدمت

پیر 17 جون 2019ء
سعد الله شاہ
ڈائریکٹر حج ریحان کھوکھو نے جب اپنی معروضات کے اختتام پر ہمارے دوست شاکر شجاع آبادی کے دو اشعار پڑھے تو ہمیں بہت اچھا لگا: تو محنت کرتے محنت داصلہ جانے خدا جانے تو دیوا بال کے رکھ چا ہوا جانے خدا جانے ایہہ پوری تھیوے نہ تھیوے مگر بے کارنئیں ویندی دعا شاکر توں منگی رکھ دعا جانے خدا جانے ان خوبصورت اشعار کے پس منظر میں ان کا وہ جذبہ تھا جو اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لئے کمربستہ اور توانا رکھتا ہے۔ حج پر جانے والوں کو وزارت حج کی طرف سے ٹریننگ سیشن میں مدعو کیا گیا تھا۔ جون کی
مزید پڑھیے




کرکٹ سے سیاست ‘سیاست سے کرکٹ

هفته 15 جون 2019ء
سعد الله شاہ
مظفر آباد سے تعلق رکھنے والا خوبرو ڈاکٹر جو ایک اوریجنل شاعر بھی ہے کرکٹ کے بخارمیں مبتلا ہے۔ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پوسٹیں اس کی ہوتی ہیں۔ اس کی پیش گوئیاں کچھ درست بھی ہوتی ہیں مگر پاکستان بڑے بڑے نجومیوں کی پیش گوئیوں پر خاک ڈال دیتا ہے۔ سری لنکا سے ہمارا میچ بارش کی نذر ہوگیا یہ بارش ویسٹ انڈیز کو بھی لے بیٹھی یہ معاملہ اگر ہمارے ہاں پیش آتا تو دنیا کیا کچھ کہتی کہ موسم کو ذہن میں کیوں نہیں رکھا اب معاملہ ان کاہے جن کے پاس محکمہ موسمیات کے جدید
مزید پڑھیے


دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام

منگل 11 جون 2019ء
سعد الله شاہ
ہو جاتی ہیں ساری باتیں آ کر میری بات میں گم سب کچھ مجھ سے باہر ہے اور میں ہوں اپنی ذات میں گم یہ کیسی خوش فہمی ہے جو غلط فہمی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ یہ ایک بیماری ہے کہ جب انسان اپنے آپ کو کائنات کا یا زمانے کا محور جاننے لگے بس سمجھئے کہ گردش نے اسے بھی گھما دیا ہے لیکن یہ خوش گمانی یقینا اس ڈوگی کی طرح ہے جو اکثر کسانوں کے گڈے کے نیچے چلتا جاتا ہے اور اس کا خیال یہی ہوتا ہے کہ اس گڈے کو بیل نہیں کھینچ رہے بلکہ
مزید پڑھیے


گلاب کے پھول اور نیو کیمپس قبرستان

اتوار 09 جون 2019ء
سعد الله شاہ
میں ان آنکھوں سے کہاں تک روتا گریہ کرتی تصویر کے ساتھ اک جسارت کا گنہگار ہوا کون لڑ سکتا ہے تقدیر کے ساتھ پوری کائنات کی اساس ہی تضادات پر ہے۔ رات دن جگنوئوں کی طرح جلتے بجھتے اڑتے جا رہے ہیں۔ فضا کے پنکھ نظر نہیں آتے بقا تو صرف خالق کو ہے مرزا نوشہ کیسے سوچتے تھے’’ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا۔ نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا۔ زندہ پل تو وہی ہے جو ہستی باقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو اس کی یاد میں کٹ گیا وگرنہ تو گزرتی جا رہی ہے ‘ ہنس کر گزار
مزید پڑھیے


حکم برداشتہ

هفته 08 جون 2019ء
سعد الله شاہ
مرزا نوشہ نے کہا تھا: کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں واقعتاً کچھ ایسا ہی ہے‘ زندگی اسی کا نام ہے اک پل چین نہیں۔ کچھ زمین گردش میں ہے اور کچھ ہمارے پائوں میں چکر ہیں۔ ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہے منیر نیازی کی طرح’’ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔ میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘یہ چیلنجز سب کے راستے میں کب آتے ہیں یہ بھی خوش قسمتی ہے مگر ایسے میں ہی جوہر کھلتے ہیں۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ مسافر تھک بھی
مزید پڑھیے


کرکٹ اور عید کی دوآتشہ خوشی

بدھ 05 جون 2019ء
سعد الله شاہ
شاعرہوں تو ہر چیز کو شاعر کی آنکھ سے دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں۔ رات پاکستان کرکٹ ٹیم کی برطانیہ سے فتح پر مجھے فیض صاحب کی نظم تنہائی نہ صرف یاد آئی بلکہ نیرہ نور کانوں میں رس گھولنے لگی: رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے سچ مچ مجھے ایسے ہی لگا کہ سوکھے ہوئے دھان پر پانی پڑ گیا اور جیسے مردہ زمین جاگ اٹھی۔ کیا کریں یہ اپنے ملک سے وابستگی۔ دلبستگی اور پیار ہے جو
مزید پڑھیے