BN

سعد الله شاہ


پاکستان قومی زبان تحریک کا ساتھ دیجیے


ہم محبت میں ابھی اور رنج اٹھانے کے نہیں زخم وہ دل پہ لگے ہیں کہ دکھانے کے نہیں اک نہ اک روز نکل آئے گا دیوار سے در ہم وہ خودسر ہیں کہ اب لوٹ کے جانے کے نہیں کیا کریں ہم بار بار مچھلی کی طرح پتھر چاٹ کر واپس آتے ہیں مگر کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے کہ کچھ تجربے کی بنیاد پر اپنی سمت نمائی کر سکیں کہ ہمارے لیے کیا سود مند ہے اور کیا نقصان دہ۔ کیا ہم اس پر بھی قادر نہیں کہ اپنی ترقی کا سوچ سکیں۔ کیا ہم اپنی سوچ فکر اور ماضی الضمیر
جمعه 12 فروری 2021ء مزید پڑھیے

میری آنکھوں میں چاند اتارا گیا

جمعرات 11 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
تلخیٔ زیست کے عذاب کے ساتھ ہم کو رکھا گیا حساب کے ساتھ اختتامِ سفر کھلا ہم پر وسعتِ دست تھی سراب کے ساتھ کیا کریں موسم ہی ایسا تھا کہ ’’وہ حبس تھا کہ لو کی دعا مانگتے تھے لوگ‘‘ بھولے لوگ تبدیلی کے مژدہ کو تازہ ہوا کا جھونکا خیال کرتے تھے کس کو معلوم تھا کہ گھٹن اور بڑھ جائے گی اور باد صر صر اس کے تعاقب میں آئے گی۔ اڑھائی سال گزر گئے آنے والا وقت اور بھی زیادہ کٹھن محسوس ہو رہا ہے لوگ تو لوگ خود خاں صاحب فرماتے ہیں کہ اب کیا کریں!سب وقت
مزید پڑھیے


انقلاب اور رسہ کشی

پیر 08 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
دل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا سر سے جمال یار کا سایہ نہیں گیا کب ہے وصال یار کی محرومیوں کا غم یہ خواب تھا سو ہم کو دکھایا نہیں گیا جی درست! جناب عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ عہد نبھانا یا وعدہ پورا کرنا انسان کے بس میں کب ہوتا ہے۔ ’’روز کہتا ہوں بھول جائوں اسے، روز یہ بات بھول جاتا ہوں‘‘ کم از کم اب یہ تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ’’وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا‘‘ وعدوں کو چھوڑیے، انقلاب سے مگر کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ’’روحِ امم کی حیات،
مزید پڑھیے


کہیں دیر نہ ہو جائے

اتوار 07 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
یہ نہیں ہے تو پھر اس چیز میں لذت کیا ہے ہے محبت تو محبت میں ندامت کیا ہے خوب کہتا ہے نہیں اس نے بگاڑا کچھ بھی ہم کبھی بیٹھ کے سوچیں گے سلامت کیا ہے کیا کیا جائے محبت میں ایسا ہی ہوتا ہے میں محبت کو زندگی سمجھا۔ اس محبت نے مار ڈالا مجھے، مگر ان سیاستدانوں اور طالع آزمائوں کو کیسی محبت ہو جاتی ہے کہ جس میں ملک کا ستیاناس ہوتا ہے پہلی محبت جس کا تذکرہ میں نے شعروں میں کیا وہ دوسرے سے محبت ہے اور دوسری قسم کی محبت اپنے آپ سے محبت ہے کیا سمجھے؟یہ
مزید پڑھیے


یوں تو نہیں کہ مر گئے

بدھ 03 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم تیری حیرانی کو کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو کیا کریں ’’آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک‘‘ کہ وزیراعظم ابھی کہتے ہیں سب ٹھیک ہو جائے گا‘ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔ چلیے شکر ہے آپ کو عوام کا حال معلوم تو ہے وگرنہ یہ کہنا پڑتا کہ خاک ہو جائیں گے ہم تجھ کو خبر ہونے تک۔ خان صاحب نے مزید فرمایا کہ کورونا ویکسین کے لیے امیر
مزید پڑھیے



کوئی دوسرا جہانگیر ترین!

منگل 02 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
لفظ ٹوٹے لب اظہار تک آتے آتے مر گئے ہم ترے معیار تک آتے آتے ایسے لگتا ہے کہ آسودگی قسمت میں نہ تھی مر گئے سایہ دیوار تک آتے آتے اب تو حد ہی ہو گئی ہے کہ مہنگائی کے تازیانے عوام کی کمر توڑ رہے ہیں۔ ایک تماشہ لگتا تھا ۔ آج گفتگو کا وہ تضاد تازہ ہوا کہ قبلہ وزیر اعظم کا فرمان شہ سرخی بنا کہ مہنگائی اس سے کم جتنی حکومت سنبھالنے پر تھی۔ آپ اس سچ پر تشدید ڈال لیں کہ اس سرخی کے اوپر ضمنی سرخی شہ سرخی کا منہ چڑا رہی ہے کہ حکومت نے پھر
مزید پڑھیے


ہمیں قسطوں میں نہ مارا جائے

پیر 01 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
دعا کرو میں تمہارے حصار سے نکلوں رہ جمال کے زریں غبار سے نکلوں یہ جسم و جاں تو کسی نشہ نمود میں ہیں خزاں کو قید کروں تو بہار سے نکلوں یہ حصار جمال کیسا ہے کسی کو سمجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ دراصل محبت ہے اور محبت میں وحشت اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ،کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے۔ یہ تعلق خاطر فطرت کے مظاہر میں ڈھل جائے تو دو آ تشہ ہو جاتا ہے ،شاید یہ دل کشی اور دلبری ایک حساس آدمی کے لئے کچھ زیادہ یہ ضروری ہوتی ہے کہ اس سے صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں،
مزید پڑھیے


حافظ سلمان بٹ کا سفر آخرت

اتوار 31 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
کس جہاں کی فصل بیچی کس جہاں کا زر لیا ہم نے دنیا کی دکاں کاسہ سر لیا لوگ فہم و آگہی میں دور جاتے مگر اے جمال یار تونے راستے میں دھر لیا یقینا اکثریت کا مقصد زندگی کرنا ہی تو ہوتا ہے۔ مگر کچھ کی زندگی کسی مقصد کے تابع ہوتی ہے۔ کچھ ہوئے ستاروں پر کمندیں ڈ النے والے۔ ہم رہر وان شوق تھے منزل کوئی نہ تھی۔ منزل بنے ہیں نقش ہمارے دھرے ہوئے۔ اور ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خبر کے خوابوں میں رنگ بھرتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ کچھ ہوتے ہیں جن کے بارے میں سوچیں تو دل
مزید پڑھیے


مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

هفته 30 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے پہلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے سیاست سے پہلے ذرا موسم کے رومانس پر بات کر لیں کہ گُل رت آنے کو ہے دھوپ نے میدان سنہرے کر دیے ہیں وہی کہ آئی بسنت پالا اڑنت آثار تو نظر آنا شروع ہو گئے یں دھوپ کی تمازت بتاتی ہے کہ شاخوں پر کونپلیں نکلنے کو ہیں علی الصبح پرندوں کی نغمہ خوانی بڑھ گئی ہے اردگرد کا سبزہ اور پیڑ جیسے لمس کے بغیر ہی حزر جاں بن
مزید پڑھیے


فلاح‘ تجاوزات اور ایل ڈی اے

جمعه 29 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
بات کس قدر سامنے کی ہے اور کیسے نظر انداز ہو جاتی ہے کہ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے زندگی یوں تمام ہوتی ہے۔ وقت کیسے اڑتا ہوا چلا جا رہا ہے سال مہینوں‘ مہینے دنوں میں اور دن لمحوں میں سمٹتے چلے جا رہے ہیں مگر کیا خود فریبی ہے کہ ہمیں مہلت دیے جاتی ہے کہ دل تشنہ کی یہ حسرت بھی نکالی جائے روشنی جتنی بھی ممکن ہو چرا لی جائے چل چلائو میں چلے جانا بس عادت سی بن گئی ہے۔ کس طرح وقت گزارنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے کاش کہ وقت کی
مزید پڑھیے








اہم خبریں