Common frontend top

سعد الله شاہ


قوم و ملت کیلئے ثمر بار ہونیوالی سرگرمیاں!!


در بہاراں گل نوخواستہ سبحان اللہ جلوہ آرا ہے وہ بالواسطہ سبحان اللہ ایسا ہنستا ہوا چہرا کہیں دیکھا ہی نہ تھا کہہ دیا میں نے بھی بے ساختہ سبحان اللہ اور پھر جس مقصد کے لئے یہ تمہد باندھی’ پھول کھلنے لگے یادوں کے پس غرفہ، چشم بزم یاراں ہوئی آراستہ سبحان اللہ اور پھر اس سبب یہ شعر بھی ذہن میں آ گیا کہ’ اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا۔بہتر ہے ملاقات میںمسیحاو خضر سے‘ میرے لئے یہ ایک خوشگوار عمل تھا کہ ایک ایسی محفل میں جائوں کہ جہاں ملنے کا سبب ایک پاکیزہ اور بے لوث تعلق
منگل 23 مئی 2023ء مزید پڑھیے

مقبولیت اور قبولیت

هفته 20 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
کیسی چمک تھی اٹھتے ہوئے آفتاب کی چشم شکم نے روح کی مٹی خراب کی رہوار عشق دشت جنوں میں کہاں چلے اس دل کے ساتھ کس نے خرد ہمرکاب کی لیکن اقبال نے تو کہا تھا اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عشق۔لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے لیکن ہم تو تذکرہ کرنے چلے ہیں اور ہی قسم کے لوگوں کا جو صرف معدے سے سوچتے ہیں۔ ویسے کمال کی صورت حال ہے کہ جھگڑا سارا انتخابات کا ہے کہ عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے ۔ ایسے ہی ذھن میں آ گیا کہ سامان سو برس کا ہے پل
مزید پڑھیے


شب گزرنے کا وسیلہ نہ اشارہ کوئی

جمعه 19 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
نہ کوئی اشک ہے باقی نہ ستارا کوئی اے مرے یار مرے دل کو سہارا کوئی چاند نکلا نہ سربام دیا ہے روشن شب گزرنے کا وسیلہ نہ اشارہ کوئی یہ تو سب ٹھیک ہے مگر ایک جذبہ پھر بھی سلامت رہتا ہے جو بہت طاقتور ہے ایک محبت ہے کہ شرمندہ آداب نہیں اس کے پیچھے کوئی مملکت نہ ادارہ کوئی اور حالات و واقعات بھی تو سامنے ہیں سعد بستی سے دھواں اٹھتا نظر آتا ہے خواب ٹوٹا ہے کہ ٹوٹا ہے ستارا کوئی۔ چلیے آج اداروں کی بات کرتے ہیں مگر آغاز ہی میں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا
مزید پڑھیے


حق و باطل میں امتیاز اور ووٹ

جمعرات 18 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
اپنا مزاج کار بدلنے نہیں دیا دل نے کوئی نظام بھی چلنے نہیں دیا گریہ کیا تو آنکھ میں بھرتا گیا دھواں دل نے متاع درد کو جلنے نہیں دیا آج تو مزاج پر بات ہو گئی۔ آپ اسے طبیعت کہہ لیں‘ فطرت کہہ لیں یا کچھ اور۔ وہی جو ہم پڑھتے آئے ہیں کہ سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ یا پھر غالب نے کہا تھا جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد، پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔ غالب کی شوخی اپنی جگہ مگر بات سنجیدہ انداز میں بھی ہو سکتی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں انداز
مزید پڑھیے


میں جانتا تھا آگ لگے گی ہر ایک سمت!

منگل 16 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
سحر گل شگفتہ برنگ صبا نہ پوچھ صورت گر خیال مئے دلکشا نہ پوچھ بیٹھے ہیں سر بہ زانو دل بے صدا لیے احساس نارسائی اہل وفا نہ پوچھ سیاسی صورت حال تو اس قدر کشیدہ و ناتراشیدہ قسم کی ہو گئی ہے کہ خوف آتا ہے۔ میں نے سوچا کہ آپ کا دل بہلانے کے لیے کچھ ادبی اور تخلیقی فضا پیدا کر کے بات کروں۔ بعد از شکست آئینہ بکھرے پڑے ہیں خواب۔ اک پیکر جمال تھی چشم انا نہ پوچھ۔ ایک شعر اور ذرا غور سے دیکھئے۔ بیداری و سحر بھی ہے خوابیدگی و شام۔ ہم سے حیات و موت کا
مزید پڑھیے



نئی نسل بہت غصے میں ہے

جمعرات 11 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی میں محبت ہوں محبت کو بچا لے کوئی میں سمندر ہوں میری تہہ میں صدف ہے شاید موج درج موج مجھے آ کے اچھالے کوئی انسان کی خواہشات مگر کب پوری ہوتی ہیں اور خواہشات کا آرزو بن جانا بھی ایک حقیقت ہے۔اپنے اردگرد کی دنیا کی خبر لینا سب کو نصیب کہاں کہ شرف کی بات تو یہی ہے یہ صرف شاعری کہہ سکتا ہے کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس وقت سب سے بڑی خبر عمران خاں کی گرفتاری کی ہے چلی ہے
مزید پڑھیے


کوئی پتھر پگھلنے والا تھا

بدھ 10 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
یہ نہیں ہے تو پھر اس چیز میں لذت کیا ہے ہے محبت تو محبت میں ندامت کیا ہے خوب کہتا ہے نہیں کچھ بھی بگاڑا اس نے ہم کبھی بیٹھ کے سوچیں گے سلامت کیا ہے کیا کریں یہ ہمارا بیانیہ ہے۔ ہر کسی کا اپنا بیانیہ ہے بلکہ اب تو بیانیے بدل بدل کر دیکھے جاتے ہیں کہ کون سا بیانیہ رش لے رہا ہے۔ اب کھڑے پائوں گھومنا بھی پرانی بات ہو گئی تو لٹو کی طرح بھی گھوم لیا جاتا ہے۔ شاید آپ نے کبھی لٹو کو گھومتے دیکھا ہو۔ پادش بخیر بعض اوقات بڑا لٹو گھومتے ہوئے ایسے
مزید پڑھیے


وحدت انسانی کی اساس اور تربیت

اتوار 07 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
نہ خوشی ہے میری خوشی کوئی نہ ملال میرا ملال ہے مری بے حسی ہے کمال کی نہ عروج ہے نہ زوال ہے میں اڑان میں بھی اسیر ہوں کہ قفس ہے میرے دماغ میں میں رہا بھی کیسے ہوا کہ اب مرے ساتھ ساتھ ہی جال ہے موجود کی حشر سامانی نہیں دیکھی‘ سب کچھ دائو پر لگا ہوا ہے۔وہی جملہ کہ جو ناصر ادیب نے کہا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے ہم ایک قوم تھے جسے ایک ملک کی تلاش تھی اور اب ہم ایک ہجوم ہیں اور ہمیں قوم کی تلاش ہے۔ اب جو بات کرنے میں جا رہا ہوں
مزید پڑھیے


چہرہ

هفته 06 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
سحر کے ساتھ یہ سورج کا ہمرکاب ہوا جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا یقینا یہ مشاہدہ اور تجربہ ہے یا ایک احساس، محسوس تو ایسے ہی ہوتا ہے کہ ہماری آنکھ میں دونوں ہی ڈوب جاتے ہیں وہ آفتاب ہوا یا کہ ماہتاب ہوا اور پھر نہ اپنا آپ ہے باقی نہ سعد یہ دنیا یہ آگہی کا سفر تو مجھے عذاب ہوا۔ انسان دنیا میں انفرادیت یا پہچان کے لئے کیا کیا جتن کرتا ہے وہ ایسی کوشش میں اپنا آپ بھلا دیتا
مزید پڑھیے


سلسلہ ہدایت اور ایک رول ماڈل عالم!

بدھ 03 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
حسرت وصل ملی لمحہ بے کار کے ساتھ بخت سویا ہی رہا دیدہ بیدار کے ساتھ ایک احساس وفا کی طرح بے قیمت ہیں ہم کو پرکھے نہ کوئی درہم و دینار کے ساتھ ایک کیفیت ہے کہ جس کا بیان ممکن نہیں‘ سعد آشوب نگر ہوں میں درون خانہ۔ ایک ماتم بھی ہے بریا میرے اشعار کے ساتھ۔ میری بات کو سمجھنا آپ کے لیے ہرگز دشوار نہیں کہ سیاست اور سماجی منظر نامہ آپ کے سامنے ہے۔مگر جو شہزاد احمد نے کہا تھا: چلتی ہے زیر دشت بھی پانی کی ایک لہر آتا ہے دشت میں بھی ہرن ناچتا ہوا میں ایک خوشگوار تقریب
مزید پڑھیے








اہم خبریں