BN

سعد الله شاہ



جشن بہاراں مشاعرہ


ہائے ہائے بارش میں بھیگتی ہوئی بہار‘ نئی کونپلوں سے نہال ہوتا ہوا انار‘ ایسے میں میر کیوں نہ یاد آئے: چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے پھول کھلے ہیں پات ہرے ہیں کم کم بادو باراں ہے درخت نیا پہناوا پہن رہے ہیں سبز ہوتی ہوئی زمیں زندگی کا استعارا ہے۔ پھولوں ‘ رنگوں اور خوشبوئوں نے جسے دو آتشہ کر دیا۔ رنگینیوں میں ڈوبے ہوئے فطرت کے مظاہر ۔ قدرت کا اظہار کتنا بے ساختہ ہے: یہ میرے شعر نہیں ہیں ترا سراپا ہے کہ خوبصورتی اپنی نمو ڈھونڈتی ہے صرف شاعری ہی نمو پذیر نہیں پھولوں کی آرائش
بدھ 13 مارچ 2019ء

پیاری خواتین مرد بننے کی کوشش نہ کریں

پیر 11 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
مارے جائیں نہ بدگمانی میں دو ہی کردار ہیں کہانی میں میں نے خواتین کے عالمی دن پر کچھ نہیں لکھا تو دعا علی نے پچھلے برس کا لکھا ہوا میرا کالم پوسٹ پر لگا دیا۔ یہ دن صرف خواتین کا ہی نہیں ہمارا بھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ خواتین کا ہر دن ان کا ہے بلکہ رات دن انہی کے اشارے سے بدلتے ہیں۔ آپ اسے حسن تعلیل کہہ لیں مگر ہے تو یہی کہ ’’وجود زن ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ یہ بات بتائی تو ایک مرد اقبال نے۔ یہ کوئی بہار جیسا خیال ہے جس میں حسرت موہانی
مزید پڑھیے


تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

اتوار 10 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
سفر کے دوران اکثر میں نے ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کی تصویر کے نیچے لکھا دیکھا’’تری یاد آئی ترے جانے کے بعد۔ یہ اتنا تواتر سے دیکھا کہ یہ مصرح اسی یاد سے منطبق ہو کر رہ گیا۔ بہت عرصے کے بعد مجھے یہ مصرع فیاض الحسن چوہان کے ساتھ موزوں ہوتا ہوا نظر آیا۔ اس حوالے سے پہلے تو ہم عمران خان کے لئے ایک شعر عرض کریں گے: کچھ بھی نہیں ہوں میں مگر اتنا ضرور ہے بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو اس کے بعد ہم اپنی دلی کیفیت بیان کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ
مزید پڑھیے


بیدل حیدری اور یادیں

هفته 09 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
بیدل حیدری کے ایک ہونہار شاگرد نے ان کا ایک شعر پوسٹ پر لگایا ہے: بیدل لباس زیست بڑا دیدہ زیب تھا اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا اسی غزل کا ایک اور شعر بھی مجھے ہانٹ کرتا ہے: گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا بیدل حیدری کے تذکرے سے یادوں کا ہجوم امڈ آیا۔ جب یونیورسٹی سے نکلے تو کوشش ہوتی کہ ہر مشاعرے میں شرکت کریں۔ چنانچہ ایک کالج کے مشاعرے میں پہنچے جہاں بیدل حیدری صدارت فرما رہے تھے ان کے شاگرد خاص اطہر ناسک مرحوم بھی موجود
مزید پڑھیے


مشاعرہ‘ مہندر سنگھ اور پاکستانیت

جمعرات 07 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
کس جہاں کی فصل بیچی کس جہاں کا زر لیا ہم نے دنیا کی دکاں سے کاسہ سر بھر لیا اے جمال یار تونے راستے میں دھر لیا بزم انمول انٹرنیشنل کی جانب سے منعقدہ مشاعرہ تو صوبائی و پارلیمانی سیکرٹری اور ایم پی اے مہندر پال سنگھ کے باعث ایک جلسہ کا رنگ اختیار کر گیا تھا۔ مہندر پال سنگھ نے کھلی ڈلی باتیں کیں انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی برادری سرتاپا پاکستان کی محبت میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ ان کے گرو نانک کی یہ جنم بھومی ہے۔ ان کے لئے زمین پاکستان ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں
مزید پڑھیے




کیا بتائوں نوازشات اس کی

بدھ 06 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو وہی جو کہتے ہیں ’’شوق دا کوئی مل نہیں‘‘ کچھ چیزیں ہوتی ہیں جن کے نتائج طے ہوتے ہیں۔ وہ جو غالب نے کہا تھا جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں‘ یہ ایک رویہ ہے ایک بے ساختہ پن اور خود کار سا عمل ہے جہاں بے خطر ہی کودنا پڑتا ہے۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس جذبے میں دکھائو نہیں اور نتیجے میں پچھتاوا نہیں: اک جذبہ مستانہ ایک جرأت رندانہ اس عشق و
مزید پڑھیے


بڑے لوگ کیسے ہوتے ہیں

پیر 04 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
بڑے لوگ وہ نہیں ہوتے جو دوسروں کو چھوٹا سمجھتے ہیں بلکہ بڑے لوگ وہ ہیں جن میں دوسروں کی بڑائی تسلیم کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ بڑا آدمی اپنے رویے سے پہچانا جاتا ہے کہ اس کے ذہن دل میں کشادگی ہوتی ہے اور سوچ میں وسعت، حمید حسین نے نشست میں حضرت معین الدین نظامی کے حوالے سے نہایت دلچسپ اور قیمتی باتیں کیں۔ کہنے لگے کہ ان کے معاصرین میں حضرت ضیاء الدین جیسے جید عالم بھی تھے جو وقتاً فوقتاً حضرت نظام الدین اولیا کی بعض معاملات میں گرفت فرماتے رہتے۔ ایک روز جب حضرت نظام
مزید پڑھیے


جنگ مشاعرہ اور پذیرائی

اتوار 03 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
ڈاکٹر کاشف رفیق کی بات غلط نہیں تھی کہ ہم کیسے پاکستانی ہیں کہ جنگ کے اس شدید تنائو میں بھی مشاعرے منعقد کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ کو پڑھ کر میری اس لئے ہنسی نکلی کہ میں بذات خود اس وقت ایف سی کالج کے مشاعرے میں مہمان خصوصی تھا اور جناب نذیر قیصر صدارت فرما رہے تھے۔ ایک لمحے کے لئے تو میں نے بھی سوچا کہ سچ مچ آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہال میں مشاعرہ برپا ہے‘باہر گرائونڈ میں کھیلیں ہو رہی ہیں اور یہ بھی نہیں کہ ہم لوگ جنگ سے بے خبر تھے
مزید پڑھیے


عمران خان کا فیصلہ اور شہ مات

هفته 02 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
حالات پر نظر کی تو بے ساختہ دو اشعار موزوں ہو گئے: زمیں بدلتے ہوئے آسماں بدلتے ہوئے پھر آ گیا ہے کوئی داستاں بدلتے ہوئے ابھی سے کھلنے لگی ہیں حقیقتیں ساری کہ دیکھتا ہوں زمان و مکاں بدلتے ہوئے بات یوں ہے کہ خان صاحب نے جب سے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے ہمارے چند دوست سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگا رہے ہیں۔ دو متضاد رویے سامنے آئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ہر کسی کا اپنا زاویہ نگاہ ہے اور اپنی فہم ہے۔ ہر شخص ہوسکتا ہے اپنے تئیں درست سوچتا ہو۔ دیکھنا مگر یہ ہے کہ اس اعلان
مزید پڑھیے


اقبال سب کو نصیب کہاں

جمعه 01 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
یہ دکھ نہیں کہ وہ سمجھا نہیں میرے فن کو مخالفت کا سلیقہ نہیں تھا دشمن کو دشمنی میں بھی ایک خوبصورتی ہوتی ہے کوئی رکھ رکھائو ہوتا ہے اور کوئی خاندانی انداز ہوتا ہے۔ مجھے اچانک منیر نیازی یاد آ گئے کہ ایک مرتبہ ایک شخص آیا اور آتے ہی گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر کہنے لگا’’نیازی صاحب میں تو آپ کا معتقد ہوں ایسے ہی لوگوں نے مجھے آپ کا دشمن مشہور کر دیا ہے‘‘ نیازی صاحب بولے اوئے کمبخت میں نے تجھے دشمن بنانے میں 15سال صرف کئے کیا میں وہ 15سال ضائع کر دوں؟‘‘ اس نے کہا جی
مزید پڑھیے