BN

سعد الله شاہ


ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے


ابھی بہار کا نشہ لہو میں رقصاں تھا کف خزاں نے ہر اک شے کے ہاتھ پیلے کیے زندگی موج میں خرام کرتی ہے۔ آہوئے فتن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہے اور آسمان تخیل پر پرواز کرتی ہے۔ سانس کی آمدو رفت ایک خوشگوار احساس کی طرح حرز جاں ہوتی ہے مگر تابہ کے وقت تو معین ہے مگر نیند کیوں رات بھر نہیں آتی مظاہرمگر آنکھوں کی پتلیوں کو ساکت کر کے گزر جاتے ہیں۔ اظہار شاہیں ابھی کل کی بات ہے’’ ایک پتہ گرا پیڑ سے۔ ٹوٹنا کتنا آسان ہے‘‘۔ دل کہتا ہے ایک ہچکی میں دوسری دنیا۔سعد اتنی سی
جمعرات 04 جون 2020ء

ایک دلچسپ ادبی کالم

بدھ 03 جون 2020ء
سعد الله شاہ
تم نے کیا یہ رابطہ رکھا نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا تُو نہ رسوا ہو اس لیے ہم نے اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا ہمارے ادب شناس دوست مرزا مشرف کا فون آیا کہ وہ غزل بھیجیں جس میں ’’دائرہ رکھنا‘‘ محاورہ آپ نے استعمال کیا ہے۔ تو پیارے قارئین! وہ دور یاد آیا کہ جب ہم پر شاعری کا بھوت سوار تھا۔نئی زمینیں نامانوس بحریں اور اچھوتی ردیف برتنے کا شوق تھا۔ تب میں نے ’’دائرہ رکھنا‘‘ استعمال کیا تو خوشگوار رد عمل آیا۔ معروف شاعر ارشد نعیم نے کہا ’’شاہ جی! آپ کی اجازت سے میں بھی اسے اپنے شعر میں
مزید پڑھیے


شناختی کارڈ ہی تو مانگا ہے

منگل 02 جون 2020ء
سعد الله شاہ
شام فراق یار نے ہم کو اداس کر دیا ہجر نے اپنے عشق کو حسرت و یاس کر دیا ناصر کاظمی نے گھر کی دیواروں پر اداسی کو بال کھول کر سوئے ہوئے دیکھا تھا مگر ہم نے تو پورے شہر کو اداسی اوڑھے ہوئے دیکھا ہے۔وبا کے دنوں کی اداسی میں ایک کرب بھی ہے اور اس سے بھی زیادہ تشویش ناک اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ذمہ دار حکمرانوں کے فیصلوں کے باعث دوراہے پر آن کھڑے ہوئے۔ مگر اس سے بھی پہلے مجھے بات کرنا ہے ایک سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے
مزید پڑھیے


وفاقی محتسب کو آزمائیں ضرور

اتوار 31 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
دن مشقت میں اگر تم نے گزارا ہوتا رات کا چین تمہیں ہم سے بھی پیارا ہوتا آج دل چاہا کہ وفاقی محتسب کی کارکردگی پر قلم اٹھایا جائے مگر کارکردگی میں کام کا عمل دخل ہے وگرنہ تو کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ بات یوں ہے کہ ہمارے ہاں عرف عام و خاص میں کام کرنے والے کو کمی کہتے ہیں اور گدھا سمجھتے ہیں اور جو حرام خور ان کمیوں یا کامیوں سے اپنا پیٹ اور اپنی تجوریاں بھرتا ہے وہ صاحب اور باس کہلاتا ہے یعنی کمائے گی دنیا اور کھائیں گے ہم۔ سچی بات
مزید پڑھیے


کچھ علم و عمل کی باتیں

هفته 30 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
باب حریم حرف کو کھولا نہیں گیا لکھنا جو چاہتے تھے وہ لکھا نہیں گیا اک حرف محرمانہ لہو میں اتر گیا پھر اس کے بعد ہم سے بھی سوچا نہیں گیا اہل علم کو پڑھیں یا سنیں تو علم کے دروا ہوتے ہیں اور اس میں بھی آپ کی توجہ کا عمل دخل ہے وگرنہ سنا سنایا اور پڑھا پڑھایا ایک برابر ہوتا ہے۔ ویسے تو یگانہ نے کہا تھا کہ علم کیا علم کی حقیقت کیا۔ جیسی جس کے گمان میں آئی ہارون الرشید صاحب کا کالم نظر نواز ہوا تو انہوں نے اپنے ساحرانہ انداز میں علم عقل اور شعور کی
مزید پڑھیے



میٹھی عید کی تلخ باتیں

جمعرات 28 مئی 2020ء
مصلحت کو شو اٹھو خواب لئے جاتے ہیں زندہ رہنے کے بھی اسباب لئے جاتے ہیں کیا ضروری ہے کہ تم پر بھی قیامت ٹوٹے کیا یہ کافی نہیں احباب لئے جاتے ہیں دل تو یہی چاہتا تھا کہ آپ کو گزشتہ عید مبارک کہوں اور آپ سے میٹھی میٹھی اور خوشبودار باتیں کروں، مگر کیا کروں، کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل۔ انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں، پے درپے واقعات و حادثات نے چکر دیا ہے تندو تیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے ابھی تو کراحی حادثہ کا ملال بھی پوری طرح
مزید پڑھیے


قیامت صغریٰ اور ہم

اتوار 24 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
کسی کی نیند اڑی اور کسی کے خواب گئے سفینے سارے اچانک ہی زیر آب گئے ہمیں زمیں کی کشش نے کچھ اس طرح کھینچا ہمارے ہاتھ سے مہتاب و آفتاب گئے کوئی کیا کر سکتا ہے کوئی کب جانتا ہے کہ منظر کب بدل جائے مشیت ایزدی کے سامنے سب بے بس و لاچار ہیں۔ اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے یہ مٹی کا پتلا جو اس کے امر سے بھاگتا پھرتا ہے اور ہوائوں میں اڑتے نظر آتا ہے بس مقدر اور لکھے ہوئے کا پابند ہے یہ حقیقت اور امر اپنے جگہ سچ ہے مگر دل ہی تو ہے نہ سنگ
مزید پڑھیے


کورونا کا بالکل سچا واقعہ

جمعرات 21 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
اگرچہ غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے مگر یہ کیا کہ ترستے رہیں خوشی کے لئے عید کا دبائو تھا اور حکومت پریشان کہ کیا کیا جائے۔ تاجر تو جیسے بغاوت پر اترنے والے تھے کہ ان کا سیزن جا رہا تھا۔ ایسے میں سپریم کورٹ نے حکومت کی مشکل آسان کر دی کہ پورا ہفتہ مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھلے رہیں گے۔ بلھے شاہ نے یونہی نہیں کہا تھا’’پنج رکن اسلام دے تے چھیواں ہے گاٹک۔ جے نہ ہووے چھیواں تے پنجو جاندے مک‘‘ واقعتاً غریب دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروبار والے فاقوں پر آ گئے تھے۔کچھ لوگ خوددار تو
مزید پڑھیے


منظر نامہ اور ترجیحات

منگل 19 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
چند لمحے جو ملے مجھ کو ترے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے سعدؔ پڑھنا پڑی ہم کو یہ کتاب ہستی باب آغاز کے تھے جس کے نہ انجام کے تھے دل چاہتا ہے کہ کسی اور مسئلے کو مس کرنے سے پہلے ایک دلچسپ خبر پر بات ہو جائے کہ اداسی کے اس موسم میں بھی اپنے قارئین کو ذرا سا لطف اندوز کر دیا جائے۔ ویسے تو ’’ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘‘ اور لوگ بھی دیکھتے ہیں کہ ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ مگر یہی سب سے بڑی
مزید پڑھیے


کورونا اور عقیدت

پیر 18 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
موجودہ صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، بالکل گنجلک، ریشمی دھاگے کی طرح، جس کا سرا نہیں مل رہا اور مزید کوششوں سے دھاگہ اور الجھ رہا ہے۔ کبھی کبھی غالب کی غزل کے مصرعے ذہن میں آنے لگتے ہیں ’’درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا‘‘ کیا کیا جائے اور بوکھلائی ہوئی حکومت اچھا کام بھی برے انداز میں کرتی ہے، دوسری بات یہ کہ اس کے خلوص اور نیت کے آڑے سیاست آ جاتی ہے۔ کوئی نثری نظم قسم کی شے بنتی جا رہی ہے۔ فیض صاحب کی خوبصورت وضاحت یاد آ گئی کہ نظم کا
مزید پڑھیے