BN

سعد الله شاہ



فہم اور مغالطے


یہ فہم بھی کیا چیز ہے کہ اکثر دھوکہ بھی دیتا ہے کبھی محرم کو مجرم اور کبھی دعا کو دغا بنا دیتا ہے تبھی تو کہتے ہیں کہ سخن فہمی اصل میں فہم کا امتحان ہے اسی واسطے کچھ نہ کچھ افہام و تفہیم کی ضرورت پڑتی ہے آمدم برسر مطلب کہ میرا ایک شعر پوسٹ پر لگا: خود مصنف نے اسے لاکے کہیں مار دیا ایک کردار جو کردار سے آگے نکلا اس پر بڑے کمنٹس آئے۔ ایک کمنٹ کسی عروضی کا تھا اس نے شعر کا لطف اٹھانے کی بجائے لکھا کہ وزن کی مجبوری آڑے آ گئی وگرنہ میں
جمعرات 28 فروری 2019ء

محبوبہ مفتی شیر کی خالہ

بدھ 27 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
ایک پروگرام عوامی عدالت میں محبوبہ مفتی کٹہرے میں تھی اور بھارتی اینکر اس پر طنز کے تیر پھینک رہا تھا اور حاضرین سے داد طلب کر رہا تھا۔ اچھی فقرے بازی تھی مگر محبوبہ مفتی اس وقت ہمیں سچ مچ کی محبوبہ لگ رہی تھی کہ اس نے پاکستان کے موقف کے سپورٹ میں ایسی بات کی کہ حملہ آور اینکر کی بولتی بند کر دی مگر وہ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے محبوبہ مفتی کو کہتا رہا کہ وہ اگر ایسی سپورٹ پاکستان کی کرتی ہیں تو پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں! اصل میں اینکریہ ثابت کرنا چاہتا تھا
مزید پڑھیے


ٹینشن فری کوئی نہیں!

پیر 25 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
مت شکایت کرو زمانے کی یہ علامت ہے ہار جانے کی انسان کے لئے امید سب سے بڑی توانائی ہے۔ اسی لئے تو مایوسی کو کفر کہا گیاہے۔ بات مگر میں کچھ اور کرنے جا رہا ہوں جس کی فلیش بیک پر مجھے ڈاکٹر ہارون رشید کا ایک شاندار پروگرام یاد آیا جو انہوں نے واصف ناگی کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ موضوع تھا ہائپر ٹینشن۔ غالباً انگزئٹی بھی اسی کی بہن ہے۔ ظاہر ہے ایسے پروگرام میں سب کے سب ڈاکٹر ہی تھے جن میں میرا دوست ڈاکٹر محمد امجد بھی تھا۔ میں اکیلا نان ڈاکٹر تھا مگر اگلے روز
مزید پڑھیے


ایک محفل کا حال اور خیال

اتوار 24 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
وہ تخیل کی طرح ہاتھ کہاں آتا ہے نارسائی جسے نایاب بنا دیتی ہے تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے محبت کا کمال جس کو چھوتی ہے اسے خواب بنا دیتی ہے بات یوں ہے کہ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے ایک اور انداز میں دیکھیں کہ سوچ تو شاید اس کے بس میں ہو مگر اس عمل میں سوچ اسے خیال کے حوالے کر دیتی ہے اور پھر خیال آوارہ ہوا کی طرح ہوتا ہے جو ہمیں کٹی ہوئی پتنگ کی طرح یا خشک پتے کی طرح اڑائے پھرتا ہے۔ یہ خیال رنگ و خوشبو کو بھی چھوتا ہے پھر
مزید پڑھیے


ساری زبانیں ہماری ہیں

هفته 23 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
بات اسی زبان میں کی جاتی ہے جس میں دوسرے کو سہولت ہو۔ اس میں محبت کی آمیزش ہو تو کچھ تکلف بھی آ جاتا ہے۔ میں نے اس سے ایک تقریب میں پوچھا "The dress you wore yesterday was fine" اس نے تنگ آ کر کہا "What is the fault in it" میں نے کہا There remains no fault when you wear any thing" گویا بقول امجد اسلام امجد ’’تو جس رنگ کے کپڑے پہنے وہ موسم کا رنگ‘‘ ہر زبان کا اپنا ہی ایک لطف اور مزہ ہے۔ ایک دن جب میں نے شعر پوسٹ پر لگایا: بے تکلف
مزید پڑھیے




سرحدوں پر بہت تنائو ہے

جمعه 22 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
میں گہری نیند سویا تھا مجھے بادل اٹھا لائے میں اک ندیا کنارے پر کسی وادی کا سپنا تھا یہ ایک شاعرانہ خیال ہے جس کے باطن میں سونامی ہے جو سارے منظر بدل کے رکھ دیتا ہے۔ اسی باعث سب کچھ تہہ و بالا بھی ہو جاتا ہے اور جل تھل بھی۔ ایک روز میرے دوست خالد محمود کہنے لگے‘ شاہ صاحب آپ کا ایک شعر 16سال بعد مجھ پر کھلا جب میں نے سونامی کو ایک پہاڑ کی صورت اٹھتے اور پھر سب کچھ تہس نہس کرتے دیکھا۔ شعر تھا: یہ سمندر بھی تو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں اس کے
مزید پڑھیے


فیض امن میلہ اور مزے مزے کی باتیں

بدھ 20 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے فیض صاحب کی شاعری جانے کیوں دل کھینچتی ہے۔ ایک گو نہ ربط تو اقبال سے بھی ہے میں کوئی تنقیدی مضمون نہیں لکھنے بیٹھا۔ بس یونہی خیال آ گیا کہ انہی دنوں میں فیض امن میلہ ہوا ہے جس کی ہمیں ہوا تک نہیں لگی کہیں ہم بھی اس میلہ میں شریک ہوا کرتے تھے۔ اب نئی جنریشن ہے مگر مصیبت فیض وہی ہیں جو کہ تھے ایک دن دانشوروں کی محفل میں کسی نے شہزاد صاحب کی بات دہرائی تو ہمیں بھی یاد
مزید پڑھیے


کتاب کی افادیت

منگل 19 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
خون جلایا ہے رات بھر میں نے لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے یہ بات کسی کو سمجھائی نہیں جا سکتی کہ کتاب کے ساتھ رتجگے کیسے کاٹے جا سکتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کتابوں کی دنیا آباد تھی۔ کتاب چھپتی تھی۔ پڑھی جاتی تھی اور ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں‘ میرا نیا شعری مجموعہ آتا تو خطوط بھی آتے۔ میں کوئی غالب کے زمانے کی بات نہیں کر رہا۔ یہ 90ء کی دہائی کی بات ہے کسی کا خط آتا کہ آپ بجٹ ڈسٹربنگ پوئٹ ہیں آپ کی کتاب خریدنا پڑ جاتی ہے۔ آج کتاب پر لکھنے کی وجہ یہ بنی
مزید پڑھیے


وفا کے دیے

پیر 18 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
غالب نے کہا تھا کہ: ہے خبر گرم ان کے آنے کی آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا کچھ ایسی ہی صورت حال ہماری ہے کہ ہماری معاشی اور اقتصادی صورت حال کو سنبھالنے ہمارا دوست قدم رنجہ فرما رہا ہے ایک اور شعر بھی بے محل نہیں کہ وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم اس کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں‘ ہائے ہائے مگر پنجابی زبان کا ایکس پریشن یعنی تاثر کہیں اور نہیں مل سکتا۔ اج خوشیاں دے نال مینوں چڑھ گئے نیں حال‘ جی آپ سمجھ گئے ہونگے کہ ہم بے حال کیوں
مزید پڑھیے


مصورِ اقبال و فیض

هفته 16 فروری 2019ء
سعد الله شاہ
پہلے دو اشعار: ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ اِدھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کیے کمالِ نغمہ گری میں ہے فن بھی اپنی جگہ مگر یہ لوگ کسی درد نے سریلے کیے فنون لطیفہ میں شہرت اور قبولیت فن کار کے اپنے بس کی چیز نہیں ہوتی۔ کچھ باتیں وہی سی لگتی ہیں جیسا کہ کسی شخصیت میں کرزمارکھ دیا جاتا ہے۔ ایک طلسماتی سا احساس جاگتا ہے یہ سب خوابی سا منظر ہے کہ کیسے صبا کے لمس سے کلی پھول بنتی ہے کیسے خوشبو بے بس ہو کر پھیلتی ہے۔کیسے پھول کی پتیوں پر شبنم گر کر آگ لگاتی
مزید پڑھیے