BN

سعد الله شاہ


کہتے ہیں کہ بہاراں ہے


کوئی آنکھوں میں لے کر وفا کے دیے دیکھو بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے اپنی مٹھی میں کوئی بھی لمحہ نہیں اور کہنے کو ہم کتنے برسوں جئیے اچھا شعر مجھے کھینچتا ہے، رات کی رانی خوشبو میں دھلتی ہے تو راہی کے پائوں میں حلقہ ڈال دیتی ہے۔ گرمیوں کے ٹھنڈے سائے اور سردیوں کی گرم دھوپ اپنے لمس سے رگ و پے میں اتر جاتی ہے۔ سخن کی اثر آفرینی جنہیں محسوس ہوتی ہے وہ تو فرحت و انبساط میں نہال ہو جاتے ہیں۔ فراز نے درست ہی تو کہا تھا کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔ وہ خود
بدھ 19 فروری 2020ء

آہ !علی یاسر

منگل 18 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
غضب کی چمک اس کے چہرے پہ تھی مجھے کیا خبر تھی وہ مر جائے گا احمد مشتاق کی بات اپنی جگہ مگر کچھ لوگ مرتے نہیں دوسروں کو مار جاتے ہیں۔ یہ بھی اپنی جگہ درست کہ جانے والے ٹوکویں ہندسوں کی طرح ہوتے ہیں کہ کب کسی کا نمبر لگ جائے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ کہ جواں مرگ سب کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ میں نے اس کو ابھی قومی کانفرنس میں دیکھا۔ وہ زندگی سے بھر پور اور توانائی سے سرشار نظر آتا تھا۔ چھوٹی سی عمر میں منزلیں مارتا ہوا کہ ڈاکٹریٹ بھی اس نے
مزید پڑھیے


ذکرماہنامہ الحمرا کے سالنامے کا

پیر 17 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
ماہنامہ الحمرا کا سالانہ شمارہ 2020ء میرے سامنے ہے۔ اس کی علمی حیثیت تو اپنی جگہ بلند و اعلیٰ ہے مگر اس کا معیاری ہونا اور اجرا کا تسلسل بھی حیران کن ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اپنی تزئین میں یہ اپنے ایڈیٹر شاہد علی خاں کی طرح خوبصورت ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اصل میں اس پرچے کی اپنی درخشندہ و تابندہ تاریخ ہے کہ اس کے بانی نامور شاعر مولانا حامد علی خاں ہیں جن کا شعر بھی اس ماہنامہ کے صفحہ تین پر چھپا ہوتا ہے۔ صبح ازل سے ہوں تن گیتی میں مثل روح۔ مجھ
مزید پڑھیے


اقبال شناس اردوان، زندہ باد

اتوار 16 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شب تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہیں ابھی شہر میں ناموس پہ مرنے والے جینے والوں کے لئے اتنا سہارا ہی سہی اردوان نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے۔ لیڈر ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ اپنے لفظوں میں دل رکھ دیتا ہے۔ اس کے عمل میں توانائی ہوتی ہے اور اس کے پیغام میں صبح جیسی نوید ہوتی ہے۔ گفتگو سے نیت ظاہر ہوتی ہے اور شفاف باطن منعکس ہوتا ہے۔ کبھی بیدی کا افسانہ نہ پڑھا تھا اپنے دکھ مجھے دے دو‘اردوان نے حقیقت میں ہم پاکستانیوں کو یہی باور کروایا ہے کہ
مزید پڑھیے


عمر بھر کون حسین کون جواں رہتا ہے

هفته 15 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
اک محبت ہے کہ شرمندۂ آداب نہیں اس کے پیچھے کوئی مکتب نہ ادارہ کوئی یہ محبت بھی عجیب شے ہے کہ منیر نیازی نے منفرد بات کی کہ میں جس سے پیار کرتا ہوں اسی کو مار دیتا ہوں‘بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے مگر محبت کا جنون ایسا ہی ہوتا ہے کہ بندہ مر جاتا ہے یا کسی کو مار سکتا ہے۔غالب نے بھی تو کہا تھا کہ اس نے بھی ایک ڈومنی کو مار رکھا ہے۔ مصیبت یہی ہے کہ اکثر سچی اور کھری محبت غیر مشروط ہی ہوتی ہے بلکہ اندھی ہوتی ہے۔ اسی لئے اکثر سوچنے
مزید پڑھیے



کاسۂ چشم بھرنے آیاہوں

بدھ 12 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کمال نغمہ گری میں ہے فن بھی اپنی جگہ مگر یہ لوگ کسی درد نے سریلے کیے یہ تو خیر اس عطا کا کام ہے جس کا کوئی نام نہیں۔ نام میں رکھا بھی کیا ہے۔ کام دیکھا چاہیے۔ حسن ہے تو حسن کو بے نام دیکھا چاہیے‘ خیر یہ باتیں تو ذہن نارسا کی ہیں اور محسوس کرنے والے دل کی ہیں۔ آپ کی دلچسپی کیلئے میں نہایت دلچسپ بات آپ سے شیئر ضرور کروں گا کہ ایک شخص بونگ اور سری پائے بیچنے والے کے پاس آیا اور شکایت کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یار تم نے بچے کو ایسے
مزید پڑھیے


ایک کالم کام کرنے والوں کیلئے

منگل 11 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
سبز رُتوں کی جھلمل میں جب شاخیں پھول اٹھاتی ہیں بہکے بہکے سے رہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں میں کوئی بجھارتیں نہیں ڈال رہا۔ ایک حقیقت حال کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے اس طرح کام ہوتا ہوا کیوں نظر نہ آئے۔ یہ کام کسی بھی سطح کا ہو اصل بات یہ ہے کہ کام کرنے والے میں اخلاص کتنا ہے۔ آج کل بھی ہم حکومتی سطح پر کیسے کیسے بلند بانگ دعوے سنتے ہیں مگر یہ پہلو میں شور کی طرح ہی ہوتا ہے‘ دل چیریں تو بوند بھی برآمد نہیں
مزید پڑھیے


روش پارٹی اور خوشبوئے سخن

اتوار 09 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
تہذیب اور شائستگی کے پیمانوں پر غزل استوار کرنے والی حمید شاہیں غزل سرا تھی تو رہ رہ کر میرا دھیان مقبوضہ کشمیر کے دلیر حریت پسندوں کی طرف جا رہا تھا جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں مگر نہتے ہیں۔ عزم و استقلال بھی تو جی داروں کے ساتھ ہے۔ غزل کے اشعار تھے: میرے جوتے مرے اپنے ہی لہو سے تر ہیں چار سو گنگ دریچے ہیں مقفل در ہیں شیر کی چال شکاری کو بتا دیتی ہے غار کی گود میں پلتے ہوئے بچے نر ہیں جن کے ہاتھوں میں لکیریںنہیں رکھی جاتیں ہم سے ڈر شہر ستم ہم وہی
مزید پڑھیے


سارے رنگ مر گئے بولنے کی آس میں

هفته 08 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
سحر ہوتی ہے تو سحر انگیز منظر ہوتا ہے۔ پرندوں کی چہکار سے صبح جاگتی ہے شبنم کے موتی ادھر ادھرکے پودوں پر اور گھاس پر جگمگانے لگتے ہیں۔ زندگی سے بھر پور تازہ ہوا‘ پھولوں کو چھوتی ہوئی مشام جاں کو آن مہکاتی ہے۔ پھر تتلیوں کا گلگشت اور بھنوروں کا پھولوں پر منڈلانا‘شہد کی مکھیوں کا گلوں کے رس اٹھانا اور سب سے بڑھ کر تمازت بڑھاتی کرنیں‘ جسم کو ٹکور کرنے والی سرما کی دھوپ۔ مگر یہ سب کچھ بشر کے وجود کے ساتھ ہی شہادت پاتے ہیں بلکہ ہر موسم ہی اس کے آنے جانے ہی
مزید پڑھیے


مفسرِ قرآن ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی کی پہلی برسی

جمعرات 06 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
اقبال نے کتنی سادگی سے گہرائی کی آخری حد پر جا کر کہا تھا: ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں انہوں نے خدا سے دعا کی’’مرا نور بصیرت عام کر دے۔ میں سوچتا ہوں کہ اختصار و اعجاز پر محمول یہ فقرہ یا مصرع اگر پھیلایا جائے تو کائنات پر محیط ہو جائے۔ یہ نور بصیرت ہے کیا! وہی قرآن و سنت سے پھوٹنے والے روشنی جس نے اقبال کو بے چین و مضطرب کر رکھا تھا اور جس نے ان کے کلام میں بجلیاں بھر دیں تھیں اور اسے شعلہ نوا کر دیا تھا۔ کبھی میں
مزید پڑھیے