BN

سعد الله شاہ


ایک چٹ پٹا کالم


سحر کے ساتھ ہی سورج ہمرکاب ہوا جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ بڑے لوگ اس راز کو پا لیتے ہیں کہ مقصد حیات کیا ہے؟ کہ دوسروں کے لئے جینا۔ اس حوالے سے اپنے محترم دوست ڈاکٹر ہارون الرشید یاد آئے کہ بہت خوشگوار موڈ میں کہنے لگے شاہ صاحب اب میں نے دوسروں کے لئے جینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پھر انہوں نے فائونٹین ہائوس کو ایک نئی تحریک دی او یہ ادارہ انسانیت کے دکھوں کا
منگل 29 دسمبر 2020ء

بے نظیر اور منیر نیازی

پیر 28 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
سر تو کٹ جائیں گے پر شوق نمو بولے گا دست قاتل پہ شہیدوں کا لہو بولے گا تو بھی خاموش رہا شہر کے برجوں کی طرح میں تو سمجھا تھا مرے یار کہ تو بولے گا آج 27دسمبر کا وہ لمحہ یاد آ گیا جس نے سب کو دہلا کر رکھ دیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے ریفرنس پر مجھے بھی بلایا گیا وہ منظر مجھے یاد ہے جب ناہید خاں، جہانگیر بدر اور دوسرے جیالے ہمارے سامنے براجمان تھے۔ تعزیتی ریفرنس کی صدارت محترم اسلم گورداسپوری فرما رہے تھے وہ بھی دسمبر کی یخ بستہ شام تھی آج تو دھند نے موسم اور
مزید پڑھیے


مولانا اور آمریت

اتوار 27 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کوئی مرکز بھی نہیں کوئی خلافت بھی نہیں سب ہی حاکم ہیں مگر کوئی حرمت بھی نہیں جھوٹ ہی جھوٹ ہے یہ سارا نظام حرمت اور اس جھوٹ پہ حاکم کو ندامت بھی نہیں اس جھوٹ پر تو بعد میں بات کریں گے کہ پہلے ایک سچ پر بات کر لیں کہ سراج الحق صاحب نے کہا ہے کہ پاکستان کو یوٹرن کی نہیں رائٹ ٹرن کی ضرورت ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیںہو سکتی ہے کہ یوٹرن لینے والے بھی کہتے یہی ہیں کہ اب مزید گنجائش نہیں کہ اب کارکردگی دکھانا ہو گی۔ بس یہی رائٹ ٹرن
مزید پڑھیے


فکر کرنے کی ضرورت

هفته 26 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اب نظر آتی نہیں چہروں پہ حیرانی بھی کیسے آباد ہوئی شہروں میں ویرانی بھی مجھ میں تھوڑی سی بو باس بھرم ہے تیرا ورنہ مانوس ہے تجھ سے ترا زندانی بھی گویا ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے‘ ایسے گھائل یہ نشانے کی ضرورت کیا تھی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہوں‘ نہایت دلچسپ احتجاج کا ذکر مجھے کرنا ہے۔ یہ احتجاج بھارت کے کسان کر رہے تھے۔ بہت ہی پیارا مگر طنزیہ احتجاج تھا اس میں پنجاب کی دیہاتی خواتین لہک لہک کر گا رہی تھیں۔ آپ اس صنف شاعری کو کوئی بھی نام دے لیں۔
مزید پڑھیے


میں کیا کروں

بدھ 23 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
بولے تو لفظ باعث الزام ہو گئے ہم چپ رہے تو اور بھی بدنام ہو گئے تھی تندو تیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے دنیا تو جینے نہیں دیتی۔ ہر وقت ٹوہ میں لگی رہتی اوپر سے میڈیا اتنا تیز ہو گیا ہے کہ آپ مکر کے جائیں گے کہاں۔ مگر مکرنے والوں نے بھی حکمت آرائی کرلی ہے کہ جھوٹ کا نام ہی بدل دیا ہے۔ آپ میری بات سے اختلاف کرتے رہیں مگر اتفاق بھی کرسکتے ہیں۔ معاملات میں بہت تیزی آ گئی ہے مگر ہماے لیے مصیب یہ ہے کہ بات کرنی بھی ہے اور
مزید پڑھیے



کون بھاڑ میں جائے!

منگل 22 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
آج بھی میرا نہیں اور مرا کل بھی نہیں سچ تو یہ ہے کہ مرے ہاتھ میں اک پل بھی نہیں وہ کہ تسلیم تو کرتا ہے محبت میری میں ادھورا بھی نہیں اور مکمل بھی نہیں انسان کو کیسی کیسی خوش فہمیاں ہوتی ہے اور یہ خود فریبی بھی بڑی چیز ہے ’’خود فریبی سی خود فریبی ہے‘‘ چھوڑیے میں آج نہایت دلچسپ کالم لکھنا چاہتا ہوں کہ روزانہ ہم سیاست میں بھاڑ جھونکتے رہتے ہیں۔ اسی ’’بھاڑ‘‘ سے میں بات آغاز کروں گا کہ سوشل میڈیا پر نخشب زہرا نے ایک پوسٹ لگائی جس میں سچ مچ کا ایک سٹیشن ہے یا
مزید پڑھیے


دھرنا اور تعلیم

پیر 21 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ دیدۂ نمناک لئے سینۂ صد چاک لئے دور تک ہم بھی گئے اپنے خریدار کے ساتھ اب تو دو چار قدم کی تکلیف بھی کوئی گوارا نہیں کرتا ،بس کئی جنونی اور سرپھرے ہیں جو اپنے سفر کو موقوف نہیں ہونے دیتے۔ جو بات میں کرنے جا رہا ہوں وہ سنجیدہ اور فکر انگیز ہے مگر ہلکے پھلکے پیرایہ میں بات کی جائے سمجھ میں سرعت کے ساتھ آ جاتی ہے۔ بہت مزیدار مختصر کہاوت ہے کہ کوئی شخص شرط لگا رہا تھا کہ ایک کلو چھولیا کھا
مزید پڑھیے


جن کی آنکھوں میں ہوں آنسو

اتوار 20 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
تم چشم طلسمات گہر بار تو کھولو گل ہائے سحر خیز کی صورت کبھی بولو چاہت ہے متاع سخن دیدہ حیراں تم میری محبت کو ترازو میں نہ تولو سخن ہائے گفتنی تو دل ہی میں رہ جاتے ہیں کوئی محرم راز ہو تو کہیں ،مگر اب کوئی راز رہا نہیں، راز کی کچھ حقیقت نہیں ہے فقط اک تمنا کہ اب وہ جو خود ہم بتانا نہیں چاہتے رازداں کھول دے۔ پہنچانے والے اپنی بات خود ہی پہنچا دیتے ہیں کہ ان کے پاس مینا بھی ہے کہ کہانیاں بیان کرے اور کبوتر بھی ہے کہ چھٹی رسانی ہو جائے دوسری جانب بلبل
مزید پڑھیے


میں نے اپنی قیمت جانی

هفته 19 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
رنگ اترنے میں بہت دیر لگی دل میں ٹھرنے میں بہت دیر لگی تیری آنکھوں کی طرح گہرا تھا زخم بونے میں بہت دیر لگی یہ رنگ وہی رنگ جس کا ذکر فیض نے کیا تھا کہ گلوں میں رنگ بھرے بادِنو بہار چلے‘چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے‘اور گلشن کے کاروبار کے لئے ایک سیٹھ میمن ان سے ملنے گیا کہ کاروبار گلشن میں حصہ ڈال سکے۔ فیض صاحب مسکرا دیے۔ ویسے تو وطن کو بھی گلشن ہی کہتے ہیں اسے بھی تو دائو پر لگایا گیا اور کاروبار بنایا گیا۔ بات مگر ہم نے رومانٹیک چھیڑی تھی
مزید پڑھیے


نغمہ گرِ بہار

جمعه 18 دسمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کوئی الزام محبت پہ نہ تم آنے دو ختم ہوتا ہے اگر ربط تو ہو جانے دو شمع جلتی ہے تو جلتی ہی چلی جاتی ہے اس کے پہلو میں پڑے رہتے ہیں پروانے دو یہ زندگی ہے اس کے اپنے بھی رنگ ہیں مگر ان میں رہ جانے والی کمی تو کوئی اور پوری کرتا ہے جینے کا سلیقہ اور قرینہ تو صرف محبت میں پنہاں ہے۔ انسان میں شائستگی اور خوبصورتی تو اسی سے آتی ہے، شرط بے لوث اور غیر مشروط ہونے کی بھی ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو ساحر کی طرح اسے کوئی خوبصورت موڑ دے دینا چاہیے
مزید پڑھیے








اہم خبریں