BN

سعد الله شاہ


ا بر بھی آگ لگانے کے لئے آئے تھے


جو بھی کرتا ہے محبت وہ برا کرتا ہے ایک بندے پہ وہ کتنوں کو خفا کرتا ہے مسئلہ میرا ہے دنیا کو پریشانی کیوں جو ہوا ہے وہ محبت میں ہوا کرتا ہے ن لیگ والے بے چارے اب کسی سے آنکھ نہیں ملاتے۔انہیں کون بتائے کہ جناب یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے۔آپ سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا۔جو شکایت کرتے ہ،ہیں وہ معصوم ہیں۔یوں برانگیختہ ہونے کی ضرورت تو نہیں۔جس کو تکلیف پہنچتی ہے گلہ کرتا ہے۔پیار بھی جنگ ہے، ہارنے والا تو تاوان ادا کرتا ہے تو جناب تاوان تو ہم نے اور آپ نے ادا
جمعه 17 جون 2022ء مزید پڑھیے

اہل وفا نے صدقہ اتارا حسینؑ کا

جمعرات 16 جون 2022ء
سعد الله شاہ
کب کہا ہے مجھے خدائی دے اے خدا خود سے آشنائی دے میں محمدؐ کا ماننے والا کربلا تک مجھے رسائی دے ہمارا راستہ بھی یہی ہے اور منزل بھی یہی۔ نقش قدم پہ ان کے کٹاتے گئے ہیں سر۔اہل وفا نے صدقہ اتارا حسینؑ کا۔ہم اصل میں اپنا اصل بھولے ہوئے ہیں وگرنہ تو جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔ آپ کربلا کے رنگ میں فیض کے مصرع کو دیکھیں تو آپ فیض یاب بلکہ باریاب ہو جائیں گے۔کبھی میں نے عافیہ صدیقی کے حوالے سے نظم کہی تو آخری شعر تھا۔ یہ کربلا کا سفر ہے جو اب بھی جاری
مزید پڑھیے


ہمیں بتائو تمہیں اور کیا پسند نہیں

پیر 13 جون 2022ء
سعد الله شاہ
چاند جب بام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ دل بھی ہر کام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ گونجتے رہتے ہیں الفاظ میرے کانوں میں تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ یہ اللہ حافظ کی ردیف مجھے ایسے ہی یاد نہیں آئی کہ حالات ہی کچھ ایسے ہیں۔ آپ کو یاد آیا ہو گا کہ اس نہج کہ معیشت کا جنازہ نکل چکا تو کوئی کہتا ہے اللہ حافظ۔ چلیے ہم آپ کو زیادہ پریشان نہیں کرتے۔ ’’کھینچتا رہتا ہے فنکار لکیریں اور پھر۔ کاوش خام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ‘‘۔ سعد یہ حسن بھی کیا شے ہے کہ
مزید پڑھیے


سامنے کی چھپی ہوئی باتیں

هفته 11 جون 2022ء
سعد الله شاہ
یہ دیکھا ہے جو باتیں ہوں چھپانے کی وہی ہوتی ہیں لوگوں کو بتانے کی بہت بے چین رہتا ہوں سکوں میں بھی کوئی تدبیر ہو فتنہ جگانے کی انسان ویسے ہی تضادات کا بھرا ہوا ہے۔اس کے اندر اس کی ضد بھی پیدا کی گئی۔ اس پر زمانے گزر گئے ’ہوا نے لکھ دیامجھ کو چٹانوں پر، پھر اس کے بعد کوشش کی مٹائنے کی‘ اسی رو میں ایک دو شعر اور دیکھیے خبر کے پر نکل آتے ہیں تیزی سے اگر تم سوچ لو اس کو اڑانے کی، کھلی آنکھیں تو دروازہ کھلا دل کا، میری مشکل بھی اب آسان خدا نے
مزید پڑھیے


کون سا میثاق معیشت!

جمعرات 09 جون 2022ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ایسے لگتا ہے کہ کمزور بہت ہے تو بھی جیت کر جشن منانے کی ضرورت کیا تھی آپ یقین نہیں کریںگے کہ شدت کی گرمی میں بجلی نہیں ہے۔میری بیگم تنگ آ کر کہنے لگی کہ لوڈشیڈنگ میں ایک امید تو ہوتی ہے کہ لائٹ آ جائے گی کیا کریں۔مرے وہ بھی سجدے قضا ہوئے جو ادا ہوئے تھے نماز میں، پہلے عمران خاں کی تقریریں اور اب شہباز شریف کی ہلتی ہوئی انگلیاں اورجنبش کرتے ہوئے لب۔ کوئی بات وہ بتانا چاہتے ہیں جو
مزید پڑھیے



اختر حسین جعفری کی تیسویں برسی

اتوار 05 جون 2022ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے خود ہی روئیں گے ہمیں پڑھ کے زمانے والے ہم بھلا رنج و الم پاس کہاں رکھیں گے یہ ایک ناآسودہ خواہش کی کہانی ہے جو سخن میں در آئی ہے پہلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں۔ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے، اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ سرتسلیم ہے خم کچھ نہ کہیں گے لیکن یہ قلم اور یہ قرطاس کہاں رکھیں گے۔ یہ ایک فضا ہے جس کا بیان ممکن نہیں کہ یہ محسوس کرنے کا عمل ہے کہ جب
مزید پڑھیے


عوام تعمیری سوچ پسند کرتے ہیں

جمعه 03 جون 2022ء
سعد الله شاہ
عجیب طرح سے سوچا ہے زندگی کے لئے کہ زخم زخم میں کھلتا ہوں ہر خوشی کے لئے وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقین آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے میں دیکھ رہا ہوں کہ علامتوں میں سیاست ہو رہی ہے۔بات سمجھنا اور سمجھانا دو مختلف عمل ہیں۔ ’’ایسے خبر ہے کہ اس کا کوئی نہیں اپنا اک آشنائی ہے کافی ہے اجنبی کے لئے۔بہرحال’’ خطا کسی کی ہو لیکن سزا کسی کو ملے یہ بات جبر نے چھوڑی ہے ہر صدی کے لئے اور’’ یہ سادگی تھی مری یا کہ سعد چاہت تھی کہ میں نے خود کو
مزید پڑھیے


میدان میں رہنا ناگزیر ہے

بدھ 01 جون 2022ء
سعد الله شاہ
محفل سے اٹھ نہ جائیں خامشی کے ساتھ ہم سے نہ کوئی بات کرے بے رخی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ بس زندگی اسی کا نام ہے۔ اس میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے۔ اس زندگی کا سانحہ کتنا عجیب ہے۔ ہم دیکھتے ہیں موت کو لیکن کسی کے ساتھ۔ میرا مقصد آپ کو اس تذکرے سے ڈرانا نہیں۔ کچھ باتیں اصل میں عرصہ بعد کھلتی ہیں۔ کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کے کہ، وہ پہلا مکالمہ تھا میرا زندگی کے ساتھ۔ یہ خودکلامی
مزید پڑھیے


کچھ مزے مزے کی خبریں

منگل 31 مئی 2022ء
سعد الله شاہ
مشکل پڑی تو یار ہمارے بدل گئے لیکن یہ سخت جان اگر سنبھل گئے وارفتگئی شوق طلاطم نہیں گئی آنکھوں میں غم جو آئے تو اشکوں میں ڈھل گئے یہ المیہ ہے کہ ریگ روان دشت تھا حرص و ہوس کا شہر۔ہم بھی اسی فریب میں حد سے نکل گئے۔ میں نے قلم روک لیا کہ بات ذرا مشکل ہو جائے گی۔ پہلے کچھ ہلکی پھلکی باتیں ہو جائیں کہ ایک دو دلچسپ خبریں سامنے آ گئیں۔ پہلی خبر ہمارے پیارے کرکٹر مصباح الحق کے حوالے سے ہے کہ وہ فوج میں جانا چاہتے تھے لیکن قسمت میں کرکٹ لکھی تھی۔ پہلے تو اپنے
مزید پڑھیے


دل پر پتھر اور مہنگائی

اتوار 29 مئی 2022ء
سعد الله شاہ
اس نے بس اتنا کہا میں نے سوچا کچھ نہیں میں وہیں پتھرا گیا میں نے سوچا کچھ نہیں کیا ہے وہ کیسا ہے وہ مجھ کو اس سے کیا غرض وہ مجھے اچھا لگا میں نے سوچا کچھ نہیں اور پھر میں بھی تو انسان تھا ایک خامی رہ گئی۔میں نے جس کو دل دیا میں نے سوچا کچھ نہیں۔مجھے یہ سب کچھ شہباز شریف کی تقریر سن کر یاد آیا کہ موصوف فرماتے ہیں کہ انہوں پٹرولیم مصنوعات میں جو اضافہ کیا ہے وہ دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے۔ بس ایسے ذھن میں اپنا دوست پرویز مہدی یاد آیا کہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں