BN

سعد الله شاہ


دشت کی پیاس بڑھانے کے لئے آئے تھے


خیال کچھ بھی نہیں ہے خیال کیا کچھ ہے ملال ہونے لگے تو ملال کیا کچھ ہے سوال کچھ بھی نہیں ہے اگر جواب نہ ہو جواب ملنے لگے تو سوال کیا کچھ ہے کہنے کا مطلب یہ کہ چپ ہی بھلی کچھ سوالوں کا جواب نہیں ہوتا اور کچھ جواب بھی سوال ہوتے ہیں۔آپ دیکھتے نہیں کہ سیاستدانوں کو اقتدار میں آ کر انہی سوالوں کے جواب دینا پڑتے ہیں جو انہوں نے تب اٹھائے تھے جب وہ اپوزیشن میں تھے۔اپوزیشن میں ہوتے وقت کھونے کے لئے کچھ نہیں ہوتا اور حکومت میں آ کر ساری دانائیاں اور تدبر شخصیت میں آ جاتا
هفته 24 اپریل 2021ء مزید پڑھیے

کثیف ماحول میں لطیف کالم

جمعرات 22 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
یہ اچھا اقدام ہوا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرار داد اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے اور اب یورپی ممالک کو صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے گا اور مسلمان ممالک کے ساتھ کوئی متفقہ فیصلہ کیا جائے گا۔ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ پہلے بھی ہو سکتا ہے ہم حالات کو بگاڑ کر ٹھیک کرتے ہیں کہ ایسا کرنے میں اور خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ ویسے شاہد خاقان عباسی سے اسیی شرمناک حرکت کی امید نہ تھی کہ انہوں نے سپیکر اسد قیصر کی طرف بڑھتے
مزید پڑھیے


مدحت

بدھ 21 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
عالمِ طوفِ حرم سب سے نرالا ہے میاں ایک منظر ہے کہ بس دیکھنے والا ہے میاں والہانہ کوئی پتھر کو کہاں چومتا ہے اس محبت میں محمدؐ کا حوالہ ہے میاں وزیر اعظم کی ایک اور تقریر، سوچا کہ ریت پر کسی گرانے کا کیا فائدہ۔ لفظوں کی حرمت و توقیر کا خیال آیا۔ بہرحال ماہِ صیام کی تطہیر و پاکیزگی مشامِ جاں میں گھلتی ہے تو اس دنیا کو بھی مشامِ جاں بنایا جائے۔ دل میں آیا کہ اپنے احساس کو معطر کیا جائے۔ کچھ روز قبل معروف نعت گو سرور حسین نقشبندی نے سہ ماہی مدحت بھیجا۔ اس کے
مزید پڑھیے


حکمت و تدبر کا فقدان

منگل 20 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
شہر میں آگ لگی تو ہم کو یاد آئے تھے اس شہر میں پھول کھلانے والے لوگ مولا! ہمیں تو تیرہ شبی نے مار دیا کہاں گئے وہ دیپ جلانے والے لوگ ملک کی صورتحال آپ سب کے سامنے ہے۔ سب مغموم اور پریشان ہیں۔ افواہیں پھیلانے والے اپنی جگہ ڈیوٹی پر ہیں۔ معاملے کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔کہیں ہم دشمن کا ایجنڈا ناسمجھی اور لاعلمی میں پورا تو نہیں کر رہے۔ اس وقت اپنے پیارے وطن کو انارکی سے بچانے کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی مجھے یاد آیا کہ کبھی ہم انگریزی کے کورس میں ایک مضمون پڑھایا کرتے تھے۔ عنوان اس مضمون
مزید پڑھیے


موت کا ایک دن معین ہے

پیر 19 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
اس کے دل میں نظم بھی تھی اور تھا اک افسانہ بھی سامنے اس کے شمع تھی روشن‘ جلا ہوا پروانہ بھی جینے مرنے کے بارے میں سوچیں لیکن اتنا کیوں سب ہے اپنی حد سے باہر آنا بھی اور جانا بھی ذوق نے بھی کہہ دیا اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے۔ اس احساس کو ہر کسی نے محسوس کیا۔ موت کا ایک دن معین ہے۔ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔ اس نکتہ چینی و فکر آفریں نے یہ بھی کہا۔ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا۔ نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا۔ یہ سارا اظہار تو
مزید پڑھیے



تو کہے تو میں ہنستے ہوئے رونے لگ جائوں

اتوار 18 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
قارئین گزشتہ روز سوشل میڈیا چار گھنٹے تک بند کر دیا گیا‘ ویسے یہ تو اچھا ہی ہوا اس بندش کی ٹائمنگ بڑھا دیں کہ ویسے بھی متبرک مہینہ ہے لوگ کچھ اللہ توبہ ہی کر لیں۔ حکومت کے لئے بھی آسودگی کہ لوگوں کی تنقید سے بچے رہے گی۔ایک دوسرے پر جس طرح سے رقیق حملے ہو رہے ہیں کہ شیطان فتح کے شادیانے بجاتا ہو گا کہ اگرچہ وہ ماہ صیام کے باعث قید کر دیا گیا ہے مگر اس نے بندوں کی ایسی تربیت کر دی ہے کہ وہ پورا مہینہ اسی گڈول پر
مزید پڑھیے


آہ جنید اکرم اور راجا رشید محمود

جمعرات 15 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
محفل سے اٹھ نہ جائیں کہیں خامشی کے ساتھ ہم سے نہ کوئی بات کرے بے رخی کے ساتھ اس زندگی کا سانحہ کتنا عجیب ہے ہم دیکھتے ہیں موت کو لیکن کسی کے ساتھ سچی بات تو یہ ہے کہ اس وبا کے موسم میں تو موت نظر آنے لگی ہے۔ موت سے کس کو رستگاری ہے، آج وہ کل ہماری باری ہے۔ یہ تو ایک آفاقی سچائی ہے کہ ہر کسی کو اجل کا مزہ چکھنا ہے۔ مگر اب کے وبا میں تو ایسی پت جھڑ ہوئی ہے کہ توبہ ہے نیٹ آن کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کوئی سیاہ پوسٹ
مزید پڑھیے


اس رستے میں پیڑ لگایا جا سکتا تھا

منگل 13 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
شام فراق یار نے ہم کو اداس کر دیا بخت نے اپنے عشق کو حسرت ویاس کر دیا خوئے جفائے ناز پر اپنا سخن ہے منحصر ہم نے تو حرف حرف کو حرف سپاس کر دیا یہ اداسی بھی عجیب شے ہے کہ اسے محسوس کیا جا سکتا ہے مگر بیان کرنا مشکل ہے۔ اس کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہوتی وہی کہ جیسے ناصر کاظمی نے اسے دیکھا تھا۔ ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر، اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔ سچ مچ ایسا ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایک بے برکتی ہر طرف ہے۔ اوپر سے وبا اور خوفزدہ لوگ۔ شب
مزید پڑھیے


اپریل کے نوحے

پیر 12 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
تم چشم طلسمات گہر بار تو کھولو گل ہائے سحر خیز کی صورت کبھی بولو اک درد ہے ہونے کا جو سونے نہیں دیتا اے چشم تماشہ جنوں تم بھی تو سو لو غالب نے کہا تھا ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘ نوحہ غم نہ سہی نغمہ شادی ہی سہی۔ اس شعر کی تہداری اپنی جگہ مگر غمی خوشی ساتھ ساتھ ہی ہے۔ بعض اوقات دونوں صورتوں کی غماضی آنسو کرتے ہیں۔ منیر نیازی نے کمال بات کی تھی کہ بین کرتی عورتیں‘ رونقیں ہیں موت کی۔ اور سو سو فکروں دے پرچھاویں‘ سو سو غم جدائی دے۔ اسی ہنگام
مزید پڑھیے


ایک ادبی سیاسی کالم

اتوار 11 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
خیال حلقہ زنجیر سے عدالت کھینچ عذاب بار نفس ہے تو پھر ندامت کھینچ ہوائے حرص و ہوس سے نکل کے دیکھ ذرا ضمیر رشتہ احساس سے ملامت کھینچ کچھ کوشش تو کرنا پڑتی ہے وہی جو منیر نیازی نے کہا تھا کہ اچھی کتاب برے آدمی سے اپنے معنی چھپا لیتی ہے۔بعض اوقات اچھا شعر بھی اسی طرح کا ہوتا ہے۔جلدی کھلتا نہیں ہے۔ سخن توجہ تو مانگتا ہے۔ ایک تو ظاہری خوبصورتی ہوتی ہے جو موسیقی پیدا کرتی ہے اور پھر بات باطن تک پہنچتی ہے اور قاری کو سرشار کر جاتی ہے کچھ سر تو مارنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں