BN

سعد الله شاہ



قصہ غم سنے گا کون!


کیسے سنبھال پائے گا اپنے تو ماہ وسال کو ہم نے اگر جھٹک دیا سر سے ترے خیال کو کیسے بدل کے رکھ دیا لوگوں نے اہتمام سے کچھ نے ترے جواب کو کچھ نے مرے سوال کو تو با ت کچھ یوں ہے کہ منظر بدل رہا ہے اور پھر ہماری آنکھوں یعنی دیکھتی آنکھوں کے سامنے بدل رہا ہے۔ وسوسے اپنی جگہ اور خدشات اپنے مقام پر۔ ہم دیکھ نہیں رہے کہ ہمارے خان صاحب کس قدر مصروف نظر آتے ہیں اور وہ بین الاقوامی سیاست میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ ایران اور سعودیہ کی کہنہ عدوتیں ختم کروانے
پیر 21 اکتوبر 2019ء

بلف یا چال

هفته 19 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
میں جانتا تھا آگ لگے گی ہر ایک سمت مجھ سے مگر چراغ بجھایا نہیں گیا وہ شوخ آئینے کے برابر کھڑا رہا مجھ سے بھی آئینے کو ہٹایا نہیں گیا کچھ چیزیں سچ مچ بندے کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ کچھ لوگ اپنے تئیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر قسمت کہتی ہے تابہ کے! یعنی کب تک ’’پھر ہمت مرداں مدد خدا‘‘ یہ جن کا ایمان پختہ نہیں ہوتا اور وہ صرف اپنے مقصد در باطن تک ہوتے ہیں تھک ہار کر گر جاتے ہیں اور اگلے ہی لمحے موقع ملنے پر خود کو ہوائوں کے دوش پر رکھ دیتے ہیں۔
مزید پڑھیے


ایک کالم میرؔ کے نام

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کیے کمال نغمہ گری میں ہے فن بھی اپنی جگہ مگر یہ لوگ کسی درد نے سریلے کیے کچھ کرشما بھی ہوتا ہے اور کچھ سریلا پن بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات خوبصورتی اتنی سادہ ہوتی ہے کہ اس کی تعریف نہیں ہو سکتی۔وہ سادگی اور پرکاری سے آگے نکتہ آفرینی اور تہہ داری بھی ہو سکتی ہے۔ اچھے شعر میں کوئی شے ہوتی ہے جو صاحبان دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور سخن ور کے پائوں پکڑ لیتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آغاز زمستاں
مزید پڑھیے


ذہنی امراض‘ ڈیپریشن اور کچھ یادیں

پیر 14 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
اک دل بنا رہا ہوں میں دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں فرصت ہمیں ملی تو کبھی لیں گے سر سے کام اک در بنانا چاہیے دیوار چین میں معزز قارئین: میں نے شاید آپ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ چلیے اس پر تو بعد میں بات کریں گے کہ محبوب کے دل میں گھر کرنا یا محبوب کو اپنے سر کرنا کیسے کام ہیں۔ بہرحال سر سے کام لینا بھی اتنا آسان نہیں کہ یہ اس کے استعمال پر ہے۔ فی الحال تو مجھے کچھ نہایت دلچسپ یادیں آپ کے ساتھ شیئر کرنی ہیںکہ محترمہ سعدیہ
مزید پڑھیے


قرآن سے کچھ موتی اور مرجان

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
کبھی کبھی میں ایمان و یقین کے حوالے سے بھی کالم لکھ دیتا ہوں تو ایک اور انداز کا فیڈ بیک ملتا ہے اور تو اور مرحومہ رخسانہ نور نے ایک مرتبہ مجھے فون کر کے بتایا تھاکہ وہ صاحب فراش ہیں اور آپ کے ایمان افروز کالم میں عبادت سمجھ کر پڑھتی ہوں۔ اصل میں تو اپنی اصلاح کی یہ ایک کوشش ہوتی ہے۔ وہی جو برنارڈ شاہ نے کہا تھا کہ دنیا کی اصلاح کرنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے خود کو بدلو‘ اس طرح یقینا دنیا کے بدمعاشوں میں ایک کمی ضرور ہو جائے گی ہم
مزید پڑھیے




ڈینگی اور مجبوریاں

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
ہے تند و تیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے کام وہی جو وقت پر ہو جائے جیسے کہ کہتے ہیں ’’ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں‘‘ نماز کی مثال بے محل نہیں کہ انسانی خدمت بھی تو ایک طرح کی عبادت ہے۔ لمحے کا اعتبار اور احترام بہت اہم ہے۔ میسر وقت گزر جائے تو پھر پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔ مجھے منشا یاد کا افسانہ’’ دنیا کا آخری بھوکا آدمی‘‘ یاد آتا ہے کہ وہ ایک فقیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ دنیا کا آخری بھوکا آدمی ہو‘ آپ اس
مزید پڑھیے


کشمیر کی جنگ…

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
میری سوچوں کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب بنا دیتی ہے بے یقینی میںکبھی سعدؔ سفر مت کرنا یہ تو کشتی میں بھی گرداب بنا دیتی ہے میرا ارادہ یہی تھا کہ جماعت اسلامی کے آزادیٔ کشمیر مارچ پہ لکھوں کہ اس میں شرکت کرنے کی بھی میرے دل میں شدید خواہش تھی کہ کشمیر ہمارا سب کا مسئلہ ہے، میں ناساز طبیعت کے باعث شریک نہ ہو سکا اور واقفان حال بتاتے ہیں کہ ایسی شاندار اور زوردار ریلی کم کم ہی دیکھنے میں آئی کہ اس میں جماعت اسلامی کے لوگ ہی شریک نہ تھے عام لوگ
مزید پڑھیے


اساتذہ

پیر 07 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
یوم اساتذہ پر میں نہیں لکھوں گا تو کون لکھے گا! اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی غیر معمولی استاد تھا اور میں نے 33سال تک انگریزی زبان و ادب پڑھایا۔ میرا اعزاز اصل میں یہ ہے کہ میں نے عظیم اساتذہ کو نہ صرف دیکھا بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھا۔ استاد کے حوالے سے پہلی اور آخری بات تو یہی ہے کہ ُامّی لقب پانے والے نے اپنا پہلا تعارف یہ کروایا کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا‘‘ علم ویسے بھی پیغمبروں کی وراثت ہے۔ بات میں کروں گا اپنے اساتذہ کی جنہوں نے میرے
مزید پڑھیے


بڑا آدمی کون!

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے خواب ہو جاتے ہیں اس شہر میں آنے والے شکریہ تیرا کہ تونے ہمیں زندہ رکھا ہم کو محرومی کا احساس دلانے والے ویسے یہ محرومی بھی ایک عجب شے ہے کوئی اسے سمجھ لے تو یہ طاقت بن جاتی ہے کبھی کبھی مجھے یہ احساس اس کمی کی طرح لگتا ہے جہاں ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے تو ادھر ادھر کی بلکہ اردگرد کی ہوا خالی جگہ لینے کی کوشش کرتی ہے اور اس طرح بگولہ وجود میں آتا ہے۔ شاید گرداب کا بننا بھی اس سے ملتا جلتا ہو گا کہ گہرائیوں میں
مزید پڑھیے


جب زبان دل کی رفیق ہو جائے

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
کیسی عجیب بات ہے کہ ہر کالم نگا رعمران خان کی تقریر پر طبع آزمائی کر رہا ہے میں نے تو کوشش کی کہ اس موضوع سے بچا جائے مگر دل نے کہا نہیں داد تو دو وگرنہ جون ایلیا کی طرح خان کہہ دے گا ’’بولتے کیوں نہیں مرے حق میں۔ آبلے پڑ گئے زبان میں کیا‘‘۔ مجھے خان کی تقریر سے بھی خدائے سخن میر یاد آیا: ہم کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب ہم نے دردو غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا اس میں کتنی صداقت ہے کہ سچا سخن اصل میں خود پر بیتی واردات وگرنہ لفظوں
مزید پڑھیے