BN

سعد الله شاہ


خط اور تبدیلی


درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ان خطوں کو کہیں دریا میں بہایا ہوتا اس طرح خود کو جلانے کی ضرورت کیا تھی کہتے ہیں خط آدھی ملاقات ہوتی ہے۔ اب تو خیر خط و کتابت کا زمانہ ہی نہ رہا کہ موبائل پر جھٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہے۔ وہ جو خط کا انتظار کھینچنے کی قوت تھی ختم ہو گئی۔ غالب کے زمانے میں تو یہ چلن عام تھا، غالب کے خطوط بھی ان کی شاعری کی طرح بے مثل و لاجواب ہیں۔ مرزا نوشہ نے شاعری میں بھی
جمعرات 10  ستمبر 2020ء

دل دکھتا ہے

بدھ 09  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
بے ربط کر کے رکھ دیے اس نے حواس بھی جتنا وہ دور لگتا ہے اتنا ہے پاس بھی اک نخشب خیال چڑھائے گا کوئی چاند کچھ کچھ میں خوش ہوا ہوں تو کچھ کچھ اداس بھی آپ پریشان نہ ہوں۔ یہ حواس بندے کے اپنے بس میں تھوڑے ہوتے ہیں۔ وہی جو کسی نے کہا تھا کہ کسی کے آنے سے ساقی کے ایسے ہوش اڑے۔ شراب سیخ پہ ڈال کباب شیشے میں۔ مولانا روم کی مثنوی میں بھی تو پڑھا تھا کہ کسی کو ایک کی دو بوتلیں نظر آتی تھیں۔ اسے یقین دلانے کے لیے بوتل توڑنا پڑی تو دوسری خود
مزید پڑھیے


انصاف سب کے لئے

منگل 08  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اک سمندر ہو کوئی اور وہ لبِ جُو آئے کیوں نہ اظہار کو ان آنکھوں میں آنسو آئے خوش گمانی نے عجب معجزہ سامانی کی اب ہمیں کاغذی پھولوں سے بھی خوشبو آئے کاغذی پھولوں سے مجھے اپنا دوست کمال جو آج کل انگریزی اخبار میں ہے یاد آیا کہ انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں وہ ہمیں اپنے استاد مہدی حسن کی غزل سناتا۔یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا۔ تو کمال کر دیتا۔ مگر غالب نے اس کاغذ سے فائدہ اٹھا کر جو کہا تو وہ اس دیوان کا پہلا شعر قرار پایا: نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کیا کاغذی ہے
مزید پڑھیے


دیکھتے دیکھتے سب ڈوب گیا

پیر 07  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اس نے بس اتنا کہا میں نے سوچا کچھ نہیں میں وہیں پتھرا گیا میں نے سوچا کچھ نہیں کون ہے کیسا ہے وہ مجھ کو اس سے کیا غرض وہ مجھے اچھا لگا میں نے سوچا کچھ نہیں کہیں آپ نے سوچا کہ یہ سوچ بھی عجیب شے ہے۔ پنجابی میں تو کہتے ہیں سوچی پیا تے بندہ گیا‘یعنی اگر آپ سوچ میں پڑ گئے تو بس کام سے گئے۔ نہایت دلچسپ بات مجھے اپنے دوست اعوان صاحب کی یاد آ رہی ہے۔ چونکہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی تو دوست انہیں کہنے لگے کہ بس اب کافی ہو گئی اب تو
مزید پڑھیے


حالات اب ٹھیک ہو جائیں گے

هفته 05  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اس کا چہرا جو نظر آتا ہے چاند آنکھوں میں اتر آتا ہے ایسے آتا ہے خیالوں میں جیسے رستے میں شجر آتا ہے باہر بھادوں کی بارش کے تو اندر کا موسم بھی خوشگوار ہو گیاہے تو ایسے میں یادیں تو اترتی ہیں اور یہ یادیں اگر پھیل جائیں تو ہبوط آدم تک جاتی ہیں۔ یہ آدم کا ذکر بھی ایسے ہی نہیں آ گیا کہ اس کا تعلق مائی حوا سے بنتا ہے اور ان دنوں کا تذکرہ گندم سے علاقہ رکھتا ہے کہ جس کے کھانے کے پاداش میں انہیں جنت سے نکالا گیا۔ اس کا خیال مجھے ایسے ہی نہیں
مزید پڑھیے



سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے!

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اس کے لب پر سوال آیا ہے یعنی شیشے میں بال آیا ہے زندگی پھر سے سانس لینے لگی وہ ہوا کی مثال آیا ہے الماس شبی نے توجہ دلائی کہ شاعری میں محاورہ شعر کے حسن کو دو چند کر دیتا ہے۔ لب پر سوال آنا اور شیشے میں بال آنا کو عوام پر منطبق کریں تو کام دو آتشہ ہو جاتا ہے لوگ بلک رہے ہیں۔ ویسے تو بے بس آنکھیں بھی سوالی بن جاتی ہے بلکہ خامشی بھی بعض مرتبہ یہی کام کرتی ہے اسی طرح مصرعے جو ضرب المثل بن جاتے ہیں محاورے ہی کا کام کرتے ہیں بعض ضرب
مزید پڑھیے


سیاست اور عالمی تناظر

بدھ 02  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
ہماری آنکھ میں برسات چھوڑ جاتا ہے یہ ہجر اپنی علامات چھوڑ جاتا ہے یہ دن کا ساتھ بھی بالکل تمہارے جیسا ہے کہ روز جاتے ہوئے رات چھوڑ جاتا ہے میرے معزز قارئین! میرا دل چاہا کہ کالم سے پہلے ذرا ہلکی پھلکی بات ہو جائے کہ حالات نے طبیعت پر گرانی بڑھا رکھی ہے۔ اصل میں ہمیشہ کی طرح فواد چودھری کے بیان نے مجھے تھوڑا سا گد گدایا اور مجھے بلاول کا بیان یاد آیا کہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے جس پر ہمارے وزیر اعظم صاحب نے
مزید پڑھیے


وژن اور سنجیدگی کی ضرورت

هفته 29  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی کسی نے درست کہا تھا کہ خوش رہنے کے لئے بے وقوف ہونا ضروری ہے۔ وہی پنجابی میں کہ عقل نہیں تے موجاں ہی موجاں۔بات تو ساری احساس ذمہ داری ہے کہ کم از کم کوئی اشک شوئی ہی کر لے۔ کوئی دلجوئی اور کوئی حال چال ہی پوچھ لے۔ مگر وہی گھسی پھٹی بات مشکل میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے کہ قبلہ آپ کراچی پہنچیں پوری ٹیم کے ساتھ جو وزیران اور مشیران ایک بھاری بوجھ بن کر
مزید پڑھیے


یکسوئی اور کراچی کا غم

جمعه 28  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
باب حریم حرف کو کھولا نہیں گیا لکھنا جو چاہتے تھے وہ لکھا نہیں گیا بے چینیوں نے ہم تماشا بنا دیا محفل میں جا کے بیٹھے تو بیٹھا نہیں گیا سب سے بڑا مسئلہ یکسوئی کا ہے جو کسی پل نصیب نہیں ہو رہی ۔کیا عجب تماشہ ہے کہ سکون اور اطمینان کی تلاش انسان کو مزید بے چین کر دیتی ہے۔ وہ تو کچھ اور بات ہے کہ جون ایلیا کہہ اٹھے ،یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا۔ ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا۔ مگر بات کچھ اور ہے مسئلہ یہ ہے کہ اب کیا ہو گا۔ ہو چکی اپنی پزیرائی
مزید پڑھیے


بیداری کا وقت اور تعلیم

جمعرات 27  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
ظالم نے جو کہا وہی منقول ہو گیا قانون اس کے پائوں کی بس دھول ہو گیا حاکم نے اہل عدل کو انصاف کیا دیا جس جس نے سچ کہا وہی معزول ہو گیا لگتا ہے حکومت کو اپنے ہی ہاتھ سے سرزد ہونے والا کوئی اچھا کام بھی پسند نہیں آتا۔ ان سے کوئی ایماندار اور مخلص شخص کہیں پوسٹ ہو جائے اور وہ دیانتداری اور دلجمعی سے کام کرنے لگے تو حکومت کو فوراً اطلاع ہو جاتی ہے کہ وہ آپ کی نیک نامی پر داغ لگا رہا ہے چنانچہ اسے بیک جنبش قلم فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اس کی حالیہ
مزید پڑھیے