BN

سعد الله شاہ



سانحہ ایسا بھی ہو گا!


ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کئے ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کئے ہمارے دوست غلام محمد قاصر نے کہا تھا آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے۔ اصل میں یہ نیلا پن آسمان کا ہو، سمندر کا ہو یا آنکھوں کا ،گہرائی ظاہر کرتا ہے اور وسعت بھی۔ آسمان کی وسعت پر چاند اور سورج تو جلوہ آرا ہوتے ہیں مگر ہمارے ستارے بہت اچھے لگتے ہیں کہ کبھی کبھی یہ ہماری آنکھوں سے بھی ٹوٹتے ہیں۔ قدرت نے تو انہیں آسمان کے چراغ
جمعه 29 نومبر 2019ء

دشت پار کر گئے ہم سراب دیکھتے

جمعرات 28 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقین آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے اسے کہو کہ ہم اس کے بغیر جی لیں گے یہ غم اگرچہ زیادہ ہے آدمی کے لئے میرے پیارے اور معزز قارئین: آپ ان شعروں کو صرف رومانس میں رکھ کرنہ دیکھیں بلکہ عام تناظر میں بھی آپ کو ان کے معنی ملیں گے۔ اگرچہ معنی معنیٔ دیریاب ہوتے ہیں یعنی وہ ہم پر دیر سے کھلتے ہیں۔ بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی شخص بھی ناگزیر نہیں ہوتا شیکسپئر نے کہا تھا کہ ناگزیر لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ صورت حال کو
مزید پڑھیے


ایک پتہ گرا پیڑ سے

منگل 26 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا اگرچہ سعد رستے میں بڑے دلکش جزیرے تھے مجھے ہر حال میں لیکن سمندر پار جانا تھا یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب ہم ہوائوں میں اڑتے پھرتے تھے تتلیوں کی طرح، مہکتے تھے پھولوں کی طرح اور آوارہ تھے ہوائوں کی طرح۔ ہمارے لمس سے موسم بدلتے تھے۔ ہوتا ہے یہ زمانہ ،کہ جس کے بارے میں ورڈز ورتھ کہتا ہے کہ وہ ہلکی کشتیوں کی طرح پانی کی سطح سے اوپر لہروں پر تیرے تھے۔ آسمانی بجلی کی طرح کبھی
مزید پڑھیے


قرآن، عمر الیاس اور قاری رجا ایوب

پیر 25 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا دشمنان دین کا مسئلہ ہی قرآن اور صاحب قرآن ہے کہ یہ قرآن ان کی فطرت بد اور تیرہ باطن کا پردہ چاک کرتا ہے۔ ان کے پاس قاطع برہان نہیں تو وہ اس برہان کو نذر آتش کرنے پر اتر آتے ہیں۔ وہ اس کتاب مقدس کے براہین و فرامین کو نفرت انگیز اور شر انگیز قرار دیتے ہیں کہ اس میں ان کے دلوں کے حال اورا ذہان کی کیفیت کو طشت ازبام کردیا گیا ہے۔ وہ غصے اور انتقام
مزید پڑھیے


خان صاحب!دیر نہ کریں

اتوار 24 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
سب سے پہلے اپنے قارئین کے لئے تین تازہ ترین اشعار جس پہ جتنا تھا اعتبار کیا اس نے اتنا ہی ہم کو خوار کیا ایک سودائے رسم رسوائی لوگ کہتے ہیں ہم نے پیار کیا اب دھڑکنا بھی اس نے چھوڑ دیا دل نے جا کر کہاں قرار کیا اب شاعر کیا کرے کہ اپنی بپتا کو سخن آشنا ہی کر سکتا ہے وہ تو داغ نے بھی کہا تھا’’غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا‘‘ اعتبار کا اپنا ایک موسم ہوتا ہے، جہاں بندے کی مت ہی ماری جاتی ہے یا پھر وہ اپنی جبلت کے ہاتھوں تنگ ہوتا ہے۔ محبت بھی تو اس سے
مزید پڑھیے




سیاست سے ہٹ کر ایک کالم

هفته 23 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
تم کیا جانو میرے تنہا ہونے میں میری کتنی قوت صرف ہوئی ہے تب کہیں جا کر میری طاقت صرف ہوتی ہے۔ فکر اور سوچ بچار کچھ ایثار کا تقاضا تو کرتی ہے۔ ویسے تو معلومات روزانہ کی بنیاد پر آپ کے ذہن کی ہارڈ ڈسک پر ڈھیر لگاتی جاتی ہیں۔ مگر اس میں علم کتنا بنتا‘ شاید وہ کہ جس پر آپ عمل کرتے ہیں یا کم از کم عمل پیرا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں۔ بیٹھے بٹھائے کچھ باتیں آپ کو چونکاتی بھی ہیں۔ ہاں آپ بالکل بے نیاز نہ ہو جائیں یا دوسرے لفظوں میں فرار حاصل
مزید پڑھیے


عمران خان کی تقریر اورجنون

جمعه 22 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
وحشت کلکتوی نے غالباً یوں کہا تھا: کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے یہ شعر مجھے عمران خان کی حالیہ تقریر سن کا ذہن میں آیا۔ وہ دھرنے اور نوازشریف کے معاملے کے الجھائو سے تھک ہار کر دو دن کی رخصت گزارنے کے بعد یا یوں کہیں کہ تازہ دم ہو کر آئے اور ہزارہ موٹروے حویلیاں کے مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب میں اپوزیشن کے کڑاکے نکال دیئے۔ مجھے تو وہی ناصر ادیب کی فلم مولا جٹ کا ڈائیلاگ بھی یاد آیا کہ ’’مولے نو مولا نہ مارے
مزید پڑھیے


آ ہُن ہجر مکا

جمعرات 21 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
کچھ لمحے ہوتے ہیں جو آپ کی لوح یاد پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ ایک روز میرے پسندیدہ اداکار سہیل احمد عرف عزیزی مجھے ملے تو یک دم اپنے دونوں ہاتھ میرے گالوں پر رکھ دیے اور کچھ دیر پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھتے رہے پھر گویا ہوئے’’یار!آپ نے ماں کے حوالے سے کیا کالم لکھ دیا ہے‘‘ ان کی طرف سے داد مجھے پہلے بھی پہنچ چکی تھی لیکن ان کی تحسین کا یہ انداز اپنے اندر کتنی اپنائیت رکھتا تھا۔ اسی طرح ایک روز میں ان کے سیٹ پر گیا تو باقاعدہ اٹھ کر گلے ملے۔ یہ
مزید پڑھیے


سیاست کا المیہ اور نوازشریف

منگل 19 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
واسطہ یوں رہا سرابوں سے آنکھ کھلی نہیں عذابوں سے میں نے انسان سے رابطہ رکھا میں نے سیکھا نہیں نصابوں سے دنیا ہماری مرضی سے نہیں چلتی۔ اس کے اپنے ہی اصول ہیں کہ اس میں جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے۔ ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے۔ غالب نے بھی کہہ دیا تھا’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ بہرحال ایسے بھی نہیں روش بدلنے والے بھی موجود رہتے ہیں۔ ان کی کوشش اور سعی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر جب عام اور خاص کی تفریق ہو جائے تو پھر معاشرہ اسی طرح ترتیب پاتا
مزید پڑھیے


آہ محمد حامد سراج اور شرافت نقوی

اتوار 17 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں میں تہی دست ہوں اور بارہا یہ سوچتا ہوں اس طرح لوگ کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں لیکن بعض لوگ ان پھولوں کی طرح ہوتے ہیں جو یکسر خوشبو میں ڈھل جاتے ہیں اور وہ خوشبو لوگوں کے مسام جاں کو مہکاتی رہتی ہے۔ بعض لوگ اپنی پہچان نہیں بناتے بلکہ زندگی کی پہچان کرواتے ہیں وہ مرتے کہاں ہیں‘ وہ تو بقول کیٹس اپنی دوسری زندگی، بعد میں اپنے کام کی صورت میں گزارتے ہیں۔ یہی باکمال لوگ ہوتے ہیں جو بانٹتے بانٹتے اپنا دامن خیر
مزید پڑھیے