Common frontend top

سعد الله شاہ


انتخابی اتحاد اور میکس ویل


اچھا ہے عجز و ناز مگر اس قدر بھی کیا دنیا سے بے نیاز مگر اس قدر بھی کیا یوں بے وفائی کر کہ کسی کو گماں نہ ہو کہ ہم سے احتراز مگر اس قدر بھی کیا باتیں تو آج مزے مزے کی ہوں گی مگر پہلے ایک اور شعر کہ ہمارے موضوع سے علاقہ رکھتا ہے۔ یہ داغ داغ آنکھیں ہیں یہ داغ داغ دل۔ اے میرے شیشہ ساز مگر اس قدر بھی کیا۔ سب سے پہلے تو ضمنی سرخی کہ ن لیگ اور ایم کیو ایم مل کر عام انتخابات لڑیں گے ویسے یہ ہمارے لئے تو کوئی خبر نہیں کہ
جمعه 10 نومبر 2023ء مزید پڑھیے

کرکٹ میں فخر کے شاعرانہ چھکے!

بدھ 08 نومبر 2023ء
سعد الله شاہ
گریۂ شب کو سیلاب بنا دیتی ہے وہ ہستی مجھے بے آب بنا دیتی ہے میری حیرت کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب، بنا دیتی ہے ظاہر ہے آج میں کرکٹ پر لکھوں گا اور خاص طور پر فخر پر ،مگر پہلے ایک شعر: ’’بے یقینی میں کبھی سعدؔ سفر مت کرنا، یہ تو کشتی میں بھی گرداب بنا دیتی ہے‘‘ تو کچھ ایسی ہی اننگز فخر زمان نے کھیلی جسے سچ مچ دھواں دار بیٹنگ کہا جا سکتا ہے۔ پھر ہم تو شاعر ٹھہرے کہ کہیں نہ کہیں سخن ہاتھ آ جاتا ہے۔ اس حوالے سے
مزید پڑھیے


انسان کی بھلائی خالق کے نظام میں!

هفته 04 نومبر 2023ء
سعد الله شاہ
کسی کی نیند اڑی او رکسی کے خواب گئے سفینے سارے اچانک ہی زیر آب گئے ہمیں زمیں کی کشش نے کچھ اس طرح کھینچا ہمارے ہاتھ سے مہتاب و آفتاب گئے ایک اور خیال کہ یہ تشنگی تھی ہماری کہ سحر صحرا کا۔ کہ دور تک ہمیں کھینچے لئے سراب گئے۔ یہ خیال مثبت انداز میں بھی آ سکتا ہے کہ اختتام سفرکھلاہم پر۔ وسعت دشت تھی سراب کے ساتھ۔ آج لکھنا تو کچھ اور تھا بس ایک کلپ سن لیا تو اچھا لگا۔ سوچا کہ اسی موضوع پر کچھ بات کی جائے۔ ایک بچی سیرت فاطمہ نے نہایت عمدہ انداز میں گفتگو
مزید پڑھیے


تعمیر پاکستان کا ٹھیکہ

جمعرات 02 نومبر 2023ء
سعد الله شاہ
محبت بار ہوتی جا رہی ہے یہ دنیا دار ہوتی جا رہی ہے جو رہ ہموار ہوتی جا رہی ہے وہی دشوار ہوتی جا رہی ہے چلیے ایک شعر اور کہ ’’اسی کو زندگی کہتے ہیں یارا، جو گل سے خار ہوتی جا رہی ہے‘‘۔ اب اس کے بعد اور کیا بات کریں کہ اپنے بس میں تو کچھ نہیں کہ کون آ رہا ہے اور کون لا رہا ہے۔ ہم نے تو صرف ذوق کا شعر پڑھ رکھا تھا ’’لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے۔ اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے‘‘ اور اس غزل کا ایک شعر تو کمال کا
مزید پڑھیے


مجھ کو آتا نہیں جگنو کو ستارا لکھنا!

اتوار 29 اکتوبر 2023ء
سعد الله شاہ
دشت کی پیاس بڑھانے کے لئے آئے تھے ابر بھی آگ لگانے کے لئے آئے تھے ایسے لگتا ہے کہ ہم ہی سے کوئی بھول ہوئی تم کسی اور زمانے کے لئے آئے تھے آج میرا موڈ کچھ سخن آرائی پر بات کرنے کا ہے۔ ہوا یوں کہ ان دنوں میرا ایک شعر خاصہ وائرل ہوا کہ اپنے مطلب کے سوا لوگ کہاں ملتے ہیں اب کے بھی سانپ خزانے کے لئے آئے تھے۔ اس پر دوستوں نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ یہ شعر کس شریف آدمی پر آپ نے کہا ہے میں نے جواب میں لکھا کہ یہ شعر تو پچیس
مزید پڑھیے



ایک فکاہیہ کالم

هفته 28 اکتوبر 2023ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے سر تسلیم ہے ہم کچھ نہ کہیں گے لیکن یہ قلم اور یہ قرطاس کہاں رکھیں گے اور ایک اور بات کہ خود ہی روئیں گے ہمیں پڑھ کے زمانے والے، ہم بھلا رنج و الم پاس کہاں رکھیں گے۔ہمارے معاملات کچھ زیادہ دگرگوں ہیں۔ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کسی کے پاس خودداری ہے نہ عزت نفس ہے اور ذرا سی شرم بہرحال میں اس شرم و حیات کو کم از کم عورتوں کے لئے توجائز سمجھتا ہوں جو میں بات کرنے جا رہا ہوں وہ بہت تکلیف
مزید پڑھیے


میاں نواز شریف کی تقریر اور شاعری

منگل 24 اکتوبر 2023ء
سعد الله شاہ
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم تری حیرانی کو کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ،آخر میاں نواز شریف مینار پاکستان لوگوں کے ازدحام میں جلوہ گر ہو گئے ۔رندبخشے گئے قیامت کو شیخ کہتا رہا حساب حساب۔ بہرحال انہوں نے آنا تھا اور وہ آ گئے ، شاد عظیم آبادی کے اشعار یاد آئے کہ تمنائوں میں الجھایا گیا ہوں ،کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں۔ دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم ۔ میں خود
مزید پڑھیے


سیرت پاک ﷺ پر ایک لیکچر

جمعرات 12 اکتوبر 2023ء
سعد الله شاہ
یہ اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے کہ خاک بار دگر بھی قیود ڈھونڈتی ہے ابھی ستارا سا چمکا تھا میری پلکوں پر کوئی تو شے ہے جو بودو نبود ڈھونڈتی ہے اس کائنات کو چلانے والے نے سارا بندوبست بھی کر رکھا ہے کہ مظاہر فطرت ہماری آنکھ کو ٹکنے نہیں دیتے ۔یہ بو قلمونی اور رنگا رنگی اور ہما ہمی ہمہ وقت ہمارے سامنے ہے۔اصل میں مجھے آج ایک نہایت اہم موضوع پر بات کرنی ہے کہ ربیع الاول کی مناسبت سے ہونے والے لیکچرز کے سلسلہ میں سید ڈاکٹر قمر علی زیدی صاحب کو ایک موضوع دیا گیا
مزید پڑھیے


معاملات سلجھ رہے ہیں

جمعرات 05 اکتوبر 2023ء
سعد الله شاہ
گریۂ شب کو جو سیلاب بنا دیتی ہے وہی صورت مجھے بے آب بنا دیتی ہے تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے محبت کا کمال جس کو چھوتی ہے اسے خواب بنا دیتی ہے بس وہی ذات ہے جو شعور و آگہی دیتی ہے اور ویسے بھی وہ مہربان ہے ’’میری آنکھوں کو وہ خال نہیں رہنے دیتی ،کہیں تارا کہیں مہتاب بنا دیتی ہے۔اور سب سے اہم بات جو میں کرنے جا رہا ہوں کہ ’بے یقینی میں کبھی سعد سفر مت کرنا ،یہ تو کشتی میں بھی گرداب بنا دیتی ہے ‘۔ بڑی بڑی خبروں کے درمیان ایک چھوٹی سی خبر پر نظر
مزید پڑھیے


حضور ﷺ تبدیلی کیسے لائے

بدھ 04 اکتوبر 2023ء
سعد الله شاہ
یقین کچھ بھی نہیں ہے گمان کچھ بھی نہیں جو تو نہیں ہے تو سارا جہان کچھ بھی نہیں ترے ؐ ہی نام سے پہچان ہے مرے آقاؐ وگرنہ اپنا تو نام و نشان کچھ بھی نہیں اور یہ پیارا نام لہو میں اگر نہیں ہے رواں یہ جسم کچھ بھی نہیںیہ جان کچھ بھی نہیں۔ لبوں پہ نام محمدؐ ہے زمزمہ پیرا ہمارے فکر کہ ورنہ اڑان کچھ بھی نہیں۔ میں ابھی تک ماہ مصطفی میں ہوں مجھے نہیں معلوم کہ یہ ترکیب میں نے کیسے بنا لی بس محبت کا اعجاز ہے یہ مہینہ میرے پیارے نبی کی ولادت کا ہے محافل
مزید پڑھیے








اہم خبریں