BN

سعد الله شاہ



گلاب کے پھول اور نیو کیمپس قبرستان


میں ان آنکھوں سے کہاں تک روتا گریہ کرتی تصویر کے ساتھ اک جسارت کا گنہگار ہوا کون لڑ سکتا ہے تقدیر کے ساتھ پوری کائنات کی اساس ہی تضادات پر ہے۔ رات دن جگنوئوں کی طرح جلتے بجھتے اڑتے جا رہے ہیں۔ فضا کے پنکھ نظر نہیں آتے بقا تو صرف خالق کو ہے مرزا نوشہ کیسے سوچتے تھے’’ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا۔ نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا۔ زندہ پل تو وہی ہے جو ہستی باقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو اس کی یاد میں کٹ گیا وگرنہ تو گزرتی جا رہی ہے ‘ ہنس کر گزار
اتوار 09 جون 2019ء

حکم برداشتہ

هفته 08 جون 2019ء
سعد الله شاہ
مرزا نوشہ نے کہا تھا: کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں واقعتاً کچھ ایسا ہی ہے‘ زندگی اسی کا نام ہے اک پل چین نہیں۔ کچھ زمین گردش میں ہے اور کچھ ہمارے پائوں میں چکر ہیں۔ ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہے منیر نیازی کی طرح’’ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔ میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘یہ چیلنجز سب کے راستے میں کب آتے ہیں یہ بھی خوش قسمتی ہے مگر ایسے میں ہی جوہر کھلتے ہیں۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ مسافر تھک بھی
مزید پڑھیے


کرکٹ اور عید کی دوآتشہ خوشی

بدھ 05 جون 2019ء
سعد الله شاہ
شاعرہوں تو ہر چیز کو شاعر کی آنکھ سے دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں۔ رات پاکستان کرکٹ ٹیم کی برطانیہ سے فتح پر مجھے فیض صاحب کی نظم تنہائی نہ صرف یاد آئی بلکہ نیرہ نور کانوں میں رس گھولنے لگی: رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے سچ مچ مجھے ایسے ہی لگا کہ سوکھے ہوئے دھان پر پانی پڑ گیا اور جیسے مردہ زمین جاگ اٹھی۔ کیا کریں یہ اپنے ملک سے وابستگی۔ دلبستگی اور پیار ہے جو
مزید پڑھیے


امریکی سانپ کی کھال سے بنی چپل

پیر 03 جون 2019ء
سعد الله شاہ
جون ایلیا نے کہا تھا: جانے کیا حادثہ ہے ہونے کو جی چاہتا ہے رونے کو مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ بس ’’ہر بات پہ رونے کو کہاں سے جگر آئے‘‘ اور غالب نے کہا تھا کہ ’’مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‘‘ میں کبھی سر پکڑ لیتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے پاس کیسے کیسے نابغہ عصر موجود ہیں اور وہ نت نئے آئیڈیاز لے کر آتے ہیں کہ عقل شل اور حواس مبہوت ہوجاتے ہیں ’’جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی‘‘ قوم مہنگائی کی آگ میں جل رہی ہے پٹرول کی گرانی کے
مزید پڑھیے


پاکستان کی سنچری اور پٹرول بم

اتوار 02 جون 2019ء
سعد الله شاہ
محفل سے اٹھ نہ جائیں کہیں خامشی کے ساتھ ہم سے نہ کوئی بات کرے بے رخی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ کبھی کبھی لینے کے دینے پڑ ہی جاتے ہیں۔ نیلما نے کہا تھا’’کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں۔ ہم جیتے جی مر جاتے ہیں’’جی بالکل ہوتی ہیں اور وہ ہوتی بھی ہوشربا قسم کی ہیں مثلاً صوبائی وزیر توانائی اختر ملک نے کیا خوب بیان دیا کہ ہم روتے روتے ہنس پڑے۔ ستم ظریف نے فرمایا کہ ورلڈ کپ جیتنے پر کرکٹرز کو تاحیات مفت بجلی
مزید پڑھیے




ادب سے سیاست تک

هفته 01 جون 2019ء
سعد الله شاہ
کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو جس میں مفہوم ہو کوئی نہ کوئی رنگ غزل سعد جی آگ لگے ایسی زبان دانی کو بات یوں ہے کہ میں زبان دانی کے خلاف نہیں مگر بات یہ کہ اس کے ساتھ ساتھ معنی آفرینی بھی ضروری ہے جس کا تذکرہ غالب کرتے ہیں کہ ’’گجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے‘‘ کافیہ پیمائی بھی اپنی جگہ ہے وہی کہ یہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو‘ مگر ایک رویہ دوسرا بھی تو ہے
مزید پڑھیے


جن کی آنکھوں میں ہیں آنسو

بدھ 29 مئی 2019ء
سعد الله شاہ
کیا کہیں ان سے خوشبو سے شناسا ہی نہیں کیا کہیں پھول سے بھی نام و نسب پوچھتے ہیں پہلے تو آگ لگاتے ہیں تماشے کے لئے اور پھر حال بھی وہ خندہ بلب پوچھتے ہیں اک تماشا سا سیاست میں بھی لگا ہوا ہے، کہیں نیب کے چیئرمین کی ویڈیو تہلکہ مچائے ہوئے ہے تو کہیں ہمارے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے دھومیں مچائی ہوئی ہیں۔ فواد چوہدری ہیں کمال کے آدمی کہ ’’جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے‘‘ وزارت اطلاعات میں ان کی جگہ فردوس عاشق اعوان آئیں تو وہ ان سے بھی تین ہاتھ آگے ہیں۔ فواد چوہدری کے حوالے سے
مزید پڑھیے


چاہت کے املتاس

پیر 27 مئی 2019ء
سعد الله شاہ
خوابِ کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گلِ صبح تری باس کہاں رکھیں گی پیلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جوراہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے سعدیہ قریشی نے اپنے کالم میں ’’املتاس کا زرد جادو‘‘ بیان کیا تو غرفۂ خیال سے یادیں جھانکنے لگیں کہ یہ پیڑ مجھے بھی بہت ہانٹ کرتے ہیں۔ اس پر لدے ہوئے اور لٹکے ہوئے پیلے پھولوں کے گہنے کس قدر مسحور کن ہوتے ہیں۔ میں تو اکثر گلشن اقبال انہیں دیکھنے جایا کرتا تھا اور واقعتاً وہ راہ میں ایستادہ جیسے میرے انتظار میں ہوتے تھے۔ انہیں دیکھتا تو ایسے جیسے
مزید پڑھیے


نقل کا کلچر

اتوار 26 مئی 2019ء
سعد الله شاہ
کہتے ہیں کہ نقل کے لئے عقل چاہیے مگر جس طرح کی نقل ان دنوں چل رہی ہے خاص طور پر سندھ میں تو کہنا پڑے گا کہ عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی۔ اتفاق سے میں کامران خاں کا پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں وہ سندھ کے وزیر تعلیم سے گفتگو فرما رہے تھے اور موضوع تھا سندھ میں ’’نقل عام‘‘ ۔کامران چیخ چیخ کر وزیر موصوف سے پوچھ رہے تھے کہ صوبہ سندھ میں نقل کا رجحان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور طلباء بڑی دیدہ دلیری سے سرعام نقل لگاتے ہیں ایک ویڈیو میں
مزید پڑھیے


تعمیر اور حسرت تعمیر

هفته 25 مئی 2019ء
سعد الله شاہ
اگر آپ گھر بنانے کا ارادہ رکھتے ہوں تو یہ بھی ذہن میں رکھیے گا کہ ایک ہوتی ہے تعمیر اور دوسری حسرتِ تعمیر۔ آپ حسرت کو خواہش کا انجام سمجھیے، یہ وہی خواہش ہے جس کے بارے میں غالبِ نکتہ سنج نے کہا تھا ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘‘ میں کوئی فلسفہ بیان کرنے نہیں جا رہا بلکہ سادہ اور معصوم لوگوں کو کچھ تعمیر کے حوالے سے بتانا چاہتا ہوں۔ آپ اسے بیتابی سمجھیے۔ شاید اس تحریر سے کسی کا فائدہ ہو جائے۔ آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ تعمیر کے محکمے میں
مزید پڑھیے