BN

عارف نظامی



تیسر ا امپا ئر کیو نکر انگلی اٹھا ئے گا؟


وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، مولانا فضل الرحمن ایک جم غفیر کے ساتھ اسلام آباد جا کر بیٹھ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں ہی وزیراعظم کے استعفے کامطالبہ کردیا جس کے لیے حکومت اور اداروں کو دو دن کی مہلت دی۔ سڑکوں پر دھرنوں کے ذریعے حکومتیں نہیں گرائی جانی چاہئیں اورنہ ہی آسانی سے گرتی ہیں،اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو تو پہلے ہی کانوں کو ہاتھ لگا چکے ہیں کہ ہم نظریاتی طور پر دھرنوں کے مخالف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کرتے ہوئے پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن
پیر 04 نومبر 2019ء

ڈھاک کے وہی تین پات؟

هفته 02 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
پاکستان تحریک انصاف کے ایک بزرگ رہنما جنہوں نے سیاست میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے،اگلے روز میں نے ان سے استفسار کیا کہ آپ اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں بتائیں کہ حکمران جماعت کا مسئلہ کیا ہے اور اقتدار سنبھالنے کے قریباً پندرہ ماہ گزرنے کے باوجو د اس کے پاؤں کیوں نہیں جم رہے ،تو موصوف نے جو پارٹی میں ہونے کے باوجود کسی عہدے پر فائز نہیں برجستہ جواب دیا کہ ’’گورننس ‘‘۔ان کی اس بات میں کافی حد تک صداقت نظر آتی ہے۔اس عرصے میںعمران خان کی کابینہ اور ’’ڈریم ٹیم ‘‘ کی
مزید پڑھیے


تھا جو ناخوب بتدریج وہی’ خوب‘ ہوا

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد کی طرف رواں دواں آزادی مارچ اور سروسزسپتال میں داخل شدید علیل میاںنوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت ہونے پر حکومتی حلقوں میں گھبراہٹ کے آثارنمایاں ہیں۔سوشل میڈیا پر تو ہاہاکا ر مچی ہوئی ہے جس کا بلاواسطہ نشانہ عدلیہ ہے کہ وہ میاں نوازشریف کو ملنے والا ریلیف عام آدمی کوکیوں نہیں دیتے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان نے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجازشا ہ(ر)کے علاقے ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں گلہ کیا کہ یہاں امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب
مزید پڑھیے


آفرین،آ فرین

پیر 28 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
حکومت کے مقرر کردہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹس جولاہور اور اسلام آبادکی عدالت عالیہ میں پیش کی گئیں ان کے مطابق میاںنواز شریف کی حالت مخدوش ہے اور اس لحاظ سے خطرناک کہ اگر ان کا درست اور فوری طور پر منا سب علاج نہ ہوا تو صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔ اب بال میاں صا حب کے اہل خانہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان کا علاج کیسے اور کہاں سے کراتے ہیں۔ موجودہ نازک صورتحال میںنواز شریف کی جان کو خطرے کے پیش نظر ماہرین کے مطابق جب تک ان کے پلیٹ لیٹس ایک خاص حد
مزید پڑھیے


آزادی مارچ حکومتی بوکھلاہٹ

هفته 26 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
نوازشریف کوصحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بنا پر بعداز خرابی بسیار سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ڈاکٹروں کو ان کے پلیٹ لیٹس بار بار تشویشناک حد تک کم ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی اور ان کے تفصیلی ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نوازشریف کی صحت کی صورتحال پر پہلے تو تحریک انصاف کے وزرا نے حسب عادت مذاق اڑایا ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان بات اس حد تک لے گئیں کہ میاں صاحب تو ہشاش بشاش ہیں اور بیماری محض ڈرامہ ہے ،لیکن بدھ کی شام حکومت کوخود
مزید پڑھیے




جامد اقتصادی سرگرمیاں

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
صنعتی پہیہ بدستور تقریباً جام رہنے اور رواں مالی سال ترقیاتی منصوبوں میں بڑی کٹوتیوں کے سبب ملک میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ تازہ اعدادوشمارکے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5.9فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کے اپنے ادارے، ادارہ شماریات کے مطابق 2016میں یہ شرح چار فیصد تھی۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ برس پانچ لاکھ گریجوایٹ بے روزگار ہوئے۔ ظاہر ہے نوکریاں درختوں پر نہیں لگتیں، غربت اور پسماندگی میں پسے ہوئے عوام کساد بازاری اورانحطاط کے اس دور میںپبلک سیکٹر میں ہی ملازمتوں کے خواہشمند ہوتے ہیں، اسی لیے ارکان اسمبلی پر بھی دباؤ
مزید پڑھیے


حکومتی ٹامک ٹوئیاں بمقابلہ گرینڈ اپوزیشن

پیر 21 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
جمعیت علما ئے اسلام (ف) کے سر براہ مولانا فضل الرحمن اپنے مارچ اور دھرنے کے حوالے سے اب’میں نہ مانوں‘ کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ حکومت ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد بالآخر مذاکرات پر آمادہ ہو گئی ہے۔ پہلے پہل وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کرنے کی تجویز دی گئی توانہوں نے اس پر صاد کیا اور حامی بھی بھری کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ، وزیر داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ اور غالباً جہانگیر ترین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی لیکن خان صاحب نے سعودی عرب جانے سے پہلے اپنا ارادہ بدل لیا اور اس
مزید پڑھیے


شاہی جوڑا،ڈیانا اور پاکستان

هفته 19 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
برطانوی شاہی جوڑے ڈیوک آف کیمبرج شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ میڈلٹن کو اپنے دورہ پاکستان کے دوران خاصی پذیرائی ملی،دورے سے برطانوی اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی خاصی تشہیر ہوئی اور مجموعی طور پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا ۔پاکستان ایک خوبصورت ملک جس میں دلکش قدرتی مناظر،برف پوش پہاڑ،کہساروں کا سینہ چیرتے اور میدانی علاقوں میں پرسکون دریا،بلند آبشاریں،نیلگوں جھیلیں، میدان ، ریگستان اور نخلستان سب کچھ موجود ہیں ۔یہاں کے عوام مختلف قسم کی ثقافت اور روایات میںعمومی طور پر اسلام کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ۔اس کے باوجود
مزید پڑھیے


کچھ تاریخ کے تلخ دریچے سے۔۔۔

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
12اکتوبرکو جنرل پرویز مشرف کے بطور آرمی چیف اقتدار پر شب خون مارنے کو بیس برس گزر گئے۔ جنرل صاحب کا ’کو‘ (coup)پاکستان میں فو ج کے اقتدار پر قبضے کا پہلا واقعہ نہیں تھا۔ سب سے پہلے سازشی جرنیل ایوب خان نے جو بطور کمانڈر انچیف کئی برسوں سے ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے، قیا م پاکستان کے گیا رہ برس بعد ہی 7اکتوبر 1958ء کواقتدار پرقبضہ کر لیا تھا ۔ اس وقت ملک میں واقعی سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کادور دورہ تھا، سیاسی حکومتیں بنتی تھیں اور سیاستدانوں کی باہمی رسہ کشی کی وجہ سے ٹوٹ
مزید پڑھیے


باندھ کر کیسے مذاکرات؟

پیر 14 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
طویل عرصے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے’ سب کچھ ‘میاں نوازشریف کو میڈیا سے مختصر انٹرایکشن کرنے کا موقع ملا جو حکومتی بزر جمہروں نے بلا واسطہ طور پر خود فراہم کیا ۔مسلم لیگ (ن) کے رہبر میڈیا اور اپنے سیاسی حواریوں سے دور کوٹ لکھپت جیل کی ایک کوٹھڑی میں بند ’پاناماگیٹ ‘ کے ہاتھوں نااہل ہو کر اقامہ کیس میں طویل قید کاٹ رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ انتقامی ذہنیت کے حامل حکومتی اہلکار اس پر بھی راضی نہیں ، اس وقت تو ان کے اعصاب پر مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور اسلام آباد
مزید پڑھیے