Common frontend top

آصف محمود


نومولود شیخ مجیب ۔۔۔۔۔اور پاکستان کا مقدمہ


پاکستانی سیاست میں ایک نیا بیانیہ تشکیل پا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں اب قدم قدم پر مشرقی پاکستان کے سانحے کو بطور حوالہ بلکہ بطور طعنہ استعمال کر کے سیاست ہونے لگی ہے۔ حادثے سے بلاشبہ سبق سیکھا جاتا ہے اور سبق سیکھا جانا چاہیے لیکن تازہ بیانیے کی شان نزول کچھ اور ہے اور یہ واقعات کی صریح غلط تعبیر پر استوار کیا گیا ہے۔ اس تازہ بیانیے میں شیخ مجیب کو حریت کا ستعارہ بنایا جا رہا ہے۔ اور اٹھتے بیٹھے طعنے دیے جاتے ہیں کہ ایسا ویسا نہ کیا جائے ورنہ میں بھی شیخ
جمعرات 30 مئی 2024ء مزید پڑھیے

امریکہ کی ’ تشویش‘ : چند اہم سوالات!

هفته 25 مئی 2024ء
آصف محمود
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کا عمران خان کی سکیورٹی اور سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار سامنے آیا تو دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں۔ سوال عمران خان کا نہیں سوال امریکہ کا ہے۔ بے شک عمران خان کا یہ حق ہے کہ ان کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق سلوک ہو لیکن امریکہ کو کس بات کی تشویش ہے ، کیوں ہے اور اس تشویش کی شان نزول کیا ہے۔؟ عمران خان کے معاملے میں امریکہ کی ’ مائوں جیسی ‘ محبت چھلک پڑتی ہے اور اسے حقوق انسانی یاد آ
مزید پڑھیے


یاسین ملک کس کا صدقہ ہیں

جمعرات 23 مئی 2024ء
آصف محمود
رئیس امروہی نے لکھا تھا: رئیس عالم اسلام دے جواب اس کا فدائین فلسطین کس کا صدقہ ہیں اور میں آج بیٹھ سوچ رہا ہوں کہ بھارتی جیل میں قید یاسین ملک کس کا صدقہ ہیں؟ پہلے ہم نے خاموشی اوڑھی اورسید علی گیلانی قطرہ قطرہ قتل ہوئے۔ وہ بیمار تھے مگر نظر بندی میں ڈھنگ کی طبی سہولیات دستیاب نہ تھیں۔ وہ اپنی بیماری میں ، اللہ ، رسول اللہ ، پاک سرزمین ، پاک سرزمین کے ورد کرتے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ اب یاسین ملک قتل گاہ میں ہیں۔ہمارا اجتماعی گونگا پن کب ختم ہو گا؟کیا ہم یاسین
مزید پڑھیے


بلوچستان: چند بنیادی باتیں

منگل 21 مئی 2024ء
آصف محمود
بلوچستان میں سے جب کوئی اپنے شہری حقوق کی خاطر آواز بلند کرتا ہے تو ملک کے ہر حصے سے اس آواز کی تائید کی جاتی ہے۔ لیکن بلوچستان میں جب کسی پنجابی کا لاشہ گرتا ہے تو بلوچستا ن کا حقوق انسانی والا بیانیہ لاتعلق سا ہو کر منہ دوسری جانب پھیر لیتا ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ اس رویے کی وجوہات کیا ہیں؟ بلوچستان سے جب جب شہری حقوق کی آواز اٹھی ، پنجاب میں اس کی خوب پزیرائی ہوئی۔بلوچستان سے جب کچھ لوگ اسلام آباد کی طرف نکلے تو پنجاب نے ان کا بھر پور
مزید پڑھیے


اخلاقی بحران: پارلیمان سے سوشل میڈیا تک

هفته 18 مئی 2024ء
آصف محمود
اس ملک کے نظام قانون وانصاف ، پارلیمان، اس کے ، سپیکر ، اور الیکشن کمیشن سے سادہ سا ایک سوال پوچھا جانا چاہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا طارق بشیر چیمہ صاحب آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 میں رکن پارلیمان کے لیے وضع کردہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں؟ دستور پاکستان میں اقوال زریں کی شکل میں جو ایک طویل فہرست لکھ رکھی ہے کیا وہ صرف برائے وزن بیت اور محض ایک دھوکہ ہے یا کبھی اس کا اطلاق بھی ہو سکے گا؟ طارق بشیر چیمہ صاحب کی ’’ پارلیمانی ‘‘ گفتگو تو آپ
مزید پڑھیے



مقبوضہ کشمیر میں انتخابی عمل حق خود ارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتا

جمعرات 16 مئی 2024ء
آصف محمود
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی لوک سبھا کے لیے ہونے والے انتخابی عمل پر بھارتی قیادت اور اس کا بازوئے ابلاغ زن یہ دعوی کر رہے ہیں کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پہلی بار ہونے والے یہ انتخاب کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مترادف ہیں اور کشمیریوں نے اس عمل میں حصہ لے کر گویا یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھارتی یونین کا حصہ ہیں اور یوں ان کے اس فیصلے کو حق خود ارادیت کا متبادل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ
مزید پڑھیے


کیا مغربی میڈیا ذمہ دار اور قابل بھروسہ ہے؟

منگل 14 مئی 2024ء
آصف محمود
مغربی میڈیا کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ ایک پروفیشنل میڈیا ہے اور اسی لیے یہ زیادہ ذمہ دار اور زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس تاثر کی حقیقت کیا ہے ؟ کیا واقعی ایسا ہے ؟ غزہ کی صورت حال کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔وال سٹریٹ جرنل کا ایک ناقابل فہم اداریہ میرے سامنے رکھا ہے۔ اداریے کا عنوان ہے: Chicago votes for Hamas ۔ اس عنوان نے مجھے چونکایا کہ شکاگو میں ایسا کیا ہوا کہ شکاگو ووٹس فار حماس جیسا عنوان باندھنا پڑ گیا۔ تفصیل دیکھی
مزید پڑھیے


9مئی سے9 مئی تک

هفته 11 مئی 2024ء
آصف محمود
9مئی سے9 مئی تک، سوالات کا ایک دفتر کھلا ہوا ہے۔ ضروری ہے کہ ان تمام سوالات پر تفصیل سے بات کی جائے ۔پہلا سوال یہ ہے کہ اس سارے دورانیے میں قانون کہاں کھڑا ہے؟ ایک سال بیت گیا اور اتنے بڑے واقعے کے ملزمان کے بارے میں قانون ابھی تک مکمل تعین نہیں کر سکا کہ کو ن ذمہ دار تھا اور کون نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تحریک انصاف کے جو قائدین اور کارکنان اس روز وقوعے میں ملوث تھے اور اپنی لائیو ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال ڈال کر داد شجاعت
مزید پڑھیے


فلسطین میں جبری یہودی آباد کاری: انٹر نیشنل لاء کیا کہتا ہے؟

جمعرات 09 مئی 2024ء
آصف محمود
پچھلے کالم میں فلسطین میں یہود کی آباد کاری پر تفصیل سے بات کی گئی۔ اب آئیے اس سوال کی جانب کہ اقوام متحدہ کے وضع کردہ اصول کیا رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ 1.جنرل اسمبلی نے 15 دسمبر 1946 کو Constitution of the International Refugee Organization پاس کیا۔ اس کے مندرجات قابل غور ہیں:اس کے ابتدائیے میں پہلے ہی پیراگراف میں لکھا گیا کہ یہ مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ تھا تو اس کا بوجھ فلسطین پر کیوں ڈالا؟ اقوام عالم نے اس مسئلے
مزید پڑھیے


فلسطین میں جبری یہودی آباد کاری: قانونی جائزہ

منگل 07 مئی 2024ء
آصف محمود
انتداب کے دورانیے میں، لیگ آف نیشنز سے اقوام متحدہ تک، یورپ سے لاکھوں یہودیوں کو لا کر فلسطین میں آباد کیا جاتا رہا۔ یہ سارا عمل فلسطینیوں کی مرضی اور خواہش اور اجازت کے بغیر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ فلسطی میں یہود کی اس جبری آبادکاری کے بارے میں انٹر نیشنل لاء کیا کہتا ہے اور دنیا کے مسلمہ قوانین اور ضوابط میں کیا اس طرح کے اقدام کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ جب فلسطین میں سلطنت عثمانیہ کا اقتدار ختم ہوا اور یہ علاقہ لیگ آف نیشنزکے انتداب کے تحت برطانیہ کی نگرانی میں دیا گیا تو اقوام
مزید پڑھیے








اہم خبریں