BN

آصف محمود



ماں اور بہن کی گالی ۔۔۔ایک سماجی مطالعہ


ہمارے معاشرے میں اکثر ماں اور بہن کی گالی دی جاتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ منہ سے غلاظت نکالنی ہی ہے تو اس کا نشانہ ماں اور بہن ہی کیوں ، باپ اور بھائی کی گالی کیوں نہیں دی جاتی؟میں یہ سوال تفنن طبع کی شوخی میں نہیں ، سنجیدگی کی پوری آزردگی کے ساتھ اٹھا رہا ہوں۔ مقصد ہر گز یہ نہیں کہ باپ اور بھائی کی گالی گوارا ہے یا یہ بے ہودگی کی کوئی کم تر قسم ہے۔گالی اپنی ہر شکل میں ایک غلیظ حرکت ہے ۔لیکن پدر سری معاشرے کے نفسیاتی بگاڑ کو
هفته 27 جولائی 2019ء

عمران خان کی کامیابی کیوں ضروری ہے؟

جمعرات 25 جولائی 2019ء
آصف محمود
عمران ایک تجربہ ہے ، اسے کامیاب ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے خود عمران خان کو اس کا کس حد تک احساس ہے؟ عمران خان محض ایک حکمران نہیں کہ ناکام ہو گیا تو اس کی جگہ کوئی اور لے لے گا۔عمران خان سماجی شعور کی حدت کا نام بھی ہے۔ لوگوں نے محض ایک حکمران نہیں چنا ، خلق خدا کی پلکوں سے جانے کتنے سپنے لپٹے تھے جن کی تعبیر کی آرزو لیے وہ عمران کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔آرزوئوں اور امنگوں کی آنچ پر سلگ کر لوگ عمران کے لیے نکلے کہ ایک بار ، بس ایک بار
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا کے دانشور

منگل 23 جولائی 2019ء
آصف محمود
سوشل میڈیا کے دانشور، یہ وہ اصطلاح ہے جو خود سوشل میڈیا پر بطور طعنہ استعمال کی جاتی ہے۔ میں نے ایسے لوگوں کو بھی دوسروں کے لیے یہ اصطلاح بطور حقارت استعمال کرتے دیکھا ہے جن کی اپنی شناخت اور پہچان سوشل میڈیا کی مرہون منت ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کا دانشور ہونا واقعی باعث ندامت ہے ؟ اس میں کیا کلام ہے کہ مین سٹریم میڈیا کے اہل دانش زیادہ تجربہ رکھتے ہیں اور اپنی فکری پختگی کی وجہ سے ان کا اعتبار اور ساکھ ہے برسوں کی ریاضت کا حاصل ہے۔بعض ایسے ہیں
مزید پڑھیے


نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کا ’ مدرسہ ڈسکورسز‘

هفته 20 جولائی 2019ء
آصف محمود
مدرسہ ڈسکورسز کے نام پر جاری فکری مشقِ ستم کا حاصل ایک بنیادی سوال ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے تہذیبی اداروں کی فکری تشکیل نو، کیا اب نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی سرپرستی میں ہو گی؟ وہ یونیورسٹی جس کا تعارف محض مسیحی یونیورسٹی ہونا نہیں بلکہ کیتھولک کی فرقہ وارانہ شناخت بھی جس کے ہمراہ ہے؟ فکر کی دنیا میں جمود کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔اداروں کی تشکیل نو بھی ایک فطری عمل ہے اور ضرورت محسوس ہو تو اس کا انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔شعور ِ انسانی بھی مشترکہ انسانی ورثہ ہے اور علم کی دنیا میں کسی
مزید پڑھیے


کیا سماجیات کو نصاب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے؟

جمعه 19 جولائی 2019ء
آصف محمود
نتھیا گلی کے نواح میں ایک گوشہ عافیت میں صبح اتر نے کو ہے۔ کووں کی کائیں کائیں اور چڑیوں کی چہچہاہٹ نے جگا دیا ہے۔صبح کے پانچ بجے ہیں اور پرندوں کی موسیقی سے ماحول گویا مہک رہا ہے۔بچپن یاد آ رہا ہے ۔گھر کے صحن میں سنبل ، امرود اور کینو کے درخت تھے۔ چڑیوں کے شور اور مرغ کی اذان سے آنکھ کھل جاتی تھی۔تب بہت غصہ آتا تھا ، اب بہت یاد آتی ہے۔ ساون کا مہینہ ہے ، بادل دھند کی صورت امڈ امڈ آ رہے ہیں ۔رات ایک کھڑکی کھلی رہ گئی، اب ہر چیز
مزید پڑھیے




’’ریکوڈک ‘‘

منگل 16 جولائی 2019ء
آصف محمود
ریکوڈک کیس میں ہونے والے خوفناک جرمانے پر ، پریشان ہونے کا وقت ہی نہیں ملا۔ اس خیال سے دل لرز اٹھا کہ ایران بھی گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر ہمارے خلاف عالمی عدالت چلا گیا تو کیا ہو گا؟نوٹس تو اس نے ہمیں پہلے ہی سے دے رکھا ہے۔ اگر وہ مقدمہ کر دیتا ہے تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔کیا آپ کو معلوم ہے ہمارے افلاطونوں نے ایران کے ساتھ کیا معاہدہ کر رکھا ہے اوراس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ ایران کے ساتھ ہونے والے گیس پائپ لائن معاہدے میں ہم نے اس شق پر اتفاق کر
مزید پڑھیے


سیاحت کو سنجیدگی سے لیجیے

هفته 13 جولائی 2019ء
آصف محمود
ناران پہنچے تو دن ڈھل چکا تھا۔ پہلی نظر ہی اداس کر گئی۔ یہ وہ ناران نہ تھا برسوں پہلے جسے آخری بار دیکھا تھا۔ناران تو ایک گوشہ عافیت تھا، شام ڈھلے پی ٹی ڈی سی سے نکلتے تو چھوٹا سا بازار سامنے ہوتا۔ چند ہوٹل اور سر شام خاموشی۔ اب سب کچھ بدل چکا تھا۔بے ہنگم ٹریفک اور ڈربوں جیسے ہوٹل، یوں محسوس ہوا راجہ بازار آ گئے ہوں۔جیسے تیسے رات گزاری اور صبح دم آگے نکل گئے۔باٹا کنڈی کے نواح میں طبیعت بحال ہونا شروع ہوئی ۔جل کھڑ کے پرستان سے گزر کر لولوسر جھیل کے پہلو
مزید پڑھیے


ہیجان کب ختم ہو گا؟

بدھ 10 جولائی 2019ء
آصف محمود
بے نظیر حکومت سنبھالتی ہیں تو نواز شریف اسے گرانے نکل کھڑے ہوتے ہیں، نواز شریف کو اقتدار ملتا ہے تو عمران خان ڈی چوک میں دھرنا دے ڈالتے ہیں اور عمران خان کو حکومت ملتی ہے تو اس کے خلاف تحریک کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر دور میں ہر ایک کے پاس اپنے ہر اقدم کے درجنوں دلائل ہوں گے ۔ہو سکتا ہے ان دلائل میں وزن بھی ہو۔ لیکن ایک عام شہری کے طور پر میرا سوال یہ ہے کہ یہ ہیجان کب ختم ہو گا؟ ایک عام آدمی ، اس کے مسائل اور اس
مزید پڑھیے


ہم اذیت پسند کیوں ہو گئے؟

هفته 06 جولائی 2019ء
آصف محمود
ہم اذیت پسند کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟لطیف انسانی جذبات دم توڑ رہے ہیں اور خانہ ویراں میں اہلِ دل اب درو دیوار پر اشک بہاتے ہیں۔وحشت کدے میںہیجان ہے ، نفرت امڈ رہی ہے ، بے زاری ہے ، بد گمانیاں ہیں ، دل پتھر ہو گئے ہیں اور سوچیں سفاک۔لہجوں میں آتشِ دوزخ کی تپش ہے ۔ طنز ، تحقیر ، تذلیل، تمسخر ، بستی میں سب کی فراوانی ہے بس ایک خیر خواہی ہے جو جنس نایاب ہوتی جا رہی ہے ۔دیدہِ حیران سراپا سوال ہے: اس سماج کو کیا ہو گیا؟اس کی حسِ لطیف کیا
مزید پڑھیے


پاکستان میں افغانستان مخالف جذبات کیوں نہیں؟

جمعرات 04 جولائی 2019ء
آصف محمود
پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ایک ہی زمین پر غزل کہی جا رہی ہے : کیا معاملہ ہے افغانستان کے شہری ہم سے خفا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں کچھ وہ ہیں جو اپنے خبثِ باطن میں پاکستان پر فردِ جرم عائد کر دیتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو برادرم عامر خاکوانی کی طرح درد مندی اور درد دل کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔میرا سوال مگر قدرے مختلف ہے۔سوال یہ ہے سارا مشاعرہ اس زمین پر کیوں؟ ایک غزل اس پر کیوں نہ ہو جائے کہ پاکستان کاشہری افغانستان کے
مزید پڑھیے