Common frontend top

آصف محمود


عمر ایوب صاحب اللہ کے ترجمان نہ بنیں


عمر ایوب صاحب تحر یک ا نصاف کی ترجمانی ضرور کریں لیکن اللہ کے ترجمان نہ بنیں۔ دادا کی پوتی کی طرح ، دادا کے پوتے کا بھی حق ہے کہ وہ سیاست کرے لیکن یہ حق کسی کو نہیں کہ وہ سیاست کے نام پر اللہ کی ترجمانی کا فرض بھی ادا کرنا شرع کر دے۔ سیاست ایشوز پر ہونی چاہیے ، مذہبی استحصال کی بنیاد پر نہیں۔ مذہب کے نام پر ہمارے ہاں سیاست میں ایک عام آدمی کا جتنا استحصال ہوا، یہ ایک تکلیف دہ باب ہے۔ تا ہم اس معاملے کو جس طریقے سے تحریک انصاف نے
منگل 20 فروری 2024ء مزید پڑھیے

واہ مولانا ، آہ مولانا

هفته 17 فروری 2024ء
آصف محمود
زرداری صاحب کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اگر پی ایچ ڈی کی ڈگری چاہیے تو کیا مولانا صاحب کی سیاست کو سمجھنے کے لیے پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنا پڑے گا؟ جی نہیں ، ایسے تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ، اس کے لیے مولانا محترم کے انٹریوز کا مجموعہ ’’ مشافہاتـ ‘‘ کافی رہے گا۔ کہیں سے خریدلیجیے اور مولانا کی سیاست کے رہنما اصول سمجھ لیجیے۔ میں نے چند سال پہلے ان تین جلدوں کا مطالعہ کیا تھا اور مولانا کی سیاست کے جو رہنما اصول میری سمجھ میں آئے تھے ان کا خلاصہ میں آپ
مزید پڑھیے


مولانا کیوں ناراض ہیں؟

جمعه 16 فروری 2024ء
آصف محمود
عشق کی یہ بازی مولانا نے اس شرط پر کھیلی تھی کہ خزاں کو جانا چاہیے ، بہار آئے یا نہ آئے ۔سوال یہ ہے کہ اب مولانا اس بات پر خفا کیوں ہیں کہ بہار ابھی تک ان کے آنگن میں نہیں اتری؟ مولانا نے اپنے اس شکوے کا عنوان بے شک دھاندلی رکھا ہے لیکن سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اندو ہ عشق کا شکوہ نارسائی ہے۔ مولانا دھاندلی سے نہیں ہارے ، انہیں تحریک انصاف کا سونامی بہا لے گیا ہے۔ تحریک انصاف کو اس الیکشن میں ملنے والے ووٹ نہ صر ف بہت سارے
مزید پڑھیے


الیکشن کمیشن اساتذہ سے معذرت کرے

منگل 13 فروری 2024ء
آصف محمود
انتخابات کے بعد ہر سیاسی جماعت کا مقدمہ لڑنے والے موجود ہیں ، کوئی ہے جو اساتذہ کا مقدمہ بھی پیش کرسکے جنہیں الیکشن ڈیوٹی کے نام پر توہین ، تضحیک اور تذلیل کے ایک دانستہ عمل سے گزارا جاتا ہے اور اس کے بعد الیکشن کمیشن رسمی سی معذرت تو کیا شکریے کے دو لفظ بھی ادا نہیں کر پاتا ۔ کیا یہ اساتذہ انسان سے کم تر درجے کی کوئی مخلوق ہیں جن کی توہین ، تحقیر اور تذلیل الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کے لیے جائز قرار دے دی گئی ہے؟ میڈیا اور سوشل میڈیا، لمحے
مزید پڑھیے


آزاد امیدواروں کی قانونی پوزیشن کیا ہے؟

هفته 10 فروری 2024ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے حمایت یافتہ جو لوگ آزاد امیدوارکے طور پر جیتے ہیں ان کی قانونی پوزیشن کیا ہے؟ کیا وہ ایوان میں تحریک انصاف کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھ سکیں گے یا انہیں کسی ایسی جماعت میں شامل ہونا پڑے گا جو بطور جماعت الیکشن میں حصہ لے کر ایوان میں موجود ہو گی؟ ہم جوں جوں اس سوال پر غور کریں گے ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوتی چلی جائے گی کہ ہمارے انتخابی قوانین اقوال زریں کا وہ ناقص ، ادھورا اور نا معتبر مجموعہ ہیں جو کسی بھی مسئلے کو پیچیدہ بنا کر الجھا
مزید پڑھیے



عام انتخابات

جمعرات 08 فروری 2024ء
آصف محمود
آج انتخابی معرکہ ہو رہا ہے ۔ شیر ، تیر ، کتاب ، ترازو سب میدان میں ہیں لیکن بلا نہیں ہے۔ سوچتا ہوں کہ تحریک انصاف نے عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد جو مسلسل غلطیاں کیں اگر وہ نہ کرتی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتی تو کیا وہ اس کھائی میں گرتی جس میں اب وہ گری پڑی ہے؟ ان غلط فیصلوں پر ان سطور میں اس وقت بھی تنقید کی گئی تھی اور جواب میں گالیاں کھائی گئی تھیں ، تذکیر کے طور پر یہ غلطیاں ایک بار پھر سامنے رکھ رہا ہوں ۔ عدم اعتماد کے بعد
مزید پڑھیے


اسلام آبادمیں پیدل چلنا منع ہے؟

منگل 06 فروری 2024ء
آصف محمود
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر الیکشن ہو رہا ہے لیکن یہاں کے سلگتے اور سنگین مسائل پر کوئی بات نہیں کر رہا ۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ ہر شہر کے ووٹر قومی اسمبلی کا ووٹ بھی دیتے ہیں اور صوبائی اسمبلی کا بھی لیکن اسلام آباد کے ووٹر صرف قومی اسمبلی کا ووٹ دیتے ہیں۔ انہیں صوبائی اسمبلی اور اس کے ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ آئینی ماہرین یہاں سمجھانے آئیں گے کہ جب اسلام آباد ایک صوبہ نہیں ہے تو یہاں کے شہریوں کو صوبائی
مزید پڑھیے


مرنا ہے تو موٹر وے پر آئو

هفته 03 فروری 2024ء
آصف محمود
جس دہائی میں دہشت گردی عروج پر تھی اس دہائی میں پاکستان میں جتنے لوگ دہشت گردی کے ہاتھوں مرے اس سے قریب چار گنا زیادہ تعداد میں لوگ سڑکوں پر حادثات میں جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ دہشت گردی پر تو بڑی حد تک قابو پا لیا گیا لیکن ٹریفک حادثات میں ہونے والا ’’ قتل عام‘‘ اسی طرح جاری ہے۔ قربان جائیے اس ملک کی سیاسی قیادت کے اور اس کی مبلغ بصیرت کے کہ اتنا بڑا انسانی المیہ کسی جماعت کے انتخابی منشور میں جگہ نہیں پا سکا۔ ٹریفک حادثات کو ہم بالعموم تقدیر کا
مزید پڑھیے


انتخابات: ایک لایعنی مشق؟

جمعرات 01 فروری 2024ء
آصف محمود
پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل، سیاست کے اخلاقی وجود سے مشروط ہے۔ اگر سیاسی عمل اپنے اخلاقی وجود سے بے نیاز ہو جائے تو کوئی آئینی موشگافی جمہوریت کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ جمہوری عمل کے ارتقاء کے لیے لازم ہے کہ اس سارے عمل کو با معنی بنایا جائے۔ یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انتخابی قوانین میں تبدیلیاں کر تے ہوئے انتخابی عمل کی معنویت میں اضافہ نہ کر دیا جائے۔ قوانین کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ قانون کو قابل عمل ہونا چاہیے۔ اگر ایک قانون قابل عمل نہیں تو اس میں جتنے بھی شاندار
مزید پڑھیے


الیکشن کی سب سے اذیت ناک چیز کیا ہے؟

منگل 30 جنوری 2024ء
آصف محمود
سوال یہ ہے کہ اس الیکشن کی سب سے تکلیف دہ ا ور اذیت ناک چیز کیا ہے؟ ہر آدمی کے پاس اس سوال کا الگ الگ جواب ہو گا تاہم میرے نزدیک اس الیکشن کی سب سے تکلیف دہ اور اذیت ناک چیز یہ ہے کہ یہ الیکشن 49 ہزار6 سو درختوں پر مشتمل پورا ایک جنگل کاٹ کر منعقد فرمایا جا رہا ہے۔ اس طرح کے الیکشن پر تو ایک درخت بھی قربان کرنا گوارا نہیں کیا جا سکتا ، کجا یہ کہ اس نا معتبر مشق کے لیے پورا ایک جنگل قربان کر دیا جائے۔ درہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں