BN

آصف محمود


اے ٹی ایم کارڈ ایکٹویٹ کرانے کیا مجھے عدالت جانا ہو گا؟


اہم قومی معاملات کو چھوڑیے،آج مجھے یہ بتلا دیجیے کہ بنک سے مجھے جو اے ٹی ایم کارڈ ایشو ہوا ہے، اسے ایکٹویٹ کیسے کروایا جا سکتا ہے؟ آپ قہقہہ لگا کر میری بات کو نظر انداز کرنا چاہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا آپ کو اس اذیت کا احساس ہی نہیں ،جس سے میں گزرا ہوں اور گزر رہا ہوں۔یہاں بنکوں کے نظام کو دیکھنے کا کوئی ایسا قابل عمل اور قابل بھروسہ نظام موجود نہیں، جو سائل کی جلد داد رسی کر سکے، اس لیے میں اپنا مسئلہ قارئین کی عدالت میں لے آیا ہوں
منگل 06 اکتوبر 2020ء

مشرق وسطیٰ کے آزار سے ہشیار رہیے

جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
پاکستان کے مسائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ن لیگ ، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ، جے یو آئی، پرو اسٹیبلشمنٹ ، اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور دیگر عنوانات کے تحت اپنے معاملات کو دیکھیں اور دوسرا یہ کہ آپ صرف ایک پاکستانی کے طور پر حالات کا جائزہ لیں۔اگر ہم اول الذکر انداز فکر اختیار کریں تو مزے ہی مزے ہیں ، ہنسی ہے، مزاح ہے ، تفنن طبع ہے ، فقرے بازی ہے ، گالیاں ہیں ، دشنام ہے ، لذت گفتار ہے ، دادو تحسین ہے اور واہ واہ
مزید پڑھیے


نیا سرگودھا ، نئے ڈکیت۔۔۔بزدار صاحب آپ سن رہے ہیں؟

بدھ 30  ستمبر 2020ء
آصف محمود
ایک روز میں تین فون آئے۔پہلا فون سرگودھا شہر سے تھا ، دوسرا گائوں سے اور تیسرا جوہر آباد سے۔ اور تینوں میں ایک ہی واردات کا بیان تھا۔ پہلے تیسرے فون کا قصہ سن لیجیے۔ شام ڈھل رہی تھی جب یہ فون آیا۔ آصف بھائی یہاں مسجد میں ایک اعلان ہو رہا ہے ، ذرا توجہ سے سنیے۔ فون پر آواز ذرا مدھم تھی لیکن اعلان سنا جا رہا تھا۔ اعلان کیا تھا ، آپ بھی سن لیجیے :’’ تمام لوگ توجہ سے ایک ضروری اعلان سنیں ۔شہر میں خطرناک ڈاکوئوں اور چوروں کا ایک گروہ آیا ہوا ہے
مزید پڑھیے


ادویات : خرابی کہاں پر ہے؟

منگل 29  ستمبر 2020ء
آصف محمود
کبھی آپ نے سوچا کہ ہمارے ڈاکٹرز ادویات کے نسخوں پر برانڈڈ اور مہنگی ادویات کیوں لکھتے ہیں ، جب اسی فارمولے میں مارکیٹ میں درجنوں سستی ادویات موجود ہوتی ہیں تو ہمارے ڈاکٹر حضرات وہاںمتعلقہ دوائی کا عام فارمولا نام لکھنے کی بجائے کمپنی کا برانڈ نام لکھنے پر بضد کیوں ہیں؟ ہوتا کیا ہے؟ واردات کو سمجھیے۔ مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ ڈاکٹر اس کے لیے ایک دوا تجویز کرتا ہے۔ وہ دوا دس بیس کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔اس دوا کے دو نام ہوتے ہیں۔ایک generic name ہوتا ہے جو سب کا یکساں ہو تا ہے اور
مزید پڑھیے


ادویات کی ضرورت ہی کیا ہے؟

هفته 26  ستمبر 2020ء
آصف محمود
ناخواندہ لوگ ادویات کی قیمتوں میں 260 فیصد اضافے پر چیخ و پکار کر رہے ہیں حالانکہ ان میں بصیرت ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جب سکون قبر میں ہے تو ادویات کی ضرورت ہی کیا ہے۔ یہ کم بخت تو آدمی اور سکون کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔علم و حکمت کی یہ بات جب آدمی پر آشکار ہو جائے تو وہ چیخ و پکار نہیں کرتا ، وہ جذب و مستی میں چلا جاتا ہے اور اس کا ہولے ہولے سے ’’ نچنے نوں دل کردا ‘‘ ہے۔یہ کرپٹ لوگوں کی حکومتیں تھیں جنہوں نے ادویات
مزید پڑھیے



مقدس پارلیمان۔۔۔صرف بالغاں کے لیے؟

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
آصف محمود
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا آپ معزز پارلیمان میں ہونے والی گفتگو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر سن سکتے ہیں؟ جناب سپیکراس معاملے میں اگر خود کو بے بس پاتے ہیں تو کیا پی ٹی وی سے کہا جائے پارلیمان کی کارروائی نشر کرنے سے پہلے تنبیہہ جاری کر دیا کرے کہ یہ کارروائی صرف بالغان کیلئے ہے اور بچوں کو اس نشریات سے دور رکھا جائے؟ سینیٹر نگہت مرز ا روایت کرتی ہیں کہ اجلاس نبٹا کر وہ کراچی پہنچیں تو ان کی کم سن نواسی کہنے لگی : ’’ نانو جن لوگوں میں آپ
مزید پڑھیے


واہ مولاناواہ

منگل 22  ستمبر 2020ء
آصف محمود
چشمِ وا مولانا کی گرویدہ ہو چکی ہے،عزیمت اور جمہوریت اب ان کے ہاتھوں میں ہے اور وہ اپنی جرات رندانہ سے برنگ شعلہ دہک رہے ہیں۔ حزب اختلاف کی اے پی سی میں وہ کسی شیر کی طرح دھاڑ رہے ہوتے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے دو اور ان کے حلیف مان کر نہیں دیتے۔ ان کی یہ دلاوری دیکھ کر ان کے وابستگان پکار پکار کر کہہ رہے ہیں: واہ مولانا واہ۔ آپ بولتے ہیں تو مہر عالم تاب کا منظر کھل جاتا ہے۔ میرے جیسے طالب علم کا معاملہ مگر اور ہے کہ دل کو کئی کہانیاں
مزید پڑھیے


میاں صاحب کا خطاب ۔۔۔۔خواجہ آصف کا نصاب

پیر 21  ستمبر 2020ء
آصف محمود
اے پی سی سے میاں نواز شریف کے خطاب سے خواجہ آصف وجد میں آ گئے کہ دربار اجڑ بھی جائیں تو اہل دربار کی عادتیں نہیں جاتیں۔فرمایا : یہ خطاب نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔اب جب ’’ بیانیہ‘‘ نصاب کی صورت گری پر مچل ہی گیا ہے تو لازم ہے ایک طالب علم کے طور پر ہم بھی اپنی معروضات پیش کر دیں۔ نصاب میں نہ سہی ، کیا جب کہیں حاشیے میں ہی جگہ مل جائے ۔ میاں صاحب نے اصول پسندی کے رجز تو بہت کہہ دیے ۔ یہ تو یقینا متن میں لکھے جائیں گے۔
مزید پڑھیے


اچھی تحریر کیا ہوتی ہے؟

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
آصف محمود
اچھی تحریر کیا ہوتی ہے؟مدت ہوئی یہ سوال کسی سے پوچھا تھا۔یہ رہنے دیجیے کہ کس سے پوچھا تھا۔ جواب آیا: ’’ اچھی تحریر وہ ہے جسے لکھتے ہوئے آپ شبِ فراق میں کھڑے ہوں اور لکھ لیں تو روزِ انتظار آ جائے، جو لکھتے ہوئے بھی آپ پر بیت جائے اور لکھنے کے بعد پڑھتے ہوئے بھی وہ آپ پر بیت جائے۔آپ لکھنے کے بعد اپنی ہی تحریر بار بار پڑھ سکتے ہیں اور وہ آپ کو لطف دیتی ہے تو وہ اچھی تحریر ہے ورنہ آپ بلاوجہ مشقت اٹھا رہے ہیں‘‘ دلی اجڑی توسوگوار غالب نے کیا کچھ لکھ
مزید پڑھیے


عرب اسرائیل قربت : اوورسیزپاکستانیوں کے لیے ایک چیلنج

منگل 15  ستمبر 2020ء
آصف محمود
خلیجی ممالک اور اسرائیل ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔اس قربت میں ان پاکستانیوں کے لیے بہت بڑا چیلنج موجود ہے جو خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ ذرا سی غلطی اور جذباتیت ان محنت کش پاکستانیوں کے لیے ایسا بحران پیدا کر سکتی ہے جو پاکستانی معیشت کی چولیں ہلا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کیا وزارت خارجہ اور اوورسیز کی وزارت کو اس ابھرتے چیلنج کی سنگینی اور معنویت کا کچھ احساس ہے اور کیا اس چیلنج سے نبٹنے کے لیے ہم نے کسی بھی سطح پر کوئی تیاری کر رکھی ہے؟ سید کلیم اللہ بخاری تحریک
مزید پڑھیے