Common frontend top

آصف محمود


موسم روٹھ رہے ہیں


موسم بدل رہے ہیں۔ موسموں کا وہ سارا نظام الاوقات تبدیل ہو رہا ہے جو صدیوں سے قائم تھا۔ سیاست پر لمبی اور لاحاصل بحثوں سے وقت ملے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ماحولیات سے جڑا چیلنج خوف ناک ہوتا جا رہا ہے۔ مارچ کا آدھا مہینہ گزر چکا اور جنگلوں میں پھول نہیں کھلے۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چیتر کی رت شروع ہو جائے اور جنگل پھولوں سے بھر نہ جائے۔ فروری کے آخری دنوں میں جنگل پھولوں سے بھر جاتا تھا۔جھیل کو جاتے رستے پر پھولوں کا قالین سج جاتا تھا۔ درہ جنگلاں میں
جمعرات 14 مارچ 2024ء مزید پڑھیے

ہمارے مکیش امبانی کہاں ہیں؟

بدھ 13 مارچ 2024ء
آصف محمود
بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کے ذریعے جس معیشت کی چولیں ہلا دی تھیں ، آج اسی معیشت کو نجکاری کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کوئی ہے جو اس سارے عمل سے عبرت حاصل کرے ؟یہ کہانی میں نے 2019 ء میں لکھی تھی ، وقت کا تقاضا ہے اس کہانی کو ایک بار پھر آپ کے سامنے رکھا جائے۔ ایک و قت تھاپاکستان کی معاشی اٹھان شان دار تھی۔ساٹھ کی دہائی تک ہم اس مقام پر پہنچ گئے تھے کہ بیچ میں بھٹو کا سوشلزم نہ آتا تو آج دنیا میں ہم بہت آ گے
مزید پڑھیے


معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ضروری!

هفته 09 مارچ 2024ء
آصف محمود
انتخابات ہو گئے ، اب ہمیں معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور معاشی استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہ آ جائے۔ اشرافیہ کا معاملہ الگ ہے ، وہ وسائل کے چشموں پر خیمہ زن ہے اور مزے میں ہے۔ عام آدم کا برا حال ہے ، اسے ہر پہر پیاس بجھانے کے لیے کنواں کھودنا پڑنا ہے اور حالات نے اسے گھائل کر دیا ہے۔ اشرافیہ سیاست برائے سیاست کی متحمل ہو سکتی ہے لیکن عام آدمی نہیں۔ عام آدمی اب چاہتا ہے کہ معیشت کچھ بہتر ہو اور وہ اپنے
مزید پڑھیے


فلسطین :ہمارے شاعرا ور ادیب کہاں ہیں؟

جمعرات 07 مارچ 2024ء
آصف محمود
غزہ برباد ہو چکا ہے اور تیس ہزار لوگوں کے جسم مقتل میں پڑے ہیں لیکن نہ کوئی نظم لکھی گئی نہ کوئی نوحہ بلند ہوا، نہ کوئی فسانہ لکھا جا سکا نہ کوئی کہانی ۔سوچتا ہوں، ہمارے شاعر اور ادیب کہاں ہیں؟ حفظ مراتب میں قلم بھاری ہو رہا ہے ورنہ میں لکھنا تو یہ چاہتا تھا کہ یہ کہاں مر گئے ہیں؟ ہم پہلے دن سے تو یوں نامراد نہیں تھے۔ یہ سکوت مرگ نیا نیاہے۔ مشرقی یروشلم پر جب اسرائیل نے قبضہ کیا توہمارے ادیبوں اور شاعروں نے اس غم کو مجسم کر دیا۔ آج ننھے
مزید پڑھیے


بھٹو ریفرنس : ایک باریک نکتہ

منگل 05 مارچ 2024ء
آصف محمود
بھٹو کیس پر صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل ہو چکی اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ یہ خبر پڑھی تو دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں۔ نظام انصاف کا عالم دیکھیے،صدر آصف زرداری نے یہ ریفرنس فائل کیا ، ان کا دور صدارت ختم ہوگیا مگر ریفرنس پر فیصلہ نہ ہو سکا۔ پھر ممنون حسین آئے ، وہ چلے گئے تو عارف علوی آئے اور اب یہ امکان دستک دے رہا ہے کہ آصف زرداری ایک بار پھر صدر بن جائیں گے ۔ کوئی ہے جو سوچے کہ ریفرنس پر فیصلہ آتے آتے اتنا وقت کیوں
مزید پڑھیے



قومی اسمبلی کا ایک دن قوم کو کتنے میں پڑتا ہے؟

هفته 02 مارچ 2024ء
آصف محمود
نئی قومی اسمبلی وجود میں آ چکی ہے۔ اس کے پہلے اجلاس کا ماحول دیکھا تو کرامزن کے ناول کا وہ چرواہا یاد آ گیا جو آتش فشاں پر بیٹھ کر بانسری بجا رہا تھا۔میں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ قومی اسمبلی کے ماحول سے لطف اندوز ہونے والوں کو کیا یہ معلوم ہے کہ قومی اسمبلی کا ایک دن قوم کوقریب آٹھ سو لاکھ میں پڑتا ہے؟ کچھ نے حیرت کا اظہار کیا ، بعض نے اپنے تئیں تصحیح فرمانے کی کوشش کی کہ شایدیہ رقم آٹھ لاکھ ہے جو غلطی سے آٹھ سو لاکھ لکھ دی
مزید پڑھیے


مخصوص نشستیں ہوتی ہی کیوں ہیں؟

جمعرات 29 فروری 2024ء
آصف محمود
قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی ممکنہ تقسیم پر زور و شور سے بحث جاری ہے لیکن اس بنیادی سوال پر کوئی غور کرنے کو تیار نہیں کہ مخصوص نشستیں ہوتی ہی کیو ں ہیں؟ بندر بانٹ کا یہ چور دروازہ بند کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ بنیادی جورسپروڈنس ہی یہی ہوتی ہے کہ قومی اسمبلی کا رکن عوام کے براہ واست ووٹ سے بنتا ہے ۔ یہی بات آج تک قومی اسمبلی کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے ا ور اس کے مطابق ’قومی اسمبلی کا رکن عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہوتا ہے۔‘ سوال یہ ہے
مزید پڑھیے


ہم سب انتہا پسند ہیں؟

منگل 27 فروری 2024ء
آصف محمود
لاہور بازار میں ایک خاتون کے ساتھ جو ہوا ، یہ ہمارے سماجی بحران کا محض ایک جزو ہے ، کُل نہیں ہے۔صرف مذہبی طبقہ نہیں ، اپنے اپنے دائرے میں ہم سب انتہا پسند ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ مذہبی طبقہ تو انتہا پسند ہے اور باقی کا سماج لکھنئو کے لہجے میں بات کرتا ہے تو باتوں سے خوشبو آتی ہے؟ انتہا پسندی ایک ایسا عارضہ ہے جو کسی طبقے کو نہیں ، سارے معاشرے کو لاحق ہے۔ اس حقیقت کا انکار کرتے ہوئے صرف مذہبی طبقے کو ملامت کرنا بذات خود ایک انتہا
مزید پڑھیے


تحریک انصاف کا مقابلہ کس سے؟

هفته 24 فروری 2024ء
آصف محمود
تحریک انصاف کا مقابلہ اپنے سیاسی حریفوں سے ہے یا ریاست سے؟ تحریک انصاف میں کوئی ہے جو اس سوال پر غور کرے؟ تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی بات کی تو بچپن میں پڑھی ایک ضرب المثل یاد آ گئی: اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ساتھ ہی اس کی وہ شرح بھی یاد آ گئی جو پرائمری سکول دھریمہ میں اردو کے استاد محترم نے بیان کی تھی۔ استاد گرامی سے کسی نے پوچھا ، اونٹ کو ایسا کیوں کہتے ہیں؟انہوں نے بتایا کہ اونٹ بظاہر بڑا شریف ، اصول پسند اور سیدھا سادا نظر
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا پاکستان کو انتشار کی طرف دھکیل رہا ہے

جمعرات 22 فروری 2024ء
آصف محمود
سوشل میڈیا( اور اس کا الگوردم )پاکستان کو انتشار اور خانہ جنگی کی جانب دھکیل رہا ہے۔ہم اگر اس حقیقت کو سمجھ کر اپنے سوشل میڈیا کی جانب قدم نہیں بڑھاتے تو جان لیجیے کہ بہت جلد عرب سپرنگ جیسا خوش نما فتنہ آپ سے لپٹ چکا ہو گا۔ سوشل میڈیا اب محض آزادی رائے کا ایک پلیٹ فارم نہیں رہا۔یہ ایک ہتھیار بن چکا ہے۔ اس ہتھیار کا نام بھلے آزادی رائے اور ابلاغ ہو لیکن ان خوب صورت اصطلاحات سے اس ہتھیار کی ہلاکت خیزی نہیں چھپائی جا سکتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ اب یہ ایک
مزید پڑھیے








اہم خبریں