BN

آصف محمود



استنبول سے بھوربن تک


استنبول سے بھوربن تک ،مسلم معاشروں کے دومختلف رویے ہمارے سامنے ہیں۔ ہم چاہیں تو اس میں سے عبرت اور حکمت دونوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ایک طرف ترکی ہے۔ اس میں کیا شک ہے طیب اردوان نے ترکی کی تعمیر کی اور اسے اقوام عالم میں سر بلند کیا۔ غیر معمولی مقبولیت نے انہیں بہت طاقتور کر دیا ۔ جب طاقت کا یہ احساس مسائل پیدا کرنے لگا تو ترکی کے سماج کا شعور اجتماعی بروئے کار آیا اور استنبول کے میئر کے انتخابات میں اردوان کی جماعت کو تیرہ ہزار ووٹوں سے شکست ہو گئی۔ اس شکست
منگل 25 جون 2019ء

ایک ایم این اے اس قوم کو کتنے میں پڑتا ہے؟

پیر 24 جون 2019ء
آصف محمود
قومی اسمبلی میں بیٹھے یہ اکابرین، نہ بکنے والے والے ، نہ جھکنے والے ، کردار کے غازی ، بے داغ ماضی ، آپ کے قیمتی ووٹ کے جائز حقدار، کیا آپ کو کچھ خبر ہے ان یہ عظیم فرزندانِ جمہوریت اپنی آنیوں جانیوں سمیت اس غریب قوم کو کتنے میں پڑتے ہیں؟ کیا آپ کو کچھ خبر ہے کہ شوروہنگامے کے بعد جب اجلاس ملتوی کر دیا جاتاہے اور اکابرین اپنی پوشاکیں سہلاتے پارلیمانی لاجز چلے جاتے ہیں تاکہ تازہ دم ہو کر آئندہ اجلاس میں ایک بار پھر داد شجاعت دے سکیں تو اس سارے لایعنی عمل
مزید پڑھیے


’’اخوان‘‘

هفته 22 جون 2019ء
آصف محمود
اس میں کیا کلام ہے کہ اخوان عزیمت کا استعارہ بن چکے۔ جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔ گریہ عاشق مگر یہ ہے کہ دلوں کو صحرا کھینچتا ہے، کاش عزیمت کے ساتھ کچھ حکمت بھی بروئے کار آئی ہوتی۔کتنے رجال کار تھے جو مقتل کا لہو بن گئے۔ہم غم کشتوں کو دیکھیے ، آج غزل پر بیٹھے رو رہے ہیں۔میر نے کہا تھا : جب زمزمہ کرتی ہے صدا چبھتی ہے دل میں۔ ایک غلطی ہم سے ہوئی اور پہاڑ جیسی۔جب جب مقتل آباد ہوا ہم نے لاشوں کو گلیمرائز کیا ۔ حادثے کا
مزید پڑھیے


’’محمد مرسی‘‘

جمعرات 20 جون 2019ء
آصف محمود
وہ مالک بن انسؒ تھے ، یہ محمد مرسی ہیں۔ بیچ میں صدیوں کی مسافت حائل ہے اور حفظ مراتب کا سمندر بھی کہ کہاں مالک بن انس کہاں محمد مرسی؟ بسملِ ناز کا بانکپن مگر وہی ہے۔مسافت بھی ویسی ہی ہے اور شوق سفر بھی ۔کل شہر کے چوراہے میں مالک بن انس تھے جو پکار رہے تھے : میں ہوں مالک بن انس ، جو جانتا ہے وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے۔آج تاریخ کے چوراہے میں مرسی کا لاشہ آواز دے رہا ہے :میں ہوں محمد مرسی جو جانتا ہے جانتا ہے ،
مزید پڑھیے


زوال مسلسل

منگل 18 جون 2019ء
آصف محمود
یہ صرف کرکٹ کا معاملہ نہیں ،پورا سماج زوال مسلسل کا شکار ہے۔ زوال جب کسی سماج کا رخ کرتا ہے تو سماج کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ اس میں کمال کے چند جزیرے آ باد کر لے۔سماج کا جو بھی رنگ ہو عمومی ہوتا ہے۔اس میں جزیرے آباد نہیں کیے جا سکتے۔ مسلم لیگ کی قیادت کبھی حضرت قائد اعظم کے ہاتھ میں تھی، آج اس مسند پر نواز شریف اور شہباز شریف براجمان ہیں۔پیپلز پارٹی کا رہنما کبھی ذولفقار علی بھٹو ہوتا تھا اب آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے قائد بن چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کی
مزید پڑھیے




ایوان صدر کے طوطے

هفته 15 جون 2019ء
آصف محمود
وزیر اعظم ہائوس کی بھینسیں 23 لاکھ میں نیلام کرنے والی حکومت نے ایوان صدر کے طوطوں کے پنجرے کے لیے 19لاکھ 48 ہزار کا پنجرہ تیار کرانے کے لیے ٹینڈر جاری فرما دیا ۔ بیوروکریسی کی یہ ادا دیکھی تو حضرت میر یاد آگئے : آباد اجڑا لکھنئو چغدوں سے اب ہوا۔ صبح دم معلوم ہوا ٹینڈر منسوخ ہو گیا۔دل غم دیدہ مگر سراپا سوال ہے کہ ٹینڈر جاری کیسے ہوا تھا؟ جناب عارف علوی سے احترام کا تعلق ہے۔ عمران خان کے حق میں کالم لکھنے پر جب ایک اخبارپر’ بیانیہ شریف ‘ کا اتنا بوجھ آیا کہ اس
مزید پڑھیے


کمیشن …نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا

جمعه 14 جون 2019ء
آصف محمود
عمران خان رات قوم سے نہیں ، جوان جذبوں والے اپنے ان کارکنان سے مخاطب تھے جو کرپٹ عناصر کو نشان عبرت بنا دینے کی کوئی سی بھی قیمت دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔معاملہ مگر یہ ہے عمران خان کے وابستگان میں صرف اٹھتی جوانیوں کا جوش نہیں ، کچھ ایسے بھی ہیں جن کی کنپٹیوں کے سفید بال اب رنجِ عشق کھینچ لانے کی تاب نہیں رکھتے ۔ یہ وہ ہیں جو قوم کو اس گڑھے میں لا پھینکنے والوں کے بے رحم احتساب کی تمنا ضرور رکھتے ہیں مگران کی ہتھیلی پر یہ سوال بھی رکھا ہے
مزید پڑھیے


’’مطالعہ پاکستان‘‘

منگل 11 جون 2019ء
آصف محمود
برطانیہ میں 8 جون کو سرکاری سطح پر غیر معمولی اہتمام کے ساتھ ملکہ کی سالگرہ منائی گئی، لیکن ملکہ کا یوم پیدائش تو 21 اپریل ہے۔ پھر ان کی سالگرہ کی پر تکلف سرکاری تقریب 8 جون کو کیوں؟’’ مطالعہ پاکستان‘‘ کی پھبتی تو ہم نے بہت سن لی کیوں نہ اب محققین کرام کے ممدوحین کا کچھ تذکرہ ہو جائے؟کیا انہیںکچھ خبر ہے برطانیہ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں میں کون سی تاریخ پڑھائی جا رہی ہے؟ امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں جو ہوا کیا وہ برطانیہ کے نصاب کا حصہ ہے؟ کیا نصاب یہ بتاتا ہے
مزید پڑھیے


بچے کیسے مرے؟

منگل 04 جون 2019ء
آصف محمود
ایک تو ہمارے وہ پردہ نشیں وسیم اکرم پلس جو چلمن سے لگے بیٹھے ہیں اور ایک ان کے ہونہار ترجمان ، میرِ سخن ،جو خلق خدا سے لپٹی زمینی حقیقتوں سے بہت دور ٹوئٹر پر بیٹھ کر آبلوں پر حنا باندھ رہے ہوتے ہیں۔ خلق خدا لرزتے ہاتھوں میں حسرتِ اظہار کے شکوے تھامے ہے ، صاحبان اقتدار اکا غرور ِ حُسن کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔چند اقوال زریں انہیں یاد ہیں، صبح شام دہرائے چلے جاتے ہیں۔اقوال زریں کی اس برقِ تجلی کا حاصل یہ ہے کہ خزانہ خالی ہے۔ خزانہ بالکل
مزید پڑھیے


این جی اوز ۔۔۔ ہماری آنکھیں کب کھلیں گی؟

جمعه 31 مئی 2019ء
آصف محمود
این جی اوز، کرائے کے یہ لشکری ، بیرون ملک سے فنڈ لے کر اپنی سوچ اور ضمیر رہن رکھ دینے والے یہ اہل ہوس، سوال یہ ہے کہ ان کے بارے میں ریاست کب یکسو ہو گی؟ کیا ڈالرز کے عوض شعور رہن رکھ دینے والے ان نابغوں کو جو ہر معاملے کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ، اس بات کی مکمل اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ سماج ، مذہب ، ریاست جس کو چاہیں ، جب چاہیں اور جہاں چاہیں سینگوں پر لے لیں، کوئی روکنے والا نہیں؟ این جی اوز کوئی
مزید پڑھیے