BN

آصف محمود


سعود ۔۔۔ ساحر تھا


خدا ان کی قبر منور کرے ، سعود ساحر بھی چل دیے۔ جس نسل کا صحافت سے تعارف الیکٹرانک میڈیا کی چکا چوند سے ہوا ان کی بات الگ ہے لیکن قلم سے جنہیں واسطہ رہا وہ خوب جانتے ہیں یہ کون دلاور تھا جو قبیلے سے اٹھ گیا۔ سعود ساحر کو جن لوگوں نے پڑھ رکھا ہے انہیں معلوم ہے وہ واقعی ساحر تھا۔ایک وقت تھا جو سعود ساحر کا وقت تھا۔میرے جیسے طالب علم وفور شوق میں ان کی تحریر پڑھا کرتے۔ جب وہ برہم ہوتے ان کی تحریر کا حسن بڑھ جاتا۔وہ جتنے برہم ہوتے تحریر اتنی ہی دل بستہ
جمعرات 05 نومبر 2020ء

ارطغرل سے عظیم سلجوق تک

منگل 03 نومبر 2020ء
آصف محمود
دو سال پہلے انہی صفحات پر اپنے قارئین سے سوال کیا تھا: کیا آپ نے ارطغرل دیکھا ہے؟ دو سال بعد آج آپ سے پوچھنا چاہ رہا ہوں : کیا آپ ’’ اُویا نس بیوک سیل چکلو‘‘ Awakening the Great Seljuc دیکھ رہے ہیں؟ ارطغرل پر فروری 2019 میں یہ کالم چھپا تو دوستوں کا رد عمل دلچسپ تھا۔بعض کا خیال تھا قدیم زمانوں اور سورڈ فائٹ کو فلمانا ہالی وڈ کے علاوہ کسی اور کے بس کی بات نہیں اس لیے کسی ترک ڈرامے پر وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا ۔ کچھ احباب کا خیال تھا کالم میں
مزید پڑھیے


27 اکتوبر یوم سیاہ:ویانا کنونشن کیا کہتا ہے؟

منگل 27 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
آج 27 اکتوبر ہے۔آج ہی کے دن سرینگر میں بھارتی فوجیں اتریں اور قبضے کے بعد آج ہی کے دن مہاراجہ سے الحاق کی نا معتبر دستایز پر دستخط لیے گئے۔مسئلہ کشمیر کے قانونی مطالعے میں اس دن کی بنیادی اہمیت ہے۔ یہ دن یوم سیاہ بھی ہے اور بھارت کے خلاف فرد جرم کا عنوان بھی۔اس دن کی تاریخی اہمیت بھی ہے اور قانونی بھی۔ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قانون کے تناظر میں سمجھنا ہو تو اس واردات کو سمجھنا ہو گا جو اس روز ہوئی۔انٹر نیشنل لاء اس واردات کو باطل قرار دیتا ہے اور ۔ویانا کنونشن
مزید پڑھیے


حکومت اوراپوزیشن میں جھگڑا کیا ہے؟

هفته 24 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
حکومت اور اپوزیشن میں جھگڑا کیا ہے؟ اس سوال کا ایک جواب حکومتی وزراء کی زبان پر ہے اور دوسرا جواب حزب اختلاف کی ہتھیلی پر رکھا ہے۔ ہر دو کے جواب کادلیل کی بنیاد پرجائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے دونوں ہی جھوٹ بول رہے ہیں۔ حکومت کا دعوی ہے ساری اپوزیشن کرپٹ ، چور اور بے ایمان ہے جو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے این آر او چاہتی ہے ۔اب چونکہ جناب وزیر اعظم نے طے فرما لیا ہے کسی کو این آر او نہیں دینا چنانچہ یہ سب چور ایک نیک اور دیانتدار حکومت کے
مزید پڑھیے


ریڈیو پاکستان سونامی میں غرق ہو گیا؟

جمعرات 22 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
ریڈیو پاکستان کے جوان سال ملازمین کو سراپا احتجاج دیکھا تو دیوار دل سے اداسی آن لپٹی۔ایک یا دو نہیں سات سو سے زیادہ ملازمین کو پل بھر میں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کا دکھ زیادہ ہے۔ان سینکڑوں لوگوں کے تاریک مستقبل کا یا اس ریڈیو پاکستان کا جو ہماری قدروں اور ثقافت کا استعارہ تھا۔ کیا سب کچھ ہی سونامی غرق ہو جائے گا؟ چند لمحے میں وہاں رکا، پھر ٹریل فائیو پر آ گیا۔ آج کے حالات میں یہ واحد گوشہ ہے جہاں عافیت ہے۔ندی بہہ رہی تھی۔ مگر ماحول
مزید پڑھیے



اسلامی نظریاتی کونسل کے پیٹ کے کیڑے

جمعرات 15 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں ، اسلامی نظریاتی کونسل ایک اہم علمی معاملے پر غوروخوض فرما رہی ہے۔ امید ہے جب تک یہ کالم شائع ہو گا اسلامی نظریاتی کونسل کے بزرگان اور اکابرین قوم کی رہنمائی کا فریضہ ادا کر چکے ہوں گے۔ کیا آپ جاننا چاہیں گے وہ اہم علمی اور فکری مسئلہ کیا ہے جس کی ملک کے طول و عرض سے تشریف لانے والے یہ اہل فکر و دانش مل جل کر گتھیاں سلجھا رہے ہیں؟یہ مسئلہ ہے : بچوں کے پیٹ میں کیڑے۔ روایت ہے :’’ تقریب میں وزارت صحت
مزید پڑھیے


کیا تحریک انصاف فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے؟

منگل 13 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
کیا تحریک انصاف فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ کیا یہ پورے خلوص کے ساتھ کیا جانے والا ایک شعوری سفر ہے یا شدت جذبات کی بے دھیانی اسے بگولہ بنائے پھرتی ہے؟ نومولود نونہالان انقلاب کی قدرتِ گفتار سے ڈر لگتا ہے اس لیے شروع ہی میں عرض کر دوں میں یہ سوال ’’ عمران خان کے بغض‘‘ میں کسی پٹوار خانے کی دہلیز پر بیٹھ کر نہیں اٹھا رہا ،یہ سوال اس لیے اٹھا رہا ہوں کہ دیوار دل سے ساون کی کائی کی طرح اداسی آن لپٹی ہے ۔ تحریک انصاف کو آپ نیچے سے اوپر اور
مزید پڑھیے


کیا آذر بائیجان کی حمایت پاکستان کا غلط فیصلہ ہے؟

پیر 12 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
آرمینیا کے مقابلے میں آذر بائیجان کی حمایت کر ناکیا پاکستان کا غلط فیصلہ تھا؟ محتاط سا موقف اختیار کرنے کی بجائے ایک فریق کی اعلانیہ اور غیر مبینہ حمایت کر کے کیا پاکستان نے سفارتی محاذ پر ایک ایسی غلطی کر دی ہے جس کا خمیازہ ہمیں آنے والے دنوں میں بھگتنا پڑ سکتا ہے؟کئی اہل علم اس کا جواب ’’ ہاں ‘‘ میں دے رہے ہیں لیکن میرے جیسے طالب علم کے نزدیک پاکستان نے کوئی غلطی نہیں کی ۔یہ نہ صرف ایک درست فیصلہ ہے بلکہ یہ پاکستان کے اعلانیہ اور روایتی موقف کے عین
مزید پڑھیے


ناقص، جعلی اور مہنگی ادویات۔۔۔ڈریپ کہاں ہے؟

هفته 10 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
سوال اٹھایا کہ ہمارے ڈاکٹرز دوائی کا فارمولا نام لکھنے کی بجائے اس کا برانڈ نام کیوں لکھتے ہیں تو قارئین کا رد عمل دلچسپ اور تکلیف دہ تھا۔ اکثریت کا کہنا تھا برانڈ نام مہنگا سہی لیکن کم از کم دوا تو اچھی ہوتی ہے ، جنیرک نام یعنی فارمولا نام والی دوا کا کیا معلوم ناقص ہو یا جعلی ہو اور مزید خرابی پیدا کر دے۔سوال اب یہ ہے کہ اگر دوا کے مشہور برانڈ ہی دوا کے خالص اور معیاری ہونے کی ضمانت ہیں اور باقی سب ادویات مشکوک ہیں تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کیا کر رہی
مزید پڑھیے


فحاشی، سماج اور قانون

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
اشتہارات میں فحاشی کی بحث کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے چند پہلوئوں کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے لیا جائے۔ فحاشی کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو تواتر سے اٹھایا جاتا ہے اور اس کی شرح میں ہر اس فرد کو طنز اور دشنام کا نشانہ بنایا جاتاہو جو فحاشی کو ایک قدر کے طور پر قبول نہ کرے اور اس پر معترض ہو۔یہ بات درست ہے کہ ہر فرد کے ہاں فحاشی کی الگ تعبیر ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فحاشی کی کسی بھی شکل کو گوارا کر لیا جائے۔فحاشی
مزید پڑھیے